ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
ایمان کہیں شیطان نا لے جائے
السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:۔
موت کے بعد انسان پانچ حصوں میںتقسیم ہو جائے گا۔
1۔ مال وارث لے جائیں گے۔
2۔ روح Malik-UL-Maut لے جائیں گے۔
3۔ گوشت کیڑے مکوڑے لے جائیں گے۔
4۔ حدیہ مٹی کھا جائے گی۔
5۔ نیکیاں قرض خواں لے جائیں گے۔
لیکن یہ کوشش کرنا کہ کہیں ایمان شیطان نا لے جائے۔
دوستو یہ باتیں یہاں کہنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم لوگ دُنیا کے کاموںمیں اس قدر کھو گئے ہیںکہ ہمیںیہ بھی ہوش نہیں رہا کہ آخر ہم اس دنیا میںآئیں کس کام کے لیے ہیں۔انسان دُنیا میں جو بھی کماتا ہے وہ سب یہیں پر ہی رہ جائے گا کچھ نہیںلے جا سکے گا وہھ اپنے ساتھ۔اور نا ہی کوئی دُنیادی طاقت اُسے آخرت کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم آخرت میں کیا کریںگے اور اپنے رَب سے کیا کہیںگے کہ ہم نے دُنیا میں صرف جھوٹ بولا؟ چُغلی کی ؟ بڑوں کا احترام نہیںکیا ؟۔گالی گلوچ کی ؟ نشہ کیا ؟ حرام کھایا اور اپنے بچوں کو بھی حرام کِھلایا؟
دُنیا میں ہم ان چیزوں کو کر کے بہت خوشی محسوس کر رہے ہوتے ہیں کیا ہم نے سوچا ہے کہ اس کا آخرت میںانجام کیا ہو گا؟
کیوںہم اس دُنیادی چیزوں میں اس قدر کھو گئے ہیںکہ ہمیںکسی چیز کی کوئی پروا ہی نہیں ہے ہم کیوں اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ ہم بھول گئے کہ ہمیں اُسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
ہم سے کوئی کہہ دے کہ چلو ایک فلم لگی ہے چلو آئو دیکھتے ہیں جا کر، ہم کہیں سے بھی وقت نکالیں پر نکال ضرور لیں گے اور اپنے 3یا 4 گھنٹے اُس میں ضائع کر دیں گے، مگر ہم صرف آدھا گھنٹہ پانچ نمازوں کو نہیں دے سکتے جو اُس نے ہم پر فرض کر رکھی ہیں۔
ہمیں گمراہ کیا جا رہا ہے اور ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو چُکا ہے کہ ہم گمراہ ہوتے جا رہے ہیں۔
اے اللہ ہمیں ہر بُرائی سے دور رکھ تو مہربان ہے کریم ہے رحم کرنے والا بخشنے والا ہے ہمیں معاف فرما اور ہمیںسیدھے راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمین۔
تحریر : ساجد تاج
السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:۔
موت کے بعد انسان پانچ حصوں میںتقسیم ہو جائے گا۔
1۔ مال وارث لے جائیں گے۔
2۔ روح Malik-UL-Maut لے جائیں گے۔
3۔ گوشت کیڑے مکوڑے لے جائیں گے۔
4۔ حدیہ مٹی کھا جائے گی۔
5۔ نیکیاں قرض خواں لے جائیں گے۔
لیکن یہ کوشش کرنا کہ کہیں ایمان شیطان نا لے جائے۔
دوستو یہ باتیں یہاں کہنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم لوگ دُنیا کے کاموںمیں اس قدر کھو گئے ہیںکہ ہمیںیہ بھی ہوش نہیں رہا کہ آخر ہم اس دنیا میںآئیں کس کام کے لیے ہیں۔انسان دُنیا میں جو بھی کماتا ہے وہ سب یہیں پر ہی رہ جائے گا کچھ نہیںلے جا سکے گا وہھ اپنے ساتھ۔اور نا ہی کوئی دُنیادی طاقت اُسے آخرت کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم آخرت میں کیا کریںگے اور اپنے رَب سے کیا کہیںگے کہ ہم نے دُنیا میں صرف جھوٹ بولا؟ چُغلی کی ؟ بڑوں کا احترام نہیںکیا ؟۔گالی گلوچ کی ؟ نشہ کیا ؟ حرام کھایا اور اپنے بچوں کو بھی حرام کِھلایا؟
دُنیا میں ہم ان چیزوں کو کر کے بہت خوشی محسوس کر رہے ہوتے ہیں کیا ہم نے سوچا ہے کہ اس کا آخرت میںانجام کیا ہو گا؟
کیوںہم اس دُنیادی چیزوں میں اس قدر کھو گئے ہیںکہ ہمیںکسی چیز کی کوئی پروا ہی نہیں ہے ہم کیوں اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ ہم بھول گئے کہ ہمیں اُسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
ہم سے کوئی کہہ دے کہ چلو ایک فلم لگی ہے چلو آئو دیکھتے ہیں جا کر، ہم کہیں سے بھی وقت نکالیں پر نکال ضرور لیں گے اور اپنے 3یا 4 گھنٹے اُس میں ضائع کر دیں گے، مگر ہم صرف آدھا گھنٹہ پانچ نمازوں کو نہیں دے سکتے جو اُس نے ہم پر فرض کر رکھی ہیں۔
ہمیں گمراہ کیا جا رہا ہے اور ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو چُکا ہے کہ ہم گمراہ ہوتے جا رہے ہیں۔
اے اللہ ہمیں ہر بُرائی سے دور رکھ تو مہربان ہے کریم ہے رحم کرنے والا بخشنے والا ہے ہمیں معاف فرما اور ہمیںسیدھے راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمین۔
تحریر : ساجد تاج