• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بر ہان

ظہیر احمد

مبتدی
شمولیت
دسمبر 29، 2014
پیغامات
16
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
6
یٰاَیَّھاَالنَّاسُ قََدْ جَائَ کُمْ بُرْ ھَا نُ مِّنْ رَّ بِِّکُمْ وَ اَ نْزَ لْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا
النساء (174)
اے لوگو! بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے قوی دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف ہدایت دینے والا نور نازل کیا ہے۔
آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تمہارے پاس بر ہان یعنی قوی دلیل آگئی ہے۔ اِس سے مراد سیدنا حضرت محمدﷺ کی ذات گرامی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ تمہاری طرف نور مبین نازل کیاگیا ہے۔اِس سے مراد قرآن کریم ہے ۔
سیدنا حضرت محمدﷺ کو بر ہان فرمانے ہیں یہ اشارہ ہے کہ آپﷺ کو اپنی نبوت اور رسالت کو منوانے کیلئے کسی الگ اور خارجی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ آپ کا وجود ِمسعوداور ذات گرامی بجائے خود آپﷺ کی نبوت اور رسالت پر دلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے نبیوں اور رسولوں نے اپنی نبوت اور رسالت پر خارجی معجزات پیش کئے اور آپﷺ نے اپنی نبوت اور رسالت پر اپنی زندگی پیش کی۔
قرآن مجید میں ہے۔
فَََقَدْ لَبِِثْتُ فِیْکُمْ عُمْرًامِنْ قَبْلِہٖ اَ فََلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس:16)
میں تم میں اس(نزول قرآن) سے پہلے اپنی عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں کیا تم نہیں سمجھتے۔
حضرت خدیجہ الکبٰری ؓ،حضرت ابوبکر صدیقؓ،حضرت علی ؓاور حضرت زید بن حارث ؓیہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں۔اوریہ سب بغیر کسی معجزہ کے ایمان لائے تھے ۔ ان کیلئے یہی دلیل کافی تھی کہ انہوں نے آپﷺ کی زندگی کو دیکھا تھا۔اور حضور ﷺ کی زندگی ہی آپﷺ کے دعویٰ نبوت پر بہت قوی دلیل تھی۔
نبی کریم ﷺکا نام مبارک’’ محمد اور احمد ؐ‘‘ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نازل فرمایا ھے۔ آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ ؓ فرماتی ہیں
جب چھ ماہ گزر گئے تو خواب میں کوئی آنے والا آیا اور اُس نے کہا
اِ نَّکَ حملت بخیر العالمیین فاذا ولدۃ فسمیہ محمد
(مواہب لدنیہ جلد: 1صفحہ 124)
یعنی اے آمنہ ؓ ! تیرے شکم پاک میں وہ ہے کہ سارے جہانوں سے افضل وا علیٰ ہے ۔ جب اس کی ولادت ہو تو اسکا نام محمد ﷺ رکھیں۔
نیز شفاء قاضی عیاض میںہے کہ رسول کریم ؐ فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں میرا نام محمد اور احمدﷺ رکھا ہے۔
قرآن مجید میں سورۃ الصف آیت نمبر06میں آپ ﷺکے بارے میں حضرت عیسیٰؑ کی پیش گوئی اور اسم احمد کا ذکر ہے۔جبکہ سورۃ الفتح آیت نمبر29،سورۃ الاحزاب آیت نمبر40،سورۃمحمد آیت نمبر02، اور سورۃ آل عمران آیت نمبر 144میںآپ ﷺ کے اسم مبارک ’’محمدﷺ‘‘ کا ذکر ہے۔
