- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
28- عَنْ الْمَعْرُورِ قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ ﷺ يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمْ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ.([1])
(۲۸)معرور نے کہاکہ میں ابو ذرسے زبدہ(ایک شہر کا نام) میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی (اسی طرح کا )جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ ﷺنے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایاا ے ابو ذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی ہے ۔بے شک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے،(یاد رکھو) ما تحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انہیں تمہارے قبضے میں کر دیا ہےتو جس کے ما تحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے ، اور وہی کپڑا اسے پہنائےجو آپ پہنتا ہے، اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لئے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔
29- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ فَقَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللهُ: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾(آل عمران: ١٦٩) .([2])
(۲۹)ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جب غزوہ احد میں تمہارے بھائیوں کو سعادت شہادت نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں رکھ دیا۔ وہ جنت کی نہروں پر ورود مسعود کرتی ہیں۔ اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں لوٹ جاتی ہیں۔ پس جب انہیں من پسند کھانے اور مشروب اور راحت و سکون کے لئے رہائش میسر ہوئی تو انہوں نے کہا”ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو کون بتائے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، ہمیں رزق دیا جاتا ہے ، تاکہ وہ جہاد سے پہلو تہی نہ کریں، اورلڑائی کے وقت پیچھے نہ ہٹیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا " میں تمہارے متعلق انہیں بتادیتا ہوں“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾(آل عمران: ١٦٩)(جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دئے جائیں توتم انہیں مردہ تصور نہ کرو“۔
30- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ عَلِيٌّ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: عَلِيٌّ ابْنَةُ عَمِّي وَأَنَا أَخْرَجْتُهَا وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَكَانَ زَيْدٌ مُؤَاخِيًا لِحَمْزَةَ آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِزَيْدٍ أَنْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا وَقَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَهِيَ إِلَى خَالَتِهَا. ([3])
(۳۰)ابن عباس فرماتے ہیں جب آپ ﷺمکہ سے نکلے تو علی نکلتے وقت حمزہ کی بیٹی اپنے ساتھ لے گئے ۔تو حمزہ کی بیٹی کے متعلق علی ،جعفر اور زید کے درمیان کشمکش ہوئی ۔ اور آپ ﷺکے پاس آئے علی نے کہا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اور میں ان کو ساتھ لے کر آیا ہوں، اور جعفر نے کہا یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔اور زید نے کہا یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے ،اور زید کی حمزہ کے ساتھ اخوت قائم تھی ،ان دونوں کے درمیان اخوت آپ ﷺنے قائم کی تھی۔ تو آپ ﷺنے فرمایا!زید کو،آپ میرے مولیٰ ہیں اور اس بچی کے مولیٰ ہیں،اور علی سے فرمایا آپ میرے بھائی ہیں اور میرے دوست ہیں ، اور جعفر سے فرمایا کہ آپ میں میری شباہت پائی جاتی ہے اور آپ کے اخلاق میرے اخلاق کی طرح ہیں،اور وہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی۔
(۲۸)معرور نے کہاکہ میں ابو ذرسے زبدہ(ایک شہر کا نام) میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی (اسی طرح کا )جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ ﷺنے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایاا ے ابو ذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی ہے ۔بے شک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے،(یاد رکھو) ما تحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انہیں تمہارے قبضے میں کر دیا ہےتو جس کے ما تحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے ، اور وہی کپڑا اسے پہنائےجو آپ پہنتا ہے، اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لئے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔
29- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ فَقَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللهُ: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾(آل عمران: ١٦٩) .([2])
(۲۹)ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جب غزوہ احد میں تمہارے بھائیوں کو سعادت شہادت نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں رکھ دیا۔ وہ جنت کی نہروں پر ورود مسعود کرتی ہیں۔ اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں لوٹ جاتی ہیں۔ پس جب انہیں من پسند کھانے اور مشروب اور راحت و سکون کے لئے رہائش میسر ہوئی تو انہوں نے کہا”ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو کون بتائے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، ہمیں رزق دیا جاتا ہے ، تاکہ وہ جہاد سے پہلو تہی نہ کریں، اورلڑائی کے وقت پیچھے نہ ہٹیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا " میں تمہارے متعلق انہیں بتادیتا ہوں“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾(آل عمران: ١٦٩)(جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دئے جائیں توتم انہیں مردہ تصور نہ کرو“۔
30- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ عَلِيٌّ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: عَلِيٌّ ابْنَةُ عَمِّي وَأَنَا أَخْرَجْتُهَا وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَكَانَ زَيْدٌ مُؤَاخِيًا لِحَمْزَةَ آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِزَيْدٍ أَنْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا وَقَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَهِيَ إِلَى خَالَتِهَا. ([3])
(۳۰)ابن عباس فرماتے ہیں جب آپ ﷺمکہ سے نکلے تو علی نکلتے وقت حمزہ کی بیٹی اپنے ساتھ لے گئے ۔تو حمزہ کی بیٹی کے متعلق علی ،جعفر اور زید کے درمیان کشمکش ہوئی ۔ اور آپ ﷺکے پاس آئے علی نے کہا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اور میں ان کو ساتھ لے کر آیا ہوں، اور جعفر نے کہا یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔اور زید نے کہا یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے ،اور زید کی حمزہ کے ساتھ اخوت قائم تھی ،ان دونوں کے درمیان اخوت آپ ﷺنے قائم کی تھی۔ تو آپ ﷺنے فرمایا!زید کو،آپ میرے مولیٰ ہیں اور اس بچی کے مولیٰ ہیں،اور علی سے فرمایا آپ میرے بھائی ہیں اور میرے دوست ہیں ، اور جعفر سے فرمایا کہ آپ میں میری شباہت پائی جاتی ہے اور آپ کے اخلاق میرے اخلاق کی طرح ہیں،اور وہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی۔
[1] - صحيح البخاري كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الْمَعَاصِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَلَا يُكَفَّرُ صَاحِبُهَا بِارْتِكَابِهَا رقم (30) صحيح مسلم رقم (1661)
[2] - (حسن) صحيح سنن أبي داود رقم (2520)، سنن أبي داود كِتَاب الْجِهَادِ بَاب فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ رقم (2158)
[3] - مسند أحمد (1/230) وقال الشيخ أحمد شاكر إسناده صحيح
[2] - (حسن) صحيح سنن أبي داود رقم (2520)، سنن أبي داود كِتَاب الْجِهَادِ بَاب فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ رقم (2158)
[3] - مسند أحمد (1/230) وقال الشيخ أحمد شاكر إسناده صحيح
Last edited: