1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل السنّۃ اور مُرجئہ کون ہیں؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏فروری 28، 2012۔

  1. ‏فروری 28، 2012 #11
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جہمیہ
    ایمان کی تعریف اور مفہوم ومراد کے لحاظ سے ایک گروہ جہمیہ کاہے۔یہ لوگ جہم بن صفوان کے پیروکار ہیں جو 128ھ میں قتل ہوا اسے مسلم بن احوذ مازنی نے ’’مرو‘‘ کے مقام پر قتل کرا دیا تھا۔ الموسوعۃ المیسرۃ میں ہے:
    من غالی منهم وقال إنه المعرفة وهو قول الجحهم بن صفوان و من وافقه ویلزم من قولهم هذا أن ابلیس و فرعون لعنهما الله تعالیٰ کانا مؤمنین کاملی الإیمان وأن معنی الکفر عندهم هو الجهل بالرب تعالیٰ فقط وهذا النوع أشد أنواع الأرجاء و
    امام ابن تیمیہ  لکھتے ہیں:
    جیسا کہ امام ابن تیمیہ  لکھتے ہیں:
    مزید فرماتے ہیں:
    او رامام بخاریفرماتے ہیں:
     
  2. ‏فروری 28، 2012 #12
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    کرامیہ
    یہ لوگ ابوعبداللہ محمد بن کرام المتوفی 255ھ کے پیروکار ہیں:
    ابوالفتح محمد عبدالکریم بن ابی بکر احمد شہرستانی راقم ہیں:
    ان کے نزدیک منافق بھی باعتبار دنیا مومن ہے بلکہ کامل مومن ہے، البتہ وہ آخرت میں عذاب ابدی کا مستحق ہے۔
     
  3. ‏فروری 28، 2012 #13
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    الماتریدیہ
    ابومنصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی سمرقندی کی طرف منسوب ایک کلامی فرقہ ہے۔
    امام ابن ابی العز الحنفی راقم ہیں:
    مزید فرماتے ہیں:
    علامہ تفتازانی راقم ہیں:
    عقائد نسفیہ کی عبارت"والإیمان لا یزید ولا ینقص" ’’او رایمان نہ زیادہ ہوتا ہے او رنہ کم۔‘‘كی شرح میں علامہ تفتانی راقم ہیں:
    پھر اس پر مزید بحث کے بعد دوسرے مقام کو بیان فرماتے ہیں:
     
  4. ‏فروری 28، 2012 #14
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مومن ناقص الایمان
    اہلسنت کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب مومن، ناقص الایمان، آخرت میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہے، چاہے تو عذاب دے او رچاہے تو معاف کردے اور وہ اَبدی جہنمی نہیں ہے البتہ خوارج او رمعتزلہ کے نزدیک یہ ابدی جہنمی ہے ۔ اس کے نیک اعمال کا ثواب ضائع ہوجائے گا اور نبیﷺکی شفاعت بھی انکے لیے کارگر ثابت نہیں ہو گی البتہ خوارج اسے کافر کا نام دیتے ہیں اور معتزلہ فاسق کا، رہے مرجئہ تو وہ انکے الٹ ہیں۔
    امام ابن تیمیہ  راقم ہیں:
    نیز فرماتے ہیں:
     
  5. ‏فروری 28، 2012 #15
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اِیمان کے ناقص نہ ہونے کا سبب
    مرجئہ کے نزدیک ایمان کے شئ واحد ہونے اور مومن گنہگار کے ناقص الایمان نہ ہونے کےسبب کو امام ابن تیمیہ یوں بیان فرماتے ہیں:
     
  6. ‏فروری 28، 2012 #16
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    کمال ایمان
    امام آجری راقم ہیں:
    امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
    امام ابن تیمیہ مرجئہ الجہمیہ اور غیر جہمیہ کی مسئلہ ایمان میں غلطی کو بیان فرماتے ہوئے راقم ہیں:
    ان کی غلطی کی تین وجوہ ہیں:
    أحدها: ظنهم أن الإیمان الذی فی القلب یکون تاما بدون العمل الذی فی القلب کمحبة الله وخشیة و خوفه والتوکل علیه الشوق إلی لقائه.
    حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
     
