• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل بدعت (غیر مکفرہ ) کی اقتداء میں نماز کا حکم ۔۔ اہلسنت کا منہج تعامل

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اہل بدعت (غیر مکفرہ ) کی اقتداء میں نماز کا حکم
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۝۴۳﴾ (البقرۃ:۴۳)
'' اور نماز پابندی سے ادا کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔''

اس لیے اہلسنّت کا شعار ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے کسی بھی شہر یا علاقے میں ہوں وہاں جمعہ، جماعت اور عید کی نمازوں میں ان لوگوں کے ساتھ شرکت کرتے اور تعلق وموالات رکھتے ہیںجواسلام اور ایمان کے دائرہ سے خارج نہیں کیے جا سکتے۔

فضیلہ الشیخ مولاناارشاد الحق اثری حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
''اہل علم کا تقریباً اس پر اتفاق ہے کہ فاسق اور اہل بدعت کو امام نہ بنایا جائے ۔ اسی طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔لیکن اگر وہ امام بنا دئیے گئے ہوں یا بالجبر وہ امام بن گئے ہوں تو ان کے پیچھے نماز درست ہے ، اس لیے کہ بدعت فسق ہے اور فاسق و فاجر کے پیچھے نماز جائز ہے ۔((صلوا خلف کل برّ وفاجر))کی روایت کے الفاظ ضعیف ہیں، جیسا کہ علامہ ابن جوزی نے العلل المتناھیۃ (ج۱،ص۴۲۱،۴۲۸) میں اس کے طرق نقل کر کے ان پر کلام کیا ہے اور امام احمد، امام دارقطنی اور امام عقیلی سے نقل کیا ہے کہ اس باب کی کوئی روایت ثابت نہیں۔ تاہم صحابہ کرام کا عمل اسی کے مطابق ہے۔ بلکہ ابن قدامہ اور علامہ شوکانی نے تو عصر اول میں اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔(نیل الاوطار:ج۳ص۱۷۴)

سیدناعبداللہ بن عمر؄ حجاج بن یوسف کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔حجاج کاظالم ہونے کے علاوہ اس کا ناصبی(سیدنا علی؄ کو گالیاں دینے والا ) ہونا بھی کسی پر مخفی نہیں ۔

امام بخاری نے التاریخ الکبیر اور امام بیہقی نے السنن الکبری (ج۳ص۱۲۲) میں عبدالکریم البکاء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ '' ادرکت عشرۃ من اصحاب النبیﷺ کلھم یصلی خلف ائمۃ الجور'' میں نے دس صحابہ کرام کو دیکھا وہ سب ائمہ جور کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔

امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب امامۃ المفتون والمبتدع قائم کیا اور اس میں امام حسن بصری کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ '' صل وعلیہ بدعتہ'' بدعتی کے پیچھے نماز پڑھو اس کی بدعت کا وبال اسی پر ہے ۔ اور سیدنا عثمان؄ کے خلاف اقدام کرنے والے بلوائیوں سے بڑھ کر فتنہ پرداز اور کون ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجودآپ؄ سے پوچھا گیا کہ ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے تو انہوں نے اثبات میں اس کا جواب دیا اور فرمایا کہ '' من دعا الیٰ الصلاۃ فاجیبوہ'' جو نماز کی طرف بلاتا ہے اس کی بات کو تم قبول کرو اور صحیح بخاری کے الفاظ ہیں :''الصلاۃ أحسن ما یعمل الناس فاذا أحسن الناس فأحسن معھم، واذا أساء و فاجتنب اساء تھم'''' لوگ جو اچھا عمل کرتے ہیں نماز ان میںسب سے اچھا عمل ہے ۔جب لوگ اچھا کام کریں تو تم ان کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب کوئی برا کام کریں تو ان کے اس برے کام سے اجتناب کرو۔''
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
نوٹ: بہت سارے علماء کرام کا موقف اس مسئلہ میں مختلف ہے اور میں بھی اُنہی کے موقف پر عمل کرتا ہوں۔ جیسا کہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ۔ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، پروفیسر ابراہیم بھٹی حفظہ اللہ، سید طیب الرحمن زیدی حفظہ اللہ وغیرہ وغیرہ۔
واللہ اعلم بالصواب
چونکہ کتاب میں مندرجہ بالا علماء کرام کے موقف کو بیان نہیں کیا گیا اور نہ ان سے کسی قسم کا استدلال کیا گیا ہے۔ اس لئے میں نے چند ایک نام لکھ دیئے ہیں۔
ایسی کتب بھی موجود ہیں جو اس موقف کے برعکس ہیں۔
اختلاف تنوع ہے۔ اختلاف ضد نہیں ہے۔
یہ سطور لکھنے کا مطلب بحث برائے بحث سے بچنا ہے۔ اس میں الجھنا ہرگز نہیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
امام بخاری  نے بھی یہ باب ذکر کرکے اشارہ کیا ہے کہ گناہ گار اور بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے اور اصول بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے کہ: '' ان من صحت صلاتہ صحت امامتہ'' جس کی اپنی نماز درست ہے اس کی امامت بھی درست ہے ۔ فقہاء کے اختلافی مسائل میں بھی یہی اصول ہے اور فاسق و بدعتی کے بارے میں بھی یہی حکم ہے ۔ حدیث نبوی میں امامت کی جوشروط بیان ہوئی ہیں ان میں ''معصوم عن الخطا'' کا ذکر بہر نوع نہیں۔