آئیے اب آپ ﷺکے اسم گرامی کے معنی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
لفظ محمد، حمد سے مشق ہے اور حمد کا معنی ہے مدح ،تعریف،سراہنا۔ لہذامحمد کے معنی ہوئے وہ ذات جس کی مدح و تعریف کی جائے۔ جبکہ محمد مبالغہ کا صیغہ ہے۔(مبالغہ یعنی ایسا کام جو بڑھا چڑھا کر ضرورت سے زیاد ہ کیا جائے)اور مبالغہ مطلق اس بات کا متقاضی ہے کہ اِس (محمدﷺ)کی بار بار اور بہت زیادہ تعریف کی جائے ۔ اور تعریف کے لائق وہ ہوتا ہے جس میں کوئی عیب یا کوئی نقص نہ ہو۔
مثال کے طور پر ایک موبائل فون ہے ۔کوئی شخص کہے یہ نہایت خوبصورت ہے، پائیدار اور مضبوط ہے اور بنانے والی کمپنی بھی مشہور و معروف اور ذمہ دار ہے۔نیز یہ موبائل فون ہر حیثیت سے بے مثال اور لاجواب ہے۔ سننے والے کو فوراً اعتبار آجائے گا ۔کہ واقعی یہ موبائل فون تعریف کے لائق ہے ۔لیکن کہنے والا اگر اِسکی تعریف کرتے کرتے یوںکہہ دے کہ یہ موبائل ہے تو ہر حیثیت سے لاجواب مگر اُسکی آواز صاف نہیں ہے ،آواز میں خلل آجاتا ہے تو صرف اس ایک عیب کی وجہ سے وہ موبائل فون تعریف کے قابل نہیں رہے گا ۔ پس جس ذات والا صفات کا نام مبارک اللہ تعالیٰ محمد ﷺ (تعریف کیا گیا)نازل کرے وہ ذات یقیناً ایسی ہو گی جس میں کوئی عیب ،کوئی نقص نہ ہو۔کیونکہ وہ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور جس میں معمولی سا بھی عیب ہو وہ محمد نہیں ہو سکتا ۔
اب آگے چلیے کہ کسی چیز کا علم نہ ہوناجہالت کہلاتا ہے۔اور جہالت عیب ہے۔ اور جس کو کسی چیز کا اختیار نہ ہو یہ مجبوری ہے اورمجبوری عیب ہے۔ اور جس میں عیب ہو وہ محمد (تعریف کیا گیا )نہیں ہو سکتا ۔اللہ تعا لیٰ جو بالذات ہر عیب و نقص سے پاک ہے اُس نے اپنے حبیب حضور نبی کریم ﷺ کو محمد بنا کر بھیجا ہے تو اُن میں عیب و نقص کیو نکر ہو سکتا ہے۔ اور آپ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے اگر یوں کہیں کہ رسول ﷺ کو فلاں چیز کا علم نہیں تھا ۔ وہ کسی چیز کے مختارنہیں اور رسول ﷺ کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا تو گویا ایسا کہنے والے آپ ﷺ کو محمد نہیں مان رہے ۔اور اُن کا ایمان کیسے مکمل ہوسکتا ہے۔
ہاں ہاں بشر میں عیب ہو سکتے ہیں۔ محمد ﷺ میں نہیں ہوسکتے لیکن رحمت عالم نبی کریم ﷺ بشر بعد میں بنے۔ محمدﷺ پہلے تھے۔ بشریت کا سلسہ تو اُس وقت سے چلا جب اِس دنیا ء آب وگل میںآپ ﷺکا ظہورفرمایا۔
اور اللہ تعالیٰ نے نور مصطفیٰ ﷺ کو نام محمد پہلے ہی عطا فرمادیا تھا۔
صحابہ کرام ؓ بھی نبی کریم روف الرحیم ﷺ کو بے عیب مانتے تھے چنانچہ سید نا حضرت حسان بن ثابت ؓ عرض کرتے ہیں ۔
خَلَقْتَ مبراً مِنْ کُلِّ عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
یعنی یا رسول اللہ ﷺ آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں ۔ گویا جیسے کہ آپ چاہتے تھے خالق کائنات نے آپ کو ویسا ہی پیدا کیا ہے۔
