• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحریک تجدد اور متجددین

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
مفتی محمد عبدہ

ان کا مکمل نام محمد بن عبدہ بن حسن بن خیر اللہ ہے۔ ١٢٦٥ھ بمطابق ١٨٤٩ء میں پیدا ہوئے۔ محلے کی ایک مسجد میں ہی صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم حاصل کی' لیکن ان کے بقول تقریباً دو سال کے عرصے میں انہیں نحو کا ایک لفظ بھی سمجھ نہ آیا ۔ اس کا الزام وہ مدارس کے قدیم نصاب اور طریقہ ٔتعلیم کو دیتے تھے۔ ١٢٨٢ھ میں تقریباً ١٧ سال کی عمر میں شادی ہوئی۔ شادی کے بعد ان کے والد نے انہیں پھر ایک قدیم مدرسے میں زبردستی تعلیم کے لیے بھیج دیا جس سے وہ راستے میں ہی بھاگ گئے۔ ان کے بقول مدارس کے قدیم نصابِ تعلیم اور طریقہ تدریس نے ان میں مذہبی تعلیم سے بیزاری اور بغاوت پیدا کر دی تھی اور اس قدیم نصاب اور طریقہ ٔتعلیم سے ٩٥ فی صد سے زائد طلبہ کچھ حاصل نہ کر پاتے تھے۔ وہ اس نصابِ تعلیم اور طریقہ تدریس میں انقلابی تبدیلیوں کے قائل تھے۔ اسی دوران وہ اپنے ایک چچا شیخ درویش کے ہاتھ لگ گئے جو تصوف کی راہ کے مسافر تھے 'جنہوں نے ان کی روحانی تربیت کی اور انہیں دوبارہ مذہبی تعلیم کی طرف متوجہ کیااور ان میں اس کا ذوق و شوق بیدار کیا۔انہوں نے اپنے شیخ اور چچا کی رہنمائی میں سلوک کی کئی منازل طے کیں اور اپنے کئی ایک روحانی تجربات بھی بیان کیے ہیں۔

١٢٨٧ھ میں سید جمال الدین افغانی کی قاہرہ آمد پر ان سے ریاضی' فلسفہ اور علم کلام کی تعلیم حاصل کی اور ان کے طرز تدریس اور افکار سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہی کے ہو کررہ گئے۔ ١٨٦٦ء میں جامعہ ازہر سے تعلیم کے لیے منسلک ہوئے اور ١٢٩٤ھ بمطابق ١٨٧٧ء میں جامعہ ازہر سے شہادة العالمیہ کا امتحان پاس کیا۔ جامعہ ازہر میں تعلیم کے حصول کے دوران بھی ان پر تصوف' عبادت اور مجاہدۂ نفس کا غلبہ رہا۔ وہ ساری ساری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ ان کے بقول انہیں جذب و کشف کی اس دنیا سے ان کے استاذ سید جمال الدین افغانی باہر نکال کر لائے۔ ١٨٧٩ء میں مدرسہ 'دار العلوم' میں مدرّس کے طور پر تدریس کا آغاز کیا۔ ١٨٨٢ء میں انگریزوں کی حکومت کے خلاف احمد عرابی پاشا کے انقلاب میں اپنے استاذ جمال الدین افغانی کے ساتھ شریک رہے۔ اس تحریک کی ناکامی پر جیل بھیجے گئے اور بعد ازاں ان کو زبردستی بیروت بھیج دیا گیا۔ ١٨٨٤ء میں اپنے استاذ کی دعوت پر پیرس تشریف لے گئے اور 'العُروة الوثقٰی' نام سے ایک عربی رسالہ جاری کیا۔١٨٨٥ء میں پھر بیروت آ گئے اور ''العُروة الوثقٰی' کے نام سے ہی ایک خفیہ تحریک کی بنیاد رکھی۔

١٨٨٩ء میں حکومت کے ساتھ اس معاہدے پر اتفاق کرتے ہوئے کہ آئندہ وہ کسی قسم کا سیاسی کام نہیں کریں گے' مصر واپس آگئے اور انہیں ابتدائی عدلیہ میں جج مقرر کر دیاگیا۔ بعد ازاں انہیں مجلس قانون ساز کا رکن بھی مقرر کیا گیا۔ ١٨٩٩ء میں ان کو مصر کی حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر مفتی عام کا درجہ دے دیا گیا اور وہ مصر کے پہلے مفتی عام تھے۔ ١٩٠٠ء میں مخطوطات کی نشر و اشاعت کے لیے 'جمعیة احیاء العلوم العربیة' کی بنیاد رکھی۔ ١٩٠٥ء بمطابق ١٣٢٣ھ میں اسکندریہ کے علاقہ میں کینسر کے مرض کی وجہ سے وفات پائی۔ ان کے شاگردوں میں رشید رضا' حافظ ابراہیم' شیخ عز الدین قسام' شیخ ازہرمحمد مصطفی مراغی' شیخ ازہر مصطفی عبد الرزاق' شیخ محمد محی الدین عبد الحمید' سعد زغلول' قاسم امین' محمد لطفی جمعہ اور طٰہ حسین وغیرہ شامل ہیں۔

