• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَ‌دْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿٤٠﴾
ہم جب کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔ (١)
٤٠۔١ یعنی لوگوں کے نزدیک قیامت کا ہونا، کتنا بھی مشکل یا ناممکن ہو، مگر اللہ کے لیے تو کوئی مشکل نہیں اسے زمین اور آسمان ڈھانے کے لئے مزدوروں، انجینئروں اور مستریوں اور دیگر آلات و وسائل کی ضرورت نہیں۔ اسے تو صرف ”کُنْ“ کہنا ہے اس کے لفظ کن سے پلک جھپکتے میں قیامت برپا ہو جائے گی۔ ﴿وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ﴾ (النحل: ۷۷) ”قیامت کا معاملہ پلک جھپکتے یا اس سے بھی کم مدت میں واقع ہو جائے گا“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ هَاجَرُ‌وا فِي اللَّـهِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجْرُ‌ الْآخِرَ‌ةِ أَكْبَرُ‌ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿٤١﴾
جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا ہے (١) ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے (٢) اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے، (٣) کاش کہ لوگ اس سے واقف ہوتے۔
٤١۔١ ہجرت کا مطلب ہے اللہ کے دین کے لئے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا وطن، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب چھوڑ کر ایسے علاقے میں چلے جانا جہاں آسانی سے اللہ کے دین پر عمل ہو سکے۔ اس آیت میں ان ہی مہاجرین کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے، یہ آیت عام ہے جو تمام مہاجرین کو شامل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کی ایذاؤں سے تنگ آ کر حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد عورتوں سمیت ایک سو یا اس سے زیادہ تھی، جن میں حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ اور ان کی زوجہ، دختر رسول ﷺ حضرت رقیہ رضی الله عنہا بھی تھیں۔
٤١۔٢ اس سے رزق طیب اور بعض نے مدینہ مراد لیا ہے، جو مسلمانوں کا مرکز بنا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دونوں قولوں میں منافات نہیں ہے۔ اس لئے کہ جن لوگوں نے اپنے کاروبار اور گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی تھی، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی انہیں نعم البدل عطا فرما دیا۔ رزق طیب بھی دیا اور پورے عرب پر انہیں اقتدار و تمکن عطا فرمایا۔
٤١۔ ٣ حضرت عمر رضی الله عنہ نے جب مہاجرین و انصار کے وظیفے مقرر کئے تو ہر مہاجر کو وظیفہ دیتے ہوئے فرمایا۔ هَذَا مَا وَعَدَكَ اللهُ فِي الدُّنْيَا ”یہ وہ ہے جس کا اللہ نے دنیا میں وعدہ کیا ہے“۔ وَمَا ادَّخَرَ لَكَ فِي الآخِرَةِ أَفْضَلُ ”اور آخرت میں تیرے لیے جو ذخیرہ ہے وہ اس سے کہییں بہتر ہے“۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ صَبَرُ‌وا وَعَلَىٰ رَ‌بِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿٤٢﴾
وہ جنہوں نے دامن صبر نہ چھوڑا اور اپنے پالنے والے ہی پر بھروسہ کرتے رہے۔

وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِ‌جَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٤٣﴾
آپ سے پہلے بھی ہم مردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو۔ (١)
٤٣۔١ أَهْلُ الذِّكْرِ سے مراد اہل کتاب ہیں جو پچھلے انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، وہ انسان ہی تھے اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ بھی اگر انسان ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ تم ان کی بشریت کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کر دو۔ اگر تمہیں شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء بشر تھے یا ملائکہ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو پھر بیشک انکار کر دینا، اگر وہ بھی انسان ہی تھے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا محض بشریت کی وجہ سے انکار کیوں؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ‌ ۗ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُ‌ونَ ﴿٤٤﴾
دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ، یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔

أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُ‌وا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّـهُ بِهِمُ الْأَرْ‌ضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿٤٥﴾
بدترین داؤ پیچ کرنے والے کیا اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان کے پاس ایسی جگہ سے عذاب آ جائے جہاں کا انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو۔

أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ﴿٤٦﴾
یا انہیں چلتے پھرتے پکڑ لے۔ (١) یہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے۔
٤٦۔١ اس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، مثلًا، ١۔ جب تم تجارت اور کاروبار کے لئے سفر پر جاؤ، ٢۔ جب تم کاروبار کو فروغ دینے کے لئے مختلف حیلے اور طریقے اختیار کرو، ٣۔ یا رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے بستروں پر جاؤ۔ یہ تَقَلُّب کے مختلف مفہوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے ان صورتوں میں بھی تمہارا مواخذہ کر سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَىٰ تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَ‌بَّكُمْ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٤٧﴾
یا انہیں ڈرا دھمکا کر پکڑ لے، (١) پس یقیناً تمہارا پروردگار اعلیٰ شفقت اور انتہائی رحم والا ہے۔ (٢)
٤٧۔١ تَخَوُّفٍ کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے سے ہی دل میں عذاب اور مواخذے کا ڈر ہو۔ جس طرح بعض دفعہ انسان کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، تو خوف محسوس کرتا ہے کہ کہیں اللہ میری گرفت نہ کر لے چنانچہ بعض دفعہ اس طرح مؤاخذہ ہوتا ہے۔
٤٧۔٢ کہ وہ گناہوں پر فوراً مواخذہ نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور اس مہلت سے بہت سے لوگوں کو توبہ و استغفار کی توفیق بھی نصیب ہو جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوَلَمْ يَرَ‌وْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّـهِ وَهُمْ دَاخِرُ‌ونَ ﴿٤٨﴾
کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ (١)
٤٨۔١ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اس کی جلالت شان کا بیان ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے جھکی ہوئی اور مطیع ہے۔ جمادات ہوں یا حیوانات یا جن و انسان اور ملائکہ۔ ہر وہ چیز جس کا سایہ ہے اور اس کا سایہ دائیں بائیں جھکتا ہے تو وہ صبح و شام اپنے سائے کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ امام مجاہد فرماتے ہیں جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ ﴿٤٩﴾
یقیناً آسمان و زمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے۔

يَخَافُونَ رَ‌بَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُ‌ونَ ۩ ﴿٥٠﴾
اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں (١) اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ (٢)
٥٠۔١ اللہ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
٥٠۔٢ اللہ کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ جس کا حکم دیا جاتا ہے، بجا لاتے ہیں، جس سے منع کیا جاتا ہے، اس سے دور رہتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ اللَّـهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَـٰهَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَإِيَّايَ فَارْ‌هَبُونِ ﴿٥١﴾
اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے، (١) پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو۔
٥١۔١ کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق ہے ہی نہیں۔ اگر آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو نظام عالم قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا یہ فساد اور خرابی کا شکار ہو چکا ہوتا۔ ﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾ (الأنبياء: ۲۲) اس لئے ثنویت (دو خداؤں) کا عقیدہ، جس کے مجوسی حامل رہے ہیں یا تعدد الٰہ (بہت سارے معبودوں) کا عقیدہ، جس کے اکثر مشرکین قائل رہے ہیں۔ یہ سب باطل ہیں۔ جب کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی بلا شرکت غیر تمام کائنات کا نظم و نسق چلا رہا ہے تو معبود بھی صرف وہی ہے جو اکیلا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ نہیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ‌ اللَّـهِ تَتَّقُونَ ﴿٥٢﴾
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے، (١) کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟
٥٢۔١ اسی کی عبادت و اطاعت دائمی اور لازم ہے۔ وَاصِبٌ کے معنی ہمیشگی کے ہیں ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ﴾ (الصافات: ۹) ”ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ کا“، اور اس کا وہی مطلب ہے جو دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ ﴿فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ، أَلا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ﴾ (الزمر: ۲-۳) ”پس اللہ کی عبادت کرو، اسی کے لئے بندگی کو خالص کرتے ہوئے، خبردار! اسی کے لیے خالص بندگی ہے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللَّـهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ‌ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُ‌ونَ ﴿٥٣﴾
تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں، (١) اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آ جائے تو اسی کی طرف نالہ و فریاد کرتے ہو۔ (٢)
٥٣۔١ جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں؟
٥٣۔٢ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب و وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آ جاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں۔
 
Top