• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الیکٹرونک میڈیا پر تصویرکا شرعی حکم ؛ تقابلی جائزہ

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
الیکٹرونک میڈیا پر تصویرکا شرعی حکم ؛ تقابلی جائزہ

حافظ حسن مدنی​
نوٹ
شمارہ ماہنامہ محدث لاہور خاص ایشو پر خاص نمبر نکالتا رہتا ہے۔’’ تصویر پر خاص نمبر‘‘ ماہنامہ محدث لاہور کا شمارہ پی ڈی ایف اور یونیکوڈ میں ڈاؤنلوڈ کرنے کےلیےیہاں کلک کریں
موجودہ دور ترقی، انقلابات، میڈیا اور اطلاعات کا دور ہے۔ اگرچہ ایک صدی قبل انسان نے بجلی، فون، ایندھن، نقل وحمل اور مواصلات کے دوسرے ذرائع دریافت کرلئے تھے، تاہم دریافت وایجادکے اس سفر میں جو کامیابی اور تیزی گذشتہ چند برسوں میں دیکھنے میں آئی ہے، اس کی تیزرفتاری نے واقعتا عقل کو حیران وپریشان کردیا ہے۔ آج سے کم وبیش ۱۵، ۲۰ برس قبل کمپیوٹر اورانٹرنیٹ کی ایجاد نے تو گویا ہرچیز بدل کے رکھ دی ہے۔ اور ہر آنے والا دن اس میں کئی گنا اضافہ کررہا ہے۔
میڈیا کی اس تیزرفتاری اور ترقی سے بہت سے نئے مسائل نے جنم لیا ہے جن میں ایک اہم مسئلہ ہردَم بڑھتے ٹی وی چینلوں کا بھی ہے۔ پاکستان میں کیبل ٹی وی کے بعد اور مشرف حکومت کی نرم میڈیا پالیسیوں کے سبب پاکستانی قوم اس وقت ٹی وی چینلوں کے ایک طوفانِ بلاخیز سے دوچار ہے۔
پاکستان کے تین درجن کے لگ بھگ ملکی ٹی وی چینلوں میں ایک تہائی تعداد درجہ اوّل کے چینلز کی ہے مثلاً ’جیو‘ کے تین چینل، ’اے آر وائی‘ کے دو چینل، نوائے وقت کا ’وقت‘ چینل، ’آج‘ ٹی وی،’ بزنس پلس‘، ’ایکسپریس نیوز‘ اور ’ڈان نیوز‘ وغیرہ۔ باقی درجہ دوم اور سوم کے چینلز بھی اتنی ہی تعداد میں موجود ہیں جن میں مذہبی چینلز بھی شامل ہیں۔ یہ سب چینل محض گذشتہ ۳ سے ۵ برس کے دوران وجود میں آئے ہیں۔ ان چینلوں کو باہمی مقابلہ اور عوام میں مقبولیت کے لئے جہاں رقص وموسیقی کے بے ہنگم پروگرام پیش کرنے ہوتے ہیں جس سے روز بروز موج مستی اور عیش پرستی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے، وہاں عوام کے رہے سہے دینی جذبہ کی تسکین کے لئے اُنہیں براے نام ایسے علماے دین کی ضرورت بھی ہوتی ہے، جو عالم دین کہلانے کی بجائے ’اخلاقی ماہرینEthical Experts اور’سکالرز‘ کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
پردۂ سکرین کی مخصوص ضروریات اور ماحول کے تقاضوں کو یوں بھی حقیقی عالم دین تو پورا نہیں کرسکتا نتیجتاً ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘ کے مصداق ایسے ’دینی ماہرین‘ کی ایک فوج ظفر موج وجود میں آچکی ہے جو کسی دینی درسگاہ سے باقاعدہ تعلیم یافتہ ہونے کی بجائے عوام کے دینی جذبات کا خوبصورت الفاظ میں استحصال کرنے کی صلاحیت سے تو مالا مال ہوتے ہیں تاکہ عوام کی دین سے وابستگی کے فطری جذبہ کی بھی تسکین ہوسکے اور ہردم بدلتی نئی دنیا کے تقاضے بھی پورے ہوتے رہیں۔ ان نام نہاد دینی پروگراموں کے معیار کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عین پروگرام سے قبل مرد وزَن کے اختلاط کے مناظر بھی ٹی وی پرچلتے رہتے ہیں، دورانِ پروگرام فحش ٹی وی اشتہارات بھی اور پس منظر میں دھیمے سروں کی موسیقی بھی، ان چیزوں کے جلو میں عوام کو دینی رہنمائی بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔
ٹی وی چینلوں کی مقبولیت اور عوام میں ان کی اثر پذیری کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے کئی ایک ’مذہبی‘ سکالروں کی مقبولیت اسی پردئہ سیمیں کی مرہونِ منت ہے اور محض اسی سبب وہ اسلامیانِ پاکستان کے مذہبی قائد و رہنما کے منصب و اِعزاز پر براجمان ہیں جبکہ ان کے پندارِ علم اوردینداری کا یہ عالم ہے کہ طبقہ علما میں نہ تو ان کی ذات کو کوئی اچھا تعارف حاصل ہے اور نہ ہی اُن کے پایۂ علم کو مستند خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جدید میڈیا کی کرشمہ سازیوں کے سبب عوامِ پاکستان کی دینی بساط اب مسجد ومدرسہ سے نکل کر اسی ٹی وی سکرین کی مرہونِ منت ہوچکی ہے جس پر حیا باختہ اداکارائیں بھی مختصر لباس میں جلوہ افروز ہوتی ہیں۔
ہر لمحے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اس ماحول اور زوال پذیر معاشرتی صورتحال کو ہر دردمند مسلمان بری طرح محسوس کرتا ہے۔ اور اسی تناظر میں ہر صاحب ِفکر یہ توقع کرتا دکھائی دیتا ہے کہ منبر ومحراب کے حقیقی وارث علماے کرام بھی اَب روایتی اُسلوبِ دعوت و تربیت سے آگے بڑھتے ہوئے ان ٹی وی چینلوں کے ذریعے ان کے مذہبی رجحانات کی تشفی کریں۔ یہاں یہ بنیادی نکتہ ان کی نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے کہ جب دین کی مقدس تعلیم کو بھی مقصد وہدف سے قطع نظر ٹی وی چینل کے مالک کے جذبہ حصولِ منفعت کے پیش نظر ابلاغ کی لہروں کے سپرد کیا جائے گا تومنبر نبویؐ کا یہ مقدس مشن کیسے لوگوں کے سپرد ہوگا اورعوام کی دینی تعلیم وتدریس کی کون سی نوعیت اربابِ ابلاغ کے ہاں مطلوب ومعتبر قرار پائے گی…؟
یہ ہے ٹی وی پر تبلیغ دین کے موجودہ داعیہ کا پس منظر جس کی راہ میں اکثر وبیشتر اسلام کی رو سے مسئلہ تصویر حائل ہوتا رہا ہے۔ محتاط اور جید علما ے کرام اس بنا پر ہمیشہ ٹی وی پر آنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ یوں بھی ٹی وی کی سکرین جس طرزِ استدلال اور عاقلانہ معروضیت کی متقاضی ہے، ایمان وایقان کے اُسلوب میں ڈھلے اعتقادات و نظریات اس سے یکسر مختلف روحانی ماحول میں ہی پروان چڑھ سکتے ہیں۔
بہرطورا س ضرورت کے سبب اور درپیش حالات میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلی کوسامنے رکھتے ہوئے مسئلہ تصویرپر علماے کرام میں کئی بار یہ موضوع اُٹھایا گیا جس کے نتیجے میں کئی ایک مذاکرے اور مباحثے منعقد ہوتے رہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
مسئلہ تصویر پر جملہ مکاتب ِفکر کا نمائندہ مذاکرہ
ماضی میں جب بھی کسی مذہبی جماعت نے عامتہ المسلمین میں دینی دعوت کو توسیع دینے کا سوچا تو سب سے پہلے اسی مسئلہ تصویرپر ایک معرکہ اُنہیں طے کرنا پڑا، چنانچہ ۸۰ء کے عشرے میں جماعت ِاسلامی میں یہ مسئلہ پیدا ہوا او راُنہوں نے ایک موقف پر اطمینان حاصل کیا۔ حالیہ میڈیا پالیسی کے بعد ٹی وی چینلوں کی بھرمار کے اِنہی دنوں میں جب دین کے نام لیوا بعض حلقوں نے ٹی وی کو اپنی جہد وکاوش کا مرکز بنانا چاہا تو ’تصویرکے مسئلہ‘ پر اُنہوں نے بھی ایک ’باضابطہ‘ موقف اختیار کیا، اب جب مدارس ومساجد سے وابستہ علماے کرام کے معاشرتی کردار کو مزید مؤثر کرنے پرغور وخوض ہوا تو یہی مسئلہ سب سے پہلے اَساسی توجہ کا طالب ٹھہرا۔ اس اعتبارسے مسئلہ تصویر جدید میڈیا کے اس دور میں انتہائی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
گذشتہ برس جملہ مکاتب ِفکر کی سرکردہ علمی شخصیات پر مشتمل ’ ملی مجلس شرعی‘ کے نام سے ایک مستقل پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا تھاجس کا ہدف یہ تھا کہ ’’فروعی اختلافات سے بالاتر رہتے ہوئے عوام الناس کو اسلام کی روشنی میں درپیش جدید مسائل کا حل‘‘ پیش کیا جائے۔ اس مجلس شرعی کے تاسیسی اجلاس(منعقدہ جامعہ نعیمیہ، لاہور) میں بھی سب سے پہلے یہی ’مسئلہ تصویر‘ ہی موضوعِ بحث بنا۔ ’ملی مجلس شرعی‘ کا دوسرا اجلاس جامعہ اشرفیہ، لاہور میں ۴؍ نومبر۲۰۰۷ء کو منعقد ہوا تو اس میں اس مسئلہ کے بنیادی خطوط پر سرسری تبادلہ خیال کیا گیا اور وہیں وسیع پیمانے پر علما کا ایک نمائندہ اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ ہوا۔
