• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الإخاء

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- عَنْ الْمَعْرُورِ قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ ﷺ يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمْ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ.([1])
(۲۸)معرور نے کہاکہ میں ابو ذرسے زبدہ(ایک شہر کا نام) میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی (اسی طرح کا )جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ ﷺنے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایاا ے ابو ذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی ہے ۔بے شک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے،(یاد رکھو) ما تحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انہیں تمہارے قبضے میں کر دیا ہےتو جس کے ما تحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے ، اور وہی کپڑا اسے پہنائےجو آپ پہنتا ہے، اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لئے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔

29- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ فَقَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللهُ: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَ‌بِّهِمْ يُرْ‌زَقُونَ ﴿١٦٩﴾(آل عمران: ١٦٩) .([2])
(۲۹)ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جب غزوہ احد میں تمہارے بھائیوں کو سعادت شہادت نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں رکھ دیا۔ وہ جنت کی نہروں پر ورود مسعود کرتی ہیں۔ اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں لوٹ جاتی ہیں۔ پس جب انہیں من پسند کھانے اور مشروب اور راحت و سکون کے لئے رہائش میسر ہوئی تو انہوں نے کہا”ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو کون بتائے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، ہمیں رزق دیا جاتا ہے ، تاکہ وہ جہاد سے پہلو تہی نہ کریں، اورلڑائی کے وقت پیچھے نہ ہٹیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا " میں تمہارے متعلق انہیں بتادیتا ہوں“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَ‌بِّهِمْ يُرْ‌زَقُونَ ﴿١٦٩(آل عمران: ١٦٩)(جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دئے جائیں توتم انہیں مردہ تصور نہ کرو“۔

30- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ عَلِيٌّ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: عَلِيٌّ ابْنَةُ عَمِّي وَأَنَا أَخْرَجْتُهَا وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَكَانَ زَيْدٌ مُؤَاخِيًا لِحَمْزَةَ آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِزَيْدٍ أَنْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا وَقَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَهِيَ إِلَى خَالَتِهَا. ([3])
(۳۰)ابن عباس فرماتے ہیں جب آپ ﷺمکہ سے نکلے تو علی نکلتے وقت حمزہ کی بیٹی اپنے ساتھ لے گئے ۔تو حمزہ کی بیٹی کے متعلق علی ،جعفر اور زید کے درمیان کشمکش ہوئی ۔ اور آپ ﷺکے پاس آئے علی نے کہا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اور میں ان کو ساتھ لے کر آیا ہوں، اور جعفر نے کہا یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔اور زید نے کہا یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے ،اور زید کی حمزہ کے ساتھ اخوت قائم تھی ،ان دونوں کے درمیان اخوت آپ ﷺنے قائم کی تھی۔ تو آپ ﷺنے فرمایا!زید کو،آپ میرے مولیٰ ہیں اور اس بچی کے مولیٰ ہیں،اور علی سے فرمایا آپ میرے بھائی ہیں اور میرے دوست ہیں ، اور جعفر سے فرمایا کہ آپ میں میری شباہت پائی جاتی ہے اور آپ کے اخلاق میرے اخلاق کی طرح ہیں،اور وہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی۔
[1] - صحيح البخاري كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الْمَعَاصِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَلَا يُكَفَّرُ صَاحِبُهَا بِارْتِكَابِهَا رقم (30) صحيح مسلم رقم (1661)
[2] - (حسن) صحيح سنن أبي داود رقم (2520)، سنن أبي داود كِتَاب الْجِهَادِ بَاب فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ رقم (2158)
[3] - مسند أحمد (1/230) وقال الشيخ أحمد شاكر إسناده صحيح
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- حَدَّثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍؓ بِالرَّحَبِيَّةِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجَ إِلَيْكَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَإِخْوَانِنَا وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ بِالسَّيْفِ عَلَى الدِّينِ قَدْ امْتَحَنَ اللهُ قَلْبَهُ عَلَى الْإِيمَانِ قَالُوا مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ وَقَالَ عُمَرُ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ. ([1])
(۳۱)علی نے ایک مرتبہ فرمانے لگے:یہ واقعہ ذکر کیا رحبہ نامی جگہ پر ،فرمانے لگے حدیبیہ کے موقع پر ہماری طرف کچھ مشرک لوگ آئے ان میں سہیل بن عمرو اور کچھ بڑے سردار بھی تھے۔ تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول! آپ کی طرف ہمارے بیٹے اور ہمارے بھائی اور ہمارے غلام اور جن کے پاس دین کی سمجھ نہیں ہےبلکہ وہ ہمارے مال اور ہمارے ساتھ جو زیادتی کی ہے اس کی وجہ سے آپ کے پاس آئے ہیں لہٰذا آپ انہیں ہمیں واپس لوٹا دیں ۔۔ آپ ﷺنے فرمایا اگر ان کو دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں دین سمجھا دیں گے۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا اے اہل قریش! رک جاؤ ،ورنہ اللہ رب العالمین تمہاری طرف ایسے آدمی کو مسلط کرے گا جو تمہاری گردنوں کو تلوار کے ساتھ اڑائیں گے۔ اور اس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے پرکھ لیا ہو گا۔ اہل قریش نے کہا ،کون ہے وہ؟ اے اللہ کے رسول!۔پھر ابو بکر نے سوال کیا اے اللہ کے رسول وہ کون ہے؟ پھر عمر فارو ق نے سوال کیا وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ تو آپ ﷺنے فرمایا وہ چپل کو صحیح کرنے والا ،اور آپ ﷺنے علی کو چپل دی تھی کہ وہ صحیح کریں ،پھر علی ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے تو اپنا ٹھکانا جھنم میں بنا لے۔

32- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ(البقرة: ١٤٣) الْآيَةَ.([2])
(۳۲)ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺکو کعبۃ اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا تو صحابہ نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول ہمارےوہ بھائی جو فوت ہو گئےاس حال میں کہ وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے ؟اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی(ترجمہ)"اللہ آپ کے ایمان( نماز) ضائع نہیں کرے گا"۔

33- عَنِ ابْن عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّﷺقَالَ: لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِن أَخِي وَصَاحِبِي. . .) ([3])
(۳۳)عبداللہ بن عباس نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کو اپنا جانی دوست بنا تا تو ابو بکر کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی اور میرے دوست ہیں۔
34- عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ حِينَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ: مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ أَصْحَمَةَ.([4])
(۳۴)جابر بیان کیاکرتے ہیں کہ جس دن نجاشی (حبشہ کا بادشاہ) کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا آج ایک مرد صالح اس دنیا سے چلا گیا، اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔

[1] - (ضعيف الإسناد) ضعيف سنن الترمذي رقم (3715) سنن الترمذي كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رقم (3648)
[2] - (صحيح) صحيح سنن الترمذي رقم (2964) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ رقم (2890)
[3] - صحيح البخاري رقم (3656) صحيح مسلم كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ بَاب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رقم (2383)
[4] - صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب مَوْتُ النَّجَاشِيِّ رقم (3877)​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- عَنْ عَبْدَ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.([1])
(۳۵)عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔
36- عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَيَقُولُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا وَكَانَ يَقُولُ لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنْ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ وَيَشْهَدُهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ وَنَهَى عَنْ هِجْرَةِ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ.([2])
(۳۶)ابن عمر فرماتے ہیں کہ بے شک آپ ﷺیہ فرمایا کرتے تھے مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ وہ اس کو ذلیل کرتا ہے۔اور یہ فرمایا کرتے تھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے کہ دو محبت کے بعد الگ نہیں ہوتے سوائے اس کے کہ ان دونوں میں سے کسی نے کوئی گناہ کیا ہوگا۔اور یہ فرمایا کرتے تھےمسلمان کے اپنے بھائی پر چھ حقوق ہیں ،جب وہ چھینک دے تو اس کو دعا دے ،(یعنی چھینک کا جواب دے)جب بیمار ہو تواس کی تیمار داری کرے، جب وہ غائب ہو تو اس کے لئے اچھائی سوچے، اور جب اس سے ملے تو سلام کرے، اور جب اسے دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب وہ فوت ہو تو اس کے جنازہ کی پیروی کرے۔ اور آپ ﷺنے منع فرمایا کہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ ناراض نہ ہو۔

37- عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ رَدَّ اللهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.([3])
(۳۷)ابو درداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کے عرض (عزت)کا دفاع کرتا ہےاللہ اس کے چہرے کو قیامت کے دن آگ سے دور رکھے گا۔

38- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ.([4])
(۳۸)ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص کسی مومن پر سے کوئی دنیا کی سختی دورکرے تو اللہ اس پر سے آخرت کی سختیوں میں سے ایک سختی دور کرے گا اور جو شخص مفلس کو مہلت دے (یعنی اس پر تقاضا اور سختی نہ کرے اپنے قرض کے لئے) اللہ اس پر آسانی کرے گا دنیا اور آخرت میں اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کا عیب ڈھانکے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کے عیب ڈھانپے گا۔ اور اللہ بندہ کی مدد میں رہے گا جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہے گا اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لئےراہ چلے( یعنی دینی علم خالص اللہ کے لئے) اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ سہل کر دے گا اور جو لوگ جمع ہوں کسی اللہ کے گھر میں اللہ کی کتاب پڑھیں اور ایک دوسرے کو پڑھائیں تو ان پر اللہ کی رحمت اترےگی۔ اور رحمت ان کو ڈھانپ لے گی اور فرشتے ان کو گھیر لیں گے اور اللہ ان لوگوں کا ذکر کرے گا اپنے پا س رہنے والوں میں(یعنی فرشتوں میں ) اور جس کا عمل کوتاہی کرے تو اس کا خاندان (نسب) کچھ کام نہ آئے گا۔