یہاں ایک مثال سے سمجھنے کی کو شش کریں۔ ایک کاریگر نے بہت سی اچھی اچھی چیزیں بنائیں بعد میں اُس نے اپنے فن کے اظہار کیلئے اپنی کاریگری کا ایک شاہکار نمونہ بنا کر چوراہے پر رکھ دیا تاکہ لوگ آئیں اور اِس شاہکار کو دیکھیں۔ چنانچہ اِس کاریگری کے مداح(Fans) یعنی اُسکی اپنی پارٹی کے لوگ آتے گئے اور دیکھ دیکھ حیران و قربان ہوتے گئے واہ واہ کیا عجیب چیز بنائی ہے اِس میں یہ بھی خوبی ہے یہ بھی کمال ہے الغرض کمال ہی کمال ہے ،حسن ہی حسن ہے کسی طرف سے کوئی نقص نہیں اور کاریگر کو مبارک بادیاں دیتے رہے ۔ پھر کچھ وہ لوگ بھی آئے جو مخالف پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے دیکھا تو بولے بھئی!چیز تو اچھی بنائی ہے مگر یہاں سے ٹھیک نہیں بنی دیکھو ،یہاں یوں نہیں ،یہاں یوں نہیں وغیرہ۔ حقیقت میں وہ اُس چیز میں عیب نہیں لگارہے بلکہ کاریگرکی کاریگری میں عیب لگارہے ہیں ۔اور جو کاریگر کی پارٹی والے ہیں ۔وہ دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ اُس چیز کی تعریف کر رہے ہیں ۔ تو حقیقت میں اُس چیز کی تعریف نہیں کر رہے بلکہ وہ کاریگر کی تعر یفیں کر رہے ہیں کیونکہ اس چیز میں اسکا اپنا تو کوئی کمال نہیں تھابلکہ اس میں کمال آیا تو کاریگر کی کاریگری کی وجہ سے آیا ۔ بلکہ وہ کمال سارے کا سارا ہے ہی اس کاریگر کا۔
یوں ہی اللہ تعالیٰ نے رنگا رنگ کی مخلوق بنائی ،ولی بنائے،ابدال بنائے،اوتاد بنائے، قطب بنائے،امام بنائے ، غوث بنائے،صحابی بنائے، نبی بنائے ،رسول بنائے ،الوالعزم پیغبر بنائے (جن سے نادانستہ خطائیں بھی ہوئیں) اوربعد میں ایک شا ہکارِ قدرت بناکر بھیجا جس میں ہر حیثیت سے خو بیاں ہی خوبیاں ہیں ۔ اُس میں کسی قسم کا کوئی سقم یا عیب نہیں رہنے دیا ۔ کیونکہ یہ شاہکارِ قدرت ہے۔ قدرت کا نمونہ ہے اب اِس بنانے والے کی پارٹی کے لوگ ’’اولئک حزب‘‘ اللہ آئے۔ صدیق اکبر ؓ آئے ،فاروق اعظم ؓ آ ئے، ذوالنوینِؓ آئے، حیدر کرارؓ آئے ۔انہوںنے دیکھا تو سبحان اللہ سبحان اللہ انکی زبانوں پر جاری ہو گیا۔ واہ و اہ اس شاہکارِ قدرت میں کیسے کیسے کمالات اور کیسی کیسی خو بیاں ہیں ۔ یونہی غوث اعظم آئے،امام اعظم آئے، داتا گنج بخش علی ہجوری آئے،خواجہ غر یب نواز آ ئے،خواجہ فرید الد ین گنج شکر آ ئے ، بہائو الحق ملتانی آ ئے ، سیدی شاہ نقشبند آ ئے،امام مجددالف ثانی آ ئے،خواجہ نور محمد باواجی سرکارآئے،شیر ربانی آئے،سرکار گولڑوی آئے، سعید بادشاہ آئے، صوفی مسعود الحسن شاہ آ ئے اور اِس شاہکارِ قدرت کو دیکھ دیکھ کر قربان ہی ہوئے چلے گئے انہیں کوئی عیب و نقص نظر نہیں آیا۔یقینایہی لوگ تاقیامت امت مسلمہ کے آسمان پر درخشاں ستاروں کی طرح دمکتے رہیں گے۔پھر اُن لوگوں نے بھی دیکھا جو کسی دوسری پارٹی کے تھے دیکھ کر بولے۔ہیں تو اللہ کے نبی مگر ان کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔ ہیں تو اللہ کے رسول مگر یہ کسی چیز کے مختار نہیں۔ان کے چاہنے سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔یہ تو آخر ہم جیسے بشر ہی تو ہیں ۔دیکھو یہ کھاتے پیتے بھی ہیں بلکہ ان میں تو سارے عوارضات بشر یہ بھی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تو دراصل یہ لوگ اِس شاہکار ِقدرت میں عیب نہیں لگارہے بلکہ یہ بنانے والے کی قدرت کے ہی منکر ہیں۔