مفتی محمدعبدہ اپنی زندگی میں نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کرنا چاہتے تھے جو عربی زبان اور علوم اسلامیہ کا احیا کریں اور مصری حکومت اور حکمرانوں کی بذریعہ تعلیم اصلاح کریں۔ ان کا اپنے استاذ سید جمال الدین افغانی سے یہ اختلاف تھا کہ وہ انقلاب کے لیے سیاست کی بجائے تعلیم کو بنیاد بناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں شیخ ازہر بنایا گیا تو وہ جامعہ ازہر کے نصاب اور مناہج تعلیم' طریقہ تدریس' اندازِ فکر اور نظم و ضبط میں انقلابی تبدیلیاں لے کر آئے۔ انہوں نے تقلیدی جمود کے برعکس جمیع فقہی مذاہب اسلامیہ سے برابری کی سطح پراستفادہ کی دعوت پر زور دیا۔ ان کے بعد آنے والے شیوخ الازہر کی ایک بڑی تعدادنے اپنے فتاویٰ میں ان کے اس منہج کو برقرار رکھا' بلکہ شیخ مصطفی المراغی کے زمانے میں حنفی' مالکی' شافعی اور حنبلی علماء کی ایک گیارہ رکنی کمیٹی بنا دی گئی تھی جو مختلف مسائل میں اتفاقی فتویٰ جاری کرتی تھی۔ مفتی محمد عبدہ کے بعد بہت سے شیوخ الازہر حنفی ہونے کے باوجود کئی ایک مسائل میں امام ابن تیمیہ کے موقف پر فتویٰ جاری کرتے تھے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کتب کا تعارف
١) 'واردات' ان کی پہلی کتاب ہے جو١٨٧٤ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب انہوں نے صوفیاء کے منہج پر علم ِکلام اورتوحید کے بیان میں لکھی ہے۔ چارلس ایڈیمس کے بقول ان کی اس کتاب سے ان کے ذہن پروجودیت(pantheism)کا تسلط واضح نظر آتا ہے۔
٢)وحدت الوجود کے بارے بھی ان کا ایک رسالہ موجود ہے۔
٣) اسماعیل پاشا کی تاریخ پر بھی ایک کتاب لکھی۔
٤) نہج البلاغہ کی ایک شرح لکھی ۔
٥) بدیع الزمان ہمذانی کے 'مقامات' کی شرح لکھی۔
٦) منطق میں 'شرح البصائر النصیریة' کے نام سے کتاب لکھی۔
٧) 'مصر میں تعلیم و تربیت کا نظام' کے عنوان سے بھی کتاب لکھی۔
٨) اتحاد بین المذاہب پر ایک رسالہ 'رسالة التوحید' کے نام سے لکھا اور یہ ان کی معروف ترین کتابوں میں سے ہے۔ بعض عیسائیوں نے اس کتاب کے چند مباحث حذف کرنے کے بعد اس کو اپنے اداروں میں بطور نصاب بھی مقرر کیا ہواہے۔

جامعہ ازہر میں محر م ١٣١٧ھ میں تفسیر کی تدریس کا آغاز کیا جو ١٣٢٣ھ تک جار ی رہا۔ اس دوران انہوں نے سورة النساء کی آیت ١٢٥ تک تفسیر مکمل کی جو تفسیر 'المنار' کے نام سے پہلی پانچ جلدوں میں موجود ہے اور طبع شدہ ہے۔ تفسیر 'المنار' مفتی محمد عبدہ کے شاگرد رشید رضا نے مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ شیخ رشید رضا کی تفسیر سورة النساء کی آیت ١٢٦ سے لے کر سورئہ یوسف تک 'تفسیر المنار' کے نام سے مطبوع ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
افکار ونظریات
مفتی محمد عبدہ تقلید کے مخالف' آزادی ٔفکر اور سلف صالحین کے منہج پر بذاتِ خود دین کو سمجھنے کے قائل تھے ۔ عقل و نقل میں تعارض ہو جائے تو عقل کی ترجیح کے قائل تھے اور اس ترجیح کو علمائے اہل سنت کے ہاں اتفاقی مسئلہ قرار دیتے تھے۔ اپنے استاد سید جمال الدین افغانی کے ساتھ عالمی ماسونی تحریک کی مجالس میں بھی شریک ہوتے تھے' لیکن اس شرکت کے مقاصد کیا تھے یہ واضح نہ ہو سکے۔ وطنیت کے فلسفہ کے شدت سے قائل تھے اور اسی بنا پر انہوں نے مصر میں مسلمانوں اور قبطیوں کے مابین اختلاف میں قبطیوں کے حق میں لکھا۔

