محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,823
- پوائنٹ
- 1,069
سب بھائی ذرا موضوع پر بھی کچھ پوسٹ کر دیں -
اگر فقہ حنفی نافذ ہو جائے تو ؟
اگر فقہ حنفی نافذ ہو جائے تو ؟
اوہ ہاں یار، لیکن وہ دوسری پوسٹ میں کیا ہے؟نہیں بھائی شاہد نذیر بھائی کو بھی ٹیگ کر دیا ہے لولی آل ٹائم بھائی نے
اللہ نہ کرے، اللہ ہمارے گناہ معاف فرمائے جس کی سزا میں ہم پر فقہ حنفی نافذ ہو، جب سے یہ فقہ آئی ہے تب سے لوگوں نے دین کو مذاق سمجھ رکھا ہے، ایک شخص سے اتنی محبت کرنے لگے ہیں کہ جو اس کی بات سے اختلاف کرتا ہے اس شخص کے چاہنے والے اس پر ریت کے ذرے کے برابر لعنت کرتے ہیں۔سب بھائی ذرا موضوع پر بھی کچھ پوسٹ کر دیں -
اگر فقہ حنفی نافذ ہو جائے تو ؟
میرے خیال میں آج کل کسی بھی جگہ کسی فقہ کے نفاذ کی بجائے ’’ اسلامی نظام ‘‘ کے نفاذ کی بات ہو رہی ہے ۔ اگر آپ اس حوالے سے کچھ پیش کرسکتے ہیں تو بہترین کاوش ہوگی ۔اگر پاکستان میں فقہ حنفی نافض ہوگئی تو ملک کی صورت حال کیا ہوگی
میں اس موضوع پر کچھ تحریر کرنے اور دیگر دوستوں کو اس بارے میں تحریر کرنے سے قبل اس بات کی اجازت چاہتا ہوں کہ اس موضو پر فقہ حنفی کی معتبر کُتب سے جو کچھ لکھا جاسکتا ہے کیا اُس سب کی اجازت ہے۔۔۔۔؟ کیونکہ میرا مقصد عام لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ فقہ حنفی کے مسائل دراصل کیا ہیں، اور اگر فقہ حنفی کو رائج کردیا گیا تو ملک میں ایک ایسی صور حال پیدا ہو جائیگی جس میں کوئی شرم و حیا کا سوال باقی نہ رہیگا، فحاشی عام ہو جائیگی، اکی مثال میں اسطرح دونگا کہ فقہ حنفی کی ایک معتبر کتاب میں ہے کہ " عورت محرم یا نا محرم کے جسم کے ناف سے گھٹنون تک کو چھوڑ کر تمام جسم کو دیکھا جاسکتا ہے چھوا جاسکتا ہے اور مسلا جا سکتا ہے " اب اگر اس فقہ کی اس مسئلہ پر کوئی عمل کرے اور سر عام اسکا مظاہر بھی کرے تو فقہ حنفی تو اس بات کی اجازت دیتا ہے مگر شاید ملک کا قانون اس بات کی اجازت نہ دے اور میرے حیال میں کوئی بھی مہذب شخص بھی اس عمل کی اجازت نہ دے۔
یہ تو ایک معلمول مسئلہ ہے میں فقہ حنفی کے دیگر مسائل جو اس سے کہیں زیاہ شرمناک، خطرناک اور حیرت ناک ہیں انکو لوگوں کے ساتھ شیر کرنا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں کو اصل حقائق کا علم ہو اور پھر وہ فیصلہ کریں ۔ شکریہ
ارسلان بھائی یہ جذباتی باتیں ہیں ، حقیقت میں عملی طور پر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ۔اللہ نہ کرے، اللہ ہمارے گناہ معاف فرمائے جس کی سزا میں ہم پر فقہ حنفی نافذ ہو، جب سے یہ فقہ آئی ہے تب سے لوگوں نے دین کو مذاق سمجھ رکھا ہے، ایک شخص سے اتنی محبت کرنے لگے ہیں کہ جو اس کی بات سے اختلاف کرتا ہے اس شخص کے چاہنے والے اس پر ریت کے ذرے کے برابر لعنت کرتے ہیں۔
اگر وہ شخص ابوحنیفہ کوئی غلط بات کرتا تھا تو اس کے چاہنے والے اس کو بھی صحیح ہونے کا لباس پہنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔
یہ صرف فقہ پر عمل کرنے والوں کا حال ہے، یہ نافذ ہو گیا تو بس پھر، اہلحدیث کو تو چن چن کر قتل کیا جائے گا کیونکہ اہلحدیث سے قرآن و حدیث کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہو گی، اور انہوں نے اپنے امام کو چھوڑنا نہیں، ملک میں بس قرآن و سنت نافذ ہو، جب تک مکہ مدینہ میں نبوی دور میں لوگ قرآن و سنت پر رہے، امن ہی امن، بھائی چارہ ہی بھائی چارہ، لیکن جب سے قرآن و سنت کو چھوڑا، ذلالت ہی ذلالت، محتاجی ہی محتاجی۔ لہذا فقہ حنفی ناٹ منظور قرآن و حدیث دل سے منظور۔
