• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انوکھی تحقیق (سائنس پر اندھا اعتماد کرنے والوں کے لئے )

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
سورج کا مغرب سے نکلنا

اب کونسی طاقت اس کو اس گردش سے روک کر دوسری طرف گھما دے۔ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ایسی قدرت کے مالک ہیں۔
مگر ایسا معاملہ ہونا چونکہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے لہٰذا یہ معجزاتی عمل ہوگا۔
مگر معجزہ کا تعلق انبیاء اور رسل سے ہے اور ان کا ظہور اب ہونا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کسی نبی کا ظہور بطور نبی نہیں ہونے کا۔
کیا قانونِ فطرت میں ایسا ممکن ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو؟

وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ
اور حکم فرمائی اُس دن ﷲ ہی کی ہو گی
(الانفطار، 82 : 19)

نہ ہی قانون فطرت کے خلاف اور نہ ہی معجزہ "اور حکم فرمائی اس دن اللہ ہی کی ہو گی "

قرآنِ مجید اِنعقادِ قیامت کے ضمن میں کائنات کے تمام موجودات کی کششی دھماکے سے رُونما ہونے والی حالت اور اُس کی بے تحاشا تباہی کو یوں واضح کرتا ہے :

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُO لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌO خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌO إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّاO وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاOفَكَانَتْ هَبًَاء مُّنبَثًّاO
(یاد رکھو) جب قیامت واقع ہو جائے گیo

تب اُسے جھوٹ سمجھنے کی گنجائش کسی کے لئے نہ ہو گیo
کسی کو پست اور کسی کو بلند کرنے والیo
جب زمین کپکپا کر لرزنے لگے گیo
اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گےo
پھر (مکمل طور پر) غبار بن کر اُڑنے لگیں گےo

(الواقعه، 56 : 1 - 6)

يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًاO
جس دِن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر) ریت کے بُھربُھرے تودّے ہو جائیں گے
o
(المزمل، 73 : 14)


السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًاO
جس (دِن کی دہشت) سے آسمان پھٹ جائے گا، (یاد رکھو کہ) اُس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گاo
(المزمل، 73 : 18)

وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةًO فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُO وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌO
اور زمین اور پہاڑ اُٹھائے جائیں، گے پھر یکبارگی (لپک کر) ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گےo

پس اُسی وقت جس (قیامت) کا ہونا یقینی ہے وہ واقع ہو جائے گیo
اور آسمان پھٹ جائے گا، پھر اُس دن وہ بالکل بودا (بے حقیقت) ہو جائے گاo
(الحاقه، 69 : 14 - 16)

وَنَرَاهُ قَرِيبًاO يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِO وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِO
اور وہ ہماری نظر میں قریب ہےo
جس دِن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو گاo
اور پہاڑ رنگین اُون کے گالے کی طرح ہلکے ہوں گےo
(المعارج، 70 : 7 - 9)

إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْO وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْO وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْO
جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گاo
اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گِر پڑیں گےo

اور جب پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) چلا دیئے جائیں گےo
(التکوير، 81 : 1 - 3)

إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْO وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْO وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْO
جب (سب) آسمانی کرے پھٹ جائیں گےo

اور سیارے گِر کر بھر جائیں گےo
اور جب سمندر (اور دریا) اُبھر کر بہہ جائیں گےo

(الانفطار، 82 : 1 - 3)

وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِO
اور حکم فرمائی اُس دن ﷲ ہی کی ہو گیo
(الانفطار، 82 : 19)

يَسْـئَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِO فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُOوَخَسَفَ الْقَمَرُO وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُO يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّO
وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دِن کب ہو گاo
پھر جب (ربُّ العزت کی تجلی قہری سے) آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گیo

اور چاند بے نور ہو جائے گاo
اور سورج اور چاند ایک سی حالت پر آ جائیں گےo
اُس روز اِنسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ کر جاؤںo
(القيامة، 75 : 6 - 10)

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌO فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْO وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْO وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْO
بیشک تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور (پورا) ہو کر رہے گاo