چنانچہ اِمسال ۱۳؍اپریل کو ’ملی مجلس شرعی‘ کے پلیٹ فارم سے جملہ مکاتب ِفکر کا ایک وسیع سیمینار مفتی محمد خاں قادری صاحب کی درسگاہ جامعہ اسلامیہ، ٹھوگرنیاز بیگ، لاہور میں منعقد ہوا۔ اس سیمینار میں تین مجالس بالترتیب ڈاکٹرمحمد سرفراز نعیمی (مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور)، مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی (مہتمم جامعہ لاہور الاسلامیہ) اور مولانا حافظ فضل الرحیم (مہتمم جامعہ اشرفیہ، لاہور) کے زیر صدارت منعقد ہوئیں جس میں
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
بریلوی مکتب ِفکر سے
1۔ مفتی محمد خاں قادری، مہتمم جامعہ اسلامیہ، ٹھوکر نیاز بیگ، لاہور
2۔ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری، مہتمم جامعہ رضویہ، ماڈل ٹائون، لاہور
3۔ مفتی شیر محمد خاں، شیخ الحدیث دار العلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ
4۔ مفتی غلام حسین، شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ خیرالمعاد، ملتان
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
دیوبندی مکتب ِفکر سے
1۔ مولانا رشید میاں تھانوی، مہتمم جامعہ مدنیہ، لاہور
2۔ قاری احمد میاں تھانوی، نائب مہتمم دار العلوم اسلامیہ، لاہور
3۔ مولانا محمد یوسف خاں، اُستاذِ حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور
4۔مولانا عتیق الرحمن، مہتمم جامعہ عبد اللہ بن عمر، لاہور
5۔ مفتی محمد طاہر مسعود، مہتمم جامعہ مفتاح العلوم، سرگودھا
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
اہل حدیث مکتب ِفکر سے
1۔مولانا حافظ عبد العزیز علوی، شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ، فیصل آباد
2۔حافظ صلاح الدین یوسف، مدیر ترجمہ وتحقیق ، دارالسلام، لاہور
3۔مولانا محمد رمضان سلفی، نائب شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ
4۔مولانا محمد شفیق مدنی، اُستاذِ حدیث وفقہ ،جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور
5۔شیخ الحدیث مولانا عبد المالک(مہتمم مرکز ِعلوم اسلامیہ ، منصورہ )
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
وغیرہ نے اس موضوع پر اپنے قیمتی خیالات پیش کئے، جبکہ علماء اورفاضلینِ مدارس کی ایک بڑی تعداد بھی سیمینار میں شریک ہوئی۔ اجلاس کے داعی ڈاکٹر محمد امین نے نقابت کے فرائض انجام دیے۔ یوں تو اجلاس میں تمام خطابات ہی بڑے علمی، استدلال سے بھرپور اور پرمغزو بامقصد تھے… جن کی ریکارڈنگ ’ملی مجلس شرعی‘ کے سیکرٹری ڈاکٹر محمد امین صاحب سے حاصل کی جاسکتی ہے… لیکن ان میں ایسے خطابات جو مختلف مکاتب ِفکر کے نمائندہ اور متنوع رجحانات کی عکاسی کرتے تھے، ادارئہ محدث نے بقدر ِاستطاعت اُن کو مدوّن کرکے یا خطاب کو سامنے رکھتے ہوئے دوبارہ لکھوا کر اُنہیں زیر نظر شمارہ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے تاکہ ا س اہم اجلاس کا فائدہ عام اور محفوظ ہوسکے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
یہ مذاکرہ دراصل دو بنیادی موضوعات پر منعقد ہوا تھا :
1۔ تصویر، فوٹوگرافی اورویڈیو وغیرہ کی شرعی حیثیت
2۔دورِ حاضر میں تبلیغی ضروریات کے لئے تصویر، ٹی وی اور ویڈیو کا جواز ؟
