• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انگوٹھے چومنے کی حدیث

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,104
پوائنٹ
412
حدیث کی سند نہ ہو تو اس پر کیا حکم لگتا ہے؟؟؟ ضعیف حدیث کسے کہتے ہیں؟
 

khalil rana

رکن
شمولیت
دسمبر 05، 2015
پیغامات
218
ری ایکشن اسکور
32
پوائنٹ
52
عمر اثری صاحب آپ بحث برائے بحث کررہے ہیں ،آپ نے غالباً سکین پڑھا نہیں ،علامہ طاہر پٹنی علیہ الرحمہ نے حدیث کی سند نہ ہونے پر ضعیف کا حکم لگایا ہے۔اور نہ آپ نے امام مالک رضی اللہ عنہ کے فعل پر کچھ کہا۔
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,104
پوائنٹ
412
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عمر اثری صاحب آپ بحث برائے بحث کررہے ہیں ،آپ نے غالباً سکین پڑھا نہیں ،علامہ طاہر پٹنی علیہ الرحمہ نے حدیث کی سند نہ ہونے پر ضعیف کا حکم لگایا ہے۔اور نہ آپ نے امام مالک رضی اللہ عنہ کے فعل پر کچھ کہا۔
یار آپ لوگ بڑے متعصب ہوتے جا رہے ہیں. اوپر میرا سوال مطلق تھا. صرف آپ ہی مخاطب ہوتے تو آپ کے پیغام کا اقتباس لیتا. خیر آپ صرف اسکینز لگائیں اور تعصب بھری پوسٹس کرتے رہیں.
والسلام علیکم
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,713
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اذان میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اقدس سن کر انگوٹھے چومنے کی حدیث ضعیف ہے یا موضوع ؟
اگر ضعیف ہے تو ضعیف حدیث پر فضائل واعمال میں عمل کیا جاسکتا ہے۔
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کی بحث تو بعد میں کریں گے، پہلے آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا عمل کسی معتبر و مقبول حدیث سے ثابت کردیں!
پھر دیکھیں گے کہ اس کی فضیلت کیا ہے اور اعمال کی فضیلت کے متعلق ضعیف احادیث کا کیا معاملہ ہے!
ناچیز اسے ضعیف سمجھتا ہے جیسا کہ محدثین نے لکھا۔اسے موضوع کہنا جھوٹ ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔
ویسے علم الحدیث کے معاملہ میں مقلدین احناف سے گفتگو کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی مچھلی کو کوہ پیمائی سکھلانا!
محدثین نے اس روایت و خضر علیہ السلام سے روایت کرنے کی علت بھی بیان کی ہے!
یہ بتلائیے کہ کوئی امتی ، وہ بھی جو نہ صحابی ہو، نہ تابعی ہو یہ تبع تابعین میں سے ہو، خضر علیہ السلام سے روایت کرے، وہ بدعتی صوفیوں کے ہا جو ہو سو ہو، محدثین کے ہاں مقبول نہیں ، بلکہ مردود و ضعیف اور من گھڑت و موضوع ہے!
محدثین نے اس حدیث کو بلا سند ذکر کرکے لایصح ہی کہا اور ضعیف قرار دیا۔علامہ طاہر پٹنی نے یہ بھی لکھا کہ کثیر لوگوں نے اس کا تجربہ کیا۔ آپ محدثین کی تحریروں کو نہیں مانتے تو نہ مانیں ، اس جھگڑے والی کون سی بات ہے۔
بلا سند اور لا يصح کو ضعیف و موضوع بھی کہا جائے گا!
علامہ طاہر پٹنی نے کہا ہے کہ ''وروي تجربة ذلك عن كثرين'' یعنی کہ '' بہت سے لوگوں سے اس کا تجربہ کرنا روایت کیا گیا ہے!
دو باتوں پر غور کریں! ایک تو یہ علامہ طاہر پٹنی نے ان تجربہ کاروں کا نہ نام لکھا ہے، اور نہ ان تک سند بیان کی ہے، بلکہ اتنا کہا کہ روایت کیا گیا ہے! اب یہ روایت کیسی ہے ، یہ نہیں بتلایا!
دوم کہ لوگوں نے تجربہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تجربہ کیا؟ یہ عمل یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگھوٹے کا چوما، یہ عمل تو ممکن ہے، لیکن یہ کہ انہیں اس عمل کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ملی! روایت کرنے والوں کو عالم آخرت کی یہ خبر کس نے لا کر دی؟ ان پر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تھے!
اور یہ کہا جائے کہ ان کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں، اور وہ نا بینا نہ ہوئے، تو اس سے یہ کہا لازم آتا ہے کہ سبب ان کا یہ عمل تھا!
اکثر کفار ، یہود و نصاری و ہندو سکھ بھی بینا ہی موت پاتے ہیں، اور یہ بھی کہیں وارد نہیں ہوا کہ ہر کسی کو آنکھیں دُکھنے کا مرض ضرور بالضرور لاحق ہونا ہے!
پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں تو غزوہ خیبر کے موقع پر دُکھیں تھیں! اس پر کیا کہا جائے گا!
دیکھیں میرے بھائی! ہمارا منہج یہ ہے کہ ہم کسی کی خطاء کی پیروی خود پر لازم قرار نہیں دیتے !
اول تو محدثین نے اس حدیث کو مقبول قرار نہیں دیا، نہ اعمال میں نہ فضائل اعمال میں! لہٰذا ہم پر اس معاملہ تو یہ الزام ہی باطل ہے کہ ہم محدچین کی تحریروں کو نہیں مانتے!
فقہ مالکی کے امام مالک رضی اللہ عنہ کے پاس کون سی حدیث تھی کہ آپ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اقدس آنے پر ادب سےجھک جاتے تھے ؟
امام مالک کے اس عمل کا حوالہ مطوب ہے!
دوم کہ ادب سے جھکنے سے انگھوٹھوں کا چومنا ثابت نہیں ہوتا!
عمر اثری صاحب آپ بحث برائے بحث کررہے ہیں ،آپ نے غالباً سکین پڑھا نہیں ،علامہ طاہر پٹنی علیہ الرحمہ نے حدیث کی سند نہ ہونے پر ضعیف کا حکم لگایا ہے۔اور نہ آپ نے امام مالک رضی اللہ عنہ کے فعل پر کچھ کہا۔
میرے بھائی! وہی بات ہے کہ آپ کو بلا سند او ر لا یصح سے ضعیف کا حکم معلوم ہوتا ہے اور آپ ضعیف کے حکم کو موضوع کے حکم کے منافی سمجھتے ہو!
انہیں وجوہات کی بنا پر کہتا ہوں کہ مقلدین حنفیہ سے علم الحدیث کے بارے میں گفتگو کرنا مچھلی کو کوہ پیمائی سکھلانے کے مترادف ہوتی ہے!

