• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِ‌ينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ‌ اللَّـهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٢٢﴾
تم میں سے جو برزگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیے۔ بلکہ معاف کر دینا اور درگزر کر لینا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے؟ (١) اللہ قصوروں کو معاف فرمانے والا ہے۔
٢٢۔١ حضرت مسطح، جو واقعہ افک میں ملوث ہو گئے تھے، فقرائے مہاجرین میں سے تھے، رشتے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کے خالہ زاد تھے، اسی لئے ابو بکر رضی الله عنہ ان کے کفیل اور معاش کے ذمے دار تھے، جب یہ بھی حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے خلاف مہم میں شریک ہو گئے تو ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کو سخت صدمہ پہنچا، جو ایک فطری امر تھا چنانچہ نزول براءت کے بعد غصے میں انہوں نے قسم کھا لی کہ وہ آئندہ مسطح کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کی یہ قسم، جو اگرچہ انسانی فطرت کے مطابق ہی تھی، تاہم مقام صدیقیت، اس سے بلند تر کردار کا متقاضی تھا، اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی اور یہ آیت نازل فرمائی، جس میں بڑے پیار سے ان کے اس عاجلانہ بشری اقدام پر انہیں متنبہ فرمایا کہ تم سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیاں معاف فرماتا رہے۔ تو پھر تم بھی دوسروں کے ساتھ اسی طرح معافی اور درگزر کا معاملہ کیوں نہیں کرتے؟ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیاں معاف فرما دے؟ یہ انداز بیان اتنا موثر تھا کہ اسے سنتے ہی ابو بکر صدیق رضی الله عنہ بے ساختہ پکار اٹھے "کیوں نہیں اے ہمارے رب! ہم ضرور یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں معاف فرما دے" اس کے بعد انہوں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کرکے حسب سابق مسطح کی مالی سرپرستی شروع فرما دی (فتح القدیر، ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ يَرْ‌مُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٢٣﴾
جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا و آخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔ (١)
٢٣۔١ بعض مفسرین نے اس آیت کو حضرت عائشہ رضی الله عنہا اور دیگر ازواج مطہرات رضی الله عنہن کے ساتھ خاص قرار دیا ہے کہ اس آیت میں بطور خاص ان پر تہمت لگانے کی سزا بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے لئے توبہ نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے اور اس میں وہی حد قذف بیان کی گئی ہے، جو پہلے گزر چکی ہے۔ اگر تہمت لگانے والا مسلمان ہے تو لعنت کا مطلب ہو گا کہ وہ قابل حد ہے اور مسلمانوں کے لئے نفرت اور بعد کا مستحق۔ اور اگر کافر ہے، تو مفہوم واضح ہی ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ملعون یعنی رحمت الٰہی سے محروم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْ‌جُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٤﴾
جبکہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ (١)
٢٤۔١ جیسا کہ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر بھی اور احادیث میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّـهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ﴿٢٥﴾
اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی) ظاہر کرنے والا ہے۔

الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَـٰئِكَ مُبَرَّ‌ءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَرِ‌زْقٌ كَرِ‌يمٌ ﴿٢٦﴾
خبیث عورتیں خبیث مرد کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہیں۔ (١) ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان باز) کر رہے ہیں وہ ان سے بالکل بری ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی۔ (٢)
٢٦۔١ اس کا مفہوم تو یہی بیان کیا گیا ہے جو ترجمے سے واضح ہے . اس صورت میں یہ ﴿الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً﴾ کے ہم معنی آیت ہو گی، اور خبیثات اور خبیثون سے زانی مرد و عورت اور طیبات اور طیبون سے مراد پاک دامن عورت اور مرد ہوں گے۔ دوسرے معنی اس کے ہیں کہ ناپاک باتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک باتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ مردوں کے لئے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں اور مطلب یہ ہو گا کہ ناپاک باتیں وہی مرد و عورت کرتے ہیں جو ناپاک ہیں اور پاکیزہ باتیں کرنا پاکیزہ مردوں اور عورتوں کا شیوہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے، اس بات کی طرف کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا پر ناپاکی کا الزام عائد کرنے والے ناپاک اور ان سے اس کی براءت کرنے والے پاک ہیں۔
