• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تدبر سورۃ البقرۃ

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
آیت:11
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔
یہ آیت منافقین اور ہر اس شخص کے بارے میں ایک گہری حقیقت بیان کر رہی ہے جو فساد کو اصلاح کا نام دیتا ہے اور اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلیلیں گھڑتا ہے۔
جب ان سے کہا جاتا ہے
یہاں ایک اہم نفسیاتی حقیقت ظاہر کی جا رہی ہے۔ اللہ نے نہیں کہا کہ "جب وہ خود سمجھتے ہیں"، بلکہ فرمایا: "جب ان سے کہا جاتا ہے"۔یعنی یہ خود نہیں سوچتے، انہیں متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے عمل کو غلطی نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں باہر سے متنبہ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی ان کو غلطی پر ٹوکتا ہے، تو بجائے سننے کے وہ فوراً ردعمل دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب اپنی غلطیوں کو پہچاننے کی صلاحیت کھو دے، تو وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
یہ آج کے معاشرے میں کیسے ہوتا ہے؟
جب کسی کو کہا جائے: "رشوت مت لو، یہ حرام ہے"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو سسٹم کا حصہ ہے، ہم اسے بہتر کر رہے ہیں!"
جب کسی کو کہا جائے: "جھوٹ مت بولو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو حکمت ہے، ہر بات کھل کر نہیں کہی جا سکتی!"
جب کسی کو کہا جائے: "سچ کا ساتھ دو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ دنیا ایسی نہیں، ہمیں بھی چالاک بننا پڑتا ہے!"
یہ رویہ دراصل منافقت کا آغاز ہوتا ہے، جہاں غلط کو صحیح کا نام دیا جاتا ہے۔
زمین میں فساد نہ کرو
یہاں فساد (إفساد) کا مطلب صرف عام بگاڑ نہیں، بلکہ بہت وسیع اور گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ فساد کیا ہے؟ جب کسی چیز کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب حق اور باطل کو ملا کر ایک نیا نظریہ پیش کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔جب دین میں اپنی مرضی کے مطابق تحریف کی جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب سچ کو دھوکہ دہی کے پردے میں چھپا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب دنیا میں عدل کے بجائے ظلم کو رائج کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔
فساد کے اسباب:
• نفاق: منافق ہمیشہ ظاہری طور پر خیر کا لبادہ اوڑھ کر فساد کرتا ہے۔
• جھوٹ: جھوٹ کو "دانائی" کا نام دے کر معاشرے کو بگاڑا جاتا ہے۔
• ریاکاری: اصلاح کا نام لے کر اپنی مرضی کے فیصلے کرنا۔
• دین میں تحریف: دینی اصولوں کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑنا۔
• ظلم: کسی بھی شکل میں طاقت کا غلط استعمال۔
یہ کیسے ہوتا ہے؟
• جب کوئی سود کو "معاشی استحکام" کا نام دے، تو یہ فساد ہے۔
• جب کوئی غیر اسلامی قوانین کو "ترقی" کا نام دے، تو یہ فساد ہے۔
• جب کوئی نظریاتی گمراہی کو "آزادیٔ فکر" کہہ کر فروغ دے، تو یہ فساد ہے۔
یہ فساد کی سب سے بڑی شکل ہے کہ برائی کو اچھائی کا لبادہ پہنا دیا جائے۔
وہ کہتے ہیں: ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
یہاں سب سے زیادہ چونکا دینے والی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ وہ اپنے عمل کو برائی نہیں سمجھتے، بلکہ اسے "اصلاح" کہتے ہیں۔ وہ خود کو "مصلح" (بہتر بنانے والا) سمجھتے ہیں، جبکہ درحقیقت وہ بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ ہر غلط کام کے لیے دلائل گھڑ لیتے ہیں تاکہ خود کو درست ثابت کر سکیں۔
یہ رویہ آج کہاں نظر آتا ہے؟
• بدعنوان حکمران کہتے ہیں: "ہم تو قوم کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں!"
• مغربی ثقافت کے حامی کہتے ہیں: "ہم تو جدیدیت اور آزادی لا رہے ہیں!"
• ناانصافی کرنے والے کہتے ہیں: "ہم تو بس سسٹم کو فالو کر رہے ہیں!"