[1] - صحيح البخاري كِتَاب الْمَظَالِمِ وَالْغَصْبِ بَاب لَا يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُسْلِمُهُ رقم (2442) صحيح مسلم (2580)
[2] -(صحيح) صحيح الترغيب والترهيب رقم (3495) مسند أحمد رقم (5357)
[3] - (صحيح) صحيح سنن الترمذي رقم (1931) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الذَّبِّ عَنْ عِرْضِ الْمُسْلِمِ رقم (1854)
[4] - صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب فَضْلِ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ رقم (2699)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
39- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ. ([1])
(۳۹)ابو ہریرہ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ مومن مومن کا آئینہ ہے۔ مومن مومن کا بھائی ہے۔ اس کے مال کا (نقصان ہوتا ہوتا بچاؤ کرتا ہے)اور مقدور بھراس کی حفاظت کرتا ہے۔

40- عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّﷺ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَقْعَدِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ قُلْتُ لِنَافِعٍ الْجُمُعَةَ؟ قَالَ الْجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا.([2])
(۴۰)عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے ۔میں نے نافع سے پوچھا کہ کیا یہ جمعہ کے لئے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جمعہ اور غیر جمعہ سب کے لئے یہی حکم ہے۔

41- عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ لِشُهَدَاءِ أُحُدٍ هَؤُلَاءِ أَشْهَدُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَلَسْنَا يَا رَسُولَ اللهِ بِإِخْوَانِهِمْ أَسْلَمْنَا كَمَا أَسْلَمُوا وَجَاهَدْنَا كَمَا جَاهَدُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بَلَى وَلَكِنْ لَا أَدْرِي مَا تُحْدِثُونَ بَعْدِي فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ أَئِنَّا لَكَائِنُونَ بَعْدَكَ. ([3])
(۴۱)ابو النضر جو عمر بن عبید کے مولیٰ ہیں فرماتےہیں مجھ تک یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺنے شہدائے احد کے لئے یہ کہا کہ میں ان پر گواہی دیتا ہوں،پھر ابو بکر صدیق نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں؟ ہم اسی طرح اسلام لائے جس طرح وہ اسلام لائے، جہاد کیا جس طرح انہوں نے جہاد کیا، پس آپ ﷺنے ارشاد فرمایا،جی ہاں لیکن میں نہیں جانتا کہ میرے بعد آپ کیا کرنے والے ہیں ۔اس پر ابو بکر صدیق زارو قطار رونے لگے پھر کہا کیا ہم آپ کے بعد بھی ہونگے ؟

42- عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوْ اغْتِيلَ قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلَ حِرَاءٍ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَقَالَ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ...) ([4])
(۴۲)ابن مسعود روایت کرتے ہیں سے پوچھا اور کہا لیلۃ الجن کو تم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھا۔ ( یعنی جس رات آپ نے جنوں سے ملاقات فرمائی) انہوں نے کہا نہیں ۔لیکن ایک روز ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے۔ آپ گم ہو گئے ہم نے آپ کو پہاڑوں کی وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا۔لیکن آپ نہ ملے ہم سمجھے کہ آپ کو جن اڑالے گئے یاکسی نے چھپکے سے مار ڈالا۔ اور رات ہم نے نہایت برے طور سے بسرکی۔ جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ حراء (جبل نور پہاڑ ہے جو مکہ اور منیٰ کے بیچ میں ہے) کی طرف سے آرہے ہیں ۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! رات کو آپ ہمیں نہیں ملے ، جبکہ ہم نے آپ کو تلاش بھی کیا لیکن نہ مل سکے۔آخر ہم نے برے طور سے رات کاٹی۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا۔ میں اس کے ساتھ گیا اور جنوں کو قرآن سنایا۔ پھر ہمیں اپنےساتھ لے گئے اور ان کے نشان اور ان کے انگاروں کے نشان بتلائے جنوں نے آپ سے توشہ چاہا آپ نے فرمایا اس جانور کی ہر ہڈی جو اللہ کے نام پر کاٹی جائے وہ تمہاری خوراک ہے۔ تمہارے ہاتھ میں پڑتے ہی وہ گوشت سے پر ہو جائے گی۔ اور ہر ایک اونٹ کی مینگنی تمہارے جانوروں کی خوراک ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہڈی اور مینگنی سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں اور ان کے جانوروں کی خوراک ہے۔