٢٦۔٢ اس سے مراد جنت کی روزی ہے جو اہل ایمان کو نصیب ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ‌ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٢٧﴾
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو، (١) یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاک تم نصیحت حاصل کرو۔ (٢)
٢٧۔١ گزشتہ آیات میں زنا اور قذف اور ان کی حدوں کا بیان گزرا، اب اللہ تعالیٰ گھروں میں داخل ہونے کے آداب بیان فرما رہا ہے تاکہ مرد و عورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور زنا یا قذف کا سبب بنتا ہے۔ اَسْتِیْنَاس کے معنی ہیں، معلوم کرنا، یعنی جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اندر کون ہے اور اس نے تمہیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، اس وقت تک داخل نہ ہو۔ بعض نے تَسْتَأْنِسُوا کے معنی تَسْتَأْذِنُوا کے کئے ہیں، جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے۔ آیت میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کا ذکر پہلے اور سلام کرنے کا ذکر بعد میں ہے۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ پہلے سلام کرتے اور پھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے اسی طرح آپ ﷺ کا معمول بھی تھا کہ تین مرتبہ آپ ﷺ اجازت طلب فرماتے اگر کوئی جواب نہیں آتا تو آپ ﷺ لوٹ آتے۔ اور یہ بھی آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ اجازت طلبی کے وقت آپ ﷺ دروازے کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، تاکہ ایک دم سامنا نہ ہو جس بے پردگی کا امکان رہتا ہے (ملاحظہ ہو صحيح بخاری، كتاب الاستئذان باب التسليم والاستئذان ثلاثا- مسند أحمد ۳/ ۱۳۸ أبو داود، كتاب الأدب، باب كم مرة يسلم الرجل في الاستئذان) اسی طرح آپ ﷺ نے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر جھانکنے سے بھی نہایت سختی سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں۔ (البخاری، كتاب الديات، باب من اطلع في بيت قوم ففقئوا عينه فلا دية له- مسلم، كتاب الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره) آپ ﷺ نے اس بات کو بھی ناپسند فرمایا کہ جب اندر سے صاحب بیت پوچھے، کون ہے؟ تو اس کے جواب میں "میں" "میں" کہا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نام لے کر اپنا تعارف کرائے۔ (صحيح بخاری، كتاب الاستئذان باب إذا قال من ذا؟ قال أنا- ومسلم، كتاب الآداب باب كراهة قول المستأذن أنا إذا قيل من هذا؟ وأبو داود، كتاب الأدب)۔
٢٧۔٢ یعنی عمل کرو، مطلب یہ ہے کہ اجازت طلبی اور سلام کرنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہونا، دونوں کے لئے اچانک داخل ہونے سے بہتر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْ‌جِعُوا فَارْ‌جِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴿٢٨﴾
اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اور اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزہ ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔

لَّيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ‌ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۚ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ﴿٢٩﴾
ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائدہ یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (١) تم جو کچھ بھی ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ (٢)
٢٩۔١ اس سے مراد کون سے گھر ہیں، جن میں بغیر اجازت لئے داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ گھر ہیں، جو بطور خاص مہمانوں کے لئے الگ تیار یا مخصوص کر دیئے گئے ہوں۔ ان میں صاحب خانہ کی پہلی مرتبہ اجازت کافی ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سرائے ہیں جو مسافروں کے لئے ہی ہوتی ہیں یا تجارتی گھر ہیں، متاع کے معنی، منفعت کے ہیں یعنی جن میں تمہارا فائدہ ہو۔
