• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الوہیت کا مدار کس چیز پر ہےِِ؟؟؟

شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
675
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
93
جناب مشرکین مکہ بتوں کی عبادت کرتے تھے اور میں لکھا بھی کہ و ما نعبدون ہم نہیں پوجتے مگر اس لئے کہ وہ ہمیں بتوں سے نزدیک کر دیں تو ان کا شرک پوجنے کی وجہ سے تھا اور آج کوئی مسلمان کسی ولی یا نبی کی عبادت نہیں کرتا۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
جناب مشرکین مکہ بتوں کی عبادت کرتے تھے اور میں لکھا بھی کہ و ما نعبدون ہم نہیں پوجتے مگر اس لئے کہ وہ ہمیں بتوں سے نزدیک کر دیں تو ان کا شرک پوجنے کی وجہ سے تھا اور آج کوئی مسلمان کسی ولی یا نبی کی عبادت نہیں کرتا۔
یہی تو میں بار بار پوچھ رہا ہوں کہ وہ مشرکین مکہ جو عبادت قولی یا فعلی کرتے تھے جسکو شرک کہتے تھے اسکی مثال لکھیں آپ نے عبادت کرنے کی وجہ لکھی ہے فعلی یا قولی عبادت کی کوئی مثال نہیں لکھی ویسے دیر سے سمجھ آنے پر گھبرانے کی کوئی ضرارت نہیں واللہ مجھے اس سے کچھ نہیں ہو گا بس جواب دیتے جائیں

دوباری سمجھا دیتا ہوں
1۔میں اور آپ اس پر متفق ہیں کہ مشرکین مکہ غیر اللہ کی ایسی شرکیہ عبادت کرتے تھے جو قولی اور فعلی ہوتی تھی
2۔مگر اس پر اختلاف ہے کہ آج مسلمان غیر اللہ کی شرکیہ عبادت کرتے ہیں کہ نہیں میں کہتا ہوں کہ ہاں کچھ مسلمان اسی مشرکین مکہ کی طرح غیراللہ کی شرکیہ قولی اور فعلی عبادتیں کرتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ نہیں وہ نہیں کرتے

اب اسی دوسرے اختلاف کو حل کرنے کے لئے ہمیں مشرکین مکہ کے اس قول اور فعل کو دیکھنا ہے جسکو آپ اور میں دونوں شرک سمجھتے ہیں
اور بعد میں اس کا موازنہ آج کے مسلمان کے قول اور فعل سے کرنا ہے جسکو میں تو شرک سمجھتا ہوں مگر آپ نہیں سمجھتے
پس میرا یہ مطالبہ غیر متعلقہ نہیں پس سوال دوبارہ لکھ دیتا ہوں کہ

مشرکین مکہ جو غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ قولی اور فعلی ہوتی تھی اس قول اور فعل کی مثال دیں جسکو قرآن میں یا حدیث میں شرک کہا گیا ہق اگر آپ کو یا آپ کے استاد کو ایسی کوئی مثال نہیں مل رہی تو مجھے حکم کریں میں لکھ دیتا ہوں پھر آپ بتا دیں گے میں نے درست لکھا ہے یانہیں
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
675
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
93
اچھا اب سمجھ آئی۔وہ ان کو خدا کے برابر سمجھتے تھے اور بتوں کے آگے سجدہ عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ تو لا شریک ہے مگر سوائے ان کے جن کو تم نے خود اپنا شریک بنایا اور وہ بتوں کو اللہ کے ازن کے بغیر کائنات میں متصرف مانتے تھے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
اچھا اب سمجھ آئی۔
نہیں بھئی ابھی تھوڑی سی رہ گئی ہے یا شاید جان بوجھ کر رہنے دی گئی ہے