[1] - (حسن) صحيح سنن أبي داود رقم (4918) سنن أبي داود كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي النَّصِيحَةِ وَالْحِيَاطَةِ رقم (4272)
[2] - صحيح البخاري كِتَاب الْجُمُعَةِ بَاب لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَقْعُدُ فِي مَكَانِهِ رقم (911)
[3] - موطأ مالك كِتَاب الْجِهَادِ بَاب الشُّهَدَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ رقم (876)
[4] - صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ رقم (450)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
43- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓقَالَ وَلَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ علیہ السلام إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَوْلُهُ :فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ ﴿٨٩﴾(الصافات) وَقَوْلُهُ : قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُ‌هُمْ هَـٰ۔۔۔﴿٦٣﴾ (الأنبياء) وَقَالَ بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنْ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَا هُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ أُخْتِي فَأَتَى سَارَةَ قَالَ يَا سَارَةُ لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرَكِ وَإِنَّ هَذَا سَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ فَدَعَتْ اللهَ فَأُطْلِقَ ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِي اللهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَمْ تَأْتُونِي بِإِنْسَانٍ إِنَّمَا أَتَيْتُمُونِي بِشَيْطَانٍ فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ مَهْيَا قَالَتْ رَدَّ اللهُ كَيْدَ الْكَافِرِ أَوْ الْفَاجِرِ فِي نَحْرِهِ وَأَخْدَمَ هَاجَرَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.([1])
(۴۳)ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ ابراہیم  نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا ،دو ان میں سے خالص اللہ عزوجل کی رضا کے لئے تھے۔ ایک تو ان کا(بطور توریہ کے) فرمانا کہ”میں بیمار ہوں“ اور دوسرا ان کا یہ فرمانا کہ”بلکہ یہ کام تو ان کے بڑے (بت) نے کیا ہے“ اور بیان کیا کہ ایک مرتبہ ابراہیم  ایک ظالم بادشاہ کی حدود سلطنت سے گزر رہے تھے ۔بادشاہ کو خبر ملی کہ یہاں ایک شخص آیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ دنیا کی ایک خوب صورت ترین عورت ہے۔ بادشاہ نے ابراہیم  کے پاس اپنا آدمی بھیج کر انہیں بلوایا اور سارہ کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ ابراہیم  نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں۔پھرآپ سارہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے سارہ! یہاںمیرے اور تمہارے سوا اور کوئی بھی مومن نہیں ہے اور اس بادشاہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری( دینی اعتبار سے) بہن ہو۔ اس لئے اب تم کوئی ایسی بات نہ کہنا جس سے میں جھوٹا بنوں۔ پھر اس ظالم نے سارہ کو بلوایا اور جب وہ اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن فورا ہی پکڑ لیا گیا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ میرے لئے اللہ سے دعا کرو( کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہچاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور چھوڑ دیا گیا۔ لیکن پھر دوسری مرتبہ اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس مرتبہ بھی اسی طرح پکڑ لیا گیا ،بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت اور پھر کہنے لگا کہ اللہ سے میرے لئے دعا کرو، میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا، سارہ نے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے کسی خدمت گار کو بلا کر کہا کہ تم لوگ میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے بلکہ یہ تو کوئی سر کش جن ہے(جاتے ہوئے)سارہ کے لئے اس نے ہاجرہ کو خدمت کے لئے دیا۔ جب سارہ آئیں تو ابراہیم  کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے ان کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر یا( یہ کہا کہ ) فاجر کے فریب کو اسی کے منہ پر دے مارا، اور ہاجرہ کو خدمت کے لئے دیا۔ ابو ہریرہ نے کہا اے بنی ماء السماء ( اےآسمانی پانی کی اولاد !اہل عرب )تمہاری والدہ یہی (ہاجرہ ) ہیں۔


[1] - صحيح البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى { وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا } رقم (3358) صحيح مسلم رقم (2371)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وہ احادیث جو اخاء پر معنوی دلالت کرتی ہیں

44- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ.
(۴۴)ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا روحوں کے جھنڈ جھنڈ ہیں۔ پھر جنہوں نے ان میں سے ایک دوسرے کی پہچان کی تھی وہ دنیا میں بھی دوست ہوتی ہیں۔ اورجو وہاں الگ الگ تھیں یہاں بھی الگ رہتی ہیں۔ ([1])

45- عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ رَسُولِ اللهِﷺ قَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً.([2])
(۴۵)ابو موسیٰ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا نیک مصاحب اور بد مصاحب کی مثال ایسی ہے جیسے مشک بیچنےوالے اور بھٹی دھونکنے والے کی ۔ مشک والا یا تو تجھے یونہی دے گا( تحفہ کے طور پر سونگھنے کے لئے) یا تو اس سے خریدلے گا یا تو اس سے اچھی خوشبو پائے گا اور بھٹی پھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا یا بری بو تجھ کو سونگھنی پڑے گی۔

46- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ.([3])
(۴۶)انس فرماتےہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پالیا اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسری یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھے، تیسری یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔

47- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. ([4])
(۴۷)ابوہریرہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا سات شخص ایسے ہےجن کو اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں جگہ دے گا (یعنی عرش کے نیچے)جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ایک تو حاکم منصف(جو کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرے (خواہ بادشاہ ہو خواہ کوتوال وغیرہ)دوسرا وہ جوان جو اللہ کی راہ میں عبادت کیساتھ بڑھا ہو، تیسرا وہ شخص جو مسجد سے نکلے اور دل اس کا مسجد میں لگا رہے چوتھا وہ دو شخص جوکہ محبت کریں آپس میں اللہ کےلئے ملیں اور اسی کے لئے جدا ہوں۔ پانچواں جو مرد ایسا متقی ہو کہ اسے کوئی عورت حسب و نسب والی مالدار ،زنا کے لئے بلائے اور وہ کہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں(اور زنا سے باز رہے)،چھٹاوہ شخص جو صدقہ دے ایسا چھپا کر کہ رکھے کہ داہنے کو نہ خبر ہو کہ بائیں ہاتھ نے خرچ کیا (اور یہ تصحیف ہے صحیح یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ داہنا کیا خر چ کرتا ہے)، ساتواں وہ شخص جو اللہ کو اکیلے میں یاد کرے اور اس کے آنسو ٹپک پڑیں( یعنی اللہ کی محبت یا خوف سے)۔

[1] - صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ رقم (2638)
[2] - صحيح البخاري رقم (2101) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب اسْتِحْبَابِ مُجَالَسَةِ الصَّالِحِينَ وَمُجَانَبَةِ قُرَنَاءِ السُّوءِ رقم (2628)
[3] - صحيح البخاري كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب حَلَاوَةِ الْإِيمَان رقم (16) صحيح مسلم رقم (43)
[4] - صحيح البخاري رقم (660) صحيح مسلم كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب فَضْلِ إِخْفَاءِ الصَّدَقَةِ رقم (1031)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
48- عَنْ أَبِي سَعِيدٍؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ.([1])
(۴۸)ابوسعید سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا "صرف مومن کو ساتھی بنا( اس کی صحبت اختیار کر) اور تمہارا کھانا صرف متقی کھائے۔

49- عَنْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ.([2])
(۴۹)معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ فرماتے تھے کہ اللہ رب العالمین فرماتا ہےجو اللہ کے لئے محبت کرے ان کے لئے(قیامت کے دن) نور کے منبر ہونگے۔جن پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے۔

50- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ.([3])
(۵۰)ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا " انسان اپنے ساتھی کے طور طریقے پر ہوتا ہے۔ پس تم میں سے ہر ایک کودیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے"۔

51- عَنْ أَبِي مُوسَىؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. ([4])
(۵۱)ابو موسیٰ رضی اللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہےکہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے اور آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے بتلایا۔


[1] - (حسن) صحيح سنن أبي داود رقم (4832) سنن أبى داود كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالِسَ رقم (4192)
[2] - (صحيح) صحيح سنن الترمذي رقم (2390) سنن الترمذى كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ رقم (2312)
[3] - (حسن) صحيح سنن أبي داود رقم (4833) سنن أبى داود كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالِسَ رقم (4193)
[4] - صحيح البخاري كِتَاب الْمَظَالِمِ وَالْغَصْبِ بَاب نَصْرِ الْمَظْلُومِ رقم (2446) صحيح مسلم رقم (2585)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نبی ﷺ كی زندگی میں اخاءكے عملی نمونے
52- عَنْ عُمَرَ ؓ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لِي وَقَالَ لِي: لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ. فَقَالَ: كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا. قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ وَقَالَ أَشْرِكْنَا يَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ.([1])
(۵۲)عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺنے مجھے اجازت مرحمت فرمادی اور فرمایا:" میرے پیارے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھول نہ جانا"۔ پس آپ ﷺنے ایسا کلمہ ارشاد فرمایا کہ اگر اس کلمہ کے بدلہ میں دنیا بھر کی چیزیں مل جاتیں تو مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی(جتنی اس کلمہ سے ہوئی) شعبہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد مدینہ میں عاصم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے حدیث بیان کی تو فرمایا :"پیارے بھائی ہمیں دعاؤں میں یاد رکھنا۔

53- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ: إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَاعِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ يَارَسُولَ اللهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَعَجِبْنَا لَهُ. وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا. فَكَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ إِلَّا خُلَّةَ الْإِسْلَامِ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ.([2])
(۵۳)ابو سعید خدری نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺمنبر پر تشریف فرما ہوئے،پھر فرمایا اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لئے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے (آخرت میں) اسے اپنے لئے پسند کر لے ۔اس بندے نے اللہ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا۔ اس پر ابو بکر رونے لگے۔ اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ (ابو سعید رضی اللہ کہتے ہیں) ہمیں ابو بکر کے اس رونے پر حیرت ہوئی ،بعض لوگوں نے کہا ان بزرگوں کو دیکھئے نبیﷺتو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ لیکن رسول اللہ ﷺہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک اختیار دیا گیا اور ابو بکر ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے۔ اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا کہ لوگوں میں جس نے سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پراحسان کیا وہ صرف ایک ابو بکرہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بنا سکتا تو ابو بکر کو بناتا البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے ،مسجدمیں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابو بکر کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔

54- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَتَى الْمَقْبُرَةَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ. وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ فَقَالُوا كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا.([3])
(۵۴)ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺقبرستان میں تشریف لائے تو فرمایا سلام ہو تم پر یہ گھر ہے مسلمانوں کا اور ہم اللہ چاہے تو تم سے ملنے والے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک بات کی آرزو کرنا درست ہے جیسے علماء فضلاء سے ملنے کی) صحابہ y نے کہا یا رسول اللہﷺ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا تم تو میرے اصحاب ہو اور بھائی ہمارے وہ لوگ ہیں جو ابھی دنیا میں نہیں آئے۔ صحابہ نے کہا یارسول اللہﷺ ! آپ کیسے پہچانیں گے اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کو آپ نے نہیں دیکھا؟ آپ نے فرمایا بھلا تم دیکھو اگر ایک شخص کے سفید پیشانی سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے سیاہ مشکی گھوڑوں میں مل جائیں تو وہ اپنے گھوڑے نہیں پہچانے گا؟ صحابہ y نے کہا بے شک وہ تو پہچان لے گا ۔آپ ﷺنے فرمایا میری امت کے لوگ سفید منہ اور سفید ہاتھ پاؤں رکھتے ہوں گے۔ قیامت کے دن وضو کی وجہ سے اور میں ان کا پیش خیمہ ہوں گاحوض کوثر پر۔ خبر دار رہو بعض لوگ میرے حوض پر سے ہٹائے جائیں گے ۔جیسے بھٹکا ہوا اونٹ ہنکایا جاتا ہے۔ میں ان کو پکاروں گا آؤ آؤ اس وقت کہا جائے گا ان لوگوں نے اپنےتئیں دین کو بدل دیا تھا۔ اور کافر ہو گئے تھے۔ (یا ان کی حالت بدل گئی تھی۔ بدعت اور ظلم میں گرفتار ہو گئے تھے۔)تب میں کہوں گا جاؤ دور ہو دور ہو۔

55- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ؓ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ ﷺ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا فَقَالَ: هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ فَوُضِعْنَ عَلَى نَبِيٍّ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ ﷺ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ: هَلْ مِنْ أُدُمٍ؟ قَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ: هَاتُوهُ فَنِعْمَ الْأُدُمُ هُوَ.([4])
(۵۵)جابر سے روایت ہے میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا رسول اللہ ﷺمیرے پاس سے گذرے اور مجھےاشارہ کیا میں آپ کے پاس گیا آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا پھر ہم چلے یہاں تک کہ آپ اپنی کسی بی بی کے حجرے پر پہنچے اور اندر گئے پھر مجھے اجازت دی تو اس بی بی نے پردہ کیا آپ نے پوچھا کچھ کھانا ہے ۔گھر والوں نے کہا ہاں پھر تین روٹیاں آپ کے سامنے لائی گئیں۔ اور چھال کی ایک دستر خوان پر رکھی گئیں۔ رسول اللہ ﷺنے ایک روٹی لی اس کو اپنے سامنے رکھا پھر دوسری روٹی لی اس کو میرے سامنے رکھا پھر تیسری روٹی لی اس کے دوٹکڑے کئے آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے پھر فرمایا کچھ سالن ہے لوگوں نے کہا نہیں سرکہ ہے آپ نے فرمایا لاؤ سرکہ تو بہتر سالن ہے۔


[1] - (ضعيف) صحيح وضعيف سنن أبي داود رقم (1498) سنن أبى داود كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الدُّعَاءِ رقم (1280)
[2] - صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب هِجْرَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ رقم (3904) صحيح مسلم رقم (2382)
[3] - صحيح مسلم كِتَاب الطَّهَارَةِ بَاب اسْتِحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ رقم (249)
[4] - صحيح مسلم كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِه رقم (2052)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اخوت کے متعلق آثار اور علماء و مفسرین کے اقوال:
(۱)عمر بن خطاب نے کہا تین چیزیں تیرے لئے تیرے بھائی کی محبت کو صاف اور شفاف بناتی ہیں۔ یہ کہ جب بھی تو اس سے ملے تو اسی کو سلام کہے اور اس کے لئے مجلس میں جگہ بنائے اور جو اس کو اپنا پسندیدہ نام ہے اس کے ساتھ اس کو پکارے ۔

(۲)اور انہوں نے کہا "مسلما ن"بھائیوں سے تقویٰ کے حساب سے اخوت رکھ اور اپنی بات صرف اس کو سنا جو اس کو سننا چاہتا ہے اور اپنی ضرورت فقط اس کے سامنے رکھ جو اس کو پورا کرنا چاہتا ہے ۔اور جو لوگ زندہ ہیں ان جیسا ہونے کی تمنا ویسی کر جیسی تمنا مردوں کی طرح ہونے کی کرتے ہو۔اور اپنے معاملات میں فقط ان لوگوں کے ساتھ مشورہ کر جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

(۳)اور انہوں نے کہا جب اللہ تمہیں کسی مسلمان شخص کے ساتھ محبت سے نوازے تو اس کو لازم پکڑو ۔

(۴)اور کہا تین چیزیں تیرے لئے تیرے مسلمان بھائی کی محبت کو خالص کر یں گی، یہ کہ اس کو سلام کرنے میں پہل کر اور اس کو اس کے پسندیدہ نام سے پکاراور مجلس کے اندر اس کے لئے کشادگی کریعنی بیٹھنے کے لئے جگہ بنا اور انسان کے برے ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ لوگوں پر اس بات پر غصہ کرے جو خود اس کے اندر موجود ہو۔ یا لوگوں کو تو اس کی غلطی نظر آتی ہو جبکہ خود اس کو نظر نہ آئے۔ یا اپنے مسلمان بھائی کو مجلس کے اندر لایعنی سبب سے تکلیف دے (یعنی خواہ مخواہ)۔

(۵)اور کہا سچے (مسلمان) بھائیوں کے ساتھ رہو کیوں کہ وہ آسانی کے وقت میں اچھے ہوتے ہیں اور آزمائش اور تنگی کے وقت میں استعداد اور سامان ضرورت ہوتے ہیں۔

(۶)امام حسن بصری نے کہا جناب عمر
اپنے ایک مسلمان بھائی کو کبھی کبھی رات کو یاد کرتے اور کہتے ہائے ہائے رات کتنی لمبی ہو گئی ہے۔پھر جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو سویرے اس کے پاس جاتے اور جب دونوں ملتے تو جناب عمر اس کو معانقہ کرتے (یعنی گلہ ملتے)۔

(۷)علی
نے کہا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں حسن نیت نہیں رکھتا وہ اس کے اچھے کاموں کو نہیں سراھتا۔

(۸)ابو حیان تیمی نے کہا کہ جناب علی بن ابی طالب
پر ایک ایسا کپڑا دیکھا گیا جو لگ رہا تھا کہ بہت زیادہ پہنا گیا تھا پھر آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو کہا یہ کپڑا میرے خلیل اور خالص دوست عمر بن خطاب نے دیاتھا۔ بے شک عمر نے اللہ کے لئے خیر خواہی کی تو اللہ نے بھی اس کے ساتھ خیر خواہی کی۔

(۹)عباس بن عبدالمطلب کے آزاد کردہ غلام ابو صالح طہمان نے کہا کہ مجھے عباس
نے عثمان کو بلانے کے لئے
بھیجا ۔پھر میں اس کے پاس دارالقضاء میں گیا اور کہا عباس آپ کو بلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ہاں اپنے کام سے فارغ ہو کر آرہا ہوں۔ راوی نے کہا پھر وہ ان کے پاس آئے اور کہا اے ابو الفضل (یعنی عباس) تم فلاح پاؤ ۔ عباس نے کہا تم بھی فلاح پاؤ۔ عثمان نے کہا آپ کا پیغام دینے والا شخص میرے پاس آیا اور میں دارالقضاء (یعنی عدالت) میں تھا۔پھر میں فارغ ہو کر آیا ہوں۔آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ عباس نے کہا اللہ کی قسم میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر مجھے پتہ چلا ہے، کہ آپ نے علی
اور اس کے ساتھیوں کی لوگوں (یعنی مسلمانوں) سے شکایت کرنے کا ارادہ کیا ہے، جبکہ علی آپ کے چچا کا بیٹا اور آپ کا دینی بھائی اور رسول اللہ کا آپ کی طرح صحابی ہے (یا آپ کا ہم زلف ہے) عثمان نے کہا بالکل صحیح۔قسم ہے اللہ کی اگر علی چاہے تو سارے لوگوں سے زیادہ (میرے )قریب(یعنی اہم مشیر) ہوسکتا ہے۔ راوی کہتا ہے پھر عباس نے مجھے علی کی طرف بھیجا میں ان کے پاس آیا اور کہا کہ ابو الفضل (یعنی عباس)آپ کو بلا رہے ہیں ۔پھر جب علی ان کے پاس آیا تو عباس نے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ عثمان تیرے اور تیرے ساتھیوں کے بارے میں مسلمانوں سے شکایت کرنا چاہتا ہے۔جبکہ عثمان تیرے چچا کا بیٹا اور تیرا دینی بھائی اور رسول اللہ کا صحابی ہے۔ تو علی نے کہا اللہ کی قسم اگر عثمان مجھے اپنے گھر سے نکل جانے کا حکم دے تو میں ایسا کرنے کو بھی تیار ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
(۱۰)ابن عباس نے کہا میرا سب سے زیادہ محبوب (مسلمان) بھائی وہ ہے کہ جب میں اس کے پاس جاؤں تو مجھے قبول کرے(یعنی تکریم کرے) اور جب اس کے پاس نہ جاؤ ں تو مجھے معذور سمجھے۔