فانھم لا یکذ بو نک و لکنِ الظلمین بایات اﷲیجحدون
(قرآن مجید)
مجبوب یہ تجھے نہیں جھٹلا رہے بلکہ یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے ہی منکرہیں۔
ذرا سوچئے تو سہی جس کو اللہ رب العزت ہر نقص اور ہر عیب سے ،ہر خامی سے پا ک بنائے ،جس کے سر پر اللہ تعالیٰ شفاعت کا تاج سجائے ،جس کو رحمتہ للعا لمین کی خلعت سے نوازے، جس کو مقام محمود کی نوید سنائے، جس کو نبیوں ،رسولوں سے اور ملائکہ کرام سے اونچے سے اونچا کرکے سب کا سردار بنائے۔ جن کی شفا عت سے روز ِ قیامت ہزاروں نہیں لاکھوں ،لاکھوں نہیں کروڑوں ،اربوں،کھربوں کو مصیبتوں سے چھٹکار املے ۔ ایسے شاہکارِ قدرت میں عیب جوئی کر نا کہاں کی عقل مندی ہے۔یہ تو سراسر حماقت اوربے و قوفی ہے۔
اب آئیے عوارضات بشریہ کی طرف ! ہم عام انسان کھانے پینے کے محتاج ہیں ۔ اور یہ واقعی محتاجی ہے۔ مگر حبیب خدا ﷺ کھا نے پینے کے محتاج نہیں تھے احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ نے کئی دن تک نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ بلکہ وصال کے روز ے رکھتے تھے ۔(روزہ رکھا مگر افطاری کے وقت روزہ افطار نہ کیا۔رات بھر نہ کچھ کھایا نہ پیا۔دوسرے دن پھر روزہ ۔یوں ہی کئی دن تک روزہ رکھا۔)اور آپ ﷺ کو کچھ بھی نہ ہوا ۔ نہ کمزوری نہ نقاہت وغیرہ۔ کیونکہ وہ کھانے پینے کے محتاج نہیں تھے۔ اور جب صحابہ کرام ؓ نے دیکھا تو انہوں نے وصال کے روزے رکھنا شروع کر دئیے ۔ چند دنوں کے بعد صحابہ کرام ؓ کمزور ہوگئے۔ سرکار مدینہ ﷺ نے پوچھا اے میرے صحابہ تم کیوں کمزور ہوگئے۔ یہ سن کر عرض کی حضور ﷺ چونکہ آپ نے وصال کے روزے رکھے ہیں ۔ہم نے بھی وصال کے روزے رکھنے شروع کر دئیے ہیں یہ سن کر رحمت للعالمین ﷺ نے فرمایا ایکم مثلی یعنی تم میں سے میری مثل کون ہو سکتا ہے؟
ایک روایت میں فرمایا ــ ــــــــــــــلست کاحد کم میں تم میں سے کسی جیسا نہیں ہوں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے نبی ﷺ کھانے پینے کے محتاج نہیں تھے تو کھا یا پیا کیوں؟ ہاں امت کے والی ﷺ نے کھایا پیا ۔ مگر محتاجی کی وجہ سے نہیں بلکہ امت کو کھانے پینے کا طریقہ بتانے کیلئے۔اگر نہ کھاتے پیتے تو ہمیں کیسے پتہ چلتا کہ کھانے پینے میں یہ باتیں سنت ہیں۔ یہ واجب ہیں۔ یہ مکروہ ہیں اور یہ حرام ہیں۔کھانے پینے کے ان آداب اور اصول و ضوابط سے یہ امت محروم رہ جاتی جن کی بدولت مدینے میں آکر بسنے والا حکیم فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگیا کہ اِس شہر میں کوئی بیمار ہی نہیں ہوتا۔ وہی لا زوال اصول و ضوابط جو آج کی میڈیکل سائنس کی بنیاد ہیں۔اور اسلام جو انسان کی ہر پہلو سے راہنمائی کادعوایدار ہے۔انسانی زندگی کایہ پہلو بالکل تشنہ اور نامکمل رہ جاتا