پھر جب تارے بے نور ہو جائیں گےo
اور جب آسمان پھٹ جائے گاo اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر) اُڑتے پھریں گےo

(المرسلات، 77 : 7 - 10)

وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًاO وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاO
اور آسمان کے طبقات پھاڑ دیئے جائیں گے تو (پھٹنے کے باعث گویا) وہ دروازے ہی دروازے ہو جائیں گےo

اور پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) اُڑا دیئے جائیں گے، سو وہ سراب (کی طرح کالعدم) ہو جائیں گےo
(النباء، 78 : 19، 20)

الْقَارِعَةُO مَا الْقَارِعَةُO وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُO يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِO وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِO
(زمین و آسمان کی ساری کائنات کو) کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑکo

وہ (ہر شے) کو کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک کیا ہے؟o
اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ (ہر شے کو) کھڑکھڑا دینے والے شدید جھٹکے اور کڑک سے کیا مُراد ہے؟o
(اِس سے مُراد) وہ یومِ قیامت ہے جس دِن سارے لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گےo
اور پہاڑ رنگ برنگ دُھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گےo
(القارعة، 101 : 1 - 5)

كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّاO
یقیناً جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کر دی جائے گیo
(الفجر، 89 : 21)

وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْO
(التکوير، 81 : 11)
اور جب سماوِی طبقات کو پھاڑ کر اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گاo
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ.
اُس دِن ہم (ساری) سماوِی کائنات کو لپیٹ دیں گے۔

(الأنبياء، 21 : 104)

وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ.

اور قیامت کے دِن تمام زمین اُس کی مٹھی میں (ہو گی) اور آسمان (کاغذ کی طرح) لپٹے ہوئے اُس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے۔
(الزُمر، 39 : 67)


فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍO
پس اُس دِن کا اِنتظار کرو جب آسمان سے ایک واضح دُھواں ظاہر ہو گا
(الدُخان، 44 : 10)o

اِسی حقیقت کو سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں واضح کیا ہے :


إنّ السّاعةَ لَا تَکُوْنُ حَتّٰی عَشَر آيَاتِ. . . الدُّخَانُ. . . وَ طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا. . .
قیامت اُس وقت تک برپا نہیں ہو گی جب تک 10 علامات ظاہر نہ ہو جائیں۔ دُخان اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (بھی اُنہی میں سے ہے)۔
(سنن ابنِ ماجه : 302)/ (مسند احمد بن حنبل، 2 : 372)/ (مسند احمد بن حنبل، 4 : 7)

سیدنا حذیفہ بن اُسید غفاری رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :


إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْا قَبْلَهَا عَشرَ آيَاتٍ، فَذَکَرَ الدُّخَان. . . وَ طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا.
قیامت اس وقت تک واقع نہیں ہو گی جب تک اس سے پہلے تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو- پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مشرق سے مغرب تک محیط) دھوئیں کا ذکر فرمایا۔ ۔ ۔ (اور آگے) سورج کے الٹی سمت سے (مغرب سے) طلوع ہونے کا بھی ذکر کیا۔
(الصحيح لمسلم، : 2 393)/ (مشکوة المصابيح : 472)

سورج کے اُلٹی سمت (مغرب) سے طلوع ہونے کا معنی بھی یہی ہے کہ وہ کشش جو تمام اَجرام کو اپنے اپنے مستقر اور مدار پر مقررہ سمت میں گردِش پذیر رکھتی ہے جب اُس میں تبدیلی واقع ہو جائے گی تو اُن کی حرکت کی سمتیں بھی متضاد اور متصادم ہو جائیں گی اور اُسی کے نتیجے میں بالآخر سب کچھ آپس میں ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گا۔ (گویا زمین کی گردش اُلٹی ہو جائے گی جس سے سورج مغرب سے طلوع ہوتا نظر آئے گا)۔

واللہ اعلم

بھٹی صاحب کے جواب کا انتطار رہے گا۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,652
ری ایکشن اسکور
741
پوائنٹ
290
سبحان اللہ ، سر بسجود مالک حقیقی سے پناہ مانگتے ہیں ۔ اللہ ہم سبکا خاتمہ اسلام پر کرے ۔ روز محشر کی سرفرازی سے نوازے ۔

