- شمولیت
- اپریل 14، 2011
- پیغامات
- 1,135
- ری ایکشن اسکور
- 4,484
- پوائنٹ
- 376
فتاوی برہنہ (ج٢ص١٨٤)میں لکھا ہوا ھے کہ نعمان بن ثابت کا تذکرہ تورات میں بھی ہے ،معراج میں بھی امام ابو حنیفہ موضوع بحث رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امام صاحب کے بارے میں پیش گوئی بھی کی تھی ۔(حقیقۃ التقلید ص:٦١)
عبدالمصطفی لکھتا ھے :
؏ حنیفہ حنیف کا تانیث ہے جس کے معنی ہیں عبادت کرنے والا اور دین کی طرف راغب ہونے والا ۔
؏ آپ کا حلقہ درس وسیع تھا اور آپ کے شاگرد اپنے ساتھ قلم دوات رکھتے تھے چونکہ اہل عراق دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اس لیے آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا یعنی دوات والے -
؏ آپ کی کنیت وضعی معنی کے اعتبار سے ہے یونی ابوالملۃ الحنیفۃ ۔ قرآن مجید میں رب تعالی نے مسلمانوں سے فرمایا : فاتبعو ملۃ ابراہیم حنیفۃ (آل عمران 95 ) امام اعظم رضی اللہ عنہ نے اسی نسبت سے اپنی کنیت ابوحنیفہ اختیار کی ، اسکا مفہوم ہے باطل ادیان کو چھوڑ کر دین حق اختیار کرنے والا (الخیرات الحسان 71)
امام اعظم رضی اللہ عنہ کا ذکر اسی کنیت کے ساتھ توریت میں آیا ہے ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا ذکر توراۃ میں ہے ، حضرت کعب بن احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے جو توراۃ حضرت موسٰی علیہ السلام پر نازل فرمائی اس میں*ہمیں* یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں*ایک نور ہوگا جس کی کنیت ابوحنیفہ ہوگی ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے لقب سراج الامۃ سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ ( تعارف فقہ و تصوف 225 )
سید شاہ تراب لحق قادری صاحب کی کتاب امام اعظم سے اقتباس]
فتاوی برہنہ علمائ احناف کے ہاں معتبر کتاب ہے
ایک حنفی عالم دین محمد برہان الحق جلالی لکھتے ہیں :’’
اور اسطرح کتب معتبرہ مثل ارشادالطالبین اور فتاویٰ برہنہ میں یہ منقول ہے کہ
ترجمہ:۔یعنی امام اعظم کوفہ کی مسجد میں تعلیم وتدریس اور فیض رسانی کی مسند پر جلوہ افروز ہوتے توآپ کے ارد گردایک ہزار شاگرد بیٹھتے آپ کے چالیس جلیل القدر فقہا شاگرد آپ کے نزدیک بیٹھتے اور مسائل شرعیہ استخراج فرماتے تھے جب کسی مسئلے کی درستگی پر سب کا اتفاق ہو جاتاتو امام المسلمین بہت خوشی میں ”الحمدللہ واللہ اکبر“کانعرہ بلند کرتے اور آپ کی موافقت میں حاضرین مجلس اللہ اکبر کانعرہ لگاتے اور مسئلہ کو کتاب میں نقل کر لیتے(حوالہ )
مشھور شاعر اور صوفی وارث علی شاہ اسی فتاوی برہنہ کی تعریف یوں کرتے ہیں :[B
فتاوی برہنہ منظوم شاہاں نال زبدیاں حفظ قراریا نیں
معارج النبوت خلاصیاں توں روضہ نال اخلاص پساریا نیں
زرداریاں دے نال شرح مُلا زنجانیاں نحو نتاریا نیں
کرن حفظ قرآن تفسیر دوراں، غیر شرح نوں دریاں ماریا نیں
(وارث شاہ) (حوالہ )
اے علمائ تقلید کیا یہ سچ ھے یا جھوٹ ؟
یہ کیوں کہا گیا ؟ اس کی بے شمار وجوہات ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ھے [/B]
١:عام پڑھے لکھے لوگ امام صاحب کی عقیدت میں گن گائے کہ ہمارے کا تذکرہ تو توراۃ میں ہے اس لئے انھیں کی تقلید واجب ھے !
٢:یہ من گھڑت بات اس لئے احناف پیش کرتے ہیں تا کہ کسی نہ کسی طرح ہمارے امام کا مقام بن جائے !!
٣:فقہ حنفی کی تائید تورات سے بھی حاصل کرنے کی غرض سے یہ بات بنائی گئی !!!
٤:ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولنا پڑتا ہے تو فقہ حنفی غیر ثابت تھی بس اس کو ثابت کرنے کے لئے سب پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں !!!
اے امت مسلمہ !