یہ سب فساد کی سب سے خطرناک شکلیں ہیں، کیونکہ ان میں برائی کو "اچھائی" کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔
عملی زندگی کے لیے سبق
اپنی نیت اور عمل کا جائزہ لیں کہ کہیں ہم بھی اپنی برائیوں کو "اچھائی" کا نام تو نہیں دے رہے؟ کہیں ہم بھی اپنے غلط کاموں کے جواز تو نہیں گھڑ رہے؟ دین کے اصولوں پر قائم رہیں۔ جو چیز قرآن و سنت کے مطابق "فساد" ہے، وہ کسی بھی "عقلی دلیل" سے "اصلاح" نہیں بن سکتی۔ اصلاح کا مطلب حق کی طرف بلانا ہے، نہ کہ دین میں اپنی مرضی کی تبدیلی۔
سچ اور جھوٹ میں فرق کریں۔ جو چیز باطل ہے، وہ "حالات" اور "مصلحت" کے نام پر حق نہیں بن سکتی۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کسی چالاکی کے ذریعے اپنے گناہوں کو "اچھائی" میں تو نہیں بدل رہے؟
ہمیشہ قرآن و سنت کو معیار بنائیں۔ اگر کوئی چیز اللہ کے حکم کے خلاف ہے، تو وہ فساد ہے، چاہے لوگ اسے اصلاح کا نام دیں۔اگر کوئی چیز اللہ کی ہدایت کے مطابق ہے، تو وہی حقیقی اصلاح ہے۔
یہ آیت ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
• سب سے خطرناک گمراہی وہ ہوتی ہے، جب انسان برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دے۔
• جو چیز حقیقت میں فساد ہے، وہ کبھی اصلاح نہیں بن سکتی، چاہے لوگ اسے کتنا بھی خوبصورت بنا کر پیش کریں۔
• اگر کسی کو اس کی برائی پر متوجہ کیا جائے، اور وہ فوراً خود کو صحیح ثابت کرنے لگے، تو یہ نفاق کی علامت ہو سکتی ہے۔
• سچائی کا معیار ہماری "چالاکی" نہیں، بلکہ اللہ کی وحی ہے۔
سوال یہ ہے: ہمیں اگر کوئی ہماری غلطی بتائے، تو کیا ہم اسے قبول کریں گے، یا "إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ" کہہ کر اپنی ضد پر قائم رہیں گے؟
 

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
آیت:12
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ
ترجمہ: "خبردار! یقیناً وہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں، لیکن وہ (اس کا) شعور نہیں رکھتے۔"
یہ آیت ایک ایسے سماجی اور نفسیاتی رویے کو بے نقاب کرتی ہے جو فرد، خاندان، معاشرے اور پوری امت کے زوال کی بنیاد رکھتا ہے: خودفریبی میں مبتلا ہو کر بگاڑ کو بھلائی سمجھنا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ صرف مذہب اور اخلاقیات میں بلکہ انسانی تاریخ، نفسیات، سیاست اور سماجیات میں بار بار سامنے آتی ہے۔
فساد کی نوعیت
اگر ہم "فساد" کے حقیقی مفہوم کو سمجھیں، تو یہ محض ظاہری تباہی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا "نظامی بگاڑ" ہے جو دھیرے دھیرے زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کر جاتا ہے۔ فساد کی جڑ نظام میں غیر محسوس بگاڑ ہے۔ اس میں سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ فساد پھیلانے والا اسے اصلاح سمجھ کر کر رہا ہوتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے آیت نمایاں کرتی ہے:
"وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ"
لیکن وہ شعور نہیں رکھتے!