وہ ان کو خدا کے برابر سمجھتے تھے اور بتوں کے آگے سجدہ عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ تو لا شریک ہے مگر سوائے ان کے جن کو تم نے خود اپنا شریک بنایا اور وہ بتوں کو اللہ کے ازن کے بغیر کائنات میں متصرف مانتے تھے
بھئی اوپر میری تھوڑی سی بات مانی گئی ہے مگر زیادہ تر خلاف کیا گیا ہے آپ کی بات کے تمام جملوں کو ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں
1۔پہلا ہائیلائٹ لفظ ہے 'سمجھتے تھے' جس پر میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ کسی کے شرک کا پتا صرف اسکے قول اور فعل سے ہم چلا سکتے ہیں پس ماننا اور سمجھنا جیسے الفاظ کا تعلق دل کے نظریات سے ہوتا ہے جنکا ادراک صرف اسکے فعل یا قول سے ہو گا پس اسکو زیر بحث لانے کا ذرا فائدہ نہیں
2۔دوسرا ہائیلائٹ لفظ ہے 'عبادت کرتے تھے' تو یہ بھی میں پہلے عرض کر چکا ہوں وہ مجھے وہی عبادت ہی چاہئے کہ وہ غیر اللہ کی عبادت تو کرتے تھے مگر کون سی کرتے تھے یہی بات پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ عبادت کی قولی اور فعلی مثال قرآن و حدیث سے بتا دیں ورنہ مجھے حکم دیں میں بتاتا ہوں
3۔تیسرے ہائیلائٹ الفاظ یہ ہیں 'کہتے تھے کہ اللہ تو لاشریک ہے مگر سوائے انکے جن کو تم نے خود اپنا شریک بنایا'
تو یہاں پر آپ نے میری خواہش کچھ پوری کی ہے کہ یہ کہنا انکا قول تھا اور یہ قولی شرک تھا لیکن یہاں بھی آپ اسکا قرآن و حدیث سے حوالہ لکھنا لاشعوری طور پر یا جان بوجھ کر بھول گئے جان بوجھ کر والی بات کا فیصلہ بعد میں ہو گا آپ کے پاس حوالہ ہے تو ٹھیک ورنہ میں بتا دیتا ہوں کہ یہ صحیح مسلم میں حدیث موجود ہے اگر آپ اسی کی بات کر رہے ہیں تو مکمل حدیث لکھ دیں یا میں لکھ دیتا ہوں تاکہ ایک قولی شرک والی مثال تو کم از کم میرے اور آپ کے درمیان طے ہو جائے
4۔چوتھا ہائیلائٹ جملہ ہے 'مانتے تھے'
یہاں پر بھی وہی ماننے اور سمجھنے والی بات ہے جس پر پہلے نمبر میں بتا دیا ہے کہ یہ دل کا معاملہ ہے اس پر بحث ہمارے دائرہ کار سے باہر ہے

خلاصہ:
میں نے آپ سے دو مثالیں قرآن و حدیث سے پوچھی تھیں ایک مشرکین مکہ کے قولی شرک کی اور دوسری انکے فعلی شرک کی- آپ نے قولی مثال تو بتا دی ہے اسکا حوالہ نہیں دیا مگر میں نے بتا دیا کہ وہ صحیح مسلم والی روایت ہے جس میں وہ تلبیہ بتایا گیا ہے جومشرکین مکہ حج کرتے ہوئے پڑھتے تھے پس ہمارے درمیان ایک بات طے ہو گئی کہ ان مشرکین مکہ کا قولی شرک صحیح مسلم کی اس روایت میں بتایا ہوا ہے جو وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے کہتے تھے اسی سے انکے عقیدہ کا پتا چلتا ہے
اب صرف دوسری مثال یعنی مشرکین مکہ کے الوہیت میں فعلی شرک کی مثال قرآن و حدیث کے حوالے کے ساتھ دینی ہے یا آپ جلدی سے دے دیں یا مجھے حکم کریں شکریہ
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
675
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
93
نہیں بھئی ابھی تھوڑی سی رہ گئی ہے یا شاید جان بوجھ کر رہنے دی گئی ہے


بھئی اوپر میری تھوڑی سی بات مانی گئی ہے مگر زیادہ تر خلاف کیا گیا ہے آپ کی بات کے تمام جملوں کو ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں
1۔پہلا ہائیلائٹ لفظ ہے 'سمجھتے تھے' جس پر میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ کسی کے شرک کا پتا صرف اسکے قول اور فعل سے ہم چلا سکتے ہیں پس ماننا اور سمجھنا جیسے الفاظ کا تعلق دل کے نظریات سے ہوتا ہے جنکا ادراک صرف اسکے فعل یا قول سے ہو گا پس اسکو زیر بحث لانے کا ذرا فائدہ نہیں
2۔دوسرا ہائیلائٹ لفظ ہے 'عبادت کرتے تھے' تو یہ بھی میں پہلے عرض کر چکا ہوں وہ مجھے وہی عبادت ہی چاہئے کہ وہ غیر اللہ کی عبادت تو کرتے تھے مگر کون سی کرتے تھے یہی بات پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ عبادت کی قولی اور فعلی مثال قرآن و حدیث سے بتا دیں ورنہ مجھے حکم دیں میں بتاتا ہوں
3۔تیسرے ہائیلائٹ الفاظ یہ ہیں 'کہتے تھے کہ اللہ تو لاشریک ہے مگر سوائے انکے جن کو تم نے خود اپنا شریک بنایا'
تو یہاں پر آپ نے میری خواہش کچھ پوری کی ہے کہ یہ کہنا انکا قول تھا اور یہ قولی شرک تھا لیکن یہاں بھی آپ اسکا قرآن و حدیث سے حوالہ لکھنا لاشعوری طور پر یا جان بوجھ کر بھول گئے جان بوجھ کر والی بات کا فیصلہ بعد میں ہو گا آپ کے پاس حوالہ ہے تو ٹھیک ورنہ میں بتا دیتا ہوں کہ یہ صحیح مسلم میں حدیث موجود ہے اگر آپ اسی کی بات کر رہے ہیں تو مکمل حدیث لکھ دیں یا میں لکھ دیتا ہوں تاکہ ایک قولی شرک والی مثال تو کم از کم میرے اور آپ کے درمیان طے ہو جائے
4۔چوتھا ہائیلائٹ جملہ ہے 'مانتے تھے'
یہاں پر بھی وہی ماننے اور سمجھنے والی بات ہے جس پر پہلے نمبر میں بتا دیا ہے کہ یہ دل کا معاملہ ہے اس پر بحث ہمارے دائرہ کار سے باہر ہے

