محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
ارشاد باری تعالیٰ ہے:اہل بدعت (غیر مکفرہ ) کی اقتداء میں نماز کا حکم
﴿ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۴۳﴾ (البقرۃ:۴۳)
'' اور نماز پابندی سے ادا کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔''
اس لیے اہلسنّت کا شعار ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے کسی بھی شہر یا علاقے میں ہوں وہاں جمعہ، جماعت اور عید کی نمازوں میں ان لوگوں کے ساتھ شرکت کرتے اور تعلق وموالات رکھتے ہیںجواسلام اور ایمان کے دائرہ سے خارج نہیں کیے جا سکتے۔
فضیلہ الشیخ مولاناارشاد الحق اثری حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
''اہل علم کا تقریباً اس پر اتفاق ہے کہ فاسق اور اہل بدعت کو امام نہ بنایا جائے ۔ اسی طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔لیکن اگر وہ امام بنا دئیے گئے ہوں یا بالجبر وہ امام بن گئے ہوں تو ان کے پیچھے نماز درست ہے ، اس لیے کہ بدعت فسق ہے اور فاسق و فاجر کے پیچھے نماز جائز ہے ۔((صلوا خلف کل برّ وفاجر))کی روایت کے الفاظ ضعیف ہیں، جیسا کہ علامہ ابن جوزی نے العلل المتناھیۃ (ج۱،ص۴۲۱،۴۲۸) میں اس کے طرق نقل کر کے ان پر کلام کیا ہے اور امام احمد، امام دارقطنی اور امام عقیلی سے نقل کیا ہے کہ اس باب کی کوئی روایت ثابت نہیں۔ تاہم صحابہ کرام کا عمل اسی کے مطابق ہے۔ بلکہ ابن قدامہ اور علامہ شوکانی نے تو عصر اول میں اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔(نیل الاوطار:ج۳ص۱۷۴)
سیدناعبداللہ بن عمر حجاج بن یوسف کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔حجاج کاظالم ہونے کے علاوہ اس کا ناصبی(سیدنا علی کو گالیاں دینے والا ) ہونا بھی کسی پر مخفی نہیں ۔
امام بخاری نے التاریخ الکبیر اور امام بیہقی نے السنن الکبری (ج۳ص۱۲۲) میں عبدالکریم البکاء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ '' ادرکت عشرۃ من اصحاب النبیﷺ کلھم یصلی خلف ائمۃ الجور'' میں نے دس صحابہ کرام کو دیکھا وہ سب ائمہ جور کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔
امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب امامۃ المفتون والمبتدع قائم کیا اور اس میں امام حسن بصری کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ '' صل وعلیہ بدعتہ'' بدعتی کے پیچھے نماز پڑھو اس کی بدعت کا وبال اسی پر ہے ۔ اور سیدنا عثمان کے خلاف اقدام کرنے والے بلوائیوں سے بڑھ کر فتنہ پرداز اور کون ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجودآپ سے پوچھا گیا کہ ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے تو انہوں نے اثبات میں اس کا جواب دیا اور فرمایا کہ '' من دعا الیٰ الصلاۃ فاجیبوہ'' جو نماز کی طرف بلاتا ہے اس کی بات کو تم قبول کرو اور صحیح بخاری کے الفاظ ہیں :''الصلاۃ أحسن ما یعمل الناس فاذا أحسن الناس فأحسن معھم، واذا أساء و فاجتنب اساء تھم'''' لوگ جو اچھا عمل کرتے ہیں نماز ان میںسب سے اچھا عمل ہے ۔جب لوگ اچھا کام کریں تو تم ان کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب کوئی برا کام کریں تو ان کے اس برے کام سے اجتناب کرو۔''