جیسا کہ اوپر درج شدہ ناموں کی فہرست سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس مذاکرہ میں جہاں ملک کی نامور اورسرکردہ اہل علم شخصیات شامل تھیں، وہاں ان کا تعلق ایک نقطہ نظر کی بجائے مختلف پس منظر اور مکاتب ِ فکر سے تھا، چنانچہ اشتراک ویگانگت کے کئی پہلووں کے ساتھ ساتھ ہر صاحب ِعلم نے اپنے اپنے ڈھنگ میں ان دونوں مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس مذاکرہ کے اختتام پر ایک متفقہ قرار داد بھی منظور کی گئی جس کا تذکرہ زیر نظر تحریر کے آخر میں موجود ہے، لیکن مختلف افراد کے خیالات میں قدرِ مشترک اور ان کے طرزِ استدلال پر تبصرہ اور باہمی تقابل بھی ہمیں موضوع کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
تصویر کا شرعی حکم
سب سے پہلے تصویر کے بارے میں شرعی حکم کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے … پھر اہل علم کے تینوں موقفوں کا بالاختصار تذکرہ، تجزیہ اور نتیجہ و ثمرہ
تصویر کی حرمت کے بارے میں احادیث ِنبویہؐ کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جن میں صراحت کے ساتھ تصویر کی حرمت کو شدت سے بیان کیا گیا ہے۔ غور کیا جائے تو ان احادیث وآثار میں تصویر کی حرمت کو تین نتائج؍ وجوہات میں منحصر کیا جاسکتاہے :
1۔تصویر کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اللہ کی صفت ِ تخلیق سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماے حسنہ میں ایک نام ’مصور‘ اور اس کی صفات میں ’’ ہُوَ الَّذِيْ یُصَوِّرُکُمْ فِيْ الأرْحَامِ کَیْفَ یَشَائُ ‘‘ شامل ہے، اس بنا پر تصویر بنانا سرے سے حرام ہے اور تصویر کشی کی فی نفسہٖ ممانعت کی وجہ یہی ہے۔ اسی لئے مصوروں کے لئے احادیث میں سخت ترین وعید آئی ہے کہ روزِ قیامت اُنہیں شدید ترین عذاب ہوگا اور اُن سے اپنی تصویر شدہ اشیا میں روح ڈالنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ البتہ بعض احادیث وآثار سے پتہ چلتا ہے کہ مشابہت کا یہ وصف صرف ذی روح اشیا تک محدود ہے۔ جمادات اورقدرتی مناظر کی تصاویر بنانا جائز ہے۔ غرض تصویر کی حرمت کی ذاتی اور اہم وجہ اللہ کی تخلیق سے مشابہت ہے۔
اس نکتہ کی مزید وضاحت مولانا شفیق مدنی کے خطاب(ص ۶)، شیخ عبد الرحمن عبد الخالق کے کتابچہ بر تصویر (ص۵)اور ابن دقیق العید (شرح العمدۃ: ۳؍۲۵۶) میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
2۔تصویر کی حرمت کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے شرک اورغیر اللہ کی معبودیت کا دروازہ کھلتا ہے۔ امکانِ شرک کا یہ عنصر مقدس اور عظیم شخصیات میں قوی تر ہوجاتا ہے جیسا کہ پہلی اَقوام میں تصویر اور مجسمہ سازی اسی نتیجہ شرک پر منتج ہوتی رہی ہے۔ اس بنا پر شرک کا رستہ بند کرنے کے لئے سد ِذریعہ کے طورپر تصویر کشی حرام ہے۔ اس امکان کے اِزالے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ تصویر میں سروغیرہ کٹے
(الصورة الرأس فاذا قطع فلا صورة اخرجه البيهقي 7/270 وصححه الالباني)
ہوئے ہوں، اور اگر وہ کہیں موجودہو تو اس کو محل اِہانت میں رکھا جائے کیونکہ پوری تصویر کسی بھی وقت شرک کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے۔
اس نکتہ کی مزید تفصیل والد گرامی حافظ عبد الرحمن مدنی کے خطاب (ص:۲،۳) میں اور شیخ عبد الرحمن عبد الخالق کے کتابچہ (ص:۶) میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