خلاصہ:
میں نے آپ سے دو مثالیں قرآن و حدیث سے پوچھی تھیں ایک مشرکین مکہ کے قولی شرک کی اور دوسری انکے فعلی شرک کی- آپ نے قولی مثال تو بتا دی ہے اسکا حوالہ نہیں دیا مگر میں نے بتا دیا کہ وہ صحیح مسلم والی روایت ہے جس میں وہ تلبیہ بتایا گیا ہے جومشرکین مکہ حج کرتے ہوئے پڑھتے تھے پس ہمارے درمیان ایک بات طے ہو گئی کہ ان مشرکین مکہ کا قولی شرک صحیح مسلم کی اس روایت میں بتایا ہوا ہے جو وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے کہتے تھے اسی سے انکے عقیدہ کا پتا چلتا ہے
اب صرف دوسری مثال یعنی مشرکین مکہ کے الوہیت میں فعلی شرک کی مثال قرآن و حدیث کے حوالے کے ساتھ دینی ہے یا آپ جلدی سے دے دیں یا مجھے حکم کریں شکریہ
حضرت پہلے بیان ہو چکا کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے وما نعبد ھم الا لیقربون الا اللہ اس کے علاوہ بھی آیات بتا تی ہیں ہیں وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔رہ گیا کس طریقہ سے تو ایک تو وہ سجدہ کرتے تھے اور غالبا حضرت ابو بکر کو کہا گیا کہ بت کو سجدہ کرو تو آُپ نے انکار کردیا۔یہی الوہیت میں شرک ہے۔باقی اگر آپ بتانا چاہتے ہیں تو بتائے میں یہ تھریڈ بطور طالب کے علم کے بنا یا ہے آپ کی مہبانی ہوگی اگر آُ میری علم میں اضافہ کرے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
حضرت پہلے بیان ہو چکا کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے وما نعبد ھم الا لیقربون الا اللہ اس کے علاوہ بھی آیات بتا تی ہیں ہیں وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔رہ گیا کس طریقہ سے تو ایک تو وہ سجدہ کرتے تھے اور غالبا حضرت ابو بکر کو کہا گیا کہ بت کو سجدہ کرو تو آُپ نے انکار کردیا۔یہی الوہیت میں شرک ہے۔باقی اگر آپ بتانا چاہتے ہیں تو بتائے میں یہ تھریڈ بطور طالب کے علم کے بنا یا ہے آپ کی مہبانی ہوگی اگر آُ میری علم میں اضافہ کرے
بھئی میں گاؤں گیا ہوا تھا اس لئے جواب نہ دے سکا
باقی آپ نے کہا کہ آپ سیکھنے کے لئے یہ سب کر رہے ہیں تو بھئی ہم بھی اپنے آپ کو پرفیک نہیں کہ رہے البتہ اپنی معلومات دلائل شیئر کر کے دلائل سے سیکھنا چاہتے ہیں
میں بار بار عبادت کی شکل پوچھ رہا ہوں کہ کیا عبادت کرتے تھے تو آپ نے کہا ہے کہ ایک تو وہ بت کو سجدہ کرتے تھے اب میں آپ کو قرآن و حدیث کے حوالے سے بتاتا ہوں کہ وہ کیا کرتے تھے
آج کل ہم مندرجہ ذیل بڑی بڑی عبادتیں کرتے ہیں
1۔نماز 2۔روزہ 3۔حج 4۔زکوۃوصدقات 5-دعا
اب قرآن نے مشرکین مکہ کی عبادت کی شکل مختلف جگہ بیان کی ہے کہ وہ جو غیراللہ کی عبادت کرتے تھے تو کیا کرتے تھے اور پھر اس سے منع کیا ہے
میری معلومات کے مطابق مشرکین مکہ کی عمومی عبادت جو غیراللہ کے لئے ہوتی تھی جس کی قرآن میں وضاحت کی گئی اور معنی کیا گیا وہ آخری دو نمبر والی عبادتیں ہیں یعنی زکوۃ و نذر ونیاز اور دعا
پس میرے علم کے مطابق قرآن میں کہیں نہیں کہا گیا کہ تم اللہ کے علاوہ کسی کی نماز نہ پڑھو نہ یہ کہا گیا کہ اللہ کے علاوہ کسی کا روزہ نہ رکھو نہ حج کا ذکر ہے
البتہ قرآن میں اسکی وضاحت کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ غیر اللہ کی نذر و نیاز دیتے تھے اور غیر اللہ سے مانگتے بھی تھے یعنی دعا کرتے تھے اور اس دعا سے منع بھی کیا گیا ہے