وماینطق عن الھٰو ی ان ھو الاّ وحیّ یوحیٰ
میرے عزیز غور کریں بس یا ریل گاڑی پر یا جہاز پر سواریاں سوار ہوتی ہیں اور ڈرائیور پا ئلٹ وغیرہ بھی سوار ہوتے ہیں ۔ لیکن دونوں کے سوار ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سواریاں منزلِ مقصود تک پہنچنے کیلئے سوار ہوتی ہیں ۔لیکن ڈرائیو یا پائلٹ مقامِ مقصود پر پہنچانے کیلئے سوار ہیں ۔ اگر پہنچانے والے میں عیب یا نقص ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کامیابی کی کون ضحانت دے سکتا ہے۔
سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کریں جب آپ ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو سرکار دو عالم ﷺ ناف بریدہ پیدا ہوئے تھے اور جب ولادت کے بعد عورتوں نے سرکار دوعالم ﷺ کو غسل دینے کاارادہ کیا تو آواز آئی غسل دینے کی ضرورت نہیں اِسکی وجہ بھی یہی تھی آپ ﷺ اپنی ماں کے شکم پاک میں بھی کھانے پینے کے محتاج نہیں تھے لہذٰا اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ناف بریدہ پیدا فرماکر ثابت کر دیا کہ یہ واقعیٰ محمد ﷺ ہیں ۔اور غسل دینے سے اِس لیے منع کیا گیا کہ غسل اس بچے کو دیا جاتا ہے جس کے گسم پر غلاظت ہو ۔اور غلاظت عیب ہے۔سرکار دو عالم کا خون مبارک ،آپ ﷺ کے فضلات مبارکہ پاک ہیں۔اور ہمہ وقت آپ ﷺ کے جسم اطہرے خوشبو مہکتی رہتی تھی۔نیز سرکار مدینہ حبیب خداﷺ کے جسم انور پر نجس مکھی نہیں بیٹھتی تھی ۔اور جوئیں نہیں پڑتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اَس مبارک نام اور اَس نام والے نبیوں کے نبی، رسولوں کے امام ﷺ کا ادب واحترام اور تعظیم کرنے کی تو فیق عطا کرے اور اگر مگر کے چکرسے بچائے آ مین
مندرجہ ذیل احادیث سے اندازہ کریں کہ یہ نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے دربار میں کتنا معزز،کتنا محترم،کتنا معظم اور کتنا مکرم ہے۔
سیدنا ابو امامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام کی برکت حاصل کرنے کے لئے بچے کا نام محمد رکھا تو وہ دونوں باپ اور بیٹا جنت میں جائیں گے‘‘
مولیٰ علی شیر خدا ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
’’جب تم بچے کانام محمد رکھو توپھر اس کی عزت کرو اور اس کیلئے جگہ فراخ کردو۔ اسکی قباحت و برائی مت کرو‘‘
علامہ حلبی فر ماتے ہیں ۔
’’کچھ فرشتے اللہ تعالیٰ کے ایسے ہیں۔جو زمین پر چکر لگاتے رہتے ہیں۔ان کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جس گھر میں کوئی محمد نام والا ہواُ سکا پہرہ دیں۔‘‘
حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں ۔اگر عمل میں کمی رہ جائے تو بخشش کی امید ہے مگر عقیدے میں نقص واقع ہو جائے تو بخشش کی امید نہیں ہو سکتی۔ (مکتوب نمبر 17 سوم دفتر)
