آیت:11
جب ان سے کہا جاتا ہے
یہاں ایک اہم نفسیاتی حقیقت ظاہر کی جا رہی ہے۔ اللہ نے نہیں کہا کہ "جب وہ خود سمجھتے ہیں"، بلکہ فرمایا: "جب ان سے کہا جاتا ہے"۔یعنی یہ خود نہیں سوچتے، انہیں متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے عمل کو غلطی نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں باہر سے متنبہ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی ان کو غلطی پر ٹوکتا ہے، تو بجائے سننے کے وہ فوراً ردعمل دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب اپنی غلطیوں کو پہچاننے کی صلاحیت کھو دے، تو وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
یہ آج کے معاشرے میں کیسے ہوتا ہے؟
جب کسی کو کہا جائے: "رشوت مت لو، یہ حرام ہے"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو سسٹم کا حصہ ہے، ہم اسے بہتر کر رہے ہیں!"
جب کسی کو کہا جائے: "جھوٹ مت بولو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو حکمت ہے، ہر بات کھل کر نہیں کہی جا سکتی!"
جب کسی کو کہا جائے: "سچ کا ساتھ دو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ دنیا ایسی نہیں، ہمیں بھی چالاک بننا پڑتا ہے!"
یہ رویہ دراصل منافقت کا آغاز ہوتا ہے، جہاں غلط کو صحیح کا نام دیا جاتا ہے۔
زمین میں فساد نہ کرو
یہاں فساد (إفساد) کا مطلب صرف عام بگاڑ نہیں، بلکہ بہت وسیع اور گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ فساد کیا ہے؟ جب کسی چیز کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب حق اور باطل کو ملا کر ایک نیا نظریہ پیش کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔جب دین میں اپنی مرضی کے مطابق تحریف کی جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب سچ کو دھوکہ دہی کے پردے میں چھپا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب دنیا میں عدل کے بجائے ظلم کو رائج کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔
فساد کے اسباب:
• نفاق: منافق ہمیشہ ظاہری طور پر خیر کا لبادہ اوڑھ کر فساد کرتا ہے۔
• جھوٹ: جھوٹ کو "دانائی" کا نام دے کر معاشرے کو بگاڑا جاتا ہے۔
• ریاکاری: اصلاح کا نام لے کر اپنی مرضی کے فیصلے کرنا۔
• دین میں تحریف: دینی اصولوں کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑنا۔
• ظلم: کسی بھی شکل میں طاقت کا غلط استعمال۔
یہ کیسے ہوتا ہے؟
• جب کوئی سود کو "معاشی استحکام" کا نام دے، تو یہ فساد ہے۔
• جب کوئی غیر اسلامی قوانین کو "ترقی" کا نام دے، تو یہ فساد ہے۔
• جب کوئی نظریاتی گمراہی کو "آزادیٔ فکر" کہہ کر فروغ دے، تو یہ فساد ہے۔
یہ فساد کی سب سے بڑی شکل ہے کہ برائی کو اچھائی کا لبادہ پہنا دیا جائے۔
وہ کہتے ہیں: ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
یہاں سب سے زیادہ چونکا دینے والی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ وہ اپنے عمل کو برائی نہیں سمجھتے، بلکہ اسے "اصلاح" کہتے ہیں۔ وہ خود کو "مصلح" (بہتر بنانے والا) سمجھتے ہیں، جبکہ درحقیقت وہ بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ ہر غلط کام کے لیے دلائل گھڑ لیتے ہیں تاکہ خود کو درست ثابت کر سکیں۔
یہ رویہ آج کہاں نظر آتا ہے؟
• بدعنوان حکمران کہتے ہیں: "ہم تو قوم کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں!"
• مغربی ثقافت کے حامی کہتے ہیں: "ہم تو جدیدیت اور آزادی لا رہے ہیں!"
• ناانصافی کرنے والے کہتے ہیں: "ہم تو بس سسٹم کو فالو کر رہے ہیں!"