(نوٹ: علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا مؤقف اگر محدثین کے مؤقف کے موافق ہو تب تو اس بحث کی ضرورت نہیں، لیکن اگر علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا مؤقف محدثین کے مؤقف کے موافق نہیں، تو علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا مؤقف محدثین کے مؤقف میں شمار ہی نہیں کیا جائے گا! چہ جائے کہ اسے دوسرا مؤقف یا شذوذ سمجھا جائے۔ ہم علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا حوالہ دلائل خصم کے اعتبار سے پیش کرتے ہیں!)
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
جیسے کسی مچھلی کو کوہ پیمائی سکھلانا!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک محاورہ ہم استعمال کرتے رہے ہیں
"تمہیں بات سمجھانا یا اونٹ کو رکشے میں بیٹھانا ایک برابر ہے"
لیکن پھر ایک ویڈیو دیکھی جس میں اونٹ رکشے میں بیٹھ کر گردن باہر نکالے جا رہا تھا تو ہم نے اُس محاورے کا استعمال ترک کر دیا اور پھر متبادل کی تلاش میں سرگرداں رہے۔۔ اور آج ہمیں متبادل مل ہی گیا۔۔۔ ابتسامہ! آپ کا شکریہ!!!
 
شمولیت
جولائی 06، 2014
پیغامات
165
ری ایکشن اسکور
57
پوائنٹ
75
جیسے کسی مچھلی کو کوہ پیمائی سکھلانا!
محاورہ تو خوب ہے۔
ویسے مچھلیوں کی کچھ اقسام ایسی بھی ہوتی ہیں جو آبشار کے بہاؤ کے الٹ، یعنی اوپر کی طرف تیر سکتی ہیں (جیسے ٹراؤٹ وغیرہ) تو کیا اس کو کسی حد تک "کوہ پیمائی" کہا جا سکتا ہے؟ ابتسامہ!
 

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,278
ری ایکشن اسکور
388
پوائنٹ
176
میرے خیال میں @ابن داود بھائی نے ”كوه پيمائي “ كو ”قافيه پيمائي“ كے هم قافيه بنايا هے ، تاكه معني دوچند هوجائيں ، اسكا ٹراؤٹ سے تعلق نهيں هے ۔
؎ يه قافيه پيمائي هے ذرا كركے تو ديكھو !!
 

khalil rana

رکن
شمولیت
دسمبر 05، 2015
پیغامات
218
ری ایکشن اسکور
32
پوائنٹ
52
22.jpg
33.jpg
44.jpg
امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
اَب آپ کی مانیں یا امام ابن حجر کی بات مانیں ؟
امام مالک رضی اللہ عنہ کا نام اقدس سننے پر جھک جانا ، کتاب الشفاء میں ہے۔ ایسا کرنا کون سی حدیث میں ہے ؟
11.jpg
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,713
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
اَب آپ کی مانیں یا امام ابن حجر کی بات مانیں ؟
ہم نے کب کہا ہے کہ محض ''لايصح'' سے موضوع ہونا لازم آتا ہے!
اور دیکھ لیں! امام ابن حجر العسقلانی کی عبارت یہ بھی بتلاتی ہے کہ ''لا يصح'' میں موضوع بھی ہو سکتی ہے، لیکن''لازم''نہیں !
امام مالک رضی اللہ عنہ کا نام اقدس سننے پر جھک جانا ، کتاب الشفاء میں ہے۔ ایسا کرنا کون سی حدیث میں ہے ؟
جی مؤلف کتاب الشفاء اور امام مالک تک کی سند دے دیں!
پہلے امام مالک کا یہ عمل کرنا تو ثابت ہو، باقی بعد میں دیکھیں گے!
 
Top