ڈاکٹر محمد عمارہ اور دیگر محققین کے نزدیک مفتی محمد عبدہ کے شاگرد قاسم امین مصری کی کتاب 'تحریر المرأة المُسلمة' کا اکثر حصہ مفتی محمد عبدہ کا ہے جبکہ اس کا کچھ حصہ قاسم امین نے لکھا تھا۔ بعد میں اس کتاب پر مفتی محمد عبدہ نے نظر ثانی کی تاکہ مکمل کتاب کا منہج اور اسلوب یکساں ہو جائے۔اس کتاب میں انہوں نے کہا ہے کہ عورت کے لیے اپنے چہرے کو چھپانا شرعا ً یا آداباً واجب نہیں ہے بلکہ یہ اہل عرب کا رواج تھا جو آج تک چلا آرہا ہے اور اُمت اس رواج پر کبھی بھی متفق نہ ہو سکی۔ ہاتھ' پاؤں اورچہرے کے علاوہ جسم کے ڈھانپنے کو وہ شرعی حکم میں داخل سمجھتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے تعد ّدِ ازواج کو بھی اللہ کے رسولۖ کے دور کی ایک ضرورت قرار دیا ہے اور عصر حاضر میں اس کی ممانعت کے قائل تھے۔ اس کتاب میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ستر و حجاب کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عورتوں اور مردوں کا اختلاط جائز ہے اور اللہ کے رسولۖ نے جس اختلاط سے منع کیا ہے' وہ ایک مرد اورعورت کا تنہا ہونا ہے۔ طلاق کے اکثر مسائل میں انہوں نے فقہ حنفی یا جمہور فقہاء کے خلاف امام ابن تیمیہ اور ظاہریہ کے مسلک کو ترجیح دی ہے۔

ڈاکٹر محمد عمارہ نے 'الأعمال الکاملة لمحمد عبدہ' میں لکھا ہے کہ مفتی محمد عبدہ کے نزدیک عقیدہ میں خبر واحد حجت نہیں ہے۔ اسی طرح 'منہج المدرسة العقلیة الحدیثیة للرومی' میں ہے کہ مفتی محمد عبدہ وحدتِ ادیان کے فلسفہ کے قائل تھے۔ شیخ یوسف نبہانی نے مفتی محمد عبدہ پر ایک نظم لکھی ہے جس میں انہوں نے انہیں شیخ فاسق قرار دیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ بعض اوقات نماز ترک کر دیتے تھے اور انہوں نے باوجود استطاعت کے حج بھی نہ کیا جبکہ وہ بڑے بڑے حکومتی عہدوں مثلاً مفتی مصر' شیخ الازہر' رکن مجلس قانون ساز وغیرہ پر فائز رہے تھے۔ دجال کے ظہور سے مراد شخص دجال نہیں لیتے تھے بلکہ اس سے مراد فتنہ دجالیت لیتے تھے۔سورة الفیل کی تفسیر میں 'طیرًا ابابیل' سے پرندوں کی بجائے مچھر اور مکھیاں مراد لی ہے اور کہا ہے کہ ان کے پتھر مارنے سے مراد ان کا کاٹنا ہے جس سے جراثیم مخالفین کے جسم میں گھس کر انہیں ہلاک کر دیتے تھے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
تفسیر قرآن میں تاویلات
اب ہم مفتی محمد عبدہ کی تفسیر کے چند مقامات قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہیں گے جس میں انہوں نے تکلف کے ساتھ قرآن کی تفسیر عقلی منہج پر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ سورة البقرة کی آیت ٥٠(وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ) کی تفسیر میں مفتی محمد عبدہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے ذریعے سمندر کے پھٹ جانے کے معجزہ کااقرار کیا ہے اور معجزات پر ایمان کو من جملہ ایمانیات میں شامل قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان لوگوں کی تاویلات کا رد بھی کیاہے جو اس معجزے کی عقلی توجیہہ سمندر کے مدّو جزر سے کرتے ہیں' جیسا کہ سرسید کا موقف ہے۔

سورة البقرہ کی آیت ٦٣ (وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ) کے ذیل میں طور پہاڑ کے حسی طور پر بنی اسرائیل پر اٹھائے جانے کا انکار کیا ہے اوراس سے پہاڑ کا زلزلہ اور اس کے سایہ کا ان پر چھا جانا مراد لیا ہے۔ اسی طرح سورة البقرة کی آیت ٧٣ (فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی) میں احیائے موتی ٰکے معجزہ کی تاویل کی ہے۔ گائے کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کو مارنے کی انہوں نے یہ تاویل کی ہے کہ بنی اسرائیل میں یہ رواج تھاکہ جس بستی میں کوئی شخص قتل کیا جاتا اور قاتل کا علم نہ ہوتا تو جو شخص اس رسم کے مطابق عمل کر لیتا تھا تو وہ مقتول کے خون سے بری ہو جاتا تھا اور جو اس رسم کے مطابق عمل نہ کرتا تھا اس پر قتل کا الزام عائد ہو جاتا تھا۔ اس آیت میں مردوں کو زندہ کرنے کی انہوں نے یہ توجیہہ کی ہے کہ اس سے مراد قانونِ قصاص ہے کیونکہ قصاص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں تمہارے لیے زندگی ہے۔

