محمد اویس میر
رکن
- شمولیت
- نومبر 07، 2021
- پیغامات
- 121
- ری ایکشن اسکور
- 1
- پوائنٹ
- 47
آج میری بڑی بیوہ ممانی ام عمر (سول انجینیئر) السنہ لون کشمیری دنیا سے چلی گئ ہیں >
بڑھاپے میں بہو (حافظ قرآن حمزہ ولد کی ذوج) کے لاہوری تیز مصالحے کھانے سے اور دوائ کے ساتھ پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے کینسر کی گلٹی نے جسم ختم کر دیا !
وینٹیلیٹر سے مجھے آخری “نیوروکیم فون ذہنی کلام” سنایا گیا !
“مجھے صرف خلیل نظر آئے !
(مرحوم ذوج > مسلم خلیل السنہ حافظ القرآن ڈار > واپڈا کے تبلیغی جماعت کے “سیدھے چیف انجینیئر” (ولد سیٹھ رمضان السنہ ڈار آف فیصل آباد،فیکٹری تاجر)
جنازہ ؟
کیسے ؟
بچپن میں فیصل آباد کوٹھی میں مجھے فالجی نانا کے ساتھ بٹھا کر بیر کے درخت کے نیچے “پتھر مارنا” سکھاتی تھیں !
ایک دفعہ میرا پیشاب بھی دھویا !
جب میں انجینیئر بن رہا تھا تو کھانے کی میز پر “عمر مولود والدہ” نے کہا کہ ابو کیوں نہیں باقی افسروں کی طرح فالتو کام کر کے فالتو پیسے پکڑتے ؟
جواب :
ابو نے تیری ماں چود کے فالتو کام کیا تو ہے !
اب انہوں نے اپنا قرآن حفظ اور قبر تک کے سفر کے عبادت کے ارکان بھی پورے کرنے ہیں جن پر “دنیوی وقت” لگتا ہے !
جنازہ کیسے ؟
ولد کو والدہ نے ابو کی داڑھی نہیں لگوائ !
چھوٹا حافظ بھی داڑھی کے بغیر ہی نظر آتا ہے !
۲ بیٹیاں بھی کبھی حجاب میں نہیں دیکھیں !
ممانی تجھے خلیل کیسے نظر آئے گا !
خلیل تیرا خدا نہیں !
مسلم دنیا سے جاتے ہوئے کہتا ہے “رفیق الاعلی”
(یا اللہ ! سب سے اونچا دوست !
=
اللہ )
یہی “صحیح الحدیث روبوٹ” انسان و جن کا آخری نبی بولتے ہوئے دنیا سے گیا تھا !
ہم فوت نہیں ہوتے !
صرف اس دنیا سے جاتے ہیں !
اللہ نے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے ہیں اپنے ساتھ !
جن و انس !
بڑی جہنم میں زیادہ !
چھوٹی جنت میں تھوڑے !
اپنے جسم کی تمام ریاستوں کے عبادت کے ارکان کا علم حاصل کرو تحریک
بڑھاپے میں بہو (حافظ قرآن حمزہ ولد کی ذوج) کے لاہوری تیز مصالحے کھانے سے اور دوائ کے ساتھ پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے کینسر کی گلٹی نے جسم ختم کر دیا !
وینٹیلیٹر سے مجھے آخری “نیوروکیم فون ذہنی کلام” سنایا گیا !
“مجھے صرف خلیل نظر آئے !
(مرحوم ذوج > مسلم خلیل السنہ حافظ القرآن ڈار > واپڈا کے تبلیغی جماعت کے “سیدھے چیف انجینیئر” (ولد سیٹھ رمضان السنہ ڈار آف فیصل آباد،فیکٹری تاجر)
جنازہ ؟
کیسے ؟
بچپن میں فیصل آباد کوٹھی میں مجھے فالجی نانا کے ساتھ بٹھا کر بیر کے درخت کے نیچے “پتھر مارنا” سکھاتی تھیں !
ایک دفعہ میرا پیشاب بھی دھویا !
جب میں انجینیئر بن رہا تھا تو کھانے کی میز پر “عمر مولود والدہ” نے کہا کہ ابو کیوں نہیں باقی افسروں کی طرح فالتو کام کر کے فالتو پیسے پکڑتے ؟
جواب :
ابو نے تیری ماں چود کے فالتو کام کیا تو ہے !
اب انہوں نے اپنا قرآن حفظ اور قبر تک کے سفر کے عبادت کے ارکان بھی پورے کرنے ہیں جن پر “دنیوی وقت” لگتا ہے !
جنازہ کیسے ؟
ولد کو والدہ نے ابو کی داڑھی نہیں لگوائ !
چھوٹا حافظ بھی داڑھی کے بغیر ہی نظر آتا ہے !
۲ بیٹیاں بھی کبھی حجاب میں نہیں دیکھیں !
ممانی تجھے خلیل کیسے نظر آئے گا !
خلیل تیرا خدا نہیں !
مسلم دنیا سے جاتے ہوئے کہتا ہے “رفیق الاعلی”
(یا اللہ ! سب سے اونچا دوست !
=
اللہ )
یہی “صحیح الحدیث روبوٹ” انسان و جن کا آخری نبی بولتے ہوئے دنیا سے گیا تھا !
ہم فوت نہیں ہوتے !
صرف اس دنیا سے جاتے ہیں !
اللہ نے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے ہیں اپنے ساتھ !
جن و انس !
بڑی جہنم میں زیادہ !
چھوٹی جنت میں تھوڑے !
اپنے جسم کی تمام ریاستوں کے عبادت کے ارکان کا علم حاصل کرو تحریک