علامہ شوکا نی نے اس موضوع پر مستقل رسالہ لکھا کہ امام کے لیے عدالت شرط نہیں ۔ لیکن بدعتی اگر ایسی بدعت کا مرتکب ہے جو بدعت مکفر ہ ہے تو اس کے پیچھے نماز قطعاً جائز نہیں۔اما م احمد اور امام ابن تیمیہ  ایسے امراء اور ائمہ مساجد کے جہل اور تاویل کے عذر کی بنا پر انہیں معذور سمجھتے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ملاحظہ ہو مجموع فتاویٰ ج۷ص۵۰۸۔

علامہ ابن نجیم  اس مسئلہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد خلاصۃ فرماتے ہیں:

'' حاصل مسئلہ یہ ہے کہ اہل بدعت و فسق وغیرہ کو امام بنانا مکروہ ہے ، اور ان کی اقتداء مکروہ تنزیہی ہے۔ اگر ان کے علاوہ دوسروں کے پیچھے نماز ممکن ہو تو یہی افضل ہے ، ورنہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا اکیلے پڑھنے سے اولی ہے ، اور مناسب یہی ہے کہ ان کی اقتداء کی کراہت تب ہے جب کوئی دوسرا امام موجود ہو، اگر ایسا نہیں تو مکروہ بھی نہیں، جیسا کہ اس میں کوئی ابہام نہیں۔''(مقالات تربیت:ص۲۰۵)

٭ سیدنا ابن عمر؄ خارجیوں اور خَشَبیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ (طبقات ابن سعد۱/۱۶۹،۱۷۰،حلیۃ الاولیاء ۱/۳۰۹ وسندہ صحیح )

آپ انہیں سلام بھی کہتے تھے۔(السنن الکبری للبہقی ۳/۱۲۲،وسندہ صحیح )

٭حجاج بن یوسف کے بارے میں حافظ ذہبی نے کہا:
'' وکان ظلومًا جبارًا ناصبیًا خبیثًا...''
اور وہ ظالم جبار(اور)ناصبی خبیث تھا۔(سیر اعلام النبلاء ۴/۳۴۳ )

سیدنا ابن عمر؄ مشہور ظالم حجاج بن یوسف جیسے بدعتی کے پیچھے بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔(السنن الکبری للبہقی ۳/۱۲۱،۱۲۲،وسندہ حسن)

بدعت غیر مکفرہ ہو تو ایسے امام کی اقتداء میں ادا کی گئی نماز درست ہے ۔اس کے چند مزید دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

امام کی غلطی اور خطاکاری سے مقتدیوں کی نماز فاسد نہیں ہوتی:
امام بخاری  یہ عنوان قائم کرتے ہیں :
'' باب اذا لم یتم الامام واتم من خلفہ۔''
'' جب امام نے نماز کو کامل طور پر ادا نہیں کیا اور مقتدیوں نے کامل طور پر ادا کیا۔اور اس عنوان کے تحت یہ حدیث نقل کی ۔

