• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ سے نہ مانگنے والے پر اُس کا غضب

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللہ سے نہ مانگنے والے پر اُس کا غضب

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّہُ مَنْ لَّمْ یَسْأَلِ اللّٰہَ یَغْضَبُ عَلَیْہِ (صحیح سنن الترمذي، رقم: ۲۶۸۶۔ کتاب الدعوات: ۳۳۷۳)
وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم:
مَنْ لَّمْ یَدْعُ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ، غَضِبَ عَلَیْہِ (صحیح سنن ابن ماجۃ، رقم: ۳۰۸۵۔ ابواب الدعاء: ۳۸۲۷)
''جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتا اللہ عزوجل اُس پر ناراض ہوجاتے ہیں۔''
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
''جو شخص اللہ تعالیٰ سے دُعا نہیں مانگتا اُس پر وہ ناراض ہوجاتا ہے۔''
یعنی جو آدمی اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت طلب نہیں کرتا اُس پر وہ ناراض ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ ایسا آدمی یا تو مایوسی کا شکار ہے یا پھر اکٹر خاں متکبر۔ اور یہ دونوں معاملے اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ اس کے سامنے گڑگڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ مانگا جائے۔ اور یہ کہ اللہ کریم نے اپنے بندوں کو اُس سے مانگنے کا حکم صرف اس لیے دیا ہے کہ وہ اُن کو عطا کرے۔ اللہ کی رضا و پسندیدگی اس کی اطاعت و سوال میں ہی ہے۔ اگر وہ راضی ہو جائے تو جانیے کہ دنیا جہان اور آخرت کی سب خیر مل گئی۔ اور اس کے برعکس ہر مصیبت اور ہر بلا اُس کی ناراضگی میں ہے۔ (تفصیل کے لیے: (۱) تفسیر امام قرطبی، جلد: ۲، ص: ۲۰۸، ۲۰۹۔ (۲) تحفۃ الأحوذي للمبارکبوري، ج: ۱۰، ص: ۴۹۔)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سوال اور دُعا
سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} [غافر:۶۰] (صحیح سنن الترمذي، رقم: ۲۶۸۵۔ کتاب الدعوات: ۳۳۷۲ عن النعمان بن بشیر رضی اللّٰہ عنہما۔)
''دُعا ہی تو اللہ کی عبادت ہے۔''
اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
''اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ۔''
یعنی دُعا ہی وہ حقیقی عبادت ہے جو اس بات کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے اور اُس کے علاوہ ہر ایک سے منہ موڑ لینے والے عمل کی دلالت ہی کا نام عبادت رکھا جائے۔ اس حیثیت سے کہ جب آدمی کسی بھی چیز کا ارادہ کرے تو ایک اللہ عزوجل کے سوا کسی اور سے کچھ نہ مانگے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات کا حکم فرمایا ہے کہ وہ اسی کو ہی پکاریں۔ اُس نے بندوں کو دُعا کی ترغیب دلائی ہے اور اس کا نام اُس نے عبادت رکھا ہے۔ اللہ کریم نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ان کی دعاؤں کو ضرور شرفِ قبولیت بخشے گا اور اُس نے درجِ ذیل آیت کریمہ میں بتلایا ہے کہ وہ (اپنی قدرت اور علم کے ساتھ) ان سے بہت قریب ہے اور جو بھی اُس کو جہاں بھی اور (سوائے دو ایک حالتوں کے) جس حالت میں بھی پکارتا ہے وہ اس کی پکار کو سنتا ہے اور اس بات سے اُسے حیاء آتی ہے کہ وہ اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی موڑ دے۔ فرمایا:
{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ} [البقرۃ:۱۸۶]
''اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
إِنَّ رَبَّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ حَیيٌّ کَرِیْمٌ، یَسْتَحْيِ مِنْ عَبْدِہِ إِذَا رَفَعَ یَدَیْہِ إِلَیْہِ أَنْ یَّرُدَّہُمَا صِفْرًا (صحیح سنن أبي داؤد، رقم: ۱۳۲۰۔)