سورة البقرة کی آیت ٨١ (بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَةً وَّاَحَاطَتْ بِہ خَطِیْئَتُہ فَاُولٰئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ) کی تفسیر میں انہوں نے گناہ کبیرہ پر استمرار اور عدم توبہ کو ایمان کے منافی قرار دیا ہے اور ایسے گناہ کبیرہ کے مرتکبین کلمہ گومسلمانوں کو دائمی جہنمی قرار دیاہے اور اس مسئلے میں معتزلہ کا نام لے کر ان کے مسلک کو قرآن کی نص کے قریب قرار دیا ہے۔سورة البقرہ کی آیت ٨٥ (اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْن بِبَعْضٍ) کی تفسیر میں کہا ہے کہ اگر مسلمان گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اس پر اسے شرمندگی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ توبہ کرتا ہے بلکہ اس گناہ کا ارتکاب جاری رکھتا ہے تو ایسا کلمہ گو مسلمان کافر ہے۔

سورة البقرة کی آیت ٨٧ (وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ) میں روح القدس سے مراد وحی لی ہے جبکہ مفسرین اس سے مراد حضرت جبرائیل لیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے (نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ) سے بھی وحی ہی مراد لی ہے۔ سورة البقرة کی آیت ١٠٢ (وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ) کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں 'مَلَکَیْن' سے مراد دو عام انسان ہی تھے لیکن ان کو فرشتہ اس لیے کہا گیا ہے کہ لوگ ان کو فرشتہ سمجھتے تھے یا مجازاً فرشتہ کہہ دیا گیا ہے۔

سورة البقرة کی آیت ٢٤٣ (فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْیَاھُمْ) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں موت سے مراد دشمن کے سامنے مغلوب و مقہور ہوناہے اور دوبارہ زندہ کرنے سے مراددوبارہ آزادی اور قوت دیناہے۔ سورئہ آل عمران کی آیت ٣٧ (کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَاط قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ) میں اس واقعے کے خرقِ عادت میں سے ہونے کا انکار کیا ہے اور یہ الزام عائد کیا ہے کہ متقدمین نے قرآن میں اکثر و بیشتر مقامات پر تفسیر کرتے ہوئے خرقِ عادت واقعات کا اثبات من گھڑت اسرائیلیات سے کیا ہے جوتفسیر کا درست منہج نہیں ہے۔

سورہ آل عمران کی آیت٤٩ (وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مردوں کو زندہ کرنے کے معجزات کے بارے میں کہاہے کہ اس میں توقف کرنا چاہیے اور قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ سورہ آل عمران کی آیت ٥٥ (اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ) کے ذیل میں نزولِ مسیح کا انکار کیا ہے اور احادیث میں نزولِ مسیح سے ان کی حقیقی تعلیمات کادنیا میں غلبہ مراد لیا ہے۔ سورہ آل عمران کی آیات ١١٣ تا ١١٥ کے ذیل میں یہ بیان کیا ہے کہ اہل کتاب اگر اپنے بچے کھچے دین پر صحیح معنوں میں عمل کرتے ہیں' چاہے وہ اسلام نہ بھی قبول کریں' تو اللہ کے ہاں متقین اور صالحین میں شمار ہوں گے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
محمد رشید رضا

ان کا نام محمد رشید بن علی رضا بن محمد شمس الدین بن سید بہاء الدین ہے۔ اپنے والد اور والدہ کی طرف سے اپنے نسب کی نسبت آل بیت کی طرف کرتے تھے۔ ان کی ولادت ٢٧جمادی الاولیٰ ١٢٨٢ھ بمطابق ١٨٦٥ء شام کے علاقہ طرابلس کے جنوب میں سمندر کے کنارے آباد ایک بستی 'قلمون' میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم طرابلس کے 'مدرسہ رشیدیہ' میں حاصل کی' یہاں تعلیم ترکی زبان میں دی جاتی تھی کیونکہ یہ مدرسہ سلطنت عثمانیہ کے تابع تھا۔ بعد ازاں طرابلس میں ہی 'مدرسہ وطنیہ اسلامیہ' سے منسلک ہو گئے جس کے پرنسپل شیخ حسین الجسر تھے اور یہاں عربی' ترکی اور فرانسیسی میں تعلیم دی جاتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد یہ مدرسہ بوجوہ بند ہو گیا تو رشید رضا نے دوسرے مدارس کا رخ کیا اور شیخ حسین سے بھی ممکن حد تک استفادہ کرتے رہے۔ محمد رشید رضا کی زندگی پر دو اشخاص کے اثرات اور افکار کا غلبہ رہا' ان میں سے ایک تو شیخ حسین تھے اور دوسرے مفتی محمد عبدہ ۔

