ہابیل قابیل کا قتل <=> عالم کا قتل <=> نبی کا قتل :
اسی “بے غیرتی کے باب” میں ہمیں پاکستان میں بے تحاشہ “جاہلی قتل” کی کیس فائلز case files دیکھنے کو ملتی ہیں۔
لاہوری > شرابی > نشئ > عیاش پٹھے ایک دوسرے کو حد سے زیادہ دیکھنے اور ملنے کے بعد ہوش پر آنے پر سیدھے ہو جاتے ہیں !
تو نے میری ذوج کے بارے میں ایسی بات کیسے کہی ؟
ٹھا ٹھا ٹھا !
حالانکہ اگر یہ “قوم لوط کے بے غیرت سپوت” اپنی “ذوج” کو “ستر” جانتے تو “غیر محرم” کے منہ پر “ذوج” کا نام ہی نہ آنے دیتے !
پہلا نا حق قتل بھی “دنیوی حسن > رقابت > جہالت” کا ہوا تھا !
نبی کے بیٹے نے “چھوکری کے شیطانی نشے میں” اپنے ہی بھائ اور نبی کے بیٹے کو قتل کیا !
ایک نے اللہ کا درست قرآن سنایا اور “مسلم عالم مقتول” کہلایا !
دوسرے نے اللہ کا قرآن غلط سناتے ہوئے اپنے آپ کو “عالم کا قاتل” کہلوایا !
۲۰۰۵ سے ۲۰۰۹ کے لاہور کیمپ جیل “دورہ تخصص” کے دوران مجھے ایک “نشئ مولوی صاحب” سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا !
مولوی صاحب بڑے زور و شور سے “چرس کے سگریٹ” نوش فرما رہے تھے !
منع کرنے پر پتہ چلا کہ “سنی تحریک” کے “فاروقی گینگ” کے “مجاہد اعظم” اہلحدیث کے “ڈاکٹر غلام مرتضی ملک” کو کلاشنکوف کے ساتھ “نعت” سنا کر آئے ہیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب “گستاخ اعظم” کے درجے پر فائز ہو چکے تھے !
مزید گہرائ سے گفتگو پر بات کھلی کہ “مسجد کی توسیع” پر “اللہ کی زمین” کا جھگڑا تھا !
حالانکہ “یہی گولی” کچھ عرصے بعد ایلیٹ فورس Elite Force کے “قادری” نے درست سمت میں چلاتے ہوئے “عوامی نشریات پر شراب کے ساتھ بیٹھنے والے گورنر سلمان تاثیر” کو تحفے میں دے دی !
آجکل کی دنیا میں یہ کام “نیوروکیم تاجر” NeuroCam SIM Trader انجام دے رہا ہے !
علماء اور انبیاء کا خفیہ اور اعلانیہ قتل یہود کا “طرۂ امتیاز” رہا ہے !