• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولاد کو زکوۃ دی جا سکتی ہے؟

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
961
ری ایکشن اسکور
2,911
پوائنٹ
225
وعلیکم السلام
فقہی جواب تو برادر برادر اسحاق سلفی نے دے دیا ہے، جس پر عمل در آمد کرنا چاہئے۔

میں صرف ایک ”نکتہ“ کی طرف توجہ دلانا کرنا چاہتا ہوں کہ اکثر لوگ ”دینے دلانے“ کے سارے کام زکوٰۃ سے ہی ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اور جس مد میں زکوٰۃ نہیں بھی دی جاسکتی، علمائے کرام سے اس میں ”گنجائش“ پیدا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے ۔ کیونکہ ”استثنیٰ“ تو ہر دنیوی اور شرعی قانون میں موجود ہوتا ہے۔

اب اوپر ہی کی مثال لیجئے۔ (قطع نظر اس بات کے کہ شادی شدہ بیٹی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے) عمومی طور پر ہم سب کو معلوم ہے کہ ہم زکوٰۃ سے اپنی اولاد کی مدد نہیں کرسکتے۔ اس کے باوجود وہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ وہ زکوٰۃ ہی سے اپنی اولاد کی مدد کریں کیونکہ، بقول خود اُن کے، وہ خود ”غریب“ ہیں اور اپنی اولاد کی مدد نہیں کرسکتے البتہ ”کچھ زکوٰۃ“ بنتی ہے، تو اس زکوٰۃ سے مدد کرسکتے ہیں۔ صرف ”شرعی اجازت“ درکار ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زکوٰۃ جس فرد پر فرض ہے، وہ تو ”صاحب نصاب“ ہوتا ہے۔ اور جو صاحبِ نصاب ہوتا ہے، اس کے پاس کم از کم ایک سال سے ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی مالیت کے برابر رقم (آج کے حساب سے تین لاکھ 73 ہزار 65 روپے) بطور ”فاضل“ موجود ہوتا ہے۔ جس کی زکوٰۃ 9،326 روپے بنتی ہے۔ گویا اس ”غریب باپ“ کے پاس سال بھر سے کم از کم پونے چار لاکھ روپے موجود ہیں، جس کی زکوٰۃ نو ہزار روپے انہیں ہر حال میں ادا کرنی ہے۔ اور اب وہ چاہتے ہیں کہ اسی زکوٰۃ کی رقم سے اپنی اولاد کی مدد کریں کیونکہ وہ ”غریب“ ہیں اور زکوٰۃ کے علاوہ (اپنے پاس موجود فاضل پونے چار لاکھ روپے سے) اپنی اولاد کی ”ضرورت“ پوری نہیں کرسکتے جو محض نو ہزار روپے یا اس سے بھی کم ہوگی۔

کیا ایک ”صاحب نصاب“ مسلمان کا اپنے ”فاضل مال“ سے اس قدر محبت، فرض زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقات و خیرات سے ”انکار“ اور فرض زکوٰۃ کو بھی اپنی ہی اولاد پر خرچ کرنے پر ”اصرار“ ۔ ۔ ۔ ایک مسلمان کا ”شیوہ“ ہونا چاہئے ؟ ذرا سوچئیے کہ یہ تحریر صرف ”سوچنے“ کے لئے ہے۔
اسلام علیکم
بھائیوں کابہت شکریہ جزاک اللہ
سونے کے علاوہ 52 تولے چاندی اور کاروباروغیرہ پر بھی زکوۃ بنتی ہے
زکوٰۃ 9،326 روپے بنتی ہے
بھائی ہمارےاور آپ کے لیے تو یہ رقم کچھ بھی نہ ہو مگر آدھی دنیا سے زیادہ لوگ مہینہ میں بھی اتنا نہیں کما پاتے

جزاک اللہ یوسف بھائی
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
اسلام علیکم
بھائیوں کابہت شکریہ جزاک اللہ
سونے کے علاوہ 52 تولے چاندی اور کاروباروغیرہ پر بھی زکوۃ بنتی ہے
بھائی ہمارےاور آپ کے لیے تو یہ رقم کچھ بھی نہ ہو مگر آدھی دنیا سے زیادہ لوگ مہینہ میں بھی اتنا نہیں کما پاتے