انہوں نے امام غزالی کی کتاب 'احیاء العلوم' کا مطالعہ کیا تو تصوف کی طرف مائل ہوگئے۔ عبادات اور مجاہدات میں اس قدر مشغول ہوئے کہ بعض اوقات انہیں یوں محسوس ہوا کہ ان کا جسم موجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے بعض روحانی تجربات بھی بیان کیے ہیں۔ انہوں نے شروع میں شاذلی اور بعد میں نقشبندیہ سلسلہ میں سلوک کی منازل طے کیں یہاں تک کہ وہ صاحب ِکرامات بن گئے۔ ڈاکٹر ابراہیم احمد العدوی نے اپنی کتاب 'رشید رضا الامام المجاھد' میں ان کی کئی ایک کرامات کا تذکرہ کیا ہے۔ آخر عمر میں وہ تصوف میں ذکر و اذکار کے مروّج طور طریقوں اور کشف وغیرہ کو بدعت قرار دیتے تھے اور سلفیت کی طرف مائل ہو گئے تھے اور اپنے شیخ اور مربی حسین الجسر پر اپنے رسالے میں رد بھی شائع کیا۔

رشید رضا ایک پرجوش داعی اور مبلغ بھی تھے۔ مساجد میں دروس کا اہتمام کرتے تھے اور قہوہ خانوں میں جا کر لوگوں کو تبلیغ کرتے تھے ۔ اسی طرح گاؤں کی عورتوں کی دینی تعلیم کے لیے بھی فقہی مسائل کے حلقے قائم کرتے تھے۔ قبر پرستی کے خلاف تھے اور قبروں سے تبرک لینے سے شدت سے منع کرتے تھے ۔ اسی طرح ان درختوں کو کاٹنے کا حکم دیتے تھے جن سے عامة الناس تبرک حاصل کرتے تھے۔

اسی دوران سید جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ کے رسالے 'العُروة الوُثقیٰ' کے کچھ شمارے ان کے ہاتھ لگے جن سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ بقیہ زندگی انہی کی صحبت میں گزار دی۔ ١٣١٤ھ میں سید جمال الدین افغانی کی وفات کے بعد ان کے علمی وارث مفتی محمدعبدہ سے استفادہ کے لیے مصر منتقل ہو گئے۔ ١٣١٥ھ میں رشید رضا کی مصر آمد ہوئی اور انہوں نے اپنے استاذ مفتی محمد عبدہ سے قرآن کی تفسیر کا مطالبہ کیا تو ان کی اس خواہش پر محرم ١٣١٧ھ میں مفتی محمد عبدہ نے قرآن کی تفسیر کی ابتدا کی' جس کا بیان محرم ١٣٢٣ھ تک جاری رہا اور اس دوران انہوں نے سورة النساء کی آیت ١٢٥ تک تفسیر مکمل کی۔

استاذ کی وفات کے بعد رشید رضا نے اس تفسیر کو مکمل کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے یہ تفسیر سورہ یوسف کی آیت١٠١تک مکمل کی۔ رشید رضا نے لکھا ہے کہ انہوں نے اس تفسیر کی تکمیل اپنے استاذ کے منہج سے ہٹ کر کی ہے اور آیات کی تفسیر میں مروی صحیح روایات کو کثرت سے بیان کیا ہے' علماء کے اختلافات کا بھی تذکرہ کیاہے اور مفرداتِ قرآن کی بھی لغوی تحقیقات پیش کی ہیں۔سورہ یوسف کے بعد اس تفسیر کی تکمیل استاذ بہجت بیطار نے کی ہے۔ انہوں نے 'المنار' کے نام سے شوال ١٣١٥ھ بمطابق ١٨٩٨ء ایک رسالہ بھی جاری کیا۔ اس کا آخری شمارہ ربیع الثانی ١٣٥٤ھ بمطابق ١٩٣٥ء شائع ہوا۔ ان کا یہ رسالہ عالم عربی کے علاوہ عالم اسلام اور یورپ کے علمی حلقوں میں بھی بہت معروف ہوا۔ اس رسالہ میں وہ اپنے اور اپنے استاذ مفتی محمد عبدہ کے افکار شائع کرتے تھے۔ اس رسالہ کو انہوں نے بدعات کے خاتمے اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کاذریعہ بھی بنایا۔