یہ آیت انسان کے سب سے پیچیدہ روحانی، فکری اور نفسیاتی مرض کی نشاندہی کرتی ہے، جسے "خودفریبی" کہا جا سکتا ہے۔
"فساد" کے غیر محسوس جال میں جکڑے لوگ
جب کوئی شخص "علم" کے نام پر ایسی تعبیرات اور نظریات گھڑ لے جو دین کے اصل پیغام کو بگاڑ دیں، لیکن وہ خود کو "دانشور" اور "مصلح" سمجھے۔جب کوئی استاذ یا عالم، صرف اپنی ذاتی تشریح کو حتمی سمجھے اور دوسروں کے نقطہ نظر کو دبانے لگے، حالانکہ وہ درحقیقت امت میں تفرقہ ڈال رہا ہو۔ جب کوئی اپنی عقل پر ایسا بھروسا کرے کہ وحی کی روشنی کو کمتر سمجھے، اور خود کو ایک "عقلمند مصلح" کے طور پر پیش کرے۔
بعض لوگ دوسروں کو "نصیحت" کرنے اور "سدھارنے" کے عمل میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ اپنے لہجے، الفاظ اور طرزِ عمل میں سختی، تحقیر اور تکبر شامل کر لیتے ہیں، مگر انہیں لگتا ہے کہ وہ اصلاح کر رہے ہیں۔ والدین بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے نام پر انہیں مغربی ثقافت یا مادی دوڑ میں جھونک دیتے ہیں، لیکن وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے کہ ان کے بچوں کی روحانیت تباہ ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ دوسروں پر تنقید، تبصروں اور اصلاحی لیکچرز میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کے اندر ایک خودساختہ برتری کا احساس آ جاتا ہے، اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ معاشرے کی اصلاح کر رہے ہیں، جبکہ وہ دراصل دوسروں کو نیچا دکھا کر اپنا نفس تسکین دے رہے ہوتے ہیں۔
جب کوئی اپنے فرقے، گروہ یا جماعت کو "حقیقت کا واحد علمبردار" سمجھے اور دوسروں کو کمتر جانے۔ جب کوئی دین کے نام پر تشدد، شدت پسندی، یا فکری استبداد کو فروغ دے، مگر سمجھے کہ وہ "اللہ کا کام" کر رہا ہے۔ جب علماء، خطباء، اور دینی رہنما خود کو امت کی قیادت کا حق دار سمجھیں، مگر ان کے بیانات، فتوے اور نظریات امت میں انتشار کا باعث بنیں۔
حکمران جب "عوامی مفاد" کے نام پر قوانین بناتے ہیں، مگر وہ درحقیقت استحصالی، غیر منصفانہ اور ظالمانہ ہوتے ہیں۔ جب سیاستدان "ملکی بہتری" کا نعرہ لگا کر درحقیقت کرپشن، دھوکہ دہی اور طاقت کی ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں، مگر انہیں شعور نہیں ہوتا کہ وہ کتنی تباہی لا رہے ہیں۔ جب میڈیا اور دانشور طبقہ "سچائی" کے نام پر ایسا بیانیہ تشکیل دیتا ہے جو دراصل جھوٹ اور مفاد پرستی پر مبنی ہوتا ہے۔
یہ سب وہ صورتیں ہیں جو "فساد" کی مختلف شکلیں ہیں، مگر ان میں ملوث افراد خود کو مصلح سمجھ رہے ہوتے ہیں!
"لَّا يَشْعُرُونَ" کا خطرناک پہلو: خودفریبی کا نفسیاتی تجزیہ
انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو غلط تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ جو کچھ کر رہا ہوتا ہے، اسے ہمیشہ اپنے زاویے سے "درست" ہی محسوس ہوتا ہے۔ فرعون نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ غلط کر رہا ہے۔ نمرود نے کبھی نہیں سمجھا کہ وہ بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ منافقین اپنے دوغلے رویے کو "اصلاح" کہتے تھے۔ یہی بیماری آج کے دور میں بھی ہمیں اپنے اندر تلاش کرنی چاہیے۔ کیا ہم کہیں اپنی کسی روش، کسی رویے، یا کسی فیصلے کو حق سمجھ کر فساد تو نہیں پھیلا رہے؟
اصلاح اور فساد میں باریک لکیر:
اس آیت کا سب سے گہرا سبق یہ ہے کہ ہر "اصلاح" درحقیقت "اصلاح" نہیں ہوتی۔ ہر "تعلیم" فائدہ مند نہیں، اگر وہ ایمان کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہو۔ ہر "اصلاحی تحریک" مفید نہیں، اگر وہ فکری یا جسمانی بغاوت پر ابھارے۔ ہر "نصیحت" خیر نہیں، اگر وہ دوسروں کی تذلیل کا سبب بنے۔
قرآن یہاں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ لوگ جان بوجھ کر فساد کر رہے ہیں، بلکہ وہ اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں فساد بھی اصلاح لگتا ہے!یہی وہ لمحہ ہے جہاں رک کر ہر شخص کو خود سے سوال کرنا چاہیے: "میں جو کچھ کر رہی ہوں، کیا وہ واقعی بھلائی ہے، یا میں خودفریبی میں مبتلا ہو چکی ہوں؟
"أَلَا" — اللہ کا انتباہ!
