- شمولیت
- مارچ 08، 2011
- پیغامات
- 2,521
- ری ایکشن اسکور
- 11,557
- پوائنٹ
- 641
مفتی محمد عبدہ
ان کا مکمل نام محمد بن عبدہ بن حسن بن خیر اللہ ہے۔ ١٢٦٥ھ بمطابق ١٨٤٩ء میں پیدا ہوئے۔ محلے کی ایک مسجد میں ہی صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم حاصل کی' لیکن ان کے بقول تقریباً دو سال کے عرصے میں انہیں نحو کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ آیا ۔ اس کا الزام وہ مدارس کے قدیم نصاب اور طریقہ ٔتعلیم کو دیتے تھے۔ ١٢٨٢ھ میں تقریباً ١٧ سال کی عمر میں شادی ہوئی۔ شادی کے بعد ان کے والد نے انہیں پھر ایک قدیم مدرسے میں زبردستی تعلیم کے لیے بھیج دیا جس سے وہ راستے میں ہی بھاگ گئے۔ ان کے بقول مدارس کے قدیم نصابِ تعلیم اور طریقہ تدریس نے ان میں مذہبی تعلیم سے بیزاری اور بغاوت پیدا کر دی تھی اور اس قدیم نصاب اور طریقہ ٔتعلیم سے ٩٥ فی صد سے زائد طلبہ کچھ حاصل نہ کر پاتے تھے۔ وہ اس نصابِ تعلیم اور طریقہ تدریس میں انقلابی تبدیلیوں کے قائل تھے۔ اسی دوران وہ اپنے ایک چچا شیخ درویش کے ہاتھ لگ گئے جو تصوف کی راہ کے مسافر تھے 'جنہوں نے ان کی روحانی تربیت کی اور انہیں دوبارہ مذہبی تعلیم کی طرف متوجہ کیااور ان میں اس کا ذوق و شوق بیدار کیا۔انہوں نے اپنے شیخ اور چچا کی رہنمائی میں سلوک کی کئی منازل طے کیں اور اپنے کئی ایک روحانی تجربات بھی بیان کیے ہیں۔
١٢٨٧ھ میں سید جمال الدین افغانی کی قاہرہ آمد پر ان سے ریاضی' فلسفہ اور علم کلام کی تعلیم حاصل کی اور ان کے طرز تدریس اور افکار سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہی کے ہو کررہ گئے۔ ١٨٦٦ء میں جامعہ ازہر سے تعلیم کے لیے منسلک ہوئے اور ١٢٩٤ھ بمطابق ١٨٧٧ء میں جامعہ ازہر سے شہادة العالمیہ کا امتحان پاس کیا۔ جامعہ ازہر میں تعلیم کے حصول کے دوران بھی ان پر تصوف' عبادت اور مجاہدۂ نفس کا غلبہ رہا۔ وہ ساری ساری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ ان کے بقول انہیں جذب و کشف کی اس دنیا سے ان کے استاذ سید جمال الدین افغانی باہر نکال کر لائے۔ ١٨٧٩ء میں مدرسہ 'دار العلوم' میں مدرّس کے طور پر تدریس کا آغاز کیا۔ ١٨٨٢ء میں انگریزوں کی حکومت کے خلاف احمد عرابی پاشا کے انقلاب میں اپنے استاذ جمال الدین افغانی کے ساتھ شریک رہے۔ اس تحریک کی ناکامی پر جیل بھیجے گئے اور بعد ازاں ان کو زبردستی بیروت بھیج دیا گیا۔ ١٨٨٤ء میں اپنے استاذ کی دعوت پر پیرس تشریف لے گئے اور 'العُروة الوثقٰی' نام سے ایک عربی رسالہ جاری کیا۔١٨٨٥ء میں پھر بیروت آ گئے اور ''العُروة الوثقٰی' کے نام سے ہی ایک خفیہ تحریک کی بنیاد رکھی۔
١٨٨٩ء میں حکومت کے ساتھ اس معاہدے پر اتفاق کرتے ہوئے کہ آئندہ وہ کسی قسم کا سیاسی کام نہیں کریں گے' مصر واپس آگئے اور انہیں ابتدائی عدلیہ میں جج مقرر کر دیاگیا۔ بعد ازاں انہیں مجلس قانون ساز کا رکن بھی مقرر کیا گیا۔ ١٨٩٩ء میں ان کو مصر کی حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر مفتی عام کا درجہ دے دیا گیا اور وہ مصر کے پہلے مفتی عام تھے۔ ١٩٠٠ء میں مخطوطات کی نشر و اشاعت کے لیے 'جمعیة احیاء العلوم العربیة' کی بنیاد رکھی۔ ١٩٠٥ء بمطابق ١٣٢٣ھ میں اسکندریہ کے علاقہ میں کینسر کے مرض کی وجہ سے وفات پائی۔ ان کے شاگردوں میں رشید رضا' حافظ ابراہیم' شیخ عز الدین قسام' شیخ ازہرمحمد مصطفی مراغی' شیخ ازہر مصطفی عبد الرزاق' شیخ محمد محی الدین عبد الحمید' سعد زغلول' قاسم امین' محمد لطفی جمعہ اور طٰہ حسین وغیرہ شامل ہیں۔
مفتی محمدعبدہ اپنی زندگی میں نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کرنا چاہتے تھے جو عربی زبان اور علوم اسلامیہ کا احیا کریں اور مصری حکومت اور حکمرانوں کی بذریعہ تعلیم اصلاح کریں۔ ان کا اپنے استاذ سید جمال الدین افغانی سے یہ اختلاف تھا کہ وہ انقلاب کے لیے سیاست کی بجائے تعلیم کو بنیاد بناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں شیخ ازہر بنایا گیا تو وہ جامعہ ازہر کے نصاب اور مناہج تعلیم' طریقہ تدریس' اندازِ فکر اور نظم و ضبط میں انقلابی تبدیلیاں لے کر آئے۔ انہوں نے تقلیدی جمود کے برعکس جمیع فقہی مذاہب اسلامیہ سے برابری کی سطح پراستفادہ کی دعوت پر زور دیا۔ ان کے بعد آنے والے شیوخ الازہر کی ایک بڑی تعدادنے اپنے فتاویٰ میں ان کے اس منہج کو برقرار رکھا' بلکہ شیخ مصطفی المراغی کے زمانے میں حنفی' مالکی' شافعی اور حنبلی علماء کی ایک گیارہ رکنی کمیٹی بنا دی گئی تھی جو مختلف مسائل میں اتفاقی فتویٰ جاری کرتی تھی۔ مفتی محمد عبدہ کے بعد بہت سے شیوخ الازہر حنفی ہونے کے باوجود کئی ایک مسائل میں امام ابن تیمیہ کے موقف پر فتویٰ جاری کرتے تھے۔