جزاک اللہ یوسف بھائی
وعلیکم السلام برادر ہابیل ۔ میرا جواب کوئی ”فقہی جواب“ نہیں تھا بلکہ میرے ”توجہ دلاؤ نوٹس“ کا مرکزی خیال فقط یہ تھا:

  • ایک صاحب نصاب کو اب اتنا ”کنجوس“ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی مدد اپنی زکوٰۃ کی رقم سے ادا کرنے کی ”گنجائش“ پیدا کرنے کے لئے علمائے کرام سے رجوع کرے۔ بلکہ اسے اپنے ”نصاب“ کی رقم (سالانہ بچت) کو اپنی اولاد کی مدد پر خرچ کرنے کی ”گنجائش“ پیدا کرنے کے لئے اپنے دل سے رجوع کرنا چاہئے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
معاملہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی شادی کے وقت کا بیوی کے جہیز کا سونا موجود ہوتا ہے، جس کو وہ نہ بیچ سکتا ہے نہ کچھ، ہاں اس پر زکاة واجب ہو جاتی ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ سونا گو کہ بیوی کی ملکیت ہے، لیکن وہ شوہر کے تصرف میں نہ ہوتے ہوئے بھی اسی کے تصرف میں سمجھی جاتی ہے، بہر حال زکاة شوہر کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے، اور اکثر والدہ یہ سونا اپنی بیٹی کے لئے بچا کر رکھا کرتی ہے!
یہ ساڑھے سات تولہ ایسے لوگوں کے لئے ایک امتحان کا باعث بن جاتا ہے!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ برادر داؤد
آپ کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں۔ مجھے خود اس بات کا پیشگی اندازہ تھا۔ ایسا اکثر متوسط گھرانوں میں ہوتا ہے۔ خود میرا چھوٹا بھائی بھی ابتدا ہی سے اپنی بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ لیکن الحمد للہ میں اور میری بیوی اس ”فارمولے“ پر عمل نہیں کرتے۔ وہ کہتی ہے کہ یہ زیورات جب تک میری ملکیت ہیں (اور بچوں کی شادی پر اُن تک منتقل نہیں ہوجاتے)، ان کی زکوٰۃ کی ادائیگی میں خود کروں گی۔ مزے کی بات یہ کہ اُس کی اپنی ذاتی کوئی آمدنی نہیں ہے۔ وہ میری طرف سے گھر کے خرچ کے لئے ماہانہ دی جانے والی حساب کتاب شدہ فکس رقم ہی میں سے بچت کرکے ماہ رمضان میں خود زکوٰۃ ادا کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب وہ خود زکوٰۃ ادا کرتی ہے تو اس کے زیورات محفوظ بھی رہتے ہیں اور اس کے خرچ میں برکت بھی ہوتی ہے۔ گھر میں ماسیوں کی آمد و رفت کے باعث اُس کے ”خزانے“ میں سے کئی بار پیسے چوری بھی ہوئے۔ پھر بھی کسی ماہ گھر کا کوئی خرچ قلت زر کے سبب رُکا نہیں۔ اور ایک مرتبہ تو جس ڈراز سے ماسی نے ہزار ہزار کے کئی نوٹ چرائے اور کمرے میں گرائے لیکن ان نوٹوں کے ساتھ ہی پڑے کھلے زیورات چوری ہونے سے محفوظ رہے۔ اور بقول محترمہ کہ، ایسا صرف اس لئے ہوا کہ ان زیورات کی زکوٰۃ باقاعدگی سے ادا ہوتی رہی ہے۔ ہم مسلمانوں کو بنیوں کی طرح دو اور دو چار کا ”سبق“ نہیں سکھلایا گیا ہے۔ بلکہ ہمارے سامنے تو ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ پلے کچھ نہ ہونے کے باوجود غیروں کی مدد کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض لے کر سائل کی مدد کی ہے۔ کیا ہم اپنے ”زیورات“ سے اپنے ہی بچوں کی مدد نہیں کرسکتے۔ جبکہ آنکھ بند ہونے پر یہ زیورات انہی بچوں کی میراث بنے گی۔
پس نوشت: جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے، میرے یہ مراسلات محض ایک ”توجہ دلاؤ نوٹس“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بحث برائے بحث مطلوب نہیں ہے۔
 