خضر بھائی! آپ کی بات سے تو ہم 100٪ متفق ہیں، لیکن اپنے حنفی بھائی آپ کی بات سے ایگری نہیں ہوں گے، آپ اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں، ہماری تو دلی چاہت اور تمنا ہے، لیکن اسلامی نظام کس منہج پر آپ لانا چاہتے ہیں، جب آپ کہیں گے کہ اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور فہم سلف صالحین کے مطابق کیا جائے، اس اسلامی نظام میں اگر کسی مسئلے میں ابوحنیفہ کا کوئی قول ٹکرائے گا اس کو رد کر کے کسی اور فقہ کا مسئلہ جو قرآن و سنت کے مطابق ہو گا اس کو لیا جائے گا تو یار لوگ نے کہنا ہےمیرے خیال میں آج کل کسی بھی جگہ کسی فقہ کے نفاذ کی بجائے ’’ اسلامی نظام ‘‘ کے نفاذ کی بات ہو رہی ہے ۔ اگر آپ اس حوالے سے کچھ پیش کرسکتے ہیں تو بہترین کاوش ہوگی ۔
اگر یہ طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ فلاں فقہ کو نافذ کرنے میں یہ یہ نقصانات ہیں تو کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے یہ بات ذہن میں رکھیں جس طرح ہم فقہ حنفی کےمسائل کی فہرستیں تیار کرتے ہیں انہوں نے بھی کر رکھی ہیں ۔
اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششیں اسلام پسندوں کے ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے ساتھ دم توڑ جائیں گے اور ان لوگوں کو تالیاں بجانے کا موقعہ مل جائے گا جنہیں مسالک و مذاہب سے کوئی سروکار نہیں انہیں سیدھا سیدھا اسلام سے ہی ( عملی طور پر ) نفرت ہے ۔
جی جانتا ہوں ۔خضر بھائی! آپ کی بات سے تو ہم 100٪ متفق ہیں، لیکن اپنے حنفی بھائی آپ کی بات سے ایگری نہیں ہوں گے، آپ اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں، ہماری تو دلی چاہت اور تمنا ہے، لیکن اسلامی نظام کس منہج پر آپ لانا چاہتے ہیں، جب آپ کہیں گے کہ اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور فہم سلف صالحین کے مطابق کیا جائے، اس اسلامی نظام میں اگر کسی مسئلے میں ابوحنیفہ کا کوئی قول ٹکرائے گا اس کو رد کر کے کسی اور فقہ کا مسئلہ جو قرآن و سنت کے مطابق ہو گا اس کو لیا جائے گا تو یار لوگ نے کہنا ہے
"یہ غیر مقلدوں کی حکومت ہے اس کو مٹاؤ"
یہی بات تو ہم سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ کس طرح اسلامی نظام نافذ ہو، اچھے بھلے اسلامی نظام کے نفاذ کو مٹانے اور کمزور کرنے میں کن لوگوں کا ہاتھ ہے، کن لوگوں نے تقلید و جمود کا راستہ اختیار کر کے مسلمانوں کو کھوکھلا کیا۔ آپ تو ماشاءاللہ تاریخ بھی جانتے ہوں گے۔
بھائی! پھر کن لوگوں کے منہج نافذ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، سننے میں آیا تھا ایک بار کہ افغانستان میں طالبان نے رفع الیدین کرنے والے اہلحدیثوں کے ہاتھ کاٹ دئیے، کیا یہ اسلامی حکومت ہے؟ کیا اس کو اسلامی حکومت کہتے ہیں، جہاں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں، بھائی آپ ہی بتائیں کہ کس طرح ہم لوگوں کو اسلامی منہج پر اکٹھا کریں، یہ فرقہ واریت نے مسلمانوں کو بہت جدا کر دیا ہے، اور اس فرقے کے تمام تر ذمہ دار اہلحدیث نہیں، بلکہ یہ غیر اہلحدیث ہیں۔ارسلان بھائی یہ جذباتی باتیں ہیں ، حقیقت میں عملی طور پر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ۔
بالکل یہی خیالات احناف کے آپ کے بارے میں ہیں کہ اگر ان لوگوں کے کہنے کے مطابق قرآن وسنت کانظام نافذ ہوگیا تو دوسروں پر ’’ کفر شرک ‘‘ کے فتوی لگا کر حدیں جاری کردیں گے ۔
جی میں تو دل و جان سے تیار ہوں، آپ اٹھائیں قدم، زیادہ دور نہ جائیں فقہ حنفی کا کوئی مسئلہ لیں، اس کو قرآن و سنت کے خلاف ثابت کریں اور اس کا رد کریں، اشماریہ، تلمیذ، جمشید صاحبان کو بلائیں اور کہیں کہ بھائیو میں نے فقہ کا مسئلہ غلط ثابت کیا ہے آپ رجوع کریں۔ چلیں زیادہ دور نہ جائیں فورم پر ہی ٹیسٹ کر لیں۔جی جانتا ہوں ۔
لیکن صرف تاریخ پر ماتم کرنے سے اور کوسنے دینے سے کوئی فائدہ نہیں ۔
اب جو صورت حال ہے اس کو حل کرنے کے لیے توجہ دینا پڑے گی ۔ ( جس کے لیے بدقسمتی سے ہم تیار نہیں )