''بلا شبہ تمہارا نہایت بابرکت اور بلند و بالا عظیم المرتبت رب ازل سے تاابد زندہ ہے، وہ جود و سخا والا ہے۔ وہ اپنے بندے سے اس بارے میں حیاء کرتا ہے کہ جب وہ اُس کے سامنے اپنے ہاتھ اُٹھائے تو وہ ان کو بالکل ہی خالی موڑ دے۔''
بلکہ اللہ جل شانہ کہ جس کی حمد و ثناء بے بہا اور جس کے تمام اسمائِ حسنیٰ بہت ہی مقدس ہیں وہ اُس شخص پر ناراض ہوجاتا ہے کہ جو نہ ہی اُس سے مانگے اور نہ ہی اُس سے دُعا کرے۔ اور یہ اس لیے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَیْسَ شَيْئٌ أَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ تَعَالیٰ مِنَ الدُّعَائِ (جامع الترمذي؍ کتاب الدعوات؍ باب ماجاء في فضل الدعاء؍ حدیث: ۳۳۷۰۔)
''اللہ عزوجل کے ہاں دُعا سے بڑھ کر کوئی چیز معزز نہیں ہے۔''
اس لیے کہ دُعا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و قوت اور اپنے فقر و عجز اور تذلل و اعتراف کا اظہار ہوتا ہے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ عبادت تو اللہ ربّ العالمین کے سامنے خضوع و رقت اور اس کے سامنے اپنی فقیری و درماندگی کے اظہار کے لیے ہی مشروع کی گئی ہے۔ جہاں تک دُعا کو ترک کر دینے اور اللہ سے سوال کو چھوڑ دینے کا تعلق ہے تو یہ تکبر اور اللہ کریم کی عطا اور اس کی رحمت سے نری لاپرواہی ہے جو بندے کے لیے قطعاً جائز نہیں۔ اس ضمن میں نہایت شاندار بات یوں کی گئی ہے:
اَللّٰہُ یَغْضِبُ إِنْ تَرَکْتَ سُؤَالَہُ
وَتَرَی ابْنَ آدَمَ حِیْنَ یُسْأَلُ یَغْضِبُ
''اگر تم نے اللہ کریم سے مانگنا چھوڑ دیا تو وہ تم سے ناراض ہو جائے گا۔
ادھر ابن آدم کو تم دیکھتے ہو کہ جب اُس سے مانگا جائے تو وہ اس سے مانگنے پر ناراض ہو جاتا ہے۔''

اللہ تبارک وتعالیٰ سے مانگنے والے موضوع پر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث کس قدر عظیم الشان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ کُلَّ لَیْلَۃٍ إِلَی سَمَائِ الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْآخَرُ یَقُوْلُ: مَنْ یَدْعُوْنِيْ فَأَسْتَجِیْبَ لَہُ، مَنْ یَسْأَلُنِيْ فَأُعْطِیَہُ، مَنْ یَسْتَغْفِرُنِيْ فَأَغْفِرَ لَہُ (أخرجہ البخاري في کتاب التہجد، باب: الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل، رقم: ۱۱۴۵۔)
''جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں۔ (جیسے اُس کی شان کو لائق ہے۔) اور پھر فرماتے ہیں: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دُعا کو شرفِ قبولیت بخشوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں؟ اور کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے اور میں اُس کو معاف کر دوں؟ ''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ وہ مانگتا تو ہے مگر اُس کی دُعا شرفِ قبولیت حاصل نہیں کر رہی تو سمجھئے کہ اس انسان کی اپنی ذات میں اس معاملے کے اندر ضرور کوئی نقص ہو گا۔ یا پھر دُعا کی شروط میں سے کسی شرط کے اندر خلل واقع ہورہا ہو گا۔ بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے اور اس کی دعا میں قبولیت کے لیے رکاوٹ بننے والی تین مانعات میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو دُعا کے لیے تین میں سے ایک قبولیت بالتاکید ضرور ہوتی ہے۔ جیسا کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا مِنْ رَجُلٍ یَدْعُوْ اللّٰہَ بِدُعَائٍ إِلاَّ اسْتُجِیْبَ لَہُ، فَإِمَّا أَنْ یُعَجَّلَ لَہُ فِي الدُّنْیَا، وَإِمَّا أَنْ یُدَّخَّرَ لَہُ فِي الْآخِرَۃِ، وَإِمَّا أَنْ یُّکَفِّرَ عَنْہُ مِنْ ذُنُوْبِہِ بِقَدْرِ مَا دَعَا، مَا لَمْ یَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ أَوْ یَسْتَعْجِلُ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَکَیْفَ یَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ: یَقُوْلُ: دَعَوْتُ رَبِّيْ فَمَا اسْتَجَابَ لِيْ۔ (صحیح سنن الترمذي، رقم: ۲۸۵۲۔ کتاب الدعوات، رقم: ۳۶۰۴۔)
