• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بنتِ آدم کس طرح لٹتی ہیں۔ یہ ویڈیو سب ضرور دیکھیں

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,083
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں اس ویڈیو پر کیا تبصرہ کروں، لہذا آپ سب مرد و خواتین سے گزارش ہے کہ یہ ویڈیوز ضررو دیکھیں۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
745
پوائنٹ
290
جزاک اللہ ارسلان بھائی۔
یہ واقعی ہمارے ہاں کا بڑا المیہ ہے۔ اگرچہ یہ تصویر کا صرف ایک ہی رخ ہے لیکن دوسرے رخ سے قطع نظر کہ وہ بھی بھیانک ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے۔
اس کا واقعی ایک ہی حل ہے اور وہ ہے اسلام۔
لیکن ایک بات مزید جاننی چاہیے کہ جس چیز سے آپ جتنا روکیں گے انسانی فطرت اتنا ہی اس کی طرف راغب ہوگی۔ دوسرا انسان اسی چیز کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی اس کے پاس کمی ہو۔
ان دو باتوں کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ:۔
اپنے بچوں کو اپنی بساط کے مطابق تمام سہولیات دو۔ ان کو اعتماد کا احساس دو۔ وہ یہ سمجھیں کہ ان کے والدین ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ ان کی اچھی تربیت کرو اور اس سب کے بعد ان کی خاموش نگرانی کرو۔ روکو صرف اس وقت جب وہ کسی اہم فیصلے کی طرف بڑھیں۔ صرف لڑکے یا لڑکی سے بات کرنے پر مت ٹوکو۔ بلکہ پردہ کی اہمیت اور اخوت اسلامی کا درس دیتے جاؤ۔
اور دوسری اہم چیز انہیں محبت دو۔ محبت واحد چیز ہے جو ہر چیز کا بدل ہو سکتی ہے۔ اور کسی آخری فیصلے پر بھی یہی ابھارتی ہے مال و دولت نہیں۔ آپ انہیں دنیا کی ہر چیز مہیا نہیں کر سکتے نہ کریں۔ لیکن انہیں وہ محبت دیں کہ وہ یہ سمجھیں کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے ورنہ ان کے لیے کر گزرتے۔ یہ معاملہ کسی انتہائی فیصلے کے وقت ان کے قدموں کو جکڑ دے گا۔
یہ میری رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,083
پوائنٹ
1,155
جزاک اللہ ارسلان بھائی۔
یہ واقعی ہمارے ہاں کا بڑا المیہ ہے۔ اگرچہ یہ تصویر کا صرف ایک ہی رخ ہے لیکن دوسرے رخ سے قطع نظر کہ وہ بھی بھیانک ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے۔
اس کا واقعی ایک ہی حل ہے اور وہ ہے اسلام۔
لیکن ایک بات مزید جاننی چاہیے کہ جس چیز سے آپ جتنا روکیں گے انسانی فطرت اتنا ہی اس کی طرف راغب ہوگی۔ دوسرا انسان اسی چیز کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی اس کے پاس کمی ہو۔
ان دو باتوں کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ:۔
اپنے بچوں کو اپنی بساط کے مطابق تمام سہولیات دو۔ ان کو اعتماد کا احساس دو۔ وہ یہ سمجھیں کہ ان کے والدین ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ ان کی اچھی تربیت کرو اور اس سب کے بعد ان کی خاموش نگرانی کرو۔ روکو صرف اس وقت جب وہ کسی اہم فیصلے کی طرف بڑھیں۔ صرف لڑکے یا لڑکی سے بات کرنے پر مت ٹوکو۔ بلکہ پردہ کی اہمیت اور اخوت اسلامی کا درس دیتے جاؤ۔
اور دوسری اہم چیز انہیں محبت دو۔ محبت واحد چیز ہے جو ہر چیز کا بدل ہو سکتی ہے۔ اور کسی آخری فیصلے پر بھی یہی ابھارتی ہے مال و دولت نہیں۔ آپ انہیں دنیا کی ہر چیز مہیا نہیں کر سکتے نہ کریں۔ لیکن انہیں وہ محبت دیں کہ وہ یہ سمجھیں کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے ورنہ ان کے لیے کر گزرتے۔ یہ معاملہ کسی انتہائی فیصلے کے وقت ان کے قدموں کو جکڑ دے گا۔
یہ میری رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔

جزاک اللہ خیرا اشماریہ بھائی
ہائیٹ لائٹ کردہ بات سے متفق نہیں ہوں، دیگر باتیں آپ کی درست ہیں۔
 

محمد شاہد

سینئر رکن
شمولیت
اگست 18، 2011
پیغامات
2,510
ری ایکشن اسکور
6,022
پوائنٹ
447

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
یہ میری رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔
محترم بھائی آپ کی ٹھیک باتوں کے علاوہ کچھ سے اختلاف ہے اسی لئے آپ کی نیت پر شک کیے بغیر آپ سے اپنا اختلاف بیان کرنا چاہتا ہوں

لیکن ایک بات مزید جاننی چاہیے کہ جس چیز سے آپ جتنا روکیں گے انسانی فطرت اتنا ہی اس کی طرف راغب ہوگی۔
محترم بھائی آپ کی اوپر مطلق بات "جس چیز سے آپ جتنا روکیں گے انساننی فطرت اتنا ہی اس کی طرف راغب ہو گی" شرعی منکرات (بشمول منکر کی طرف وسیلہ) پر کسی صورت اطلاق نہیں ہو سکتا بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح احادیث اس پر موجود ہیں اور اوپر بات غالبا اسی پس منظر میں ہو رہی ہے

دوسرا انسان اسی چیز کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی اس کے پاس کمی ہو۔
یہ بھی اس بات کی مطلقا دلیل نہیں بن سکتی راغب ہونے سے روکنے کے لئیے اس چیز کی فراوانی کر دی جائے بلکہ احادیث میں منکرات کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور چراگاہ والی مشہور مثال تو ہر کسی کو پتا ہو گی اسی طرح جب بٹھی والی حدیث کی علت کو دیکھیں تو اوپر بات پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جیسے بٹھی والے میں زیادہ نقصان کے چانس کے ساتھ تھوڑی بہت لازمی خرابی کا ذکر ہے


ان دو باتوں کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ:۔
اپنے بچوں کو اپنی بساط کے مطابق تمام سہولیات دو۔
ان کو اعتماد کا احساس دو۔ وہ یہ سمجھیں کہ ان کے والدین ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ ان کی اچھی تربیت کرو اور اس سب کے بعد ان کی خاموش نگرانی کرو۔
میں نے جتنا عرصہ تبلیغی جماعت کے ساتھ لگایا ہے اس میں سب سے زیادہ زور ماحول پر دیا جاتا ہے شاید آپ کو اسکا تجربہ نہیں
محترم بھائی سہولیات کے وسیع معنی ہو سکتے ہیں کیا بچہ ماں سے چھری مانگے تو ماں کو اسکو یہ سہولت فورا پہنچا دینی چاہئے
خالی نگرانی پر چرواہا بھی اعتماد نہیں کر سکتا بلکہ دوسروں کی چراگاہ سے دور رکھ کر نگرانی کرتا ہے


روکو صرف اس وقت جب وہ کسی اہم فیصلے کی طرف بڑھیں۔
محترم بھائی انتہائی معذرت کے ساتھ یہاں لاشعوری طور پر شاید آپ اپنی ساری باتوں کی ہی نفی کر گئے کیونکہ اب جب آپ اسکو روکیں گے تو وہ اس منکر کو قریب سے دیکھ چکا ہو گا اور اس کی لذت اس میں رچ گئی ہو گی جس سے بے رغبتی پیدا کرنا زیادہ مشکل ہو گا
پس کیوں نہ پہلے ہی روک لیا جائے
اسکو سمجھانے کے لئے میں اپنی سچی مثال بیان کرتا ہوں کہ میں اپنے بچے کے ساتھ کہیں جا رہا ہوتا ہوں اور کوئی چیز والا بچوں کو متوجہ کرنے کے لئے قریب آتا ہے اور اس چیز کو میں بچے کو نہیں دینا چاہتا تو میں کوشش کرتا ہوں کہ بچہ کو دوسری باتوں میں لگا کر ادھر متوجہ نہ ہونے دوں کیونکہ جانتا ہوں کہ جب وہ متوجہ ہو گیا تو اس غلط چیز سے روکنا میرے لئے ناممکن نہیں تو زیادہ مشکل ہو گا
البتہ جہاں تک خواتین سے بات کرنے کا تعلق ہے تو اس میں بچوں کو ہی نہیں بلکہ بڑوں کو بھی محطاط اور ٹو دی پوائنٹ بات کرنی چاہئے ورنہ شیطان جب شرک کی طرف سیاہ رات کو سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی سے بھی کم نظر آنے والے فریبوں سے مائل کر سکتا ہے تو وہ ہمیں انی لکما لمن الناصحین کا دھوکہ دے کر کچھ بھی کر سکتا ہے
والدین انٹر نیٹ پر اولاد کی چیٹنگ پر کنٹرول کو چھوڑ کر کالج اور گھروں میں تو ڈائریکٹ یا موبائل پر خواتین سے بات کرنے پر کنٹرول کر سکتے ہیں
میری بھی اپنی ایک سوچ ہے جس سے کوئی بھائی غیر متفق بھی ہو سکتا ہے
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,241
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اس ویڈیو پر تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے یہ اپنی بہتر وضاحت خود کر رہا ہے اور اسکا حل بھی پیش کررہا ہے۔