سیدناابوہریرہ؄ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ''اگر اماموں نے نماز اچھی طرح (ارکان کی تعدیل اور سنتوں کی رعایت کے ساتھ) پڑھائی تو تمہارے لیے بھی ثواب ہے اور ان کے لیے بھی ثواب ہے اور اگر نماز پڑھانے میں خطا کی ( یعنی رکوع و سجود کی عدم طمانیت، اور قومے جلسے کے فقدان سے نماز پڑھائی) تو تمہارے (مقتدیوں) کے لیے ثواب ہے اور ان کے لیے وبال ہے۔''(صحیح بخاری:۶۹۴)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
امام بغوی فرماتے ہیں:
''اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی امام بے وضو یا بحالت جنابت نماز پڑھا دیتا ہے تو مقتدیوں کی نماز صحیح اور امام پر نماز کا اعادہ ہے خواہ اس نے یہ فعل ارادتاً کیا ہو یا لاعلمی کی بنا پر۔''(شرح السنۃ)

سیدناابوذر؄ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ''تیرا کیا حال ہوگا۔ جس وقت تجھ پر ایسے امام (حاکم) ہوں گے جو نماز میں دیر کریں گے یا اس کے وقت سے قضا کریں گے؟'' میں نے کہا کہ آپ مجھے اس حال میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ''نماز کو اس کے وقت پر پڑھ پھر اگر تو اس نماز (کی جماعت) کو ان کے ساتھ پالے تو (ان کے ساتھ) دوبارہ نماز پڑھ لے تحقیق یہ نماز تیرے لیے نفل ہوگی۔''(مسلم :۶۴۸)

آپ ﷺ نے اس حدیث میں نماز کو اس کے وقت سے قضاء کرنے والے ائمہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔

٭امام ابن حزم  فرماتے ہیں :''ہم صحابہ میں سے کسی کو نہیں جانتے کہ جو مختار ، عبیداللہ بن زیاد ،حجاج یا ان سے بڑے کسی فاسق کے پیچھے نماز ادا کرنے سے رکے ہوں ۔ ارشاد ربانی ہے:
﴿ وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰۠ ﴾ (الماۗئدۃ :۲)
''نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو ،گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون نہ کیا کرو ۔''(المحلی ،ج ۴،ص۳۰۲)

یہی موقف تابعین اور ان کے بعد آنے والے ائمہ کا ہے ۔

٭کسی آدمی نے حسن بصری  سے سوال کیا :

''خوارج میں سے ایک شخص ہماری امامت کرواتا ہے کیا ہم اس کے پیچھے نماز ادا کرلیا کریں ؟ آپ نے جواب دیا : ہاں ،لوگوں کو اس سے زیادہ شر والوں نے امامت کروائی ہے ۔(أصول السنۃلابن ابی زمنین :ج:۳؛ص:۲۵۴)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
٭حافظ ذہبی  کیا خوب فرماتے:''
فلنا صدقہ وعلیہ بدعتہ'' پس اس کی سچائی ہمارے لئے ہے اور اس کی بدعت اسی پر (وبال ) ہے ۔(میزان الاعتدال ۱/۵ ترجمۃ ابان بن تغلب )

علامہ ابن العز لکھتے ہیں:
والفاسق والمبتدع صلاتہ فی نفسہا صحیحۃ فاذا صلی المأموم خلفہ لم تبطل صلاتہ''
'' فاسق اور بدعتی کی نماز فی نفسہا صحیح ہے ، اگر مقتدی اس کے پیچھے نماز پڑھے گا تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی۔''(شرح الطحاویہ،ص ۳۷۴ )

امام احمد بن جنبل '' جہمی'' امراء و حکام کے پیچھے بھی نماز پڑھ لیتے تھے وہ فرماتے تھے کہ ہر جہمی کافر نہیں ، یہ دراصل اپنی بے خبری اور جہالت کی بنا پر جہمیوں کے ہاتھ چڑھے ہوئے تھے ، وہ درحقیقت جانتے نہ تھے کہ یہ عقیدہ کفر ہے ۔'' (مجموع الفتاویٰ ج۳ص ۵۰۷،۵۰۸