یہ سب فساد کی سب سے خطرناک شکلیں ہیں، کیونکہ ان میں برائی کو "اچھائی" کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔
عملی زندگی کے لیے سبق
اپنی نیت اور عمل کا جائزہ لیں کہ کہیں ہم بھی اپنی برائیوں کو "اچھائی" کا نام تو نہیں دے رہے؟ کہیں ہم بھی اپنے غلط کاموں کے جواز تو نہیں گھڑ رہے؟ دین کے اصولوں پر قائم رہیں۔ جو چیز قرآن و سنت کے مطابق "فساد" ہے، وہ کسی بھی "عقلی دلیل" سے "اصلاح" نہیں بن سکتی۔ اصلاح کا مطلب حق کی طرف بلانا ہے، نہ کہ دین میں اپنی مرضی کی تبدیلی۔
سچ اور جھوٹ میں فرق کریں۔ جو چیز باطل ہے، وہ "حالات" اور "مصلحت" کے نام پر حق نہیں بن سکتی۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کسی چالاکی کے ذریعے اپنے گناہوں کو "اچھائی" میں تو نہیں بدل رہے؟
ہمیشہ قرآن و سنت کو معیار بنائیں۔ اگر کوئی چیز اللہ کے حکم کے خلاف ہے، تو وہ فساد ہے، چاہے لوگ اسے اصلاح کا نام دیں۔اگر کوئی چیز اللہ کی ہدایت کے مطابق ہے، تو وہی حقیقی اصلاح ہے۔
یہ آیت ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
• سب سے خطرناک گمراہی وہ ہوتی ہے، جب انسان برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دے۔
• جو چیز حقیقت میں فساد ہے، وہ کبھی اصلاح نہیں بن سکتی، چاہے لوگ اسے کتنا بھی خوبصورت بنا کر پیش کریں۔
• اگر کسی کو اس کی برائی پر متوجہ کیا جائے، اور وہ فوراً خود کو صحیح ثابت کرنے لگے، تو یہ نفاق کی علامت ہو سکتی ہے۔
• سچائی کا معیار ہماری "چالاکی" نہیں، بلکہ اللہ کی وحی ہے۔
سوال یہ ہے: ہمیں اگر کوئی ہماری غلطی بتائے، تو کیا ہم اسے قبول کریں گے، یا "إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ" کہہ کر اپنی ضد پر قائم رہیں گے؟
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔
یہ آیت منافقین اور ہر اس شخص کے بارے میں ایک گہری حقیقت بیان کر رہی ہے جو فساد کو اصلاح کا نام دیتا ہے اور اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلیلیں گھڑتا ہے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔
جب ان سے کہا جاتا ہے
یہاں ایک اہم نفسیاتی حقیقت ظاہر کی جا رہی ہے۔ اللہ نے نہیں کہا کہ "جب وہ خود سمجھتے ہیں"، بلکہ فرمایا: "جب ان سے کہا جاتا ہے"۔یعنی یہ خود نہیں سوچتے، انہیں متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے عمل کو غلطی نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں باہر سے متنبہ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی ان کو غلطی پر ٹوکتا ہے، تو بجائے سننے کے وہ فوراً ردعمل دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب اپنی غلطیوں کو پہچاننے کی صلاحیت کھو دے، تو وہ اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
یہ آج کے معاشرے میں کیسے ہوتا ہے؟
جب کسی کو کہا جائے: "رشوت مت لو، یہ حرام ہے"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو سسٹم کا حصہ ہے، ہم اسے بہتر کر رہے ہیں!"
جب کسی کو کہا جائے: "جھوٹ مت بولو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ تو حکمت ہے، ہر بات کھل کر نہیں کہی جا سکتی!"
جب کسی کو کہا جائے: "سچ کا ساتھ دو"، تو وہ کہتا ہے: "یہ دنیا ایسی نہیں، ہمیں بھی چالاک بننا پڑتا ہے!"