3۔تصاویر بنانا تو مندرجہ بالا وجوہ کی بنا پر حرام ہے، البتہ کسی بنا پر حاصل ہوجانیوالی تصویر کے بارے میں شریعت ِاسلامیہ کا موقف یہ ہے کہ تصویر کو نمایاں کرنا باعث ِنحوست ہے اوراس کے سبب رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔ اس نحوست کے خاتمے کا طریقہ احادیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ تصویر کو اِعزاز واِکرام کی بجائے زمین میں پامال کیا اورروندا جائے۔
بعض اہل علم نے حرمت ِتصویر کی وجہ غیرمسلموں سے مشابہت بھی بتائی ہے۔ البتہ تصویر کے اس حکم ممانعت سے بصراحت لڑکیوں کا اپنی گڑیوں وغیرہ سے کھیلنا خارج ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ احادیث ِنبویہ میں نبی کریم1نے یہ اجازت دی ہے۔ قاضی عیاضؒ نے قراردیا ہے کہ جمہور اہل علم کے نزدیک گڑیوں سے کھیلنے کی اجازت مستثنیٰ ہے۔ (فتح الباری) البتہ بعض علما کے نزدیک یہ اجازت بھی منسوخ ہے۔ (الجواب المُفید از شیخ ابن باز:ؒ ص ۲۲)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
مذاکرہ میں پیش کردہ آرا کا تقابل وتجزیہ
مذاکرہ کے دوران راقم کا تاثر یہ رہا کہ حالات کی سنگینی اور تبلیغ اسلام کے اہم فریضے سے عہدہ برا ہونے کے پیش نظر، اپنی منصبی ذمہ داری کو جانتے سمجھتے ہوئے حاصل بحث اور نتیجہ کے اعتبار سے تما م اہل علم کی آرا میں کوئی واضح اختلاف نہیں پایا جاتا، اور یہی اتفاق اور قدرِ مشترک متفقہ قرار داد کو منظور کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
مذکورہ بالا دو مسائل کے بارے میں علماے کرام کے موقف اور رجحانات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نکتہ پر تو تمام علما کا اتفاق ہے کہ فی زمانہ تبلیغ دین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ٹی وی پر آنا جائز ہے، البتہ ہر عالم دین نے اپنی اپنی اُفتادِ طبع، ذوق اور علم کی روشنی میں تشریح وتعبیرکا اُسلوب مختلف اپنایا ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
اس مرکزی نتیجہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے علما کے موقف اور طرزِ استدلال کو جاننے کے لئے ان کو تین مختلف حلقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1۔پہلے حلقے کے علما کرام کے نزدیک تصویر کشی اور ٹی وی ؍ ویڈیو شریعت ِاسلامیہ کی رو سے اصلاً حرام ہے جس کے نتیجے میں ٹی وی پر آنا بھی ناجائزہے، البتہ فی زمانہ تبلیغ اسلام کے لئے مختلف خارجی وجوہ کی بنا پر اس کی اجازت دی یا اسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔
2۔بعض علماء نے تصویر اور ٹی وی ؍ ویڈیو کے احکام میں فرق کیا ہے۔ ان کے نزدیک تصویر تو اصلاً حرام ہے ، البتہ ٹی وی؍ ویڈیو تصویر کی اس شرعی حرمت میں شامل نہیں۔ چنانچہ اس طرح احکامِ تصویر کی توجیہ اور ان میں باہمی فرق کرتے ہوئے اُنہوں نے یہ گنجائش دی ہے کہ اپنی اصل کے اعتبار سے ہی جدید الیکٹرانک میڈیا وغیرہ پر آنا شرعاً جائز ہے۔
3۔اہل علم کے تیسرے گروہ کے نزدیک تصویر کے شرعی حکم میں فوٹوگرافی شامل ہی نہیں بلکہ یہ عکس ہے۔ بعض دانشوروں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ تصویر کی کوئی صورت بھی فی نفسہٖ (بشمول ہاتھ سے بنائی گئی) حرام نہیں، شریعت میں تصویر کی تمام تر حرمت خارجی وجوہ (مثلاً فحاشی وشرک وغیرہ) کی بنا پر ہے۔ تصویرکشی اسلامی شریعت کی رو سے ایک مرغوب ومطلوب امر ہے۔
الغرض اس سلسلے میں علما کے تین حلقے ہیں جن سب کا اس نتیجہ میں تو اتفاق ہے کہ فی زمانہ تبلیغ اسلام کیلئے ٹی وی پر آنا جائز ہے، البتہ فتویٰ کی تعبیرو توجیہ ہر ایک کے ہاں جداگانہ ہے۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top