• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اِک جُملہ کافی ہے بُرا بننے کو

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اِک جُملہ کافی ہے بُرا بننے کو




انسان کی زبان اُسے اچھا بناتی ہے اور یہی زبان اُسے بُرا بھی بناتی ہے۔ انسان کی زبان ہی اُس کے اچھے اور بُرے اخلاق کی نشانی ہے اور اسی زبان نے انسان کو خود غرض بھی بنا دیا ہے۔

آج کے دور میں اگر کوئی انسان غلط کام کرتا ہے تو دوسرا انسان اُس کو منع کرنے کی بجائے اُلٹا ضد میں آکر وہ کام کرنے لگتا ہے کہ “فلاں نے ایسے کیا میں بھی ایسے کروں گا“ یا “ فلاں نے ایسے کیا تھا میں بھی اس وجہ سے ایسے کیا “ پھر اسی جُملے سے بگاڑ پیدا پونا شروع ہوتا ہے اسی طرح کے جُملے ہمیں خود غرض اور بُرا بناتے ہیں۔

یہ جُملہ “ اُس نے ایسے کیا میں بھی ایسے کروں گا “ یہ جُملہ مرد اور عورت دونوں میں پایا ہے لیکن کثیر تعداد ایسی باتیں خواتین میں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں اور یہ باتیں خواتین کی شادی ہونے کے بعد میں اُن میں نظر آتی ہیں۔ جب ایک عورت شادی کر کے اپنے سسرال جاتی ہے تو وہاں بہت سے نئے رشتوں سے اُس کا سامنا ہوتا ہے۔ سُسر ساس ، دیور دیوارنی ، جیٹھ جیٹھانی ، نند نندوئی وغیرہ وغیرہ پھر گھر کے کام کاج کو لے کر ساس اور بہو میں ، بھابھی اور نند میں یا دیورانی جیٹھانی میں نوک جھونک /ضد بازی شروع ہو جاتی ہے اور یہ جُملہ عموما سننے کو ملتا ہے کہ میری ساس نے ایسا کیا میرے تو اب میں بھی ایسا کروں گی یا میری نند/ جیٹھانی نے مجھے طنز کیا میں‌بھی وقت آنے پر ایسا کروں‌گی۔ ایسی باتیں لڑائی کا سبب بنتی ہیں اور ایک آپس میں ایک دوسرے کی نظروں میں بُرا بناتی ہیں جو کہ سراسر جہالت اور کم عقلی کی نشانی ہے۔ ایسی باتیں ہمیں شاید اپنے اندر بہت بڑا مگر دوسروں کی نظروں میں بہت چھوٹا کر دیتی ہیں۔

عام طور پر یہ باتیں مردوں میں دیکھی گئی ہیں ایک شخص اپنے بھائی یا اپنے کسی دوست کے ساتھ کچھ بُرا کرتاہے اور تو بھائی /دوست بات کو سُلجھانے کے یا معاف کرنے بدلہ لینے پر اُتر آتے ہیں اگر ایسے لوگوں سے یہ پوچھا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو ایک ہی جواب ملے گا کہ “ اُس نے میرے ساتھ ایسا کیا تو میں بھی ایسا کر دیا “

نوٹ :


“ ایک جُملہ کافی ہے خود کو بُرا بنانے کے لیے‌ “


اگر کوئی انسان غلطی کر رہا ہے تو اُس کو سمجھانے یا صبر کرنے کی بجائے ہم ضد/اَنا میں آکر اُس کی کی ہوئی غلطی کو دہرا بیٹھتے ہیں اور یہی ہماری اندر کی خرابی ہے اور ہمارا اپنا معاملہ اللہ تعالی پر نہیں چھوڑتے بلکہ خود اُس کو ہینڈل کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور نتیجہ کیا ہوتا ہے صرف اور صرف رُسوائی اور کچھ نہیں

تحریر : ساجد تاج
 

marhaba

رکن
شمولیت
اکتوبر 24، 2011
پیغامات
99
ری ایکشن اسکور
274
پوائنٹ
68
جزاک اللہ ساجد بھائی صحیح بات ہے
اسلام میں بہت عجیب بات ہے کہ جب دو آدمیوں میں ضد اور بڑپن پیدا ہو جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو نیچا کردکھانے یا وہ بدلہ لینے پر تل جائیں تو ایسی صورتحال میں یہ بات ہے کہ اللہ اسے بڑائی اور عزت عطاء کرتا ہے جو اپنے آپ کو چھوٹا کرلے ۔۔۔ یعنی وہ بدلہ لینے کی بجائے وہ یہ کہے کہ بھائی آپ ہی بڑے ہو میں چھوٹا ہوں ۔۔۔ اور معاملہ کو آگے بڑھنے نہ دے کر یہیں رفع دفع کردئے ۔۔۔
غصہ انسان کی عقل کو کھاجاتا ہے ۔۔۔ غصہ کو جو پی جائے وہی پہلوان اور بہادر ہے ۔۔۔
غصہ جس کو کھاجائے آخر کار اس کی قسمت کو شرمندگی اور افسوس کاٹتے رہتے ہیں ۔۔۔
اور جو غصہ کو پی جائے اس کی قسمت میں خوشیوں کے پھول کھلنے لگتے ہیں ۔۔۔ آہستہ آہستہ وہی لوگ جن سے وہ پریشان رہتا تھا اب وہ اس کے جگری دوست بننے لگتے ہیں ۔۔۔
 
Top