١٣٣٠ھ میں 'معھد الدعوة والارشاد' کے نام سے ایک ادارہ بنایا جس میں تین سالہ تربیتی کورس کے بعد طلبہ کو 'مرشد' کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا تھا اور انہیں مسلمانوں کی تربیت کی اجازت دے دی جاتی تھی۔ اگر کوئی طالب علم تین سال مزید تربیت لیتا تو اسے غیر مسلموں میں بھی دعوت کی اجازت دے دی جاتی تھی۔ اپنے وقت میں اس مدرسے نے بڑے بڑے داعی پیدا کیے۔اپنے استاذ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جامعہ ازہر کی اصلاح کے لیے بھی لکھتے رہے۔ اپنے استاذ کی زندگی میں رشید رضانے سیاست میں کچھ لکھا یا لکھنے کا ارادہ کیا تو مفتی محمد عبدہ نے اس کی شدت سے مخالفت کی' کیونکہ وہ سیاست کے ذریعے اصلاح کے نقطہ نظر کو صحیح نہیں سمجھتے تھے' البتہ استاذ کی وفات کے بعد رشید رضا سیاست کے میدان میں کھل کر سامنے آگئے اور سلطنت عثمانیہ پر کڑی نقد کی۔ ١٣ جمادی الأولیٰ ١٣٥٤ھ بمطابق ١٩٣٥ء ان کی وفات ہوئی اور اپنے استاذ مفتی محمد عبدہ کے ساتھ دفن کیے گئے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کتب کا تعارف
شیخ رشید رضا نے اپنی زندگی میں بہت کچھ لکھا۔
١) ان کی معروف کتابوں میں 'الحکمة الشرعیة فی محاکمة القادریة والرفاعیة' نامی کتاب ہے اور یہ ان کی اولین تصنیف ہے۔
٢) مجلہ 'المنار' جس کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔
٣) تاریخ الأستاذ الامام محمد عبدہ۔
٤) الوحی المحمدی۔
٥) 'المنار والأزھر۔ اس کتاب میں انہوں نے ازہر کے ساتھ اپنے اختلافات کا تذکرہ کیاہے۔
٦) ذکر المولد النبوی۔
٧و ٨) یسر السلام۔
٩) الخلافة۔
١٠) الوھابیون والحجاز۔
١١) السنة والشیعة ۔
١٢) مناسک الحج۔
١٣) تفسیر المنار۔
١٤) الربا و المعاملات فی السلام۔
١٥) مساواة الرجل بالمرأة۔
١٦) رسالة فی أبی حامد الغزالی۔
١٧) المقصورة الرشیدیة۔
١٨) شبھات النصاریٰ وحجج الاسلام۔
١٩) خلاصة السیرة المحمدیة۔
٢٠) انجیل برنابا۔
٢١) المسلمون والقبط۔
٢٢) عقیدة الصلب والفداء۔
٢٣) محاورات المصلح والمقلد۔
٢٤) فتاوی السید رشید رضا وغیرہ
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
افکارو نظریات
رشید رضا نے اپنے رسالے کی اشاعت کے لیے اپنا مطبع بھی قائم کیا تھا۔ بعد ازاں اس مطبع سے انہوں نے سلف صالحین کی کتابیں شائع کرنی شروع کیں۔ امام ابن تیمیہ' امام ابن قیم اور شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہم اللہ کی کتب کو انہوں نے خاص طور پر شائع کیا جس کی وجہ سے ان کے مخالفین نے انہیں وہابی کہنا شروع کر دیا۔ رشید رضا' شیخ محمد بن عبد الوہاب کے سلفی عقیدے کا حد درجے دفاع اور تبلیغ کرتے تھے۔ اپنی کتاب 'السُّنّة والشیعة' میں انہوں نے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک پر اہل تشیع کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ اپنی کتاب 'الوھابیون والحجاز' میں انہوں نے کئی ایک مقالات کی صورت میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کے مخالفین کے اعتراضات کے جواب دیے ہیں۔

مفتی محمد عبدہ کے بعض دوسرے شاگردوں مثلاً استاذ محمد حسین ہیکل' شیخ عبد العزیز جاویش اور استاذ محمد فرید وجدی نے ان کے خلاف یہ محاذ کھول دیا کہ یہ اپنے شیخ مفتی محمد عبدہ کے منہج سے منحرف ہو گئے ہیں اور ان کے خلاف کئی ایک رسالے جاری کیے۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کی طرح تحریک ماسونیت میں شرکت اختیار نہیں کی بلکہ اس کی رکنیت سے منع کرتے تھے۔ خلافت عثمانیہ کے ادارے کے خاتمے کے بعد انہوں نے خلافت کی بحالی کے لیے 'الخلافة أو الامامة العظمٰی' کے نام سے کتاب لکھی اور خلافت ختم کرنے کی وجہ سے مصطفی کمال پاشا کو ملحد قرار دیا۔