فضیلہ الشیخ محمد بن صالح العثمین  سے جب بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فتویٰ دیا :۔

اہل بدعت کی دو قسمیں ہیں ۔
1۔جن کی بدعتیں کفر تک پہنچانے والی ہیں ۔
2۔جن کی بدعتیں کفر تک پہنچانے والی نہیں ہیں ۔

ان میں سے پہلی قسم کے اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں کیونکہ وہ کافر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی نماز صحیح نہیں لہٰذا یہ بھی صحیح نہیں کہ وہ مسلمانوں کے اما م بنیں ۔ اور وہ اہل بدعت جن کی بدعتیں کفر تک نہیں پہنچاتیں تو ان کے پیچھے نماز کا حکم۔ علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ اہل فسق کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ۔ راجح بات یہ ہے کہ اہل فسق کے پیچھے نماز جائز ہے سوائے اس صورت کے کہ ان کے پیچھے نماز ترک کرنے میں مصلحت ہو مثلا ً: نماز نہ پڑھنے کی صورت میں اگر ان کے لیے تنبیہ ہو اور اس طرح وہ اپنے فسق و فجور کو ختم کر سکتے ہوں تو پھر اس مصلحت کی وجہ سے بہتر یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ (فتاویٰ اسلامیہ جلد اوّل ص: ۳۸۹)

مفتی اعظم شیخ ابن باز ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :
'' علماء کے صحیح قول کے مطابق بدعتی ،کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والے اور دیگر گناہگاروں کے پیچھے نماز صحیح ہے بشر طیکہ بدعت کفر تک پہنچانے والی نہ ہو اور اگر بدعت کفر تک پہنچانے والی ہو جیسے جہمیہ وغیرہ ایسے بدعتی ہیں جو اپنی کفریہ بدعات کے باعث دائرہ اسلام ہی سے خارج ہیں تو ان کے پیچھے نماز صحیح نہیں ۔ لیکن ذمہ دار اصحاب پر یہ واجب ہے کہ امامت کے لیے ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو بدعت اور فسق و فجور سے پاک ہوں اور اچھے سیرت و اخلاق کے مالک ہوں کیونکہ امامت ایک عظیم امانت ہے ۔امام مسلمانوں کا قائد ہوتا ہے لہٰذا اگر اچھے لوگوں کو امامت پر فائز کرنا ممکن ہو تو ایک بدعتی اور فاسق کو امام نہیں بنانا چاہیے ۔(فتاویٰ اسلامیہ جلد اوّل ص:۵۰۰)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
شیخ ابن باز سے سوال کیا گیا:
بدعات پر عمل کرنے والے علاقے میں مقیم شخص کے متعلق کیا حکم ہے ؟ اس شخص کا ان کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنا نماز جمعہ ادا کرنا درست ہے یا نہیں ؟ یا اسے انفرادی طور پر اپنی نماز ادا کرنی چاہیے اور کیا اس سے نماز جمعہ ساقط ہو جائے گا ؟

شیخ  نے فرمایا :
''ہر نیک یا فاجر امام کے پیچھے نماز جمعہ ادا کرنا واجب ہے ، اگر نماز جمعہ پڑھانے والے امام کی بدعت ایسی نہ ہو جو اسے اسلام سے خارج کردے تو اس کے پیچھے نماز ادا کی جائے گی ۔

امام ابو جعفر طحاوی  فرماتے ہیں :
''ونری الصلاۃ خلف کل بر وفاجر من أھل القبلۃ ومن مات منھم ''( عقیدۃ طحاویۃ)
''ہم اہل قبلہ میں ہر نیک و فاجر کے پیچھے نماز ادا کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اسی طرح جو فوت ہو چکے ان کے لیے دعا مغفرت کو بھی درست جانتے ہیں ''