جزاک اللہ خیرا محترم کنعان بهائی ۔ ان تمام کا جواب بهلا کوئی کیا دے سکتا هے ! ہم تو معافیاں طلب کرتے ہیں اپنی غلطیوں کی ، عفو اور در گذر کے طلبگار ہیں ۔ خطاء کار ہیں رحم طلب کرتے ہیں ذوالجلال والاکرام سے ۔ بیشک ہم انتہائی حقیر ہیں دونوں جہانوں کے مالک سے ۔ اللہ ہم سب کی خطائیں بخش دے ۔ انعام و اکرام والے راستے پر چلائے ۔
بهلے اہل تصوف ہم کو اہل سنت سے خارج سمجہیں ، ہم محض رضائے الہی چاہتے ہیں ۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
محترم کنعان صاحب نے جتنی آیات پیش کی ہیں وہ تقریباً سب کی سب قیامت برپا ہوجانے سے متعلق ہیں۔ قیامت برپا ہونے سے پہلے بہت سی نشانیاں بھی مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وقوع پذیر ہونگی۔ انہی نشانیوں میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہے۔
سائنس زدہ افراد کو اس مخمصہ سے نکالنے کے لئے قدرت ہی کے نظامِ کائنات کے تحت اس کی وضاحت ہوگی۔ ان شاء اللہ
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
سورج کے اُلٹی سمت (مغرب) سے طلوع ہونے کا معنی بھی یہی ہے کہ وہ کشش جو تمام اَجرام کو اپنے اپنے مستقر اور مدار پر مقررہ سمت میں گردِش پذیر رکھتی ہے جب اُس میں تبدیلی واقع ہو جائے گی تو اُن کی حرکت کی سمتیں بھی متضاد اور متصادم ہو جائیں گی
آپ کی اس توضیح سے ایسا لگتا ہے کہ زمین پہلے موجودہ محوری گردش سے رکے گی پھر مخالف سمت میں گھومنا شروع ہوگی۔ جب کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ زمین اپنی اس محوری گردش کو جاری رکھے ہوئے بھی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔ ان شاء اللہ اسی کی وضاحت کی جائے گی۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
فلکیات

قدرت کا بنایا ہؤا نظام کائنا اتنا مکمل ہے کہ اس میں کسی قسم کا نقص یا کمی بیشی کی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس نطام کو اس طرح سے تخلیق کیا ہے کہ ایک مخصوص وقت پر یہ درہم برہم ہوجائے گا۔
ماہرین فلکیات ایک بڑے سیارہ کے زمین کے قریب سے گزرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سیارہ بھی زمین کی طرح مقناطیسی پول رکھتا ہو۔ اس سیارہ کے پول گھوم رہے ہوں جیسے زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے۔ یہ سیارہ زمین کے جس پول کی طرف سے بھی گزرے اگر اس کا وہی پول زمین کی طرف ہوگیا تو دونوں پول ایک دوسرے کو دھکیلیں گے اور زمین کے پول گھوم جائیں گے۔ یعنی شمال کی جگہ جنوبی پول آجائے گا اور زمین کی محوری گرش وہی رہنے کے باوجود سورج مغرب سے طلوع ہوجائے گا۔ جب پھر دوبارہ سیارے کا وہی پول جو اس وقت زمین کا ہوگا سامنے آئے گا توزمین دوبارہ گھوم جائے گی اور معمول پر آجائے گی۔ سیارہ بھی اس دوران حدود سے آگے بڑھ جائے گا اور زمین کی موجودہ گردش جاری رہے گی۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
تجربہ
میری اوپر مذکورہ پوسٹ کو سمجھنے کے لئے ایک مقناطیس اور ایک کمپس لیں۔ کمپس کو ایک جگہ رکھ دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا ایک سرا شمال کی جانب اور دوسرا جنوب کی جانب ٹھہرے گا۔ جو سرا فرض کریں شمال کی جانب ہے اس کی طرف مقناطیس کا شمالی سرا کیئے ہوئے اس کے قریب سے گذاریں۔ آپ دیکھیں گے کہ کمپس کی سوئی مخالف سمت گھوم جائے گی۔ جیسے ہی مقناطیس دور ہوگا کمپس کی سوئی پھر سے شمالاً جنوباً ہوجائے گی۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔
کہا جاتا ہے کہ زمین اپنے محور پر مغرب سے مشرق کی طرف گھومتی ہے۔ جس وجہ سے ہمیں سورج مشرق سے طلوع ہوتا نظر آتا ہے۔ اگر یہ ایسا ہی ہے تو پھر لازم ہے کہ زمین پہلے گھومنا بند کرے پھر الٹی طرف گھومے تو یہ ممکن ہوگا کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔ اب کونسی طاقت اس کو اس گردش سے روک کر دوسری طرف گھما دے۔ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ایسی قدرت کے مالک ہیں۔ مگر ایسا معاملہ ہونا چونکہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے لہٰذا یہ معجزاتی عمل ہوگا۔ مگر معجزہ کا تعلق انبیاء اور رسل سے ہے اور ان کا ظہور اب ہونا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کسی نبی کا ظہور بطور نبی نہیں ہونے کا۔

