• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہم نکات من قرآن مجید

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,228
پوائنٹ
402
پارہ نمبر 22سورۃ الاحزاب 31تا 73سورۃ سبا ،سورۃ فاطر
نمبر ایک : خواتین کے لیے قیمتی ہدایات 32تا 34
مسلمان خواتین کے لیے امہات المومنین کو دی جانے والی ہدایات کو اختیار کرنے کی تاکید تاکہ وہ ان جیسی بن سکیں
غیر محرم سے نرم لہجے میں بات نہیں کرنی 32، غیر محرم سے صرف کام کی بات کی جائے اور غیر ضروری بات نہ کی جائے32،اپنے گھروں میں رہنے کی عادت اختیار کرو اور بلاضرورت گھر سے باہر نکلنا معیوب ہے 33، غیر اسلامی زیب و زینت کو اختیار کرنا ممنوع ہے33(چار ہدایات خواتین کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے بیان کی گئی ہیں ) نماز قائم کرو33، زکوۃ دیا کرو33، اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو مانا کرو33(یہ تین ہدایات خواتین کے روحانی کردار کو مضبوط کرنے کے لیے اور ابتدائی چار ہدایات پرکامیاب عمل کرنے کے لیے ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں) اپنے گھروں میں قرآن مجید اور فرامین رسالت کی تعلیم و تدریس کا اہتمام کرو 34، جب کسی سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو حجاب کے پیچھے سے طلب کی جائے 53(اس سے یہ فائدہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ غیر محرم سے گفتگو کے دوران حجاب کے تمام احکام و آداب کو مد نظر رکھا جائے)، اپنے اوپر اپنی چادریں اس طرح ڈالیں کہ جسم مکمل طور پر چھپ جائے59 نتیجہ: تاکہ اللہ تعالی معنوی و حسی ناپاکی دور کر دے
نمبر دو: جب اللہ اور اس کے رسول کا کوئی فیصلہ آجائے تو پھر مسلمان مرد یا عورت کے لیے کوئی اختیار نہیں رہتا کہ اسے کریں یا نہ کریں خواہ یہ فیصلہ دین سے متعلق ہو یا دنیاوی امور سے متعلق 36
نمبر تین : عقیدہ ختم نبوت پر قرآن مجید سے صریح دلیل 40
نمبر چار : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی و عائلی زندگی سے متعلقہ آیات49تا 59
نمبر پانچ : کسی کے گھر کھانا کھانے کے آداب اور وقت کا خیال رکھا جائے 53
نمبر چھ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادنی ترین حق یہ ہے کہ جب ان کا اسم مبارک کا ذکر کیا جائے تو ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ ضرور پڑھا جائے56
نمبر سات : تقوی کے حصول کے لیے سچ کو اختیار کیا جائے اور سچ کے دیگر فوائد بھی ہیں 71
سورۃ سبا (تعارف)