شیخ الاسلام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں :
''اگر مقتدی کو علم ہو کہ امام بدعتی ہے ، اور وہ اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہے ،یا وہ فاسق ہے اور اس کا فسق ظاہر ہے ،اور وہ مستقل امام ہے جس کے بغیر نماز پڑھنا ممکن نہیں ،مثلا جمعہ اور عیدین کی امامت وہی کرواتا ہے ،اور عرفات میں نماز حج وغیرہ کا بھی امام وہی ہے تو عام سلف و خلف کے ہاں مقتدی اس کے پیچھے نماز ادا کرے گا ،امام شافعی ،امام احمد امام ابو حنیفہ  وغیرہ کا یہی مذہب ہے ۔اسی لیے وہ عقائد میں یہ بات ذکر کرتے ہیں :''جمعہ اور عید کی نماز ہر نیک یا فاجر امام کے پیچھے پڑھے گا ۔اسی طرح اگر کسی بستی میں صرف ایک ہی امام ہو تو اس کے پیچھے نماز باجماعت ادا کی جائے گی، کیونکہ نماز باجماعت ادا کرنا اکیلے نماز ادا کرنے سے افضل ہے ،چاہے امام فاسق ہی ہو ۔

جمہور علماء کرام، امام احمد بن حنبل اور امام شافعی  وغیرہ کا یہی مذہب ہے ۔ بلکہ امام احمد کے مذہب میں نماز باجماعت ادا کرنا واجب ہے اور امام احمد وغیرہ کے ہاں جس نے فاجر امام کے پیچھے جمعہ اور نماز باجماعت ترک کی وہ بدعتی ہے ۔صحیح یہی ہے کہ وہ بدعتی کی اقتداء میں نماز ادا کرے گا اور اسے دھرائے گا نہیں ،کیونکہ صحابہ کرام؇ نماز جمعہ اور باجماعت نماز فاجر اماموں کے پیچھے ادا کرتے اور اسے لوٹاتے نہیں تھے ،جیسا کہ ابن عمر؆حجاج کے پیچھے اور ابن مسعود؄ اور آپ کے علاوہ دیگر صحابہ ولید بن عقبہ (جو کہ شراب پیتا تھا )کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے ۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
فاسق اور بدعتی کی نماز فی نفسہ صحیح ہے ،چنانچہ جب اس کے پیچھے مقتدی نماز ادا کرے تو اس کی نماز باطل نہیں ، جن علماء نے بدعتی کے پیچھے نماز مکروہ سمجھی ہے تو وہ اس لیے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا واجب ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو شخص بدعت یا فسق ظاہر کرتا ہو اسے مسلمانوں کی امامت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ وہ تعزیر اور سزا کا مستحق ہے حتی کہ وہ اس سے توبہ کر لے ۔اگر توبہ کرنے تک اس سے بائیکاٹ کرنا ممکن ہو تو یہ بہتر ہے ،(کیونکہ )کچھ لوگ جب اس کے پیچھے نماز ادا کرنا ترک کردیں گے اور کسی دوسرے کی پیچھے نماز پڑھیں گے تو یہ اس پر اثر انداز ہو گا یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے یا پھر اسے امامت سے معزول کر دیا جائے ،یااس سزا کو دیکھتے ہوئے لوگ اس طرح کے گناہ سے باز آجائیں۔اس طرح (کی مصلحت حاصل ہوتی ہو تو)اس میں مصلحت ہے بشرطیکہ مقتدی کی نمازباجماعت اور جمعہ نہیں رہنا چاہیے ۔لیکن اگر اس کے پیچھے نماز ترک کرنے سے مقتدی کا نماز جمعہ اور نماز باجماعت رہ جائے تو تب ان کے پیچھے نماز ترک نہیں کی جائے گی ''(مجموع الفتاویٰ :351-356/23) (مجموع فتاویٰ شیخ ابن باز:303/4)

عبداللہ محدث روپڑی  کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

سوال:فاسق و فاجر کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب :۔بدعتی فاسق و فاجر جو حد کفر کو نہ پہنچا ہو ۔اس کے پیچھے نماز تو ہو جاتی ہے مگر ایسے شخص کو امام بنانے والے مجرم ہیں کیونکہ حدیث میں آیا ہے۔اجعلو ا ائمتکم خیارکم (دارقطنی) اپنے امام بہتر لوگوں کو بنایا کرو ۔ہاں اگر ایسا شخص جبراً امام بن جائے اور مقتدی ہٹانے پر قادر نہ ہوں تواس صورت میں مقتدی مجرم نہیں نہ ان کی نماز میں کوئی خلل ہے ۔(فتاویٰ اہلحدیث جلد اول :۵۶۳)
 
Top