• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِن ثَمَرَ‌اتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرً‌ا وَرِ‌زْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٦٧﴾
اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے ہو (١) اور عمدہ روزی بھی۔ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لئے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے۔
٦٧۔١ یہ آیت اس وقت اتری تھی جب شراب حرام نہیں تھی، اس لئے حلال چیزوں کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس میں سَكَرًا کے بعد رِزْقًا حَسَنًا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ نیز یہ سورت مکی ہے۔ جس میں شراب کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ پھر مدنی سورتوں میں بتدریج اس کی حرمت نازل ہو گئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَوْحَىٰ رَ‌بُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ‌ وَمِمَّا يَعْرِ‌شُونَ ﴿٦٨﴾
آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات (١) ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا۔
٦٨۔١ وَحَیٌ سے مراد الہام اور وہ سمجھ بوجھ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طبعی ضروریات کی تکمیل کے لئے حیوانات کو بھی عطا کی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَ‌اتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَ‌بِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُ‌جُ مِن بُطُونِهَا شَرَ‌ابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُ‌ونَ ﴿٦٩﴾
اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی رہ، ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے، (١) جس کے رنگ مختلف ہیں (٢) اور جس میں لوگوں کے لئے شفا (٣) ہے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑی نشانی ہے۔
٦٩۔١ شہد کی مکھی پہلے پہاڑوں میں، درختوں میں، انسانی عمارتوں کی بلندیوں پر اپنا مسدس خانہ اور چھتہ اس طرح بناتی ہے کہ درمیان میں کوئی شگاف نہیں رہتا۔ پھر وہ باغوں، جنگلوں، وادیوں اور پہاڑوں میں گھومتی پھرتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں کا جوس اپنے پیٹ میں جمع کرتی ہے اور پھر انہیں راہوں سے، جہاں جہاں سے وہ گزرتی ہے، واپس لوٹتی ہے اور اپنے چھتے میں آ کر بیٹھ جاتی ہے، جہاں اس کے منہ یا دبر سے وہ شہد نکلتا ہے جسے قرآن نے ”شَرَابٌ“ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی مشروب روح افزا۔
٦٩۔٢ کوئی سرخ، کوئی سفید، کوئی نیلا اور کوئی زرد رنگ کا، جس قسم کے پھلوں اور کھیتوں سے وہ خوراک حاصل کرتی ہے، اسی حساب سے اس کا رنگ اور ذائقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔
٦٩۔٣ شِفَاء میں تنکیر تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی بہت سے امراض کے لئے شہد میں شفا ہے۔ یہ نہیں کہ مطلقًا ہر بیماری کا علاج ہے۔ علمائے طب نے تشریح کی ہے کہ شہد یقیناً ایک شفا بخش قدرتی مشروب ہے۔ لیکن مخصوص بیماریوں کے لئے نہ کہ ہر بیماری کے لئے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ کو حلوا (میٹھی چیز) اور شہد پسند تھا۔ (صحيح بخاری، كتاب الأشربة، باب شراب الحلواء والعسل)، ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”تین چیزوں میں شفا ہے، فصد کھلوانے (پچھنے لگانے) میں، شہد کے پینے میں، اور آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے منع کرتا ہوں“۔ (بخاری، باب الدواء بالعسل) حدیث میں ایک واقعہ بھی آتا ہے کہ اسہال (دست) کے مرض میں آپ ﷺ نے شہد پلانے کا مشورہ دیا، جس سے دستوں میں اضافہ ہو گیا، آ کر بتلایا گیا، تو دوبارہ آپ ﷺ نے شہد پلانے کا مشورہ دیا، جس سے مزید فضلات خارج ہوئے اور گھر والے سمجھے کہ شاید مرض میں اضافہ ہو گیا ہے پھر نبی ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا ”اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے“، جا اور اسے شہد پلا چنانچہ تیسری مرتبہ میں اسے شفائے کاملہ حاصل ہو گئی۔ (بخاری، باب دواء المبطون ومسلم، كتاب السلام، باب التداوي بسقي العسل)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَ‌دُّ إِلَىٰ أَرْ‌ذَلِ الْعُمُرِ‌ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ‌ ﴿٧٠﴾
اللہ تعالیٰ ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے وہی پھر تمہیں فوت کرے گا، تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جانتے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں۔ (١) بیشک اللہ دانا اور توانا ہے۔
٧٠۔١ جب انسان طبعی عمر سے تجاوز کر جاتا ہے تو پھر اس کا حافظہ بھی کمزور ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ عقل بھی ماؤف، اور وہ نادان بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ یہی طویل عمر ہے جس سے نبی ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّ‌زْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَ‌ادِّي رِ‌زْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٧١﴾
اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے، پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وہ اپنی روزی اپنے ماتحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وہ اور یہ اس میں برابر ہو جائیں، (١) تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں؟