نذر و نیاز کے بارے میں قرآن کہتا ہے
وَجَعَلُوْا لِلہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلہِ بِزَعْمِہِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآئِنَا فما کان لشرکائھم فلا یصل الی اللہ وما کان للہ فھو یصل الی شرکائھم
یعنی جب انکی کھیتی باڑی یا مویشی تیار ہو جاتے تو اس میں اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی بھی نذر و نیاز نکالتے تھے بلکہ جب کبھی بتوں کے حصے کو کوئی نقصان کی وجہ سے کمی کا سامنا ہوتا تو اللہ کے حصے میں سے اس طرف منتقل کر دیتے مگر جب اللہ کے حصے میں کبھی کمی ہو جاتی تو بتوں کے حصے میں سے اللہ کے حصے میں منتقل نہ کرتے کہ بت ناراض نہ ہو جائیں اللہ کی خیر ہے اللہ کہتا ہے کہ ساء ما یحکمون یعنی کتنا برا فیصلہ کرتے تھے
اسی طرح دعا کے بارے قرآن میں آتا ہے
حَتَّىٰ إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لہ الدین
یعنی جب وہ ڈوبنے لگتے تھے تو خالص اللہ کو پکارتے تھے مگر
ﻓَﻟَﻣﱠﺎ ﻧَﺟﱠﺎھُمْ إِﻟَﯽ اﻟْﺑَرﱢ إِذَا ھُمْ ﯾُﺷْرِﮐُونَ
یعنی جب انکو ہم نجات دے دیتے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے
اسی طرح دوسری جگہ فرمایا
قل ارایتکم ان اتاکم عذاب الله او اتتکم الساعة اغیر الله تدعون ان کنتم صادقین
یعنی جب کوئی مشکل آئے تو اللہ کے علاوہ کسی کو پکارو گے اگر اپنے عقیدے میں سچے ہو
بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ۔
بلکہ تم اللہ کو ہی پکارو گے اور پھر وہ تمھاری تکلیف دور بھی کرے گا اور تم اس وقت شرک یعنی دوسروں سے مانگنا بھول جاؤ گے
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ کچھ لوگ آپ کو کہیں کہ قرآن میں عربی کے لفظ تدعون کا معنی خالی دعا نہیں بلکہ عبادت بھی ہے تو ہم کہیں گے کہ یہی تو آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر تدعون کا معنی عبادت بھی کریں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی عبادت ہوتی تھی جو مشرکین مکہ غیر اللہ کی کرتے تھے پس غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ اوپر آیت میں تدعون کا معنی عبادت بمعنی دعا ہی بنتا ہے کیونکہ اللہ کہتا ہے کہ یکشف ما تدعون الیہ یعنی جس چیز کی فرمائش کی گئی وہ دور کر دے گا یا نجات دے دے گا تو ظاہر ہے فرمائش دعا کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے اسی لئے احمد رضا ان بریلوی نے بھی پکارنا یعنی مانگنا ہی کیا ہے دعا کے عبادت ہونے پر حدیثِ رسول بھی ہے کہ الدعاء ھو العبادہ یا مخ العبادہ پس دعا تو عبادت کا نچوڑ ہوا
اسی طرح قرآن کی ایک آیت اوپر بتوں کی وضاحت میں ذکر کی ہے کہ ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم کہ جنکی تم عبادت کرتے ہو وہ تمھاری طرح کے بندے (عیسی علیہ اسلام وغیرہ) ہیں اب جب ہم دیکھنا چاہیں کہ اس آیت میں جو ذکر ہے کہ بندوں کی عبادت کی جاتی تھی تو وہ اوپر پانچ عبادتوں میں سے کون سی تھی تو اسکا جواب اسی آیت میں اگلے الفاظ میں ملتا ہے کہ فادعوھم فلیستجیبولکم ان کنتم صدقینکہ پھر انکی عبادت (یعنی دعا) کرو پس پھر ان بتوں کو (تمھاری عبادت یعنی دعا) قبول کرنی چاہئے پس پتا چلا کہ وہ دعا ہی مانگ رہے تھے جس کے قبول نہ ہونے کا آگے ذکر ہے