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
اس پوسٹ میں چند فوت شدہ صوفیاء کے ۔۔مبالغہ آمیز اور غلو زدہ۔ نام گنوائے گئے ہیں۔
غوث اعظم آئے،امام اعظم آئے، داتا گنج بخش علی ہجوری آئے،خواجہ غر یب نواز آ ئے،خواجہ فرید الد ین گنج شکر آ ئے ، بہائو الحق ملتانی آ ئے ، سیدی شاہ نقشبند آ ئے،امام مجددالف ثانی آ ئے،خواجہ نور محمد باواجی سرکارآئے،شیر ربانی آئے،سرکار گولڑوی آئے، سعید بادشاہ آئے،
اور اتنے بڑے بڑے نام رکھنے سے ،ان فوت شدہ لوگوں کی ایسی عظمت منوانا مقصود ہے ،جس سے ان کا خدائی رتبہ اور درجہ جھلکے ۔
اہل شرک کا یہ قدیم مرض ،جس میں مخلوق ،اور اللہ کے بندوں کے مبالغہ آرائی پر مبنی نام رکھ کر انہیں اللہ کی صفات کا حامل مانا اور منوایا جاتا
ہے۔
گنج بخش ،،داتا فلاں ،، غریب نواز۔جیسے خودساختہ القاب دے کر انہیں ’’مختار کل ‘‘ منوانے کی مشرکانہ کوشش کی جاتی ہے۔
یاد رکھو اصل گنج بخش اللہ عزوجل نے صاف صاف اعلان کر رکھا ہے ::
(( إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ ))
یہ صرف (خود ساختہ ) نام ہی ہیں ،جو تم نے اور تمہارے جاہل آباء نے ان لوگوں کے رکھ لئے ہیں ۔اللہ تعالی نے ان (مبالغہ آمیز ) ناموں کی کوئی دلیل نازل تو نہیں کی ۔یہ لوگ صرف اپنے گمان کی پیروی اور اپنی (جاہلانہ ) خواہشات کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔سورۃ النجم

سو واضح رہے ،یہ صوفیوں کو منوانے کی ایک جاہلانہ ،خواہش ہی ہے ، جس کے سبب درج بالا مضمون تین چار جگہ پوسٹ کیا گیا ہے
اور لگتا یوں ہے کہ کسی پیشہ ور پیر کی کسی کھابے والی محفل کی تقریر کو یونیکوڈ میں کنورٹ کیا گیا ہے
ایسی تقریروں سے جاہل معتقدین کی داد تو وصول ہو سکتی ۔اہل تحقیق کی محفل میں ایسی باتیں کوئی حثیت نہیں رکھتیں ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
اوپر ظہیر احمد کی پوسٹ میں کئی جھوٹی روایات کو حدیث رسول ﷺ بنا کر پیش کیا گیا ہے ؛
جن میں درج ذیل جھوٹی روایت بھی لکھی گئی ہے :
سیدنا ابو امامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام کی برکت حاصل کرنے کے لئے بچے کا نام محمد رکھا تو وہ دونوں باپ اور بیٹا جنت میں جائیں گے‘‘[/QUOTE

حالانکہ یہ بالکل جھوٹی ،گھڑنت بات ہے ،امام ذہبی رحمہ اللہ ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے ،

سماه محمدا 2.jpg
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
اوپر ظہیر احمد کی پوسٹ میں کئی جھوٹی روایات کو حدیث رسول ﷺ بنا کر پیش کیا گیا ہے ؛
جن میں درج ذیل جھوٹی روایت بھی لکھی گئی ہے :
سیدنا ابو امامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام کی برکت حاصل کرنے کے لئے بچے کا نام محمد رکھا تو وہ دونوں باپ اور بیٹا جنت میں جائیں گے‘‘
حالانکہ یہ روایت بالکل جھوٹی ،ہے ۔علامہ ذہبی ؒ نے ’’ میزان الاعتدال ’‘ میں موضوع قرار دیا ہے ۔

سماه محمدا 2.jpg
 
Top