''کوئی آدمی ایسا نہیں کہ جو اللہ کریم کو کسی دُعا کے ذریعے پکارتا نہ ہو مگر یہ ہے کہ اس کی دُعا کو ضرور قبول کرلیا جاتا ہے۔ چنانچہ یا تو اُس کی دُعا کو دنیا میں مؤخر کرلیا جاتا ہے یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کرلیا جاتا ہے یا پھر اُس کی دُعا کے مطابق اُس کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب تک کہ بندہ کسی گناہ کے لیے دُعا نہ کرے یا قطعی رحمی کے لیے دُعا نہ کرے یا یہ ہے کہ وہ اس دُعا کی قبولیت کے لیے جلدی کا خواستگار نہ ہو۔ (کہے کہ ابھی قبول ہو جائے۔) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے حبیب و خلیل نبی! بندے کا دُعا کے معاملے میں جلدی کرنے کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: بندہ کہتا ہے: لو جی! میں نے اپنے رب سے مانگا مگر اُس نے میری دُعا قبول ہی نہ کی۔''
یہاں حدیث مبارک میں جو آیا ہے کہ بندہ کہتا ہے: دَعَوْتُ رَبِّيْ فَمَا اسْتَجَابَ لِيْ ... ''میں نے اپنے رب سے دُعا کی مگر اس نے میری دُعا کو قبول ہی نہ کیا۔ '' تو اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ بندہ یا تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتا ہے کہ وہ دُعا کے قبول کرنے میں بہت سست ہے... یا پھر وہ مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور یہ دونوں نظریات ہی قابل مذمت ہیں۔ اس لیے کہ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو جان لینا چاہیے کہ: دُعا کی قبولیت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جیسا کہ احادیث اور تاریخی واقعات سے ثابت ہے کہ جنابِ موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی دُعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان چالیس سال کا وقت گزر گیا تھا۔ اور جہاں تک مایوسی کا تعلق ہے تو جیسا کہ قرآن حکیم میں آتا ہے :
{إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ} [یوسف:۸۷]
''بلا شبہ اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔''
اُس کی رحمت سے مایوس ہونے والا کافروں کی اس عادت کو اپنا لیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دُعا مانگنے والے سے مطلوب یہ ہے کہ وہ
(۱) دُعا کرنے سے اُکتا نہ جائے اور یہ کہ وہ
(۲) خالص نیت کے ساتھ اور حضورِ قلبی کے ساتھ دُعا کرے۔ پھر یہ کہ وہ
(۳) قبولیت کا پورا پورا یقین رکھے۔ اس لیے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أُدْعُوْا اللّٰہَ، وَأَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالْاِجَابَۃِ، وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَجِیْبُ دُعَائً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاہٍ۔ (صحیح سنن الترمذي، رقم: ۲۷۶۶۔ کتاب الدعوات، حدیث: ۳۴۷۹۔)
''اللہ تعالیٰ سے تم لوگ یوں مانگو کہ قبولیت کا تمھیں پورا یقین ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ عزوجل کسی بھی غافل بے پرواہ دل کی دُعا کو قبول نہیں فرماتے۔''