یہ آیت "أَلَا" کے ساتھ شروع ہوتی ہے، جو عربی میں تنبیہ اور جھنجھوڑنے کے لیے آتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں: "خبردار ہو جاؤ!" ، "جاگ جاؤ!" ، "اپنے اعمال کا محاسبہ کرو!"
یہ ایک انتباہ ہے کہ اگر ہم نے خود پر غور نہ کیا، تو شاید ہم بھی اسی خودفریبی میں مبتلا ہو جائیں جس کے بارے میں یہ آیت خبردار کر رہی ہے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
یہ آیت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم خود کو ٹٹولیں، اپنی نیتوں، ارادوں، فیصلوں اور نظریات پر غور کریں۔ کیا میں واقعی خیر کا ذریعہ ہوں، یا کہیں میں بھی نادانستہ فساد کا حصہ بن رہی ہوں؟ کیا میری اصلاحی کوششیں واقعی خیر کی بنیاد پر ہیں، یا میرے نفس، تعصب، یا جذبات نے مجھے غلط راہ پر ڈال دیا ہے؟ کیا میں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے خود کا محاسبہ کر رہی ہوں؟
یہ آیت کہہ رہی ہے: "رک جاؤ! تم جسے اصلاح سمجھ رہے ہو، شاید وہی سب سے بڑا فساد ہو!"اب فیصلہ ہمارا ہے: ہم واقعی مصلح ہیں؟ یا۔۔۔ ہمیں صرف ایسا لگتا ہے؟
 

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
آیت:13
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۚ أَلَا إِنَّهُمْ هُمْ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگوں نے ایمان لایا ہے، تو وہ کہتے ہیں: کیا ہم ایمان لائیں جیسے کم عقل لوگوں نے ایمان لایا ہے؟ خبردار! وہی لوگ کم عقل ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے۔
یہ آیت عقل و دانش کے وہم کو بے نقاب کرتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی سوچ کو معیارِ حق بنا لیتے ہیں اور دین کو سادہ لوحی، جبکہ دنیاوی ہوشیاری کو اصل عقل سمجھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان کو نہیں، ایمان والوں کو نادان کہتے ہیں۔
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
"جب ان سے کہا جاتا ہے: ایمان لے آؤ جیسے (یہ) لوگ ایمان لائے"
یہاں "النَّاسُ" کا ذکر عام مؤمنین کی طرف اشارہ ہے، یعنی جو خالص نیت سے ایمان لائے۔ لیکن منافقین کا جواب تھا:
قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ؟
"کیا ہم بھی ایسے ایمان لے آئیں جیسے بے وقوف ایمان لائے؟"
یہ الفاظ محض انکار نہیں بلکہ طنز ہیں، اور یہی تکبر کا سب سے خطرناک درجہ ہوتا ہے، جب انسان حق کو حقیر سمجھنے لگے۔
اصل بے وقوف کون؟ قرآن کا فیصلہ
اللہ تعالیٰ اسی فکری دھوکے کو چیر کر حقیقت آشکار کرتے ہیں:
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
"خبردار! حقیقت میں یہی بے وقوف ہیں، مگر انہیں علم نہیں۔''
یہاں "أَلَا" تنبیہ اور جھنجھوڑنے کے لیے آیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں: رک جاؤ! تمہاری ساری عقل محض ایک فریب ہے! یہاں ایک نہایت باریک نکتہ موجود ہے: اللہ نے یہ نہیں کہا کہ "یہ بھی بے وقوف ہیں"، بلکہ فرمایا "یہی بے وقوف ہیں!"یعنی اصل سفاہت (بے وقوفی) کی سب سے بڑی علامت حق کو مسترد کرنا اور خود کو عقل مند سمجھنا ہے۔
انسانی نفسیات میں خود فریبی کا جال
یہاں ہم انسانی نفسیات کی ایک پیچیدہ گتھی کو کھولتے ہیں: انسان فطری طور پر خود کو بہتر سمجھنا چاہتا ہے، اور اسی میں سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ جو گناہ میں ہوتا ہے، وہ خود کو "ماڈرن" سمجھتا ہے۔ جو حرام کماتا ہے، وہ کہتا ہے "یہی دنیا کی حقیقت ہے!" جو دین سے دور ہوتا ہے، وہ کہتا ہے "ہم عقلمند ہیں، یہ مولوی لوگ بے وقوف ہیں!"
وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
"مگر انہیں علم نہیں!"
یہ جہالت کی سب سے خوفناک قسم ہےانسان کو اپنی جہالت کا شعور ہی نہ ہو!''ایمان والے بے وقوف" یہی فکری مغالطہ ہر دور میں رہا ہے۔یہ رویہ آج بھی ہمارے معاشرے میں مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے:
• صحابہؓ کے زمانے میں: منافقین نے صحابہ کو سادہ لوح کہہ کر ان کا مذاق اڑایا۔
• مکہ کے کفار: انہوں نے نبی کریم ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو کم عقل غلام اور غریب لوگ کہا۔
• آج کے دور میں:لوگ دین دار افراد کو دقیانوسی کہتے ہیں۔ دین کو "پسماندگی" اور "کم عقلی" سے جوڑتے ہیں۔ ایمان کی اصل روح کو سمجھنے کے بجائے ظاہری ترقی کو عقل سمجھتے ہیں۔
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ
یہی سب سے بڑے بے وقوف ہیں!
عقل کی اصل حقیقت – قرآن کے مطابق
قرآن ہمیں بار بار یہ بتاتا ہے کہ اصل عقل وہی ہے جو حق کو قبول کرے۔
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (الأنفال: 22)
زمین پر سب سے برے وہ لوگ ہیں جو نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں اور نہ ہی عقل رکھتے ہیں!
وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ (العنکبوت: 43)

اور اسے (قرآن کے حقائق کو) صرف عقل والے ہی سمجھتے ہیں!
أَفَلَا تَعْقِلُونَ؟

کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
یہ جملہ قرآن میں بار بار آیا ہے! گویا عقل وہی ہے جو اللہ کی راہ میں جھک جائے، اور جو تکبر کرے، وہی سب سے بڑا جاہل ہے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
یہ آیت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے دل میں جھانک کر خود سے سوال کریں:
• کیا میں بھی کہیں ایمان والوں کو کم عقل تو نہیں سمجھ رہی؟
• کیا میں نے دنیا کی چمک دمک کو اصل دانش سمجھ لیا ہے؟
• کیا میں اپنی روش پر غور کرنے کے بجائے دوسروں پر طنز کر رہی ہوں؟
• کیا میں اپنے تعصبات کو "عقل" سمجھ کر دین کے خلاف دلیل دے رہی ہوں؟
اصل میں، اگر کوئی شخص سچائی کو تکبر سے رد کر رہا ہے، تو وہی سب سے بڑا بے وقوف ہے، چاہے وہ اپنے آپ کو کتنا بھی عقلمند سمجھے!
یہ آیت ہمیں خبردار کر رہی ہے کہ اگر ہم نے خود پر غور نہ کیا، تو شاید ہم بھی انہی "عقل مندوں" میں شامل ہوں، جو حقیقت میں سب سے بڑے بے وقوف ہیں!