اب یہاں تک پہلے اپنے دلائل دے دیں پھر آگے بات کریں گے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
ایک سوال کا جواب دے کہ کیا ہر دعا کامطلب عبادت ہے؟؟
جس دعا کو الدعاء ھو العبادۃ کہا گیا ہے وہ ایک خاص دعا ہے جیسے الصلوۃ کے یوں تو بہت سے معنی ہو سکتے ہیں اور عربی لغت کو لے کر اہل قرآن پرویزی اسکے متعدد معنی کرتے بھی ہیں مگر اہل سنت کے ہاں جو اسکا اصطلاحی معنی میں وہ خاص نماز ہے جسکو ہم روزانہ 5 دفعہ پڑھتے ہیں
اس پر البتہ بت تو بعد میں تفصیل سے ہو جائے گی ابھی تو پہلے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ
کیا قرآن میں مشرکین مکہ کی عبادت کی شکل جو بتائی گئی ہے اس میں دعا کا تذکرہ بھی ہے کہ نہیں یعنی وہ جو شرک کرتے تھے اس میں اللہ کے علاوہ کسی سے مانگنا بھی شامل تھا کہ نہیں

پس آپ جواب دیں کہ ہاں شامل تھا یا پھر نہیں شامل نہیں تھا
اس کا فیصلہ ہونے کے بعد ہم دیکھیں گے کہ اگر دعا بھی انکے شرکیہ اعمال میں شامل تھی تو پھر وہ دعا کون سی تھی
اسکی تحقیق بعد میں کریں گے اسکی وجہ یہ ہے کہ اب اگر ہم اسکی تحقیق میں لگ گئے اور تحقیق کر بھی لی کہ فلاں دعا عبادت ہے اور فلاں دعا عبادت نہیں تو بعد میں ہمارا اس پر ہی اتفاق نہ ہو کہ مشرکین مکہ دعا بھی کرتے تھے کہ نہیں تو یہ ساری تحقیق فارغ ہو جائے گی پس پہلے ہم یہ فائنل کر لیتے ہیں کہ آیا مشرکین مکہ جو شرکیہ اعمال کرتے تھے وہ کیا تھے اور اس میں کیا کسی قسم کی دعا بھی شامل تھی کہ نہیں
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
675
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
93
مجھے علم نہیں ہو سکتا ہے پکارتے ہوں۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ مین یہاں سائل ہوں اور سوال وہی کرتا ہے جو لا علم ہو
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
اشرف آصف جلالی صاحب نے چند سال پہلے ’’ شرکیات ’’ کو توحید ثابت کرنے کے لیے سب سے سنجیدہ مغالطہ یہی دیا تھا ، یعنی ’’ معیار الوہیت ’’ کیا ہے ؟ کیا نہیں ۔؟
پھر ’’ معیار الوہیت ’’ قائم کرنے کےلیے انہوں نے تفتازانی کی جو تعریف نقل کی تھی اور اس سے جو نتیجہ نکالا ، اس کے مطابق مشرکین مکہ بھی ’’ موحد ’’ ٹھہرتے ہیں ۔
میرے علم کے مطابق ابھی تک جلالی صاحب نہ تو خود اس بات کی خاطر خواہ وضاحت کرسکے ہیں اور نہ کوئی اور فاضل بریلوی اس عقدہ کو حل کرسکا ہے ۔
بہت خوشی ہوئی کہ محترم عبدہ بھائی نے معاملے کو جڑ سے پکڑا ہے ، یہی انداز علامہ عبدالرحمن بن یحیی المعلمی رحمہ اللہ نے ’’ رفع الاشتباہ عن معنی العبادۃ والإله و تحقيق معنى التوحيد و الشرك بالله ’’ میں اپنایا ہے ۔
 
Top