  7. ‏فروری 28، 2012 #17
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    خلاصہ کلام
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرجئہ جہمیہ کے نزدیک ایمان رب تعالیٰ کی معرفت کا نام ہے اور کفر اس سے جہالت کا۔ جبکہ شیخ البانی فرماتے ہیں:
    ماتریدیہ وغیرہ کے نزدیک ایمان دل سے تصدیق ہے۔
    اور مرجئہ فقہا کے نزدیک ایمان، دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار ہے جبکہ اہلسنت، سلف صالحین کے نزدیک ایمان اعتقاد، زبان سے اقرار او رعمل سے عبارت ہے او رجو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں۔ علامہ البانی  ان پر شدید نکیر اور تردید فرماتے ہیں۔ دیکھیں: ([80])
    مرجئہ کے نزدیک اعمال ایمان کا جز نہیں ہیں۔
    جبکہ سلف کے نزدیک اعمال ایمان کا جزء ہیں اور ترجمان سلف علامہ البانی کے نزدیک بھی اعمال ایمان کا جزء ہیں ۔ ([81])
    جہمیہ وغیرہ کے نزدیک اعمال قلوب بھی ایمان کاجز نہیں ہیں۔
    جبکہ شیخ البانی کےنزدیک اعمال قلوب ایمان کا جز ہیں۔ ([82])
    سلف کے نزدیک مرجئہ میں سے کوئی بھی اعمال کو کمال ایمان کے لیے شرط نہیں کہتا۔
    اور بعض حضرات کا یہ کہناکہ ’’مرجئہ ایمان کے لیے اعمال کو شرط کمال قرار دیتے ہیں‘‘ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
    کیونکہ مرجئہ کے نزدیک تو ایمان شئ واحد ہے اس میں نیک و بد برابرہیں گنہگار بھی کامل الایمان ہے نہ کہ ناقص الایمان اور ان کے نزدیک تو اعمال ایمان میں شامل ہی نہیں لہٰذا شرط کمال کیونکر قرار پائیں گے۔
    مرجئہ کے نزدیک ایمان میں کمی و بیشی نہیں ہوتی۔
    جبکہ اہلسنت کے نزدیک ایمان میں کمی و بیشی ہوتی ہے۔
    اور شیخ البانی فرماتے ہیں:
     
  8. ‏فروری 28، 2012 #18
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    إرجاء کا الزام
    لہٰذا بعض حضرات کی طرف سے سلف کے پیروکار ، اہلسنت والجماعت ، جن کے نزدیک ایمان قول و عمل سے مرکب ہے اس میں کمی و بیشی ہوتی ہے،کو مرجئہ او رجہمیہ ہونے کا الزام دینا انتہائی لغو ہے۔
    امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:
    امام ابو محمد حسن بن محمد بن علی بن خلف البربہاری متوفی 329ھ فرماتے ہیں:
    اسی لئے ناصر بن عبدالکریم العقل راقم ہیں:
    اور یہ بھی صرف ان حضرات کے خاص ماہرانہ تحقیقی ذوق کا ہی کرشمہ ہے کہ جس نے عمل کو ایمان جزء قررا دینے والے او راس میں کمی و بیشی کے قائل جمہور اَئمہ فقہ و حدیث کے اصل عقیدے او رکمزوری کو پہچان لیا ہے اور صدیوں بعد (خود ان کے اپنے قول کے مطابق) سب سے پہلے یہ سعادت بھی کسی او رکے نہیں بلکہ ان حضرات کے حصے میں ہی آئی ہے۔
    جناب ابوعزیر عبدالالٰہ یوسف الجزائری صاحب اپنی کتاب’انحرافات۔صالح الفوزان فی مسئلۃ الایمان‘ میں تارک صلاۃ کے متعلق بات کرتے ہوئے امام ابن عبدالبر کے اعمال کو کمال ایمان کے لیے واجب قرار دینے (حالانکہ امام صاحب نے اسے آیات و احادیث کے دلائل سے ثابت اور ائمہ سلف سے نقل کیا ہے) کی وجہ سے ان جمہور ائمہ کو مرجئہ کہتے ہوئے امام ابن عبدالبر کو ان کی موافقت کا طعنہ دیا ہے۔ اور مسمی ایمان میں کمال کو بدعت کا چشمہ قرار دیا ہے۔
    موصوف راقم ہیں :
    نیز راقم ہیں:
    قارئین کرام (ہمارا مقصد یہاں تارک صلوٰۃ کے بارے میں کوئی حکم لگانا یا اس کو راجح قرار دینا نہیں ہے بلکہ) ہم امام ابن عبدالبر کا وہ بیان آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس کی وجہ سے اَئمہ دین کو مرجئہ کہا گیا۔ تاکہ معلو م ہو کہ وہ جمہور کون ہیں جن کی موافقت کا امام ابن عبدالبر کو طعنہ دیا جارہا ہے اور وہ کون لوگ ہیں؟ جن کو یہ حضرات مرجئہ کہہ ر ہے ہیں۔
    امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں:
    (امام ابو حنفیہ اور ان کے اصحاب کے سوا ) حجاز، عراق، شام او رمصر سے وہ تمام فقہا جو اجتہاد و آثار سے تعلق رکھتے ہیں ان میں امام مالک بن انس ، لیث بن سعد، سفیان ثوری، اوزاعی، شافعی، احمد بن حنبل ، اسحاق بن راہویہ، ابوعبید قاسم بن سلام، داؤد بن علی، طبری رحمہم اللہ اجمعین او روہ لوگ جو ان کے طریقہ کار پر ہیں، سب نے کہا کہ: ایمان قول و عمل ہے، زبان سے اقرار، دل سے اعتقاد اور عمل بالجوارح جس میں سچی نیت کے ساتھ اخلاص بھی ہو، ان (سب) نے کہا کہ ہر وہ فرض و نفل جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جاتی ہے ایمان میں سے ہے نیک اعمال کے ساتھ ایمان زیادہ ہوتا ہے او رگناہوں سے کم ، وأهل الذنوب عندهم مؤمنون غیر مستکمی الإیمان من أجل ذنوبهم و إنما صاروا ناقصی الإیمان بإرتکابهم الکبائر اور ان کے نزدیک گنہگار مومن ہیں البتہ گناہوں کی وجہ سے مکمل ایمان والے نہیں ہیں وہ تو کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ناقص الایمان ہیں۔([89]) امام ابن عبدالبر چند دلائل نقل کرنے کے بعد مزید فرماتے ہیں :
    امام ابوجعفر طبری  فرماتے ہیں:
    البتہ خوارج او رمعتزلہ سلف کے زمانہ میں بھی اپنے مخالفین اور اہلسنت والجماعت او ران کے اَئمہ و علما کو مرجئہ ہونے کا الزام دیا کرتے تھے۔
    شیبان نے عبداللہ بن مبارک سے کہا:
    .....تمت بالخیر .....​
     