یہ رویہ دراصل منافقت کا آغاز ہوتا ہے، جہاں غلط کو صحیح کا نام دیا جاتا ہے۔
زمین میں فساد نہ کرو
یہاں فساد (إفساد) کا مطلب صرف عام بگاڑ نہیں، بلکہ بہت وسیع اور گہرا مفہوم رکھتا ہے۔ فساد کیا ہے؟ جب کسی چیز کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب حق اور باطل کو ملا کر ایک نیا نظریہ پیش کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔جب دین میں اپنی مرضی کے مطابق تحریف کی جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب سچ کو دھوکہ دہی کے پردے میں چھپا دیا جائے، تو یہ فساد ہے۔ جب دنیا میں عدل کے بجائے ظلم کو رائج کیا جائے، تو یہ فساد ہے۔
فساد کے اسباب:
• نفاق: منافق ہمیشہ ظاہری طور پر خیر کا لبادہ اوڑھ کر فساد کرتا ہے۔
• جھوٹ: جھوٹ کو "دانائی" کا نام دے کر معاشرے کو بگاڑا جاتا ہے۔
• ریاکاری: اصلاح کا نام لے کر اپنی مرضی کے فیصلے کرنا۔
• دین میں تحریف: دینی اصولوں کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑنا۔
• ظلم: کسی بھی شکل میں طاقت کا غلط استعمال۔
یہ کیسے ہوتا ہے؟
• جب کوئی سود کو "معاشی استحکام" کا نام دے، تو یہ فساد ہے۔
• جب کوئی غیر اسلامی قوانین کو "ترقی" کا نام دے، تو یہ فساد ہے۔
• جب کوئی نظریاتی گمراہی کو "آزادیٔ فکر" کہہ کر فروغ دے، تو یہ فساد ہے۔
یہ فساد کی سب سے بڑی شکل ہے کہ برائی کو اچھائی کا لبادہ پہنا دیا جائے۔
وہ کہتے ہیں: ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
یہاں سب سے زیادہ چونکا دینے والی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ وہ اپنے عمل کو برائی نہیں سمجھتے، بلکہ اسے "اصلاح" کہتے ہیں۔ وہ خود کو "مصلح" (بہتر بنانے والا) سمجھتے ہیں، جبکہ درحقیقت وہ بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ ہر غلط کام کے لیے دلائل گھڑ لیتے ہیں تاکہ خود کو درست ثابت کر سکیں۔
یہ رویہ آج کہاں نظر آتا ہے؟
• بدعنوان حکمران کہتے ہیں: "ہم تو قوم کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں!"
• مغربی ثقافت کے حامی کہتے ہیں: "ہم تو جدیدیت اور آزادی لا رہے ہیں!"
• ناانصافی کرنے والے کہتے ہیں: "ہم تو بس سسٹم کو فالو کر رہے ہیں!"
یہ سب فساد کی سب سے خطرناک شکلیں ہیں، کیونکہ ان میں برائی کو "اچھائی" کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔
عملی زندگی کے لیے سبق
اپنی نیت اور عمل کا جائزہ لیں کہ کہیں ہم بھی اپنی برائیوں کو "اچھائی" کا نام تو نہیں دے رہے؟ کہیں ہم بھی اپنے غلط کاموں کے جواز تو نہیں گھڑ رہے؟ دین کے اصولوں پر قائم رہیں۔ جو چیز قرآن و سنت کے مطابق "فساد" ہے، وہ کسی بھی "عقلی دلیل" سے "اصلاح" نہیں بن سکتی۔ اصلاح کا مطلب حق کی طرف بلانا ہے، نہ کہ دین میں اپنی مرضی کی تبدیلی۔
سچ اور جھوٹ میں فرق کریں۔ جو چیز باطل ہے، وہ "حالات" اور "مصلحت" کے نام پر حق نہیں بن سکتی۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کسی چالاکی کے ذریعے اپنے گناہوں کو "اچھائی" میں تو نہیں بدل رہے؟
ہمیشہ قرآن و سنت کو معیار بنائیں۔ اگر کوئی چیز اللہ کے حکم کے خلاف ہے، تو وہ فساد ہے، چاہے لوگ اسے اصلاح کا نام دیں۔اگر کوئی چیز اللہ کی ہدایت کے مطابق ہے، تو وہی حقیقی اصلاح ہے۔
یہ آیت ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
• سب سے خطرناک گمراہی وہ ہوتی ہے، جب انسان برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دے۔
• جو چیز حقیقت میں فساد ہے، وہ کبھی اصلاح نہیں بن سکتی، چاہے لوگ اسے کتنا بھی خوبصورت بنا کر پیش کریں۔
• اگر کسی کو اس کی برائی پر متوجہ کیا جائے، اور وہ فوراً خود کو صحیح ثابت کرنے لگے، تو یہ نفاق کی علامت ہو سکتی ہے۔
• سچائی کا معیار ہماری "چالاکی" نہیں، بلکہ اللہ کی وحی ہے۔
سوال یہ ہے: ہمیں اگر کوئی ہماری غلطی بتائے، تو کیا ہم اسے قبول کریں گے، یا "إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ" کہہ کر اپنی ضد پر قائم رہیں گے؟