- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بدر کے بعد کی جنگی سرگرمیاں
بدر کا معرکہ مسلمانوں اور مشرکین کا سب سے پہلا مسلح ٹکراؤ اور فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں مسلمانوں کو فتحِ مبین حاصل ہوئی اور سارے عرب نے اس کا مشاہدہ کیا۔ اس معرکے کے نتائج سے سب سے زیادہ وہی لوگ دل گرفتہ تھے جنہیں براہ راست یہ نقصان عظیم برداشت کرنا پڑا تھا، یعنی مشرکین، یا وہ لوگ جو مسلمانوں کے غلبہ و سر بلندی کو اپنے مذہبی اور اقتصادی وجود کے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے، یعنی یہود۔ چنانچہ جب سے مسلمانوں نے بدر کا معرکہ سر کیا تھا یہ دونوں گروہ مسلمانوں کے خلاف غم و غصہ اور رنج و الم سے جل بھن رہے تھے، جیسا کہ ارشاد ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا (۵: ۸۲)
''تم اہل ایمان کا سب سے زبردست دشمن یہود کو پاؤ گے اور مشرکین کو۔''
مدینے میں کچھ لوگ ان دونوں گروہوں کے ہمراز و دمساز تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ اپنا وقار برقرار رکھنے کی اب کوئی سبیل باقی نہیں رہ گئی ہے تو بظاہر اسلام میں داخل ہو گئے۔ یہ عبد اللہ بن اُبی اور اس کے رفقاء کا گروہ تھا۔ یہ بھی مسلمانوں کے خلاف یہود اور مشرکین سے کم غم و غصہ نہ رکھتا تھا۔
ان کے علاوہ ایک چوتھا گروہ بھی تھا، یعنی وہ بدو جو مدینے کے گرد و پیش بود و باش رکھتے تھے۔ انہیں کفر و اسلام سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن یہ لٹیرے اور رہزن تھے، اس لیے بدر کی کامیابی سے انہیں بھی قلق و اضطراب تھا۔ انہیں خطرہ تھا کہ مدینے میں ایک طاقت ور حکومت قائم ہو گئی تو ان کی لوٹ کھسوٹ کا راستہ بند ہو جائے گا، اس لیے ان کے دلوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف کینہ جاگ اٹھا اور یہ بھی مسلم دشمن ہو گئے۔
اس طرح مسلمان چاروں طرف سے خطرے میں گھر گئے، لیکن مسلمانوں کے سلسلے میں ہر فریق کا طرزِ عمل دوسرے سے مختلف تھا۔ ہر فریق نے اپنے حسبِ حال ایسا طریقہ اپنایا تھا جو اس کے خیال میں اس کی غرض و غایت کی تکمیل کا کفیل تھا، چنانچہ اہل مدینہ نے اسلام کا اظہار کرکے در پردہ سازشوں، دسیسہ کا ریوں اور باہم لڑانے بھڑانے کی راہ اپنائی۔ یہود کے ایک گروہ نے کھلم کھلا رنج و عداوت اور غیظ و غضب کا مظاہرہ کیا۔ اہل مکہ نے کمر توڑ ضرب کی دھمکیاں دینی شروع کیں اور بدلہ اور انتقام لینے کا کھلا اعلان کیا۔ ان کی جنگی تیاریاں بھی کھلے عام ہو رہی تھیں، گویا وہ زبان حال سے مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے تھے۔
ولا بد من یوم أغرّ محجل
یطول استماعی بعدہ للنوادب
''ایک ایسا روشن اور تابناک دن ضرور ی ہے جس کے بعد عرصہ دراز تک نوحہ کرنے والیوں کے نوحے سنتا رہوں۔''
اور سال بھر کے بعد وہ عملاً ایک ایسی معرکہ آرائی کے لیے مدینے کی چہار دیواری تک چڑھ آئے جو تاریخ میں غزوہ احد کے نام سے معروف ہے اور جس کا مسلمانوں کی شہرت اور ساکھ پر برا اثر پڑا تھا۔
ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں نے بڑے اہم اقدامات کیے جن سے نبی ﷺ کی قائدانہ عبقریت کا پتا چلتا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ مدینے کی قیادت گرد و پیش کے ان خطرات کے سلسلے میں کس قدر بیدار تھی اور ان سے نمٹنے کے لیے کتنے جامع منصوبے رکھتی تھی۔ اگلی سطور میں اسی کا ایک مختصر سا خاکہ پیش کیا جا رہا ہے:
۱۔ غزوہ بنی سلیم بہ مقام کدر:
غزوہ بدر کے بعد سب سے پہلی خبر جو مدینے کے شعبۂ اطلاعات نے فراہم کی وہ یہ تھی کہ قبیلۂ غطفان کی شاخ بنو سُلیم کے لوگ مدینے پر چڑھائی کے لیے فوج جمع کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں نبی ﷺ نے دو سو سواروں کے ساتھ ان پر خود ان کے اپنے علاقے میں اچانک دھاوا بول دیا اور مقام کدر (کدر۔ ک پر پیش اور دال ساکن ہے۔ یہ دراصل مٹیالے رنگ کی ایک چڑیا ہوتی ہے لیکن یہاں بنو سلیم کا ایک چشمہ مراد ہے جو نجد میں مکے سے (براستہ نجد) شام جانے والی کاروانی شاہراہ پر واقع ہے) میں ان کی منازل تک جا پہنچے۔ بنو سلیم میں اس اچانک حملے سے بھگدڑ مچ گئی اور وہ افراتفری کے عالم میں وادی کے اندر پانچ سو اونٹ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ جس پر لشکر مدینہ نے قبضہ کر لیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا خمس نکال کر بقیہ مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ ہر شخص کے حصے میں دو دو اونٹ آئے۔ اس غزوے میں یسار نامی ایک غلام ہاتھ آیا جسے آپ ﷺ نے آزاد کر دیا - اس کے بعد آپ ﷺ دیار بنی سلیم میں تین روز قیام فرما کر مدینہ پلٹ آئے۔
یہ غزوہ شوال ۲ھ میں بدر سے واپسی کے صرف سات دن بعد یا نصف محرم ۳ھ میں پیش آیا۔ اس غزوے کے دوران سباعؓ بن عرفطہ کو اور کہا جاتا ہے کہ ابن ام مکتوم کو مدینے کا انتظام سونپا گیا تھا۔ (زاد المعاد ۲/۹۰، ابن ہشام ۲؍۴۳ ، ۴۴۔ مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص ۲۳۶)
۲۔ نبی ﷺ کے قتل کی سازش:
جنگ بدر میں شکست کھا کر مشرکین غصے سے بے قابو تھے اور پورا مکہ نبی ﷺ کے خلاف ہانڈی کی طرح کھول رہا تھا۔ بالآخر مکے کے دو بہادر نوجوان نے طے کیا کہ وہ ...اپنی دانست میں...اس اختلاف و شقاق کی بنیاد اور اس ذلت و رسوائی کی جڑ (نعوذ باللہ) یعنی نبی ﷺ کا خاتمہ کر دیں گے۔
چنانچہ جنگ بدر کے کچھ ہی دنوں بعد کا واقعہ ہے کہ عُمیر بن وہب جمحی - جو قریش کے شیطانوں میں سے تھا اور مکے میں نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور اب اس کا بیٹا وہب بن عُمیر جنگ بدر میں گرفتار