• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باب:13۔ چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹا جائے

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
میں نے ساری بات چیت پڑھی ہے مگر ایک بات کہنا چاہوں گا کہ فَاقْطَعُوْآ کا جو مطلب آپ لوگ لے رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ میں کلائی پر کاٹ کا نشان لگایا جاتا تھا۔ یعنی اوپری جلد گولائی میں ایک سنٹی میٹر سے کم۔ ہاتھ ہڈی سمیت نہیں کاٹتے تھے۔ وہ زخم تو بعد میں بھر جاتا تھا مگر زخم کا گولائی نشان باقی رہ جاتا۔ یہ چیزیں تراجم اور تفاسییر لکھنے والوں نے وقت کے ساتھ بدل دی ہیں اور انہیں شدت میں لے گئے ہیں۔
تو آپ کی معلومات کا ذریعہ کیا ہے؟
ایسے ہی شادی کے معاملہ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت بمقابلہ بانجھ عورت والی احادیث ہیں جن کا غلط ترجمہ اور تفسیر کر کے بہبود آبادی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے حالانکہ قرآن پاک میں واضح حکم ہے کہ بچے کی پیدائش میں وقفہ کیا جائے نہ کہ پہلے بچے کا حق چھین کر بچوں کی لائن لگا دی جائے۔ تراجم لکھنے والوں نے کثرت سے مراد ایسی دی کہ بے تحاشہ لاتعدا بچے پیدا کئے جاتے ہیں اور کہیں پانچ، چھ گیارہ یا انیس بچوں پر بریک لگاتے ہیں حالانکہ انکے پاس وسائلاور جگہ بہت کم ہوتے ہیں
شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ ایک بچے کے بعد دوسرے میں کتنا وقفہ ہونا چاہیے۔
یہ لاتعداد بچے اور وسائل کی کمی والا مسئلہ ہماری لادینیت سوچ کا نتیجہ ہے، ورنہ بچوں کی کثرت تو رزق کی فراوانی کا سبب ہے۔
 
شمولیت
جون 13، 2019
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
اسلام علیکم، بھائی جان، میری معلومات کا ذریعہ قرآن و حدیث اور فی زمانہ رائج الوقت انسانی رہن سہن اور اقدار ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالى نے مدت رضاعت يعنى دودھ پلانے كى مدت مكمل دو بر س مقرر كرتے ہوئے فرمايا ہے: اور مائيں اپنى اولاد كو مكمل دو برس دودھ پلائيں، اس كے ليے كہ جو چاہے دودھ كى مدت پورى كرے البقرۃ ( 233 ). اب انسانی سمجھ کیلئے یہ ایک اشارہ ہے کہ جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کی خوراک صحت نشوونما کیلئے والدین کو bound کیا جا رہا ہے۔ اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ دو سال تک ہی محدود ہو جائیں۔ آپ بچے کی بہتری کیلئے عرصہ بھی وقف کر سکتے ہیں۔ لیکن جو بنیادی بات تھی کہ نومولود بچہ کی صحت، ضرورت، نشوونما پر توجہ کی ضرورت کو اجاگر کر دیا گیا۔ اگر یہ حکم نہ بھی ہوتا تو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں جگہ جگہ عقل و دانش، پلاننگ وغیرہ کو استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ میں آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں۔ ہمارے گھر میں جو کنجڑن کام کرتی ہے اس کا دو مرلہ کا گھر ہے اور گیارہ بچے۔ دو لڑکے اور نو لڑکیاں۔ خاوند اس کا دھی بھلے کی ریڑھی لگاتا تھا ضعیف اور بیمار سا تھا فوت ہوگیا۔ پان چبا چبا کر منہ کا ستیاناس کیا ہوا تھا۔ انکی ساری اولاد ان پڑھ اور مزدور ہے اور کچھ بے روزگار۔ ہم نے انکی بیٹیوں کی شادیوں میں ہمیشہ اپنی حیثیت سے بڑھکر مدد کی۔ اب اسنے جو بڑی بیٹی بیاہی تھی اسکے نو بچے ہیں۔ وہ بھی غریب ہی ہے۔ باقیوں کا مجھے نہیں پتہ چونکہ تین ابھی بن بیاہی بھی ہیں۔ اب میں پھر اسی عقل و شعور کی طرف آتا ہوں جس کا حکم قرآن پاک میں ہے۔ یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہر طرف ایسا ہی ہے۔ ایسے حالات میں جب بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں۔ ریاست اپنا کردار ادا نہیں کررہی تو اس عقل و شعور کا استعمال لازم بن جاتا ہے۔ کیا اللہ تعالی کے کسی کام میں پلاننگ نہیں ہے؟ کیا دنیا کا کوئی کام پلاننگ کے بغیر چل سکتا ہے؟ کوئی کھیت کھلیان فصل بغیر پلاننگ کے ہو سکتی ہے؟ نہیں۔ تو پھر آپ یا میں کیسے سوچ سکتے ہیں کہ فیملی پلاننگ عقل سے ماورا ہے۔


Sent from my SM-A605FN using Tapatalk
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
ایک بات کہنا چاہوں گا کہ فَاقْطَعُوْآ کا جو مطلب آپ لوگ لے رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ میں کلائی پر کاٹ کا نشان لگایا جاتا تھا۔ یعنی اوپری جلد گولائی میں ایک سنٹی میٹر سے کم۔ ہاتھ ہڈی سمیت نہیں کاٹتے تھے۔ وہ زخم تو بعد میں بھر جاتا تھا مگر زخم کا گولائی نشان باقی رہ جاتا۔
یہ الفاظ آپ نے کس مصدر سے پیش کیئے ہیں ؟
یعنی یہ بات کس حدیث کا ترجمہ ہے ،اور وہ حدیث کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
اسلام علیکم
سلام کے الفاظ درست نہیں ہے۔ السلام علیکم لکھا کریں۔
میری معلومات کا ذریعہ قرآن و حدیث اور فی زمانہ رائج الوقت انسانی رہن سہن اور اقدار ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالى نے مدت رضاعت يعنى دودھ پلانے كى مدت مكمل دو بر س مقرر كرتے ہوئے فرمايا ہے: اور مائيں اپنى اولاد كو مكمل دو برس دودھ پلائيں، اس كے ليے كہ جو چاہے دودھ كى مدت پورى كرے البقرۃ ( 233 ). اب انسانی سمجھ کیلئے یہ ایک اشارہ ہے کہ جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کی خوراک صحت نشوونما کیلئے والدین کو bound کیا جا رہا ہے۔ اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ دو سال تک ہی محدود ہو جائیں۔ آپ بچے کی بہتری کیلئے عرصہ بھی وقف کر سکتے ہیں۔ لیکن جو بنیادی بات تھی کہ نومولود بچہ کی صحت، ضرورت، نشوونما پر توجہ کی ضرورت کو اجاگر کر دیا گیا۔ اگر یہ حکم نہ بھی ہوتا تو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں جگہ جگہ عقل و دانش، پلاننگ وغیرہ کو استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ میں آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں۔ ہمارے گھر میں جو کنجڑن کام کرتی ہے اس کا دو مرلہ کا گھر ہے اور گیارہ بچے۔ دو لڑکے اور نو لڑکیاں۔ خاوند اس کا دھی بھلے کی ریڑھی لگاتا تھا ضعیف اور بیمار سا تھا فوت ہوگیا۔ پان چبا چبا کر منہ کا ستیاناس کیا ہوا تھا۔ انکی ساری اولاد ان پڑھ اور مزدور ہے اور کچھ بے روزگار۔ ہم نے انکی بیٹیوں کی شادیوں میں ہمیشہ اپنی حیثیت سے بڑھکر مدد کی۔ اب اسنے جو بڑی بیٹی بیاہی تھی اسکے نو بچے ہیں۔ وہ بھی غریب ہی ہے۔ باقیوں کا مجھے نہیں پتہ چونکہ تین ابھی بن بیاہی بھی ہیں۔ اب میں پھر اسی عقل و شعور کی طرف آتا ہوں جس کا حکم قرآن پاک میں ہے۔ یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہر طرف ایسا ہی ہے۔ ایسے حالات میں جب بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں۔ ریاست اپنا کردار ادا نہیں کررہی تو اس عقل و شعور کا استعمال لازم بن جاتا ہے۔ کیا اللہ تعالی کے کسی کام میں پلاننگ نہیں ہے؟ کیا دنیا کا کوئی کام پلاننگ کے بغیر چل سکتا ہے؟ کوئی کھیت کھلیان فصل بغیر پلاننگ کے ہو سکتی ہے؟ نہیں۔ تو پھر آپ یا میں کیسے سوچ سکتے ہیں کہ فیملی پلاننگ عقل سے ماورا ہے۔
یہ آپ کی اپنی سوچ ہے، اس پر خود عمل پیرا ہوں، کسی کو اگر پابند کرنا ہے، تو قرآن و حدیث سے کچھ حوالہ پیش کریں۔
دو سال تو مدت رضاعت ہے، مدت ولادت کی تو کوئی حد بیان نہیں ہوئی نہ قرآن میں نہ حدیث میں۔
اگر آپ کے نزدیک اللہ کی منشا یہ ہے کہ کم از کم دو سال بعد بچہ پیدا ہو، تو پھر اللہ تعالی جس طرح بچے کو ماں کے پیٹ میں کم و بیش نو مہینے رکھتا ہے، پھر وہ بچہ پیدا ہوتا ہے، ایک دو مہینے میں بچہ پیدا نہیں ہوتا، تو اللہ تعالی کو چاہیے تھا کہ ایک نظام یہ بھی بنادیتے کہ جب ایک بچہ پیدا ہوجائے، پھر دو تین سال تک دوسرا حمل ٹھہرے ہی نہ، اور کچھ نہیں تو کم از کم قرآن یا حدیث میں جس طرح یہ کہا کہ بچے کو دو سال تک دودھ پلاؤ، ساتھ یہ بھی فرمادیتے کہ دو سال تک دوسرا بچہ پیدا نہ کرو۔ جب قرآن و حدیث میں ایسا کچھ نہیں، تو ہمیں اپنی سوچ کو قرآن و حدیث بنا کر پیش نہ کرنا چاہیے۔ رہی بات بچے پیدا کرنا ، اور ان کا کم زیادہ ہونا، تو غریب امیر ہونا یہ بچوں کے کم زیادہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتا، غریب تو ایسے بھی ہیں، سڑکوں فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، جن کےسرے سے بچے ہیں ہی نہیں، اور کئی ایسے بھی کڑوڑ پتی ہیں، جن کی چار چار شادیاں اور بیس بیس بچے ہیں، لہذا بچوں کی پیدائش کو ان چیزوں کے ساتھ نتھی کرنا درست نہیں ہے۔
آپ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا کوئی کام پلاننگ کے بغیر ہے؟ میرا جواب ہے کہ نہیں، لیکن اللہ نے جو پلاننگ نظام تولید کی بنائی ہے، آپ خود کو اس کا پابند سمجھ ہی نہیں رہے، اللہ تعالی اگر سال میں دو بچے دیتا ہے، تو کوئی انسان اللہ کے ’پلان‘ میں کیوں مداخلت کرنا چاہتا ہے؟
اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔
 
شمولیت
جون 13، 2019
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
چلو ٹھیک ہے آپ نہ مانیں، میں نے تو اس کو مانا بھی ہے اور عمل بھی کیا ہے اور الحمد اللہ مطمن بھی ہوں۔ دو بیٹے ہیں دو کا ہی انشااللہ ارادہ تھا اب تو ماشااللہ جوان ہیں۔
مگر مجھے پرابلم پیش آتی ہے جب ارد گرد ماحول میں بے تحاشہ بے لگام بچے ننگ دھڑنگ بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں اور اب تو سب ہی بھکاری بن چکے ہیں چاہے وہ کسی بھکاری خاندان کی بجائے کسی اچھے بھلے گھرانے سے ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں بارہا بہبود آبادی کا اشارہ دے دیا ہے وہ آپ بنی اسرائیل کی طرح کیڑے نکال رہے ہیں کہ اللہ پاک نے یہ کیوں نہیں کردیا؟ بھائی جان، اللہ پاک نے جو بھی فرما دیا ہے اس سے بہتر "آیت" یا "آیات" ناممکن ہے۔ اب اگر ہم لوگ ہی "صم بکم عمی فھم لا یرجعون" بن چکے ہیں تو پھر اللہ پاک کو تو قصوروار نہ ٹھہرائیں؟ اگر نظام میں خرابی نظر آرہی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ لوگوں کا ہی قصور ہے نہ کہ اللہ پاک کا۔ جب انسان اللہ پاک کے بتائے ہوئے طریقے سے روگردانی کریں گے تو پھر نظام تو خراب ہوگا۔ نظام کی خرابی کی ایک بنیادی اور بڑی وجہ بہبود آبادی کے قرآنی اور سرکاری حکم پر عمل در آمد نہ کرنا ہے۔ جب حکومت پاکستان یعنی ملک کے حاکم یا سربراہ یا امیر خود یہ نظام یا پیغام بنا چکے ہیں کہ " بچے دو ہی اچھے" تو پھر ہم کون ہوتے ہیں اس حکم سے رو گردانی کرنے والے؟ اب کیا ٹریفک کے اشارے ہر ریڈ بتی پر ہم تب ہی رکیں گے جب یہ حکم قرآن پاک میں انہی الفاظ میں آئے گا کہ آپ نے فلاں سگنل پر ریڈ بتی جلے تو رکنا ہے؟ آپ لکیر کے فقیر مت بنیں اور غور کریں کہ رب الکائنات کا واضح پیغام کیا بہبود آبادی نہیں ہے؟ آپ جیسے لوگ چاہتے ہی نہیں کہ کسی ملک و قوم کی حالت بہتر ہو جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اکثریت ہم اور آپ میں سے یعنی 98 فی صد ہمارے ہی لوگ بہبود آبادی پر عمل کرتے ہیں مگر اپنے اپنے ذاتی طریقے سے۔ ہر کسی نے اپنی ایک ذاتی حد مقرر کر رکھی ہے اکثریت چار یا پانچ پر محدود ہے۔ کئی اکا دکا ہیں جو انیس یا اکیس پر رکتے ہیں۔ مگر سب کے سب کسی قرآنی یا سرکاری قاعدے قانون کو نہیں مانتے؟ اپنے اپنے قاعدے قانون ذہنوں میں بنا رکھے ہیں۔ پھر آپ جیسے لوگ ہیں جو انہیں کسی قانون کے ماتحت ہونے بھی نہیں دیتے؟


Sent from my SM-A605FN using Tapatalk
 
شمولیت
جون 13، 2019
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
یہ حدیث سے تو نہیں ہے یہ تو قرآن پاک میں ہے۔

اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْآ اَیْدِیَہُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللہِ وَاللہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمo وَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللہِ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (مائدہ۔ع:6)

Sent from my SM-A605FN using Tapatalk
 
شمولیت
جون 13، 2019
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
کسی بھی قوم کو مقدر اور نصیب پر چھوڑ کر گند، گٹر ، کچرا، گندگی، مفلسی، لاچاری، عوام کو گندا پانی پلا کر، کینسر کے مریض بنا کر ۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔
Planning, Development and Management
کے بغیر کیسے اللہ اپنے بندوں کو چھوڑ سکتا ہے؟ جب دنیا کا کوئی بھی کام بغیر پلاننگ کے سرے نہیں چڑھ سکتا؟ تو پھر population management کیوں نہیں؟؟؟ مگر آپ جیسے لوگوں نے عوام کو گمراہی پر لگانے کا ٹھیکہ جو لے رکھا ہے؟

Sent from my SM-A605FN using Tapatalk
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
چلو ٹھیک ہے آپ نہ مانیں، میں نے تو اس کو مانا بھی ہے اور عمل بھی کیا ہے اور الحمد اللہ مطمن بھی ہوں۔ دو بیٹے ہیں دو کا ہی انشااللہ ارادہ تھا اب تو ماشااللہ جوان ہیں۔
مگر مجھے پرابلم پیش آتی ہے جب ارد گرد ماحول میں بے تحاشہ بے لگام بچے ننگ دھڑنگ بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں اور اب تو سب ہی بھکاری بن چکے ہیں چاہے وہ کسی بھکاری خاندان کی بجائے کسی اچھے بھلے گھرانے سے ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں بارہا بہبود آبادی کا اشارہ دے دیا ہے وہ آپ بنی اسرائیل کی طرح کیڑے نکال رہے ہیں کہ اللہ پاک نے یہ کیوں نہیں کردیا؟ بھائی جان، اللہ پاک نے جو بھی فرما دیا ہے اس سے بہتر "آیت" یا "آیات" ناممکن ہے۔ اب اگر ہم لوگ ہی "صم بکم عمی فھم لا یرجعون" بن چکے ہیں تو پھر اللہ پاک کو تو قصوروار نہ ٹھہرائیں؟ اگر نظام میں خرابی نظر آرہی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ لوگوں کا ہی قصور ہے نہ کہ اللہ پاک کا۔ جب انسان اللہ پاک کے بتائے ہوئے طریقے سے روگردانی کریں گے تو پھر نظام تو خراب ہوگا۔ نظام کی خرابی کی ایک بنیادی اور بڑی وجہ بہبود آبادی کے قرآنی اور سرکاری حکم پر عمل در آمد نہ کرنا ہے۔ جب حکومت پاکستان یعنی ملک کے حاکم یا سربراہ یا امیر خود یہ نظام یا پیغام بنا چکے ہیں کہ " بچے دو ہی اچھے" تو پھر ہم کون ہوتے ہیں اس حکم سے رو گردانی کرنے والے؟ اب کیا ٹریفک کے اشارے ہر ریڈ بتی پر ہم تب ہی رکیں گے جب یہ حکم قرآن پاک میں انہی الفاظ میں آئے گا کہ آپ نے فلاں سگنل پر ریڈ بتی جلے تو رکنا ہے؟ آپ لکیر کے فقیر مت بنیں اور غور کریں کہ رب الکائنات کا واضح پیغام کیا بہبود آبادی نہیں ہے؟ آپ جیسے لوگ چاہتے ہی نہیں کہ کسی ملک و قوم کی حالت بہتر ہو جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اکثریت ہم اور آپ میں سے یعنی 98 فی صد ہمارے ہی لوگ بہبود آبادی پر عمل کرتے ہیں مگر اپنے اپنے ذاتی طریقے سے۔ ہر کسی نے اپنی ایک ذاتی حد مقرر کر رکھی ہے اکثریت چار یا پانچ پر محدود ہے۔ کئی اکا دکا ہیں جو انیس یا اکیس پر رکتے ہیں۔ مگر سب کے سب کسی قرآنی یا سرکاری قاعدے قانون کو نہیں مانتے؟ اپنے اپنے قاعدے قانون ذہنوں میں بنا رکھے ہیں۔ پھر آپ جیسے لوگ ہیں جو انہیں کسی قانون کے ماتحت ہونے بھی نہیں دیتے؟
Sent from my SM-A605FN using Tapatalk
آپ خود جو مرضی کریں، لیکن اپنی ’مرضی‘ کو قرآن وحدیث کا نام دیں۔
غربت کا خاتمہ لوگ کم کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ لوگوں کے لیے وسائل فراہم کرنے سے ہوتا ہے۔
رزق کے ڈر سے بچوں کو قتل کرنے سے قرآن نے منع کیا ہے، اور بعض اہل علم کے نزدیک اس سے مراد لفافے غبارے لگا کر پیدائش روکنا بھی ہوسکتا ہے۔
بنی اسرائیل والے کیڑے ہم نہیں نکال رہے، آپ واضح قرآنی تعلیمات سے اپنا مطلب نکالنے کے لیے بنی اسرائیلی عقل آرائی کر رہے ہیں۔
آپ قرآن کی آیت یا حدیث پیش کردیں، پھر ہم اس پر حجتیں اور تاویلیں کریں، تو آپ کا کہنا بر حق ہوگا۔
یہ حدیث سے تو نہیں ہے یہ تو قرآن پاک میں ہے۔
اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْآ اَیْدِیَہُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللہِ وَاللہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمo وَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللہِ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (مائدہ۔ع:6)
قرآن پاک تو واضح ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹو، آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں نشان لگانا مراد ہے، کاٹنا مراد نہیں، تو نشان لگانا اس آیت میں کدھرہے؟
کسی بھی قوم کو مقدر اور نصیب پر چھوڑ کر گند، گٹر ، کچرا، گندگی، مفلسی، لاچاری، عوام کو گندا پانی پلا کر، کینسر کے مریض بنا کر ۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔
Planning, Development and Management
کے بغیر کیسے اللہ اپنے بندوں کو چھوڑ سکتا ہے؟ جب دنیا کا کوئی بھی کام بغیر پلاننگ کے سرے نہیں چڑھ سکتا؟ تو پھر population management کیوں نہیں؟؟؟ مگر آپ جیسے لوگوں نے عوام کو گمراہی پر لگانے کا ٹھیکہ جو لے رکھا ہے؟
Sent from my SM-A605FN using Tapatalk
آپ کو غریب و مفلس لوگوں سے نفرت ہے، تو اس کا اظہار قرآن و حدیث کی آڑ میں نہ کریں، سیدھی سیدھی بات کریں، جامے سے باہر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
بچے اللہ کی دین ہیں، یہ اللہ کا پلان ہے، آپ اس سے راضی نہیں، تو دوسروں کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں، اپنی عقل کا علاج کروائیں۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
یہ حدیث سے تو نہیں ہے یہ تو قرآن پاک میں ہے۔
اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْآ اَیْدِیَہُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللہِ وَاللہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمo
اس آیت یہ بات نہیں نکلتی جو آپ نے اخذ کی ہے :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ میں کلائی پر کاٹ کا نشان لگایا جاتا تھا۔ یعنی اوپری جلد گولائی میں ایک سنٹی میٹر سے کم۔ ہاتھ ہڈی سمیت نہیں کاٹتے تھے۔ وہ زخم تو بعد میں بھر جاتا تھا مگر زخم کا گولائی نشان باقی رہ جاتا۔
آپ نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ کا عمل پیش کیا ہے تو اسے حدیث میں ہونا چاہیئے ،
وہ حدیث کہاں ہے ؟
 
شمولیت
جون 13، 2019
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
میں نے کب کہا ہے کہ غربت کے ڈر سے بچوں کا قتل کرو؟ میں تو اس عقل و شعور اور غور و خوض کی بات کر رہا جس کے استعمال کا ذکر بارہا قرآن پاک میں آیا ہے؟ جسے دوسرے لفظوں میں
planning, development and management
کا نام دے سکتے ہیں چاہے شعبہ کوئی بھی ہو؟

Sent from my SM-A605FN using Tapatalk
 
Top