کیا قانونِ فطرت میں ایسا ممکن ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو؟ جی ہاں ایسا عین ممکن ہے کہ قانونِ فطرت بھی نہ ٹوٹے اور سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔
(بھٹی)

وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ
اور حکم فرمائی اُس دن ﷲ ہی کی ہو گی
(الانفطار، 82 : 19)

نہ ہی قانون فطرت کے خلاف اور نہ ہی معجزہ "اور حکم فرمائی اس دن اللہ ہی کی ہو گی "

قرآنِ مجید اِنعقادِ قیامت کے ضمن میں کائنات کے تمام موجودات کی کششی دھماکے سے رُونما ہونے والی حالت اور اُس کی بے تحاشا تباہی کو یوں واضح کرتا ہے :

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُO لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌO خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌO إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّاO وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاOفَكَانَتْ هَبًَاء مُّنبَثًّاO
(یاد رکھو) جب قیامت واقع ہو جائے گیo
تب اُسے جھوٹ سمجھنے کی گنجائش کسی کے لئے نہ ہو گیo
کسی کو پست اور کسی کو بلند کرنے والیo
جب زمین کپکپا کر لرزنے لگے گیo
اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گےo
پھر (مکمل طور پر) غبار بن کر اُڑنے لگیں گےo
(الواقعه، 56 : 1 - 6)

يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًاO
جس دِن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر) ریت کے بُھربُھرے تودّے ہو جائیں گےo
(المزمل، 73 : 14)

السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًاO
جس (دِن کی دہشت) سے آسمان پھٹ جائے گا، (یاد رکھو کہ) اُس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گاo
(المزمل، 73 : 18)

وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةًO فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُO وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌO
اور زمین اور پہاڑ اُٹھائے جائیں، گے پھر یکبارگی (لپک کر) ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گےo
پس اُسی وقت جس (قیامت) کا ہونا یقینی ہے وہ واقع ہو جائے گیo
اور آسمان پھٹ جائے گا، پھر اُس دن وہ بالکل بودا (بے حقیقت) ہو جائے گاo
(الحاقه، 69 : 14 - 16)

وَنَرَاهُ قَرِيبًاO يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِO وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِO
اور وہ ہماری نظر میں قریب ہےo
جس دِن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو گاo
اور پہاڑ رنگین اُون کے گالے کی طرح ہلکے ہوں گےo
(المعارج، 70 : 7 - 9)

إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْO وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْO وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْO
جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گاo
اور جب ستارے (اپنی کہکشاؤں سے) گِر پڑیں گےo
اور جب پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) چلا دیئے جائیں گےo
(التکوير، 81 : 1 - 3)

إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْO وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْO وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْO
جب (سب) آسمانی کرے پھٹ جائیں گےo
اور سیارے گِر کر بھر جائیں گےo
اور جب سمندر (اور دریا) اُبھر کر بہہ جائیں گےo
(الانفطار، 82 : 1 - 3)

وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِO
اور حکم فرمائی اُس دن ﷲ ہی کی ہو گیo
(الانفطار، 82 : 19)

يَسْـئَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِO فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُOوَخَسَفَ الْقَمَرُO وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُO يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّO
وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کا دِن کب ہو گاo
پھر جب (ربُّ العزت کی تجلی قہری سے) آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گیo
اور چاند بے نور ہو جائے گاo
اور سورج اور چاند ایک سی حالت پر آ جائیں گےo
اُس روز اِنسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ کر جاؤںo
(القيامة، 75 : 6 - 10)

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌO فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْO وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْO وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْO
بیشک تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور (پورا) ہو کر رہے گاo
پھر جب تارے بے نور ہو جائیں گےo
اور جب آسمان پھٹ جائے گاo اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر) اُڑتے پھریں گےo
(المرسلات، 77 : 7 - 10)

وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًاO وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاO
اور آسمان کے طبقات پھاڑ دیئے جائیں گے تو (پھٹنے کے باعث گویا) وہ دروازے ہی دروازے ہو جائیں گےo
اور پہاڑ (غبار بنا کر فضا میں) اُڑا دیئے جائیں گے، سو وہ سراب (کی طرح کالعدم) ہو جائیں گےo
(النباء، 78 : 19، 20)

الْقَارِعَةُO مَا الْقَارِعَةُO وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُO يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِO وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِO
(زمین و آسمان کی ساری کائنات کو) کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑکo
وہ (ہر شے) کو کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک کیا ہے؟o
اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ (ہر شے کو) کھڑکھڑا دینے والے شدید جھٹکے اور کڑک سے کیا مُراد ہے؟o
(اِس سے مُراد) وہ یومِ قیامت ہے جس دِن سارے لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گےo
اور پہاڑ رنگ برنگ دُھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گےo
(القارعة، 101 : 1 - 5)

كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّاO
یقیناً جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کر دی جائے گیo
(الفجر، 89 : 21)

وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْO
(التکوير، 81 : 11)
اور جب سماوِی طبقات کو پھاڑ کر اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گاo
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ.
اُس دِن ہم (ساری) سماوِی کائنات کو لپیٹ دیں گے۔
(الأنبياء، 21 : 104)

وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ.
اور قیامت کے دِن تمام زمین اُس کی مٹھی میں (ہو گی) اور آسمان (کاغذ کی طرح) لپٹے ہوئے اُس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے۔
(الزُمر، 39 : 67)

فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍO
پس اُس دِن کا اِنتظار کرو جب آسمان سے ایک واضح دُھواں ظاہر ہو گا
(الدُخان، 44 : 10)o

اِسی حقیقت کو سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں واضح کیا ہے :

إنّ السّاعةَ لَا تَکُوْنُ حَتّٰی عَشَر آيَاتِ. . . الدُّخَانُ. . . وَ طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا. . .
قیامت اُس وقت تک برپا نہیں ہو گی جب تک 10 علامات ظاہر نہ ہو جائیں۔ دُخان اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (بھی اُنہی میں سے ہے)۔
(سنن ابنِ ماجه : 302)/ (مسند احمد بن حنبل، 2 : 372)/ (مسند احمد بن حنبل، 4 : 7)

سیدنا حذیفہ بن اُسید غفاری رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :

إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْا قَبْلَهَا عَشرَ آيَاتٍ، فَذَکَرَ الدُّخَان. . . وَ طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا.
قیامت اس وقت تک واقع نہیں ہو گی جب تک اس سے پہلے تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو- پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مشرق سے مغرب تک محیط) دھوئیں کا ذکر فرمایا۔ ۔ ۔ (اور آگے) سورج کے الٹی سمت سے (مغرب سے) طلوع ہونے کا بھی ذکر کیا۔
(الصحيح لمسلم، : 2 393)/ (مشکوة المصابيح : 472)