  9. ‏فروری 28، 2012 #19
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حوالہ جات

    ([38])..الملل والنحل از شہر ستانی :1؍ 186
    ([39])..سورۃ الاعراف:111
    ([40])..فتح الباری:1؍147
    ([41])..السنۃ از ابن احمد : 81، دوسرا نسخہ :1؍307، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ:2؍59
    ([42])..صحیح البخاری:48
    ([43])..السنۃ از خلال:2؍566
    ([44])..السنۃ از خلال:2؍566، رقم: 964
    ([45])..الشریعہ از آجری صفحہ 137
    ([46])..شرح السنۃ از بغوی:1؍80، حلیۃ الاولیاء:7؍29
    ([47])..موسوعۃ الألبانی:4؍152،153
    ([48])..منہاج السنۃ :1؍309
    ([49])..ایضاً 7؍231
    ([50])..الموسوعۃ المیسرۃ:2؍1153
    ([51])..الموسوعہ المیسرۃ :2؍1153
    ([52])..الایمان لابن تیمیہ :ص155، 162، شرح العقیدہ الطحاویۃ ص144 از مفتی احسان اللہ شائق دیوبندی دارالاشاعت کراچی
    ([53])..ایضاً: ص 154
    ([54])..عقیدہ طحاویہ مع الشرح لابن ابی العز الحنفی:ص538
    ([55])..مجموع الفتاویٰ:7؍507
    ([56])..الموسوعۃ المیسرۃ:2؍1154
    ([57])..مجموع الفتاویٰ:7؍143
    ([58])..الایمان :ص 155
    ([59])..ایضاً :ص 308
    ([60])..مجموع الفتاویٰ:7؍508
    ([61])..شرح السنۃ للبغوی:1؍194،195؛ خلق افعال العباد: رقم 31، 51
    ([62])..الملل والنحل:1؍104
    ([63])..الایمان :ص 308
    ([64])..شرح العقیدۃ الطحاویۃ :ص 332، الموسوعہ المیسرۃ 28؍1154، مجموع الفتاویٰ13؍56
    ([65])..شرح العقیدہ الطحاویۃ صفحہ 333
    ([66])..ایضاً صفحہ 332
    ([67])..الموسوعۃ المیسرۃ 2؍1154
    ([68])..شرح العقائد النسفیۃ:ص 126 طبع بمبئی
    ([69])..شرح العقائد النسفیۃ:ص128
    ([70])..ایضاً :ص 128
    ([71])..الموسوعۃ المیسرۃ:2؍1138
    ([72])..الایمان لابن تیمیۃ :ص 278
    ([73])..ایضاً :ص 190
    ([74])..الإیمان لابن تیمیہ صفحہ 176
    ([75])..الشریعہ:،ص 125
    ([76])..الایمان :ص 118
    ([77])..الایمان:ص 285،286
    ([78])..فتح الباری:1؍64
    ([79])..موسوعۃ الالبانی :4؍145
    ([80])..مقدمہ شرح عقیدہ طحاویہ :ص 57
    ([81])..الذب الاحمد صفحہ 32، موسوعہ الالبانی :4؍127
    ([82])..موسوعۃ الالبانی :4؍35
    ([83])..الصحیحہ:7؍153
    ([84])..السنۃ للخلال :2؍566
    ([85])..شرح السنۃ للبربہاری :ص 123 طبقہ سابعہ 1428ھ دارالصعیصی السعودیہ، دوسرا نسخہ :ص 57
    ([86])..القدریۃ والمرجئۃ :ص 121
    ([87])..انحرافات د. صالح الفوزان فی مسئلۃ الایمان: ص 16
    ([88])..ايضا: ص29
    ([89])..التمہید لابن عبدالبر :4؍156،159، الایمان لابن تیمیۃ :ص 259
    ([90])..التمہید 4؍160 تحت حدیث ثان لابن شہاب عن سالم
    ([91])..تہذیب الآثار:2؍182
    ([92])..مسنداسحاق بن راھویہ :3؍670 بحوالہ الصحیحۃ :7؍154، موسوعۃ الالبانی :4؍151
     
  10. ‏فروری 29، 2012 #20
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جزاک اللہ خیرا عزیز بھائی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں