• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باب:15۔ شراب نوشی کی حد

شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47
شراب نوشی کی حد سنت نبوی ﷺ اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے جو شراب پئے اُسے کوڑے لگوانا چاہیے۔ پھر پیئے پھر کوڑے لگوانا چاہیے۔ نبی کریم ﷺسے ثابت ہے کہ آپ ﷺنے شرابی کو بار بار کوڑے لگوائے۔ اور آپ ﷺکے خلفاء اور مسلمانوں کا اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے۔

شراب نوشی کی حد: شراب نوشی کی حد سنت نبوی اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔ اہل سنن (یعنی امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہما اللہ دونوں) نے مختلف وجوہ اور مختلف طریقوں سے روایتیں کی ہیں۔ جن میں اس کی وضاحت کی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا:

مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ اِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ اِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ اِنْ شَرِبَ الرَّبِعَۃَ فَاقْتُلُوْہُ
جو شخص شراب پیئے، اُسے کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر چوتھی مرتبہ پیئے تو اُسے قتل کر دو۔
نبی کریم ﷺنے بہت سی مرتبہ شراب پینے والوں کو کوڑے لگانے کی سزا دی ہے۔ اور آپ ﷺکے بعد خلفاء راشدین y اور مسلمانوں نے بھی کوڑوں کی سزا دی ہے، اور اسی بنا پر اکثر علماء کہتے ہیں کہ قتل کی سزا منسوخ ہو چکی ہے۔ بعض کا قول ہے یہ سزا محکم ہے۔ بعض کہتے ہیں قتل کرنا ایک تعزیر تھی۔ اگر امام ضرورت سمجھے تو یہ سزا بھی دے سکتا ہے۔

اور نبی کریم ﷺسے ثابت ہے کہ شراب نوشی کی سزا میں آپ ﷺنے چالیں لکڑیاں اور جوتے لگوائے ہیں۔ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے لگوائے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اسی (80) کوڑے لگوائے ہیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کبھی چالیس اور کبھی اسی (80) کوڑے لگوائے ہیں۔ اور اسی بناء پر بعض علماء نے کہا ہے کہ اسی (80) کوڑے لگوانا واجب ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ چالیس کوڑے لگوانا واجب ہے، اس سے زیادہ سزا امام کی رائے پر موقوف ہے جبکہ لوگ شراب کے عادی ہو گئے ہوں۔ اور چالیس کوڑوں سے تنبیہ نہ ہوتی ہو، یا اس کے مثل کوئی اور وجہ ہو تو چالیس سے زیادہ اسی (80) کوڑے لگوائیں۔ اگر پینے والے کم ہیں یا اتفاقاً کسی نے پی لی ہے تو چالیس کوڑے کافی ہیں۔ اور یہ قول زیادہ مناسب اور زیادہ موافق ہے۔ اور یہی قول امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کی ایک روایت کے بھی مطابق ہے۔

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں شراب نوشی کے واقعات زیادہ ہونے لگے تو انہوں نے سزا زیادہ کر دی۔ بعض کو جلا وطن کیا۔ بعض کا سر منڈوا کر ذلیل کیا۔ تو یہ زجر و توبیخ کی مبالغہ آمیز سزا تھی۔ اگر شرابی کو تعزیر چالیس کے بعد چالیس کوڑوں سے زیادہ کرنی ہو تو اس کی روٹی بند کر دی جائے۔ اور اسے جلاوطن کیا جائے تو اچھا ہے۔
لا بدل کلمات اللہ ! قرآن تحذیر !
(اللہ و رسول کے الفاظ کو مت بدلو)

“جرم” کو “بیماری” نہیں کہنا !
اور “سزا” کو “علاج” نہیں کہنا !

حرام سے علاج حرام ہے ، حدیث،

انسان کو موت تک حلال چیز کھلا کر پہنچاتے ہیں۔

دنیا کے آخری نبی کا قانون۔
 
شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47

اٹیچمنٹس

شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47
شراب نوشی کی حد سنت نبوی ﷺ اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے جو شراب پئے اُسے کوڑے لگوانا چاہیے۔ پھر پیئے پھر کوڑے لگوانا چاہیے۔ نبی کریم ﷺسے ثابت ہے کہ آپ ﷺنے شرابی کو بار بار کوڑے لگوائے۔ اور آپ ﷺکے خلفاء اور مسلمانوں کا اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے۔

شراب نوشی کی حد: شراب نوشی کی حد سنت نبوی اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔ اہل سنن (یعنی امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہما اللہ دونوں) نے مختلف وجوہ اور مختلف طریقوں سے روایتیں کی ہیں۔ جن میں اس کی وضاحت کی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا:

مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ اِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ اِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوْہُ ثُمَّ اِنْ شَرِبَ الرَّبِعَۃَ فَاقْتُلُوْہُ
جو شخص شراب پیئے، اُسے کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر چوتھی مرتبہ پیئے تو اُسے قتل کر دو۔
نبی کریم ﷺنے بہت سی مرتبہ شراب پینے والوں کو کوڑے لگانے کی سزا دی ہے۔ اور آپ ﷺکے بعد خلفاء راشدین y اور مسلمانوں نے بھی کوڑوں کی سزا دی ہے، اور اسی بنا پر اکثر علماء کہتے ہیں کہ قتل کی سزا منسوخ ہو چکی ہے۔ بعض کا قول ہے یہ سزا محکم ہے۔ بعض کہتے ہیں قتل کرنا ایک تعزیر تھی۔ اگر امام ضرورت سمجھے تو یہ سزا بھی دے سکتا ہے۔

اور نبی کریم ﷺسے ثابت ہے کہ شراب نوشی کی سزا میں آپ ﷺنے چالیں لکڑیاں اور جوتے لگوائے ہیں۔ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے لگوائے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اسی (80) کوڑے لگوائے ہیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کبھی چالیس اور کبھی اسی (80) کوڑے لگوائے ہیں۔ اور اسی بناء پر بعض علماء نے کہا ہے کہ اسی (80) کوڑے لگوانا واجب ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ چالیس کوڑے لگوانا واجب ہے، اس سے زیادہ سزا امام کی رائے پر موقوف ہے جبکہ لوگ شراب کے عادی ہو گئے ہوں۔ اور چالیس کوڑوں سے تنبیہ نہ ہوتی ہو، یا اس کے مثل کوئی اور وجہ ہو تو چالیس سے زیادہ اسی (80) کوڑے لگوائیں۔ اگر پینے والے کم ہیں یا اتفاقاً کسی نے پی لی ہے تو چالیس کوڑے کافی ہیں۔ اور یہ قول زیادہ مناسب اور زیادہ موافق ہے۔ اور یہی قول امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کی ایک روایت کے بھی مطابق ہے۔

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں شراب نوشی کے واقعات زیادہ ہونے لگے تو انہوں نے سزا زیادہ کر دی۔ بعض کو جلا وطن کیا۔ بعض کا سر منڈوا کر ذلیل کیا۔ تو یہ زجر و توبیخ کی مبالغہ آمیز سزا تھی۔ اگر شرابی کو تعزیر چالیس کے بعد چالیس کوڑوں سے زیادہ کرنی ہو تو اس کی روٹی بند کر دی جائے۔ اور اسے جلاوطن کیا جائے تو اچھا ہے۔

واللہ ۔۔۔
بہت مزا آتا ہے !
“اللہ کی حدود کی عید کا چاند” جب نظر آ جائے !
چوتھی بار بھی “کمزور انسان” بھول گیا !
شراب پی لی !
زنا تو نہیں کر سکا !
لیکن !
زنا فی الناس Porn کی مجالس میں بیٹھ کر شرابی والا ہی شو دکھا دیا !
چوتھی بار بھی اسی زانی سے ہمبستر ہو کر اخراج کیا ! لیکن نکاح تک نہ پہنچ سکا !
خوش بخت شرابی زانی مسلم انسان اب “اسلام کی حدود کا عید کا چاند ہے” !
جا رہا ہے اپنے رب کی جنت میں شرابا” طہورا پینے ہمیشہ کے لئے باغوں میں بیٹھ کر !

“صلوة القتل” !
=
“قتل کی عبادت کے ارکان”
=
مسلم بھائ “ویڑا / بکرا / دنبہ قربانی والا چھرا” نکال کر سنت ابراہیمی ہڑھتا ہے !

بسم اللہ !
اللہ اکبر !

دل کی قیمت ؟
گردے کی قیمت ؟
آنکھ کی قیمت ؟
میدے کی قیمت ؟
جگر کی قیمت ؟
دماغ کی قیمت ؟
ہاتھ کی قیمت ؟
پاؤں کی قیمت ؟

مثلہ حرام !
انسانی پارٹس ٹرانسپلانٹ حلال !
 
شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47
قرآن حدیث میں اللہ کے الفاظ کی لکھی ہوئ “کالی سیاہی” > انگریزی گورے/عربی سفید/پنجابی سونے/بلوچی کوجے اور “دنیا میں عزت دار” > “اللہ کے ہاں بے عزتی والا کام کرنے والوں” کی ورائٹی نہیں دیکھتی

تحریک قرآن حدیث اصطلاحات
 
Top