 

نور نیت

مبتدی
شمولیت
اپریل 16، 2025
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
آیت:14
وَإِذَا لَقُوا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا ۖ وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَـٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ ۖ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ
اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو محض مذاق کر رہے تھے۔
"باطن کے بت" اور "ظاہر کا نور"
یہ آیت نہ صرف منافقین کے کردار کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور شخصیت کے دوغلے پن کی بھی خبر دیتی ہے۔ ایسا شخص جو مختلف محفلوں میں مختلف رنگ اختیار کرے، درحقیقت وہ ایک "بےجڑ درخت" کی مانند ہوتا ہےنہ اپنی جڑیں رکھتا ہے، نہ پھل دیتا ہے، بس ہر جھونکے کے ساتھ جھکتا اور گرتا ہے۔
باطن کی تضاد سے پیدا ہونے والی روحانی منافقت
"قَالُوا آمَنَّا" — زبان کا دھوکہ ۔۔۔ ایمان کا دعویٰ صرف زبان سے تھا۔ دل ایمان سے خالی تھا۔ یہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے: "الحمدللہ، میں نمازی ہوں" کہنے والا شخص کسی کی غیبت میں شریک ہوتا ہے۔ "الحمدللہ، ہم دیندار گھرانے سے ہیں" کہنے والا اپنے نفس کی غلامی میں دن گزارتا ہے۔یہ زبان کی چمک باطن کی تاریکی کو چھپا نہیں سکتی۔
قرآن کا انتباہ:
"يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ"
وہ اپنی زبان سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا۔ (الفتح: 11)
خلوت میں اصل چہرہ ظاہر ہوتا ہے
"وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ"
یعنی جب وہ ایمان والوں سے الگ ہوتے ہیں، اور اپنی اصل محفل میں پہنچتے ہیں، تب ان کی حقیقت کھلتی ہے۔
یہاں سوال یہ ہے:
میری خلوت کیا ہے؟ کیا میں تنہائی میں بھی ویسی ہی ہوتی ہوں جیسا لوگوں کے سامنے ہوں؟ یا میرا اصل چہرہ صرف رات کی تاریکی یا بند دروازوں کے پیچھے نظر آتا ہے؟عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا:
"لو رأيتم خلوات الناس، لعرفتم وجوههم!"
اگر تم لوگوں کی تنہائیوں کو دیکھ سکو، تو ان کے چہرے پہچان لو گے۔
"شياطينهم" ہمارے شیطان کون ہیں؟
یہاں "شیطان" صرف جنّات نہیں بلکہ ہر وہ شخص یا نظریہ ہے: جو ہمیں اللہ کی یاد سے دور کرے۔ جو ہمیں دین کے ظاہری عمل کی محض نمائش کی طرف لے جائے۔ جو دل میں وسوسے، حسد، تکبر یا کینہ بڑھائے۔شیطان کی چال یہ نہیں کہ وہ کہے: کفر کر! بلکہ وہ کہتا ہے: منافقت کر، تاکہ کفر تمہیں خود ہی کھینچ لے۔
"إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ" مذاق جو ایمان کو کھا جائے
یہاں "استہزاء" صرف الفاظ نہیں، یہ ایک دل کا رویہ ہے:
• دین کو سنجیدہ نہ لینا
• نیک لوگوں کو 'اوور' سمجھنا
• تقویٰ کی علامتوں کا تمسخر
• احکاماتِ الٰہی پر طنزیہ تبصرے
یہ مذاق دراصل دل کی سڑن کو ظاہر کرتا ہے، ایک ایسی بیماری جس کا اختتام ایمان کی موت پر ہوتا ہے۔
اقوالِ سلف: نفاق کی پہچان
امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
"النفاق لا يكون في القول فقط، بل في النية، والعمل، والصداقة، والوفاء، وكل نية خفية قد تخالف الظاهر۔"
نفاق صرف قول میں نہیں، بلکہ نیت، عمل، دوستی، وفا داری، ہر اس چیز میں ہو سکتا ہے جس کا باطن ظاہر سے مختلف ہو۔
عملی زندگی میں اس آیت کی جھلک
• ایک طالبہ جو درسِ قرآن میں موجود ہو، مگر دل میں نیت "شہرت" کی ہو—وہی نفاق کا بیج ہے۔
• ایک مبلغ جو منبر پر سچ بولے، مگر تنہائی میں سچ سے بھاگے—وہی تضاد اس آیت میں مذموم ہے۔
• ایک ماں جو بیٹی کو پردے کا کہے، اور خود فیشن کی غلام ہو—وہی دوہرا معیار اس آیت کا مصداق بن سکتا ہے۔
• ایک شخص جو کسی صالح محفل میں "دینی" نظر آئے، اور سوشل میڈیا پر "جدید فکری مذاق" کرے—وہی مستہزئ ہے۔
ہم کیا سیکھیں؟
• خلوص نیت کا احتساب:"میں کیوں نیک بننے کی کوشش کر رہی ہوں؟ اللہ کے لیے یا لوگوں کے لیے؟"
• اپنی خلوتوں کا محاسبہ:"میں تنہائی میں کیسی انسان ہوں؟"
• حلقہ احباب پر نظر:"کیا میرے دوست وہ ہیں جو مجھے ایمان میں مضبوط کریں، یا نفاق کی راہ دکھائیں؟"
 
Top