(۴)... دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بننے والی چیزوں سے بچے۔ جیسا کہ ابھی ابھی تین چیزوں کے بارے میں ذکر ہوا۔ یعنی گناہ کی دُعا یا قطع رحمی کی دُعا یا پھر فوراً قبولیت کی جلدی۔ گناہ کی دُعا میں تمام قسم کے گناہ شامل ہیں۔ اسی طرح قطع رحمی میں تمام مسلمانوں کے تمام حقوق اور ان کے مظالم ہیں۔ دُعا کی قبولیت سے رکاوٹ بننے والے اُمور میں حرام مال اور حرام چیزوں کا کھانا بھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جیسا کہ حدیث میں ہے: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ إِلاَّ طَیِّبًا، وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ: {یٰٓأَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِِنِّی بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ o} [المؤمنون:۵۱] وَقَالَ: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَo} [البقرۃ:۱۷۲] ثُمَّ ذَکَرَ اَلرَّجُلُ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ یَا رَبِّ یَا رَبِّ، وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسَہُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّی یُسْتَجَابُ لِذَلِکَ؟ (أخرجہ مسلم في کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربتہا، رقم: ۲۳۴۵۔)
''لوگو! بلاشبہ اللہ تعالیٰ پاک ہے (یعنی صفاتِ حدوث اور سماتِ نقص و زوال سے) اور پاک مال ہی قبول کرتا ہے۔ (یعنی حلال مال کو) اور اللہ ربّ العالمین نے تمام اہل ایمان و اسلام کو وہی حکم کیا ہے جو انبیائے مرسلین کو حکم فرمایا تھا۔
چنانچہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے:
{يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ}[المؤمنون:۵۱]
''اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھائواور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔''
اور پھر اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ} [البقرۃ:۱۷۲]
''اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں اور اللہ کا شکر کرو، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔ ''
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا (مثال دیتے ہوئے) ذکر فرمایا کہ جو لمبا سفر کرتا ہے (بیسیوں یا سینکڑوں میلوں کا) اور گرد و غبار سے اٹ جاتا ہے۔ اس دوران (کہ یہ حالت بندے کی اللہ تعالیٰ کو بہت اچھی لگتی ہے) وہ آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر کہتا ہے: اے رب کریم! (رحم فرما۔ اور میری فلاں ضرورت پوری کر دے۔) حالانکہ کھانا اُس کا حرام کا ہوتا ہے اور پینا بھی اُس کا حرام کا ہوتا ہے۔ لباس کے حرام کا اور غذا اس کی حرام کی۔ تو بتلائیے! اس کی دُعا کیسے قبول ہو گی؟''
یعنی جس آدمی کی یہ حالت اور کیفیت ہو اس کی دُعا کہاں سے اور کیسے قبول ہو گی؟ ابراہیم بن اَدھم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ہماری یہ حالت کیوں ہے کہ ہم دُعا کرتے ہیں مگر ہماری دعا قبول نہیں ہوتی؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ تم نے اللہ عز و جل کو خوب پہچان لیا مگر تم نے اس کی اطاعت و فرمانبرداری نہیں کی۔ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خوب پہچان لیا مگر تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی نہ کی۔ تم لوگوں نے قرآن کی بھی خوب معرفت حاصل کر لی مگر اُس پر تم نے عمل نہ کیا۔ تم لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کو خوب کھایا لیکن اُن کا شکر ادا نہ کیا۔ تم لوگوں نے جنت کو بھی پہچان لیا مگر اس کو طلب نہ کیا۔ تم لوگوں نے جہنم کی بھی پہچان حاصل کر لی مگر اُس سے دُور بھاگنے کا سامان نہ کیا۔ تم لوگوں نے شیطان کو بھی پہچان لیا مگر اس سے جنگ نہ کی، بلکہ تم اس کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ تم لوگوں نے موت کو بھی پہچان لیا مگر اس کے لیے کوئی تیاری نہ کی۔ تم لوگ مُردوں کو اپنے ہاتھوں دفن کرتے رہے لیکن ان سے عبرت حاصل نہ کی۔ تم نے اپنے عیب کھلے چھوڑے رکھے لیکن لوگوں کے عیبوں کے ساتھ مشغول رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسی طرح چاہیے کہ بندہ اپنی دُعا میں ناجائز الفاظ کے ساتھ زیادتی نہ کرے۔
مثلاً: یوں نہ کہے: اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو اس دعا کو قبول کرلے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے؛
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ فَلْیَعْزِمِ الْمَسْأَلَۃَ، وَلَا یَقُوْلَنَّ: اللّٰہُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِيْ، فَإِنَّہُ لَا مُسْتَکرِہَ لَہُ۔ (أخرجہ البخاري في کتاب الدعوات، باب: لیعزم المسألۃ، فإنہ لا مُکرہ لہ۔ رقم: ۶۳۳۸۔)
''تم میں سے جب کوئی آدمی دُعا کرے تو اسے چاہیے کہ پرعزم ہو کر (اللہ تعالیٰ سے) مانگے۔ اور یہ بات نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے عطا کردے (اور نہیں چاہتا تو نہ دے۔) اس لیے کہ: اللہ عز و جل کو کوئی مجبور تو نہیں کرسکتا ناں!''
اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے: دُعا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دُعا میں اچھے طریقے کے ساتھ مانگنے کی پوری کوشش کرے اور قبولیت کی پوری اُمید رکھے۔ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ سب سے بڑے سخی سے مانگ رہا ہوتا ہے۔
ابن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی شخص کو اس کے جی میں اپنے گناہوں کا علم دعا سے روک نہ دے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تو اپنی تمام مخلوق کے سب سے برے فرد ... شیطان ... کی دُعا کو بھی قبول کرلیا تھا، جب اس نے کہا تھا:
{قَالَ أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ‎﴿١٤﴾‏ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ‎﴿١٥﴾} [الأعراف]
''اس نے کہا مجھے اس دن تک مہلت دے جب یہ اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دعا مانگنے والے آدمی کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ: دعا کی قبولیت کے کچھ اوقات دوسرے وقتوں سے، کچھ حالتیں دوسری حالتوں سے اور کچھ مقامات دوسرے مقامات سے زیادہ فضیلت والے ہیں۔ ان اوقات، حالتوں اور جگہوں پر غالباً دعا قبول ہو جاتی ہے۔ اوقات میں سے جیسے کہ: رات کا آخری تیسرا پہر۔ اذان اور اقامت کا درمیانی وقت، روزے کی افطاری کے وقت، جمعہ والے دن ایک گھڑی اور لیلتہ القدر وغیرذلک۔
حالتوں میں سے جیسے کہ: سجدہ کی حالت میں، سفر اور بیماری کی حالت، مجبوری کی حالت میں، حالت جہاد و قتال میں وغیر ذلک۔ مقامات میں سے جیسے کہ: بیت اللہ الحرام کا مقام ملتزم، صفا پہاڑی پر، مروہ پر، عرفات میں اور جمرات کے پاس وغیرہ ذلک۔ اسی طرح دُعا کو بار بار دہرانا بھی مسنون ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کو تین تین بار دہرانا پسند فرماتے اور کہتے:
اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ، اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ، اَللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ۔ (أخرجہ مسلم في کتاب الجہاد والسیر، باب: ما لقي النبي ﷺ من أذي المشرکین والمنافقین، رقم: ۴۶۵۱۔ ۹۹۷۔)