٧١۔١ یعنی جب تم اپنے غلاموں کو اتنا مال اور اسباب دنیا نہیں دیتے کہ تمہارے برابر ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کب یہ پسند کرے گا کہ تم کچھ لوگوں کو، جو اللہ ہی کے بندے اور غلام ہیں اللہ کا شریک اور اس کے برابر قرار دے دو، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معاشی لحاظ سے انسانوں میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے فطری نظام کے مطابق ہے۔ اسے جبری قوانین کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ اشتراکی نظام میں ہے۔ یعنی معاشی مساوات کی غیر فطری کوشش کی بجائے ہر کسی کو معاشی میدان میں کسب معاش کے لیے مساوی طور پر دوڑ دھوپ کے مواقع میسر ہونے چاہیں۔
٧١۔۲ کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے غیر اللہ کے لیے نذر نیاز نکالتے ہیں اور یوں کفران نعمت کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَ‌زَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّـهِ هُمْ يَكْفُرُ‌ونَ ﴿٧٢﴾
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان لائیں گے؟ (١) اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے۔
٧٢۔١ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا تذکرہ کر کے جو آیت میں مذکور ہیں، سوال کر رہا ہے کہ سب کچھ دینے والا تو اللہ ہے، لیکن یہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور دوسروں کا ہی کہنا مانتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِ‌زْقًا مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿٧٣﴾
اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ قدرت رکھتے ہیں۔ (١)
٧٣۔١ یعنی اللہ کو چھوڑ کر عبادت بھی ایسے لوگوں کی کرتے ہیں جن کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَا تَضْرِ‌بُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧٤﴾
پس اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں مت بناؤ (١) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
٧٤۔١ جس طرح مشرکین مثالیں دیتے ہیں کہ بادشاہ سے ملنا ہو یا اس سے کوئی کام ہو تو کوئی براہ راست بادشاہ سے نہیں مل سکتا ہے۔ پہلے اسے بادشاہ کے مقربین سے رابطہ کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر بادشاہ تک اس کی رسائی ہوتی ہے اسی طرح اللہ کی ذات بھی بہت اعلی اور اونچی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے ہم ان معبودوں کو ذریعہ بناتے ہیں یا بزرگوں کا وسیلہ پکڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اللہ کو اپنے پر قیاس مت کرو نہ اس قسم کی مثالیں دو۔ اس لیے کہ وہ تو واحد ہے، اس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ پھر بادشاہ نہ تو عالم الغیب ہے، نہ حاضر و ناظر نہ سمیع و بصیر۔ کہ وہ بغیر کسی ذریعے کے رعایا کے حالات و ضروریات سے آگاہ ہو جائے جب کہ اللہ تعالیٰ تو ظاہر و باطن اور حاضر غائب ہرچیز کا علم رکھتا ہے، رات کی تاریکیوں میں ہونے والے کاموں کو بھی دیکھتا ہے اور ہر ایک کی فریاد سننے پر بھی قادر ہے۔ بھلا ایک انسانی بادشاہ اور حاکم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا مقابلہ اور موازنہ؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ضَرَ‌بَ اللَّـهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ‌ عَلَىٰ شَيْءٍ وَمَن رَّ‌زَقْنَاهُ مِنَّا رِ‌زْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّ‌ا وَجَهْرً‌ا ۖ هَلْ يَسْتَوُونَ ۚ الْحَمْدُ لِلَّـهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٧٥﴾
اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہو سکتے ہیں؟ (١) اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔
٧٥۔١ بعض کہتے ہیں کہ یہ غلام اور آزاد کی مثال ہے کہ پہلا شخص غلام اور دوسرا آزاد ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے بعض کہتے ہیں کہ یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ پہلا کافر اور دوسرا مومن ہے۔ یہ برابر نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اصنام (معبودانِ باطلہ) کی مثال ہے، پہلے سے مراد اصنام اور دوسرے سے اللہ ہے۔ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے مطلب یہی ہے کہ ایک غلام اور آزاد، باوجود اس بات کے کہ دونوں انسان ہیں، دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور بھی بہت سی چیزیں دونوں کے درمیان مشترکہ ہیں، اس کے باوجود رتبہ اور شرف اور فضل و منزلت میں تم دونوں کو برابر نہیں سمجھتے تو اللہ تعالیٰ اور پتھر کی ایک مورتی یا قبر کی ڈھیری، یہ دونوں کس طرح برابر ہو سکتے ہیں؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَضَرَ‌بَ اللَّـهُ مَثَلًا رَّ‌جُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ‌ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ‌ ۖ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَن يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٧٦﴾
اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے (١) دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیج دو کوئی بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے (٢) اور ہے بھی سیدھی راہ پر، برابر ہو سکتے ہیں؟
٧٦۔١ یہ ایک اور مثال ہے جو پہلے سے زیادہ واضح ہے۔
٧٦۔٢ اور ہر کام کرنے پر قادر ہے کیونکہ ہر بات بولتا اور سمجھتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ یعنی دین اور سیرت صالحہ پر۔ یعنی کمی بیشی سے پاک۔ جس طرح یہ دونوں برابر نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ اور وہ چیزیں، جن کو لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، برابر نہیں ہو سکتے۔
 
Top