سورج کے اُلٹی سمت (مغرب) سے طلوع ہونے کا معنی بھی یہی ہے کہ وہ کشش جو تمام اَجرام کو اپنے اپنے مستقر اور مدار پر مقررہ سمت میں گردِش پذیر رکھتی ہے جب اُس میں تبدیلی واقع ہو جائے گی تو اُن کی حرکت کی سمتیں بھی متضاد اور متصادم ہو جائیں گی اور اُسی کے نتیجے میں بالآخر سب کچھ آپس میں ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گا۔ (گویا زمین کی گردش اُلٹی ہو جائے گی جس سے سورج مغرب سے طلوع ہوتا نظر آئے گا)۔
واللہ اعلم

بھٹی صاحب کے جواب کا انتطار رہے گا۔

محترم کنعان صاحب نے جتنی آیات پیش کی ہیں وہ تقریباً سب کی سب قیامت برپا ہوجانے سے متعلق ہیں۔

؟؟؟؟سائنس زدہ افراد کو اس مخمصہ سے نکالنے کے لئے قدرت ہی کے نظامِ کائنات کے تحت اس کی وضاحت ہو گی۔؟؟؟؟

(بھٹی)


فلکیات

سیارہ زمین کے جس پول کی طرف سے بھی گزرے اگر اس کا وہی پول زمین کی طرف ہوگیا تو دونوں پول ایک دوسرے کو دھکیلیں گے اور زمین کے پول گھوم جائیں گے۔ یعنی شمال کی جگہ جنوبی پول آجائے گا اور زمین کی محوری گرش وہی رہنے کے باوجود سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا۔ جب پھر دوبارہ سیارے کا وہی پول جو اس وقت زمین کا ہو گا سامنے آئے گا تو زمین دوبارہ گھوم جائے گی اور معمول پر آجائے گی۔ سیارہ بھی اس دوران حدود سے آگے بڑھ جائے گا اور زمین کی موجودہ گردش جاری رہے گی۔

بھٹی صاحب جس طرح آپ نے اس پر مراسلہ لگایا تھا جواب اس کے مطابق نہیں دے پائے، بچوں جیسا جواب دیا ہے آپ نے، اپنا دعوی دوبارہ پڑھ لیں، سمائل! قرآن کی آیات کا بار بار مطالعہ فرمائیں شائد کچھ سمجھ آ جائے۔


والسلام
 
Last edited:

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
درج شخصیات کی خاطر سورج پلٹنے کی باتیں ملتی ہیں:

یوشع علیہ السلام
موسی علیہ السلام
داؤد علیہ السلام
سلیمان بن داؤد علیہ السلام
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم (دو مرتبہ)

ان میں اول الذکر (یوشع علیہ السلام) شخصیت کے علاوہ کسی اور کے لئے سورج پلٹنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها (1/ 393) 200

(کفایت اللہ سنابلی)


وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ
اور حکم فرمائی اُس دن ﷲ ہی کی ہو گی
(الانفطار، 82 : 19)
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
درج شخصیات کی خاطر سورج پلٹنے کی باتیں ملتی ہیں:

یوشع علیہ السلام
موسی علیہ السلام
داؤد علیہ السلام
سلیمان بن داؤد علیہ السلام
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم (دو مرتبہ)

ان میں اول الذکر (یوشع علیہ السلام) شخصیت کے علاوہ کسی اور کے لئے سورج پلٹنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها (1/ 393) 200

(کفایت اللہ سنابلی)



وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ

اور حکم فرمائی اُس دن ﷲ ہی کی ہو گی
(الانفطار، 82 : 19)
مذکورہ تمام واقعات ”معجزات“ ہیں فلاشک۔ اللہ تعالیٰ اب بھی قدرت والے اور خالق و مالک ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ”حکم فرمائی“ نہ صرف قیامت کے دن بلکہ ہمیشہ سے ہی اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے۔ وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔
اور یہ بھی اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کے حکم سے ہی ہے کہ کوئی سیارہ اس مدار میں پہلے ہی سے چل رہا ہو اور وہ وقتِ معلوم پر مذکور حالات پیدا کرے۔
 
Top