• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باغ فدک کے متعلق صحیح سنی عقیدہ اور جائیداد کیلئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا دعوی

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
16
اگر سیدہ نے فدک کے حوالے سے قرآن کی وراثت سے متعلق آیات کی دھائی دی تھی
تو یہ سوال ہے کہ
سیدہ فاطمتہ نے مدینہ میں بنونضیر اور بنو قریظہ کے باغات کی وراثتی تقسیم کا مطالبہ کیوں نہ کیا؟؟؟ دونوں باغات پر حضرت علی اور حضرت عباس قابض تھے
وہ کس حیثیت سے قابض تھے ؟؟؟؟ کیا انہیں نبی کریم کے وارثین نے مقرر کیا تھا ؟؟؟؟؟
کیا حضرت فاطمہ خود اسپر حضرت علی کے ذریعے قابض تھیں ؟؟؟؟؟؟
جس بنو قریظہ اور بنونصیر کی جائیداد پر سیدہ فاطمتہ خود قابض تھیں اس جائیداد کی وراثتی تقسیم کیوں نہ کی؟؟؟؟؟
جب خود ہی قابض تھیں تو کسی کو کہنے کی بھی ضرورت نہیں تھی خود ہی وراثتی تقسیم کرسکتی تھیں جو کہ نہیں کی
نہ کسی سے مطالبہ کیا نہ خود تقسیم کی بلکہ خود حضرت علی کے ذریعے قابض تھیں
کیا سیدہ فاطمتہ امہات المومنین کے وراثتی حصہ پر قابض تھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
16
فدک کے ہبہ والی کہانی کا پوسٹ مارٹم

ایک بات اس سلسلے میں یہ کہی جاتی ہے کہ فدک کے متعلق نبیﷺ نے اپنی زندگی میں یہ فیصلہ کردیا تھا کہ وہ حضرت فاطمہؓ کو دیا جائے گا۔ جناب سیّدہ نے حضرت ابوبکر ؓ سے خاص طور پر اسی کا مطالبہ کیا تھا اور شہادت میں حضرت علیؓ اور ام ایمن کو پیش کیا تھا۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے ان کی شہادت قبول نہ کی اور فدک کی جائداد ان کے حوالہ کرنے سے انکار کردیا۔

مگر یہ قصہ حدیث کی مستند روایات میں سے کسی میں بھی مذکور نہیں ہے۔ البتہ بلاذری اور ابن سعید نے اسے نقل کیا ہے اور ان کے بیان میں بھی کافی اختلاف ہے۔ ابن سعد کی روایت ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے یہ بات خود رسول اللہﷺ سے نہیں سنی تھی بلکہ ام ایمن سے سنی تھی اور ان ہی کو شہادت میں پیش کر دیا۔ بخلاف اس کے بلاذری کی روایت یہ ہے کہ جناب سیّدہ نے خود یہ دعویٰ کیا تھا کہ میرے والد نے مجھے فدک دیا ہے۔ پھر ایک روایت کی رو سے انہوں نے حضرت علیؓ اور ام ایمن کو شہادت میں پیش کیا اور دوسری روایت کی رو سے ام ایمن اور رباح (نبیﷺ کے آزاد کردہ غلام) کو۔

یہ تو ہے اس قصے کی حیثیت باعتبار روایت۔ اب قانونی حیثیت دیکھئے تو حضورﷺ کا یہ فعل یا تو ہبہ ہوسکتا تھا یا وصیت۔ اگر کہا جائے کہ ہبہ ہے تو وہ اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ جب حضورﷺ نے اپنی زندگی ہی میں فدک کا قبضہ حضرت فاطمہؓ کو دے دیا ہوتا۔ ورنہ محض زبان سے کسی چیز کو کسی کے لئے نامزد کردینا، اور یہ نیت کرنا کہ وہ چیز مالک کے مرنے کے بعد معطیٰ لہ کو ملے گی، ہبہ نہیں بلکہ وصیت ہے۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ یہ وصیت تھی تو قرآن مجید میں میراث کا قانون نازل ہوجانے کے بعد حضورﷺ خود یہ اعلان فرما چکے تھے کہ ’’لا وصیۃ لوارث‘‘ اب ترکے کی تقسیم کے معاملہ میں کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔ پھر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ حضورﷺ نے اپنے ہی اعلان کردہ قانون کے خلاف دوسرے وارثوں کو چھوڑ کر ایک خاص وارث کے حق میں کوئی وصیت فرمائی ہوگی۔

علاوہ بریں ہبہ یا وصیت کے سوال کو نظر انداز کرکے صرف اس شہادت ہی کو دیکھا جائے جو اس دعویٰ کے ثبوت میں پیش کی گئی تو وہ صریحاً قرآنی قانون شہادت کے لحاظ سے ناکافی تھی۔ قرآن مجید کی رو سے یا تو دو مردوں کی شہادت معتبر ہے یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت۔ جناب سیدہ (اگر یہ قصہ درست مانا جائے) صرف ایک عورت، یا ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی لائی تھیں۔ اس صورت میں قانون کے خلاف فیصلہ کیسے کیا جا سکتا تھا؟ کیا شخصیتوں کو دیکھ کر شہادت کا شرعی نصاب بدل دیا جاتا؟

ترجمان القرآن
 
Top