خدا راہ سمجھیں ہوشیار ہو جائیں اپنے ایمان و عقیدہ کی اصلاح کریں اپنی گردن سے تقلید کو دور کریں ،ورنہ یہ آل تقلید تمہیں صراط مستقیم پر نہیں آنے دیں گےبس من گھڑت باتیں بنا کر آپ کو تسلی دیں گے ۔
بحوالہ البشارہ ڈاٹ کام
عبدالمصطفی لکھتا ھے :
؏ حنیفہ حنیف کا تانیث ہے جس کے معنی ہیں عبادت کرنے والا اور دین کی طرف راغب ہونے والا ۔
؏ آپ کا حلقہ درس وسیع تھا اور آپ کے شاگرد اپنے ساتھ قلم دوات رکھتے تھے چونکہ اہل عراق دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اس لیے آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا یعنی دوات والے -
؏ آپ کی کنیت وضعی معنی کے اعتبار سے ہے یونی ابوالملۃ الحنیفۃ ۔ قرآن مجید میں رب تعالی نے مسلمانوں سے فرمایا : فاتبعو ملۃ ابراہیم حنیفۃ (آل عمران 95 ) امام اعظم رضی اللہ عنہ نے اسی نسبت سے اپنی کنیت ابوحنیفہ اختیار کی ، اسکا مفہوم ہے باطل ادیان کو چھوڑ کر دین حق اختیار کرنے والا (الخیرات الحسان 71)
امام اعظم رضی اللہ عنہ کا ذکر اسی کنیت کے ساتھ توریت میں آیا ہے ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا ذکر توراۃ میں ہے ، حضرت کعب بن احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے جو توراۃ حضرت موسٰی علیہ السلام پر نازل فرمائی اس میں*ہمیں* یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں*ایک نور ہوگا جس کی کنیت ابوحنیفہ ہوگی ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے لقب سراج الامۃ سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ ( تعارف فقہ و تصوف 225 )
سید شاہ تراب لحق قادری صاحب کی کتاب امام اعظم سے اقتباس]
فتاوی برہنہ علمائ احناف کے ہاں معتبر کتاب ہے
ایک حنفی عالم دین محمد برہان الحق جلالی لکھتے ہیں :’’
اور اسطرح کتب معتبرہ مثل ارشادالطالبین اور فتاویٰ برہنہ میں یہ منقول ہے کہ
ترجمہ:۔یعنی امام اعظم کوفہ کی مسجد میں تعلیم وتدریس اور فیض رسانی کی مسند پر جلوہ افروز ہوتے توآپ کے ارد گردایک ہزار شاگرد بیٹھتے آپ کے چالیس جلیل القدر فقہا شاگرد آپ کے نزدیک بیٹھتے اور مسائل شرعیہ استخراج فرماتے تھے جب کسی مسئلے کی درستگی پر سب کا اتفاق ہو جاتاتو امام المسلمین بہت خوشی میں ”الحمدللہ واللہ اکبر“کانعرہ بلند کرتے اور آپ کی موافقت میں حاضرین مجلس اللہ اکبر کانعرہ لگاتے اور مسئلہ کو کتاب میں نقل کر لیتے(حوالہ )
مشھور شاعر اور صوفی وارث علی شاہ اسی فتاوی برہنہ کی تعریف یوں کرتے ہیں :[B
فتاوی برہنہ منظوم شاہاں نال زبدیاں حفظ قراریا نیں
معارج النبوت خلاصیاں توں روضہ نال اخلاص پساریا نیں
زرداریاں دے نال شرح مُلا زنجانیاں نحو نتاریا نیں
کرن حفظ قرآن تفسیر دوراں، غیر شرح نوں دریاں ماریا نیں
(وارث شاہ) (حوالہ )
اے علمائ تقلید کیا یہ سچ ھے یا جھوٹ ؟
یہ کیوں کہا گیا ؟ اس کی بے شمار وجوہات ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ھے [/B]
١:عام پڑھے لکھے لوگ امام صاحب کی عقیدت میں گن گائے کہ ہمارے کا تذکرہ تو توراۃ میں ہے اس لئے انھیں کی تقلید واجب ھے !
٢:یہ من گھڑت بات اس لئے احناف پیش کرتے ہیں تا کہ کسی نہ کسی طرح ہمارے امام کا مقام بن جائے !!
٣:فقہ حنفی کی تائید تورات سے بھی حاصل کرنے کی غرض سے یہ بات بنائی گئی !!!
٤:ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولنا پڑتا ہے تو فقہ حنفی غیر ثابت تھی بس اس کو ثابت کرنے کے لئے سب پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں !!!
اے امت مسلمہ !
خدا راہ سمجھیں ہوشیار ہو جائیں اپنے ایمان و عقیدہ کی اصلاح کریں اپنی گردن سے تقلید کو دور کریں ،ورنہ یہ آل تقلید تمہیں صراط مستقیم پر نہیں آنے دیں گےبس من گھڑت باتیں بنا کر آپ کو تسلی دیں گے ۔
بحوالہ البشارہ ڈاٹ کام