مکی سورت ہے ۔بنیادی موضوع اہل مکہ اور دوسرے مشرکین کو اسلام کے بنیادی عقائد کی دعوت دینا ہے،اس سلسلے میں ان کے اعتراضات اور شبہات کا جواب بھی دیاگیا ہے، او ران کو نافرمانی کے برے انجام سے بھی ڈرایاگیا ہے۔اسی مناسبت سے ایک طرف داؤد اور سلیمان علیہما السلام کی اور دوسری طرف قوم سبا کی عظیم الشان حکومتوں کا ذکر فرمایاگیا ہے۔ داؤد اورسلیمان علیہما السلام کو ایسی زبردست سلطنت سے نوازا گیا جس کی کوئی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ،لیکن انہیں بھی اس سلطنت پر ذرہ برابر غرور نہیں ہوا، اور وہ اس کو اللہ تعالی کا انعام سمجھ کر اللہ تعالی کے حقوق ادا کرتے رہے اور اپنی حکومت کو نیکی کی ترویج اور بندوں کی فلاح وبہبود کے کاموں میں استعمال کیا،چنانچہ وہ دنیا میں بھی سرخرو رہے ،اور آخرت میں بھی اونچا مقام پایا ،دوسری طرف قوم سبا کوجو یمن میں آباد تھی ،اللہ تعالی نے ہر طرح کی خوشحالی سے نوازا؛ لیکن انہوں نے ناشکری کی روش اختیار کی اور کفر وشرک کو فروغ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالی کا عذاب آیا ،اور ان کی خوشحالی ایک قصہ ٔ پارینہ بن کر رہ گئی ،ان دونوں واقعات کا ذکر فرماکر سبق یہ دیاگیا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے کوئی اقتدار حاصل ہو یا دنیوی خوشحالی نصیب ہوتو اس میں مگن ہوکر اللہ تعالی کو بھلا بیٹھنا تباہی کو دعوت دینا ہے، اس سے مشرکین کے ان سرداروں کو متنبہ کیاگیا ہے جو اپنے اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا ہوکر دین حق کے راستے میں روڑے اٹکا رہے تھے۔
نمبر آٹھ : اللہ تعالی کا تعارف 01تا 09
نمبر نو : داود و سلیمان علہیما السلام کی شکر گذاری 10تا 14
نمبر دس : قوم سبا کا نا شکرا پن اور انکار آخرت 15تا 20
نمبر گیارہ : متکبر قیادت کا انجام29تا 42
سورۃ فاطر (تعارف)
اس میں بنیادی طور پر مشرکین کو توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے،اور فرمایا گیا ہے کہ مظاہر فطرت کی جو نشانیاں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں،اُن پر سنجیدگی سے غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس قادر مطلق نے یہ کائنات پیدا فرمائی ہے اسے اپنی خدائی کا نظام چلانے میں کسی شریک یا مددگار کی کوئی ضرورت نہیں ہےاور یہ کائنات کسی مقصد کے بغیر فضول پیدا نہیں کرسکتا ،یقیناً اس کا کوئی مقصد ہے،او ر وہ یہ کہ جو لوگ یہاں اس کے احکام کے مطابق نیک زندگی گزاریں ،انہیں انعامات سے نوازا جائے ،او رجو نافرمانی کریں ان کو سزا دی جائے ،جس کے لئے آخرت کی زندگی ضروری ہے، جو ذات کائنات کو عدم سے وجود میں لے کر آئی ہے، اس کے لئے اسے نئے سرے سے پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، اللہ تعالی کو یہ منظور ہے کہ اس دنیا میں انسان اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے، تواپنی مرضی لوگوں کو بتانے کے لئےرہنمائی کا کوئی سلسلہ جاری کیا اس سلسلے کا نام رسالت نبوت ہے،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی سلسلے کے آخری نمائندے ہیں اس سورت میں آپ کو یہ تسلی بھی دی گئی ہے کہ اگر کافر لوگ آپ کی بات نہیں مان رہے ہیں تو اس میں آپ پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؛ بلکہ آپ کا فریضہ صرف اتنا ہے کہ لوگوں تک حق کا پیغام واضح طریقے سے پہنچادیں، آگے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے اور وہی اس کے لئے جواب دہ ہیں۔
نمبر بارہ : نفع و نقصان اللہ تعالی کے اختیار میں ہے اگر وہ کسی پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو پوری کائنات میں کوئی بند کرنے والا نہیں ہے اور اگر کسی پر کوئی آزمائش آ جائے تو کوئی اسے دور نہیں کر سکتا 02
نمبر تیرہ : علم نافع اور عمل صالح دونوں لازم و ملزوم ہیں کوئی بھی عمل اس وقت تک صالح نہیں ہو سکتا جب تک اس کی بنیاد میں علم نافع نہ ہو10
آج کا پیغام :
اپنے گھروں میں حجاب کو عملی طور پر اختیار کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ سورۃ الاحزاب میں بیان کیا گیا ہے
 
Top