(۱۱)عبداللہ بن مسعود نے کہا "لوگوں کا ان کے (خفیہ) دوستوں سے اندازہ لگاؤ کیوں کہ آدمی ہمیشہ اپنےجیسے سے ہی دوست رکھتا ہے۔

(۱۲)عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ جب ہم اپنے مسلمان بھائی کو نہ دیکھتے تو اس کے پاس آتے پھر اگر وہ بیمار ہوتا تو عیادت ہو جاتی اور اگر( کسی کام میں )مشغول ہوتا تو اس کی معاونت ہو جاتی اور اگر کوئی دوسرا معاملہ ہوتا تو زیارت و ملاقات ہو جاتی۔

(۱۳)شعبہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور کہا "تم میرے غم کو دور کرنے والے ہو"۔

(۱۴)جناب ابن عمر نے کہا جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو قسم دے تو اسے چاہیئے کہ اس کو پورا کرے اگر وہ نہیں کر سکتا تو قسم اٹھانے والا اپنی قسم کاکفارہ ادا کرے۔

(۱۵)عکرمہ نےکہا کہ"اللہ تعالیٰ نے یوسف  کو کہا اے یوسف ،تیرے اپنے بھائیوں کو معاف کرنے کی وجہ سے ذکر کرنے والوں کے اندر تیرا ذکر بلند کیا ہے۔

(۱۶)ولید بن مسلم نےکہا "یوسف بن یعقوب کو جب وفات آئی تو اپنے بھائیوں کو کہا اے میرے بھائیو!میں نے دنیامیں خود پر ہونے والے ظلم کاکبھی انصاف نہیں لیا۔ اور میں اچھائی کو ظاہر کرتا تھا اور برائی دفن کرتا تھا ۔ سو میرا دنیا میں یہی زاد ہے، اے میرے بھائیو میں اپنے بڑوں کے ساتھ ان کے اعمال صالحہ میں شریک ہوا ہوں لہٰذا تم مجھے ان کی قبروں میں شریک کرو۔

(۱۷)لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا، اپنے قرابت داروں کے ساتھ رشتہ داری کو جوڑ اور اپنے بھائیوں کی عزت کر اور تیرے بھائی وہ لوگ ہونے چاہئیں کہ جب تو ان سے جدا ہو جائے، یا وہ تم سے جدا ہو جائیں تو ان کی وجہ سے تمہیں برا نہ کہا جائے۔
(۱۸)اور کہا "اے بیٹے جو شخص اپنی زبان پر کنٹرول نہیں کرتا وہ پشیمان ہوتا ہے اور جو جھگڑا زیادہ کرتا ہے اسے گالیاں ملتی ہیں اور جو برے آدمی سے دوستی رکھتا ہے یا اس کے ساتھ ہوتا ہے وہ گناہ و نقصان سے نہیں بچ سکتا۔ اور جو نیک آدمی کے ساتھ رہتا ہے وہ بڑا فائدہ حاصل کرے گا۔

(۱۹)اور کہا "اےبیٹے اللہ کے ڈر کے بعد نیک و صالح دوست بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کر۔

(۲۰)مجاہد بن جبیر نے کہا "جب اللہ کے لئے محبت کرنے والے دو شخص اخوت اختیار کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے پاس چل کر جاتا ہے اور اس سے ہاتھ ملاتا ہے اور مسکراتا ہے تو ان دونوں کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں، میں نےکہا یہ کام تو آسان ہے۔ انہوں نے کہا، ایسا نہ کہہ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺکو فرماتا ہے: لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ(الأنفال: ٦٣) ۔یعنی اگر آپ جو زمین کے اندر ہے سارا خرچ کرتے تو بھی ان( مسلمانوں) کے دلوں کو ملا نہیں سکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو ملایا ہے۔
 
Top