اشماریہ صاحب کی یہاں دی گئی رائے یا تجاویز اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس کے برعکس عبدہ کی باتیں صحیح ہیں
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,241
پوائنٹ
412
نہایت افسوس کی بات ہے کہ دور جدید کے مذہبی نوجوانان بھی ان سرگرمیوں میں پوری طرح ملوث ہیں کوئی کم اور کوئی زیادہ بس فرق یہ ہے کہ جب لڑکی یہ کہتی ہے کہ میری کہیں اور شادی ہورہی ہے مجھے بھول جاؤ۔ تو وہ شریف النفس نوجوان اسے بلیک میل نہیں کرتے اور شرافت سے اس کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,083
پوائنٹ
1,155
نہایت افسوس کی بات ہے کہ دور جدید کے مذہبی نوجوانان بھی ان سرگرمیوں میں پوری طرح ملوث ہیں کوئی کم اور کوئی زیادہ بس فرق یہ ہے کہ جب لڑکی یہ کہتی ہے کہ میری کہیں اور شادی ہورہی ہے مجھے بھول جاؤ۔ تو وہ شریف النفس نوجوان اسے بلیک میل نہیں کرتے اور شرافت سے اس کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں۔
جزاک اللہ خیرا شاہد نذیر بھائی
مختصر مگر بہت اچھا تبصرہ کیا آپ نے، میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ایسا صرف وہ مرد کرتے ہیں جن کو اللہ کا خوف ہوتا ہے، وہی جب اپنی پسندیدہ لڑکی کو نہیں پاتے تو تقدیر پر ایمان کے سبب وہ اس کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں، ورنہ ایسے مردوں کی کمی نہیں جو عورتوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

صاف سیدھی سی بات ہے اگر وہ آپ کو نہیں ملی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کو بلیک میل کر کے اس کی نئی شروع ہونے والی زندگی کو برباد کرو، وہ بھی تو آخر کسی کی بیٹی ہے، یہ بہت ہی بری عادت ہے مردوں کے اندر، اللہ تعالیٰ ایسے مردوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین

اور دوسری طرف

اگر کوئی مرد ایسا نہیں ہے اور وہ کسی کی زندگی سے نہیں کھیلنا چاہتا تو عورت کو بھی چاہیے کہ وہ ریلیشن ختم ہونے پر یا کسی اور جگہ شادی ہونے پر کم از کم اس کو اپنا دشمن نہ سمجھے، جو اس قدر مخلص اور سچا پیار کرنے والا رہا ہو، اس سے اپنے ذاتی مفاد پورا نہ ہونے کی بنا پر ریلیشن ختم کر کے اسی کو ہی اپنا دشمن سمجھ لینا بھی خطرناک ہے، دوسروں کے سامنے اس کی بے عزتی اور توہین کرنے سے گریز کرنا چاہیے، ایسی عورتوں کے رویے اور کردار پھر ایک شریف مرد کو بدمعاش اور معاشرے کے لئے خطرناک ہونے کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن جسے اللہ بچائے وہ بچ جاتا ہے۔ اللہ تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے آمین
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
745
پوائنٹ
290
جزاک اللہ خیرا اشماریہ بھائی
ہائیٹ لائٹ کردہ بات سے متفق نہیں ہوں، دیگر باتیں آپ کی درست ہیں۔
جزاک اللہ خیرا۔ ٹوکنے سے مراد ہے سخت ری ایکشن۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بچہ پھر غلط کام بھی کرتا ہے اور چھپ کر بھی کرتا ہے۔
اس کے برعکس اس کو دین کی سمجھ دیتے جائیں تو وہ خود ہی اس برائی سے ہٹ جاتا ہے۔
واللہ اعلم
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
745
پوائنٹ
290
محترم بھائی آپ کی ٹھیک باتوں کے علاوہ کچھ سے اختلاف ہے اسی لئے آپ کی نیت پر شک کیے بغیر آپ سے اپنا اختلاف بیان کرنا چاہتا ہوں