شمولیت
نومبر 27، 2014
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
60
پوائنٹ
49
کیا ہم اپنے ”زیورات“ سے اپنے ہی بچوں کی مدد نہیں کرسکتے۔
بلکہ میں تو ایسے گھرانوں سے واقف ہوں ۔۔۔جو ’’زیورات‘‘ سے خود اپنی نہیں مدد کرتے۔۔اور اپنا آج تنگی میں گزار رہے ہوتے ہیں۔۔اس خیال میں کہ یہ زیور ۔۔۔’’آگے‘‘ کام آئے گا۔۔
اور یہ مسئلہ میرے خیال میں صرف پاک و ہند میں جہاں ۔۔جہیز کلچر ہے ۔۔۔وہاں ہی پایا جاتا ہے ۔۔۔
اور ایک اور عجیب بات کہ وہ زیور ۔۔۔عملی استعمال میں پہننے کے لئے بھی نہیں رہ گیا۔۔۔کیونکہ امن امان کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے اکثر پہنا بھی نہیں جاتا۔۔۔بس آگے چلتا جاتا ہے ۔۔۔زکاۃ ،قربانی کے علاوہ بعض اوقات حج کو بھی لازم کرتا ہے اور ہمیں علم نہیں ہوتا۔۔۔
(یہ میں مجموعی حوالے سے بات کر رہا ہوں ، کوئی فرد واحد مخاطب نہیں)
 

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
961
ری ایکشن اسکور
2,911
پوائنٹ
225
وعلیکم السلام برادر ہابیل ۔ میرا جواب کوئی ”فقہی جواب“ نہیں تھا بلکہ میرے ”توجہ دلاؤ نوٹس“ کا مرکزی خیال فقط یہ تھا:

  • ایک صاحب نصاب کو اب اتنا ”کنجوس“ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی مدد اپنی زکوٰۃ کی رقم سے ادا کرنے کی ”گنجائش“ پیدا کرنے کے لئے علمائے کرام سے رجوع کرے۔ بلکہ اسے اپنے ”نصاب“ کی رقم (سالانہ بچت) کو اپنی اولاد کی مدد پر خرچ کرنے کی ”گنجائش“ پیدا کرنے کے لئے اپنے دل سے رجوع کرنا چاہئے۔
السلام علیکم
یوسف بھائی میں نے آپ والہ توجہ دلاؤ نوٹس اس دوست تک پہنچا دیا ہے اس دوست نے آپ سب سے بیٹی کے لیے دعا کی درخواست کی ہے جزاک اللہ خیرا
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
السلام علیکم
یوسف بھائی میں نے آپ والہ توجہ دلاؤ نوٹس اس دوست تک پہنچا دیا ہے اس دوست نے آپ سب سے بیٹی کے لیے دعا کی درخواست کی ہے جزاک اللہ خیرا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللهم أَنْتَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ أنت خير الرازقين
اے کریم انہیں پاکیزہ ،اور بابرکت رزق عطا فرما ،اور تمام مشکلات و آزمائشوں سے نجات دلا ، یا ارحم الراحمین۔۔آمین
 

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
961
ری ایکشن اسکور
2,911
پوائنٹ
225
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللهم أَنْتَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ أنت خير الرازقين
اے کریم انہیں پاکیزہ ،اور بابرکت رزق عطا فرما ،اور تمام مشکلات و آزمائشوں سے نجات دلا ، یا ارحم الراحمین۔۔آمین
امین جزاک اللہ خیرا
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللهم أَنْتَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ أنت خير الرازقين
اے کریم انہیں پاکیزہ ،اور بابرکت رزق عطا فرما ،اور تمام مشکلات و آزمائشوں سے نجات دلا ، یا ارحم الراحمین۔۔آمین
آمین ثم آمین
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
سونے کے زیورات اور اُن کی زکوٰۃ:
===================
موضوع مراسلہ سے قطع نظر، اکثر متوسط گھرانے کا یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ والدین اپنے بچوں بالخصوص بیٹیوں کے لئے پیسہ پیسہ جمع کرکے زیوارت بنا کر رکھتے ہیں تاکہ ان کی شادی کے موقع پر انہیں دے سکیں۔ ان زیورات (جن میں ان کی اپنی شادی کے زیورات بھی شامل ہوتے ہیں) کے علاوہ ان کے پاس اتنے ”فاضل“ پیسے نہیں ہوتے کہ وہ ان کی زکوٰۃ ادا کر سکیں۔ گویا صاحب نصاب ہونے کے باوجود عملاً بہت ”غریب“ ہوتے ہیں۔ روزمرہ کی ضروریات بڑی مشکل سے پورا کرتے ہیں۔ ذیل میں ایسے گھرانوں کے لئے چند مفید ”ٹپس“ پیش خدمت ہیں۔ قارئین ان ٹپس میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں، اور جہاں کہیں انہیں کوئی غلطی نظر آئے، تصحیح بھی فرما سکتے ہیں۔ ہم ان ٹپس کو اپنے گرد و پیش کے گھرانوں سے شیئر کرکے ان کی ”شرعی مدد“ بھی کرسکتے ہیں۔
  1. اگر ایسے کسی گھرانے کے پاس ساڑھے سات تولہ یا اس سے زائد سونے کے زیورات ہوں تو وہ ”صاحب نصاب“ بن جاتے ہیں۔ ان پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہوجاتا ہے۔ اور بسا اوقات تو حج بھی۔ لیکن یہ اپنی ”غربت“ کے سبب حج کرنا تو درکنار، زکوٰۃ بھی ادا کرنے سے ”قاصر“ اور یوں مسلسل ”گنہگار“ ہورہے ہوتے ہیں۔
  2. سونے کے زیورات عموماً خاتون خانہ کے پاس ہوتے ہیں۔ جن میں بیشتر زیورات اس کی اپنی شادی کے ہوتے ہیں۔ اور اس کی ”نیت“ یہ ہوتی ہے کہ شادی کے موقع پر اپنی بیٹی یا بیٹیوں کو دے دیں گے۔ یہ ایک ”غلط نیت“ ہے۔ ایسا کرنے سے آپ یقیناً گنہگار ہوں گی۔ کیونکہ آپ کی ”دولت“ پر صرف آپ کی بیٹیوں کا نہیں بلکہ بیٹوں کا بھی حق ہے۔ لہٰذا آپ کے پاس جتنے بھی زیورات ہیں، انہیں اپنے تمام بیٹوں اور تمام بیٹیوں میں تقسیم کرنا ہوں گے، اگر مستقبل میں مزید زیورات خریدنے کی استطاعت نہ ہو تو۔ زیورات کی سیٹ کی تعداد اگر بچوں کی تعداد سے کم ہو تو گھر کے تمام زیورات جیولرز کو دے کر ان کے بدلے ہلکے اور چھوٹے چھوٹے اتنے زیور لے لیں کہ سب کو دے سکیں۔ واضح رہے کہ لڑکوں کی شادی کے موقع پر بہو کو بھی زیورات دینے ہوتے ہیں۔ اولاد کی شادی کے مواقع پر صرف بیٹیوں کو زیورات دینا ہو یا جائیداد کی تقسیم کے موقع پر ”حصہ“ صرف بیٹوں کو دینا، یہ دونوں عمل شرعاً غلط ہے۔
  3. اب سوال یہ ہے کہ سونے کے زیوارت تو ساڑھے ساتھ تولہ یا اس سے زائد ہے۔ مگر ان کی زکوٰۃ دینے کے لئے پیسہ بالکل بھی نہیں ہے۔ ایسے میں والدین زکوٰۃ نہ دینے کے گناہ سے کیسے بچیں؟ اس کا آسان سا حل یہ ہے کہ تمام زیورات آج ہی سے اپنے بچوں میں ”تقسیم“ کردیں۔ بچے اگر کم سن ہیں تو زیورات ان کے ہاتھوں میں دینا ضروری نہیں۔ بس سب کو ساتھ بٹھلا کر گھر کے قریبی ایک دو فرد کے سامنے (1) یا تو اپنے سارے زیورات سارے بچوں میں ”تقسیم“ کردیں (2) یا سات تولہ کے زیورات اپنے پاس رکھ کر بقیہ زیورات اپنے تمام بچوں میں یا جن کی شادی قریب ہے، ان میں اس طرح تقسیم کردیں کہ کسی کے پاس بھی زیورات ”نصاب“ کو نہ پہنچے۔ یعنی کسی کو بھی ساڑھے سات تولہ نہ ملے۔ اس طرح کسی پر بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔ زیورات کی ”تقسیم“ کے بعد بغرض حفاظت انہیں اپنے پاس رکھا جاسکتا ہے۔ اب یہ آپ کی اپنی ملکیت نہیں بلکہ آپ کے بچوں کی ملکیت ہوگی اور آپ کے پاس ان کی ”امانت“ ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب
 
Top