محمد رشید رضا کے صوفیت سے سلفیت کی جانب اس ذہنی ارتقاء اور سفر کے باوجود بعض سلفی علماء کا یہ کہنا ہے کہ ان میں سید جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ کی فکر کے کچھ اثرات ان کی وفات تک باقی رہے۔

ان کا بھی اپنے استاذ مفتی محمد عبدہ کی طرح یہی موقف تھا کہ اگر قطعی عقلی دلیل اور نقلی دلیل (یعنی قرآن وسنت) میں تعارض ہو جائے تو عقل کو ترجیح ہو گی اور نقل کی کوئی ایسی تاویل کریں گے کہ وہ عقل کے مطابق ہو جائے۔ سورة الانفال کی آیت ٩ (اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُرْدِفِیْنَ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر فرشتوں کے نزول سے مراد اس کا ظاہری معنی نہیں ہے کہ باقاعدہ کوئی فرشتے آسمان سے نازل ہوئے تھے اور انہوں نے کوئی جنگ بھی لڑی تھی' بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں اطمینان اور سکون پیداکر دیا تھا۔ سورة البقرة کی آیت ٦٥ (فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ)کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کی اس جماعت کو واقعتا بندر بنا دیا گیا تھا بلکہ اس سے مراد انہیں بندروں کے ساتھ تشبیہ دینا ہے۔

امام مہدی کی روایات کو ضعیف اور موضوع قرار دیتے ہوئے ان کی شخصیت یا آمد کا انکار کیا ہے۔ اسی طرح قیامت کی نشانیوں میں سے مغرب سے سورج کے طلوع ہونے پر عقلی اعتراضات وارد کیے ہیں اور اس بارے میں صحیح بخاری میں وارد روایت میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انشقاقِ قمر کے معجزئہ نبویہ کا انکار کیا ہے' کیونکہ ان کے بقول یہ واقعہ خلافِ عقل ہے اور اخبار آحاد سے مروی ہے لہٰذا ناقابل قبول ہے۔

جنات کے بارے ان کا کہنا ہے کہ ان کے وجود سے انکار تو ممکن نہیں ہے لیکن ان سے مراد وہ بیکٹیریا یا جراثیم ہو سکتے ہیں جو انسانی خون میں دوڑتے پھرتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ سورة البقرة کی آیت ٢٧٥ (وَمَنْ عَادَ فَاُولٰئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس حکم کے جاری ہونے کے بعد بھی جو شخص سود کھائے گا تو وہ دائمی جہنمی ہے۔ یعنی آیت کو معتزلہ کے مذہب کے مطابق اس کے ظاہری مفہوم پر باقی رکھا ہے۔ مجلہ 'المنار' کی جلد٢٨ کے جزء ١٠ میں جسم و روح کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ِسماوی اور نزولِ مسیح کے عقیدہ کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ درحقیقت عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
خلاصہ ٔکلام
مفتی محمد عبدہ کی نیت اور خلوص پر تو کوئی شک نہیں ہو سکتا لیکن ان کی تفسیر اور افکار کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان پر عقلیت (rationalism) اور اعتزال کاحد درجے غلبہ ہے۔ مفتی محمد عبدہ کی مثال ہم برصغیر میں اعتزالِ جدید کی تحریک کے رہنما جناب سرسید احمد خان سے دے سکتے ہیں' جنہوں نے اپنے اخلاص کے باوصف دین اسلام اور قرآن و سنت کی نصوص و تعلیمات کا حلیہ بگاڑ دیا۔ سرسید اور مفتی محمد عبدہ کے تقابلی مطالعے سے یہ فرق ان دونوں حضرات میں بہت نمایاں نظر آتا ہے کہ مفتی محمد عبدہ کو علومِ دینیہ میں جو رسوخ حاصل تھا وہ سرسید کے حصے میں نہیں آیا تھا' لہٰذا یہی وجہ ہے کہ قرآن کے بعض مقامات پر جہاں سرسید بھٹک گئے وہاں مفتی محمد عبدہ ہمیں اہل سنت اور سلف صالحین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں' جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے سمندر کے پھٹ جانے کے معجزہ کے اقرار یا انکار کا معاملہ ہے۔ عقل پرستی کی بنیاد پر فکری بگاڑ اور انحراف دونوں حضرات میں موجود ہے لیکن سرسید تو اس مسئلے میں کسی ضابطے کے پابند نہیں ہیں جبکہ مفتی محمد عبدہ بعض مقامات پر عقل کے بالمقابل نقل کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی من گھڑت تاویلات میں نہیں پڑتے۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ مفتی محمد عبدہ کے ہاں گمراہی اس درجے کی نہیں جو سرسید کے ہاں پائی جاتی ہے۔