محترم بھائی آپ کی اوپر مطلق بات "جس چیز سے آپ جتنا روکیں گے انساننی فطرت اتنا ہی اس کی طرف راغب ہو گی" شرعی منکرات (بشمول منکر کی طرف وسیلہ) پر کسی صورت اطلاق نہیں ہو سکتا بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح احادیث اس پر موجود ہیں اور اوپر بات غالبا اسی پس منظر میں ہو رہی ہے


یہ بھی اس بات کی مطلقا دلیل نہیں بن سکتی راغب ہونے سے روکنے کے لئیے اس چیز کی فراوانی کر دی جائے بلکہ احادیث میں منکرات کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور چراگاہ والی مشہور مثال تو ہر کسی کو پتا ہو گی اسی طرح جب بٹھی والی حدیث کی علت کو دیکھیں تو اوپر بات پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جیسے بٹھی والے میں زیادہ نقصان کے چانس کے ساتھ تھوڑی بہت لازمی خرابی کا ذکر ہے



میں نے جتنا عرصہ تبلیغی جماعت کے ساتھ لگایا ہے اس میں سب سے زیادہ زور ماحول پر دیا جاتا ہے شاید آپ کو اسکا تجربہ نہیں
محترم بھائی سہولیات کے وسیع معنی ہو سکتے ہیں کیا بچہ ماں سے چھری مانگے تو ماں کو اسکو یہ سہولت فورا پہنچا دینی چاہئے
خالی نگرانی پر چرواہا بھی اعتماد نہیں کر سکتا بلکہ دوسروں کی چراگاہ سے دور رکھ کر نگرانی کرتا ہے



محترم بھائی انتہائی معذرت کے ساتھ یہاں لاشعوری طور پر شاید آپ اپنی ساری باتوں کی ہی نفی کر گئے کیونکہ اب جب آپ اسکو روکیں گے تو وہ اس منکر کو قریب سے دیکھ چکا ہو گا اور اس کی لذت اس میں رچ گئی ہو گی جس سے بے رغبتی پیدا کرنا زیادہ مشکل ہو گا
پس کیوں نہ پہلے ہی روک لیا جائے
اسکو سمجھانے کے لئے میں اپنی سچی مثال بیان کرتا ہوں کہ میں اپنے بچے کے ساتھ کہیں جا رہا ہوتا ہوں اور کوئی چیز والا بچوں کو متوجہ کرنے کے لئے قریب آتا ہے اور اس چیز کو میں بچے کو نہیں دینا چاہتا تو میں کوشش کرتا ہوں کہ بچہ کو دوسری باتوں میں لگا کر ادھر متوجہ نہ ہونے دوں کیونکہ جانتا ہوں کہ جب وہ متوجہ ہو گیا تو اس غلط چیز سے روکنا میرے لئے ناممکن نہیں تو زیادہ مشکل ہو گا
البتہ جہاں تک خواتین سے بات کرنے کا تعلق ہے تو اس میں بچوں کو ہی نہیں بلکہ بڑوں کو بھی محطاط اور ٹو دی پوائنٹ بات کرنی چاہئے ورنہ شیطان جب شرک کی طرف سیاہ رات کو سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی سے بھی کم نظر آنے والے فریبوں سے مائل کر سکتا ہے تو وہ ہمیں انی لکما لمن الناصحین کا دھوکہ دے کر کچھ بھی کر سکتا ہے
والدین انٹر نیٹ پر اولاد کی چیٹنگ پر کنٹرول کو چھوڑ کر کالج اور گھروں میں تو ڈائریکٹ یا موبائل پر خواتین سے بات کرنے پر کنٹرول کر سکتے ہیں
میری بھی اپنی ایک سوچ ہے جس سے کوئی بھائی غیر متفق بھی ہو سکتا ہے
شاید میں اپنی بات صحیح طریقے سے سمجھا نہیں سکا۔
خیر جانے دیں۔ یہ کون سا کوئی لازمی چیز ہے۔
 
Top