''اے اللہ! تو قریش سے خود بنٹ لے۔ اے اللہ! تو قریش سے خود نبٹ لے۔ اے اللہ! تو قریش کا مواخذہ فرما۔ ''
دعا کرنے والے کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ دعا میں کم سے کم مطلوب اجر و ثواب کا حصول ہوتا ہے، دُعا کے حکم کو بجا لاتے ہوئے کہ جو دراصل ہے ہی عبادت۔
اپنے بندوں کے ساتھ اللہ ربّ العالمین کی یہ رحمت ہے کہ وہ مجبور آدمی کی دُعا کو قبول کر لیتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
{أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ} [النمل:۶۲]
''یا وہ جو لاچار کی دعا قبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے اور تمہیں زمین کے جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔''
یعنی ایک اللہ عز و جل کے سوا کون ہے وہ ذات کہ مجبور آدمی صرف اسی کی طرف ہی ملتجی ہوتا ہو؟ اور کون ہے جو اُس ربّ کریم کے سوا دکھیوں کے دُکھ اور برائیوں کو دُور کر سکے؟ وہ صرف اللہ ربّ العالمین ہی ہے کہ جسے تنگیوں اور سختیوں کے وقت پکارا جاتا ہے۔ اور مصیبتوں کے وقت جس سے اُمید رکھی جاتی ہے کہ وہی مصیبتوں کو ٹالے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اپنی دعاؤں کو کس کے سامنے پیش کریں؟
فرمایا:
أُدُعْوْا إِلَی اللّٰہِ وَحْدَہُ الَّذِيْ إِنْ مَسَّکَ ضُرٌّ، فَدَعَوْتَہ، کَشَفَ عَنْکَ ۔وَالَّذِيْ إِنْ ضَلَلَتْ بِأَرْض قفرٌ، دَعَوْتَہُ، رَدَّ عَلَیْکَ۔ وَالَّذِيْ إِنْ أَصَابَتْکَ سِنۃٌ، فَدَعَوْتَہُ، أَنبَتَ عَلَیْکَ (المسند، رقم: ۲۰۵۱۴، وقال حمزۃ أحمد الزین: إسنادہ صحیح)
''اپنی دعائیں ایک اللہ عز و جل وحدہ لاشریک لہ کے سامنے پیش کرو، وہ ذات کہ اگر تجھے کوئی تکلیف دُکھ پہنچ جائے اور تو نے اس کو پکارا تو وہ تجھ سے اس دُکھ کو دور کر دے گا۔ اور اللہ کریم وہی ذاتِ اقدس ہے کہ اگر تو کسی بیابان زمین میں بھٹک جائے اور اس کو پکارے تو وہ ضرور تجھے وہاں سے نکال لے گا۔ اور اللہ ربّ العزت وہ ذات ہے کہ اگر تجھے قحط سالی آ گھیرے اور تو اُس کو پکارے تو وہ تجھ پر پانی کی بارش کر دے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دُعا رزق کمانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے کہ دُعا اس رزق دینے والے اللہ ربّ العالمین سے رزق مانگنے کا وسیلہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں رزق ہے اور بغیر حساب کے رزق دے دیتا ہے۔
اُمّ المؤمنین سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھا کر سلام پھیرتے تو کہتے:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا، وَرِزْقًا طَیِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّـلًا۔ کَذَلِکَ کَانَ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ: أَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃَ وَالذِّلَۃِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أَظْلَمَ أَوْ أُظْلَمَ۔ (صحیح سنن ابن ماجہ، رقم: ۷۵۳۔ صحیح الجامع الصغیر، رقم: ۱۲۸۷۔)
''اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔ '' اسی طرح آپ اس طرح بھی کہتے: ''اے اللہ! میں تجھ سے فقر و فاقہ، رزق کی قلت اور ذلت و رسوائی سے پناہ مانگتا ہوں۔ اسی طرح میں تجھ سے اس بات کی بھی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ اطہر اللہ ربّ کریم سے دُعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں پاکیزہ رزق عطا فرمائے اور آپ فقر و فاقہ سے اللہ کی پناہ مانگتے۔ سیّدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ؛ ایک ایسا غلام آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ جس نے اپنے مالک سے کچھ رقم دے کر آزادی کے لیے لکھ لکھا کر رکھا تھا۔ اور کہنے لگا: میں اپنی مکاتبت سے عاجز آ گیا ہوں آپ میری مدد فرمائیں۔ (یعنی جس مبلغ کے بدلے میں نے آزاد ہونا تھا وہ مبلغ پورا نہیں ہو رہا اور مدت ختم ہونے والی ہے۔) سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُس سے کہا: کیا میں تمہیں وہ الفاظ نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے تھے؟ اگر تمہارے اوپر کسی پہاڑ برابر بھی قرض وغیرہ ہو گا تو اللہ کریم تیری دُعا سن کر اسے ادا کر دے گا۔ (اس شخص نے کہا جی ہاں سکھلائیے! تو آپ نے فرمایا: کہو:
أَللّٰہُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَأَغْنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔ (صحیح سنن الترمذي، رقم: ۲۸۲۲۔)
''اے اللہ! مجھے رزق حلال کے ساتھ حرام سے محفوظ فرما لے اور مجھے اپنے فضل کے ساتھ اپنے غیر سے مستغنی فرما دے۔ ''
دیکھئے! امیر المؤمنین سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس مکاتب غلام کو سکھایا کہ اگر وہ ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کو پکارے گا اور اس کی مدد طلب کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے قرض اور مالِ مکاتبت کا ضرور انتظام فرما دے گا چاہے پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہو۔ اور یہ کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہ کرے۔
دعا کرنے والے پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ ایک اہم ترین بات کا بھی ضرور خیال کرے۔ اور وہ یہ ہے کہ دُعا کے آغاز میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمد و ثناء ضرور کرے اور نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود ضرور پڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنی نماز میں دعا مانگ رہا ہے۔ مگر اُس نے نہ ہی تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرور پڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عَجَّلَ ہٰذَا۔ ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ ــ أَوْ لِغَیْرِہِ ــ : إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدأَ بِتَحْمِیْدِ رَبِّہِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَائِ عَلَیْہِ، ثُمَّ یُصَلِّيْ عَلَی النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم، ثُمَّ یَدْعُوْ بَعْدُ بِمَا شَائَ۔ (صحیح سنن أبي داؤد، رقم: ۱۳۱۴۔)
''اس شخص نے جلدی کی ہے۔ '' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا کر اس سے فرمایا: (یا اس کے علاوہ کسی اور شخص سے) تم میں سے جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اُسے چاہیے کہ اپنے رب کریم و علا کی پہلے حمد و ثناء کرے، پھر میرے اوپر درود (أَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ ... إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) پڑھے۔ اس کے بعد جو چاہے اللہ کریم سے مانگے۔''

اللہ تعالی کی پسند اور ناپسند
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
جزاک اللہ خیرا

لوگ آپ سے تب تک ٹھیک ہیں جب تک آپ ان سے کچھ (دنیاوی مال بطور قرض ) مانگتےنہیں، جونہی کسی سے بات کریں گے وہ ناراض ہو جائے گا۔

جب کہ ہمارا رحیم و کریم رب کیسا ہے کہ نہ مانگنے پر ناراض ہوتا ہے۔

یا اللہ تیرے سوا ہمارا کوئی دینے والا نہیں، تو ہمیں لوگوں کی محتاجی سے محفوظ فرما اور صرف اپنے در کا محتاج فرما آمین
 
Top