جہاں تک ان کے حج نہ کرنے کا معاملہ ہے تو یہ ایک بہت بڑی کوتاہی ہے۔ بعض حضرات نے ان کے نماز نہ پڑھنے کو نقل کیا ہے اور اس نقل کا انداز بھی کچھ یوں ہے کہ کوئی صاحب ان کے ساتھ کسی مجلس میں موجود تھے تو نماز کا وقت آنے پر انہوں نے نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت ہو گیا اور اس واقعے کو ان صاحب نے آگے نقل کر دیا۔ اس قسم کے واقعات میں ہمارے خیال میں یہ توجیہہ کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے دو نمازیں جمع کر لی ہوں گی۔ جس شخص کے افکار میں اس قدر آزادی اور حریت فکر موجود ہو تو اس سے یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ بلاعذرِ شرعی بھی دو نمازیں جمع کرنے کا قائل ہو۔ واللہ اعلم بالصواب!

شیخ رشید رضا میں البتہ وقت کے ساتھ ساتھ افکار میں بہتری آئی ہے اور بہت سی باتوں میں انہوں نے اپنے استاذ کے منہج کی مخالفت کی ہے۔ اگرچہ ان کے بھی بہت سے افکار ایسے ہیں جو قابل تنقید ہیں اور ان کی تحریروں' بالخصوص تفسیر' المنار' اور مجلہ 'المنار' کے مطالعہ سے یہ محسوس ہوتاہے کہ وہ بھی قرآن کی تفسیر میں بہت حد تک عقلیت کی طرف مائل تھے۔ پس ان کا جو کام شرک و بدعت کے رد میں ہے' وہ قابل تعریف ہے اور انہوں نے جو تحقیقات قرآن کی عقلی تشریح و تعبیر میں پیش کی ہیں' وہ قابل مذمت اور گمراہی کے قبیل سے ہیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
مصادر و مراجع
١) حیات مفتی محمد عبدہ' اقبال اکیڈمی' لاہور' مترجم محمد مظہر الدین صدیقی۔ چارلس ایڈیمس کی کتاب 'Islam and Modernism in Egypt' کے بعض ابواب کا ترجمہ ہے۔
٢) منہج المدرسة العقلیة الحدیثیة فی التفسیر' فہد بن عبد الرحمن بن سلیمان الرومی' دارات البحوث العلمیة واالافتاء والدعوة والرشاد' الریاض۔
٣) الأعمال الکاملة لمفتی محمد عبدہ' الدکتور محمد عمارة۔
٤) تفسیر المنار' شیخ رشید رضا' الھیئة المصریة العامة۔
٥) رشید رضا المام المجاھد' الدکتور ابراہیم أحمد العدوی' المؤسسة المصریة العامة۔
6- الإمام المفتي محمد عبده رحمه الله .. مائة عام من الإصلاح ! - منتديات الإسلام اليوم
Muhammad Abduh -
Wikipedia, the free encyclopedia
-7
-8 ويكيبيديا، الموسوعة الحرة
http://www.saaid.net/feraq/el3aedoon/17.htm -9
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
ڈاکٹر طہ حسین مصری

١٨٨٩ء میں مصر کے علاقہ 'منیا' میں پیدا ہوئے ۔عربی زبان و ادب کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور 'عمید الأدب العربی' کے لقب سے معروف ہوئے۔ ذاتی زندگی (biography) پر لکھنے کا آغاز ان سے ہوا اور ان کی اس بارے میں معروف کتاب 'الأیام'ہے جس میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کو بیان کیا ہے۔ طہ حسین تیرہ بہن بھائی تھے جن میں ان کا نمبر ساتواں تھا۔ تین سال کی عمر میں ان کی نظر ضائع ہوگئی ۔

بچپن میں ہی قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔ اس کے بعد جامعہ ازہر سے وابستہ ہو گئے اور وہاں سے مذہب اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کی۔ ١٩٠٨ء میں قاہرہ یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے اور وہاں قدیم مصری تہذیب' اسلامی تہذیب' جغرافیہ' فلکیات' فلسفہ اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ ١٩١٤ء میں اسی یونیورسٹی سے معروف عربی شاعر 'ابو العلا المعری' پر اپنی پہلی پی ۔ایچ۔ ڈی مکمل کی۔اس کے بعد انہوں نے فرانس کی معروف یونیورسٹی 'ساربونے' سے معروف مؤرخ 'ابن خلدون' کے موضوع پر ١٩١٧ء میں اپنی دوسری پی ۔ایچ ۔ڈی بھی مکمل کی اور ١٩١٨ء میں مصر واپس آگئے۔ ١٩١٩ء میں قاہرہ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں مصر میں وزارت تعلیم کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ٢٨/ اکتوبر ١٩٧٣ء کو ان کی قاہرہ میں وفات ہوئی۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top