٢٩۔٢ اس میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے جو دوسروں کے گھروں میں داخل ہوتے وقت مذکورہ آداب کا خیال نہیں رکھتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِ‌هِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُ‌وجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ‌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿٣٠﴾
مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، (١) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں۔ (٢) یہی انکے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔
٣٠۔١ جب کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت لینے کو ضروری قرار دیا تو اس کے ساتھ ہی غض بصر (آنکھوں کو پست رکھنے یا بند رکھنے) کا حکم دے دیا تاکہ اجازت طلب کرنے والا بھی بالخصوص اپنی نگاہوں پر کنٹرول رکھے۔
٣٠۔٢ یعنی ناجائز استعمال سے اس کو بچائیں یا انہیں اس طرح چھپا کر رکھیں کہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اس کے یہ دونوں مفہوم صحیح ہیں کیوں کہ دونوں ہی مطلوب ہیں۔ علاوہ ازیں نظروں کی حفاظت کا پہلے ذکر کیا کیونکہ اس میں بے احتیاطی ہی، حفظ فروج سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِ‌هِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُ‌وجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِ‌بْنَ بِخُمُرِ‌هِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ‌ أُولِي الْإِرْ‌بَةِ مِنَ الرِّ‌جَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُ‌وا عَلَىٰ عَوْرَ‌اتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِ‌بْنَ بِأَرْ‌جُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں (١) اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، (٢) سوائے اسکے جو ظاہر ہے (٣) اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، (٤) اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، (٥) سوائے اپنے خاوندوں کے (٦) یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے (٧) یا اپنے میل جول کی عورتوں کے (٨) یا غلاموں کے (٩) یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں (١٠) یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ (١١) اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے، (١٢) اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ۔ (١٣)
٣١۔١ عورتیں بھی اگرچہ غض بصر اور حفظ فروج کے پہلے حکم میں داخل تھیں، جو تمام مومنین کو دیا گیا ہے اور مومنین میں مومن عورتیں بھی بالعموم شامل ہی ہوتی ہیں لیکن ان مسائل کی اہمیت کے پیش نظر عورتوں کو بھی بطور خاص دوبارہ وہی حکم دیا جا رہا ہے جس سے مقصود تاکید ہے بعض علما نے اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح مردوں کے لئے عورتوں کو دیکھنا ممنوع ہے اسی طرح عورتوں کے لئے مردوں کو دیکھنا مطلقاً ممنوع ہے۔ اور بعض نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے جس میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا حبشیوں کا کھیل دیکھنے کا ذکر ہے (صحيح بخاری، كتاب الصلاة، باب أصحاب الحراب في المسجد) بغیر شہوت کے مردوں کی طرف دیکھنے کی عورتوں کو اجازت دی ہے۔
٣١۔٢ زینت سے مراد وہ لباس ہے اور زیور ہے جو عورتیں اپنے حسن و جمال میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لئے پہنتی ہیں، جس کی تاکید انہیں اپنے خاوندوں کے لئے کی گئی ہے۔ جب لباس اور زیور کا ا ظہار غیر مردوں کے سامنے عورت کے لئے ممنوع ہے تو جسم کو عریاں اور نمایاں کرنے کی اجازت اسلام میں کب ہو سکتی ہے؟ یہ تو بطریق اولیٰ حرام اور ممنوع ہو گا۔
٣١۔٣ اس سے مراد وہ زینت اور حصہ جسم ہے جس کا چھپانا اور پردہ کرنا ممکن نہ ہو۔ جیسے کسی کو کوئی چیز پکڑاتے یا اس سے لیتے ہوئے ہتھیلیوں کا، یا دیکھتے ہوئے آنکھوں کا ظاہر ہو جانا۔ اس ضمن میں ہاتھ میں جو انگوٹھی پہنی ہوئی یا مہندی لگی ہو، آنکھوں میں سرمہ، کاجل ہو یا لباس اور زینت کو چھپانے کے لئے جو برقعہ یا چادر لی جاتی ہے، وہ بھی ایک زینت ہی ہے۔ تاہم یہ ساری زینتیں ایسی ہیں، جن کا اظہار بوقت ضرورت یا بوجہ ضرورت مباح ہے۔
٣١۔٤ تاکہ سر، گردن، سینے اور چھاتی کا پردہ ہو جائے، کیونکہ انہیں بھی بے پردہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
٣١۔٥ یہ وہی زینت (سنگھار) یا آرائش ہے جسے ظاہر کرنے کی ممانعت اس سے پہلے کی گئی تھی۔ یعنی لباس اور زیور وغیرہ کی، جو چادر یا برقعہ کے نیچے ہوتی ہے۔ یہاں اس کا ذکر اب استثنا کے ضمن میں آیا ہے۔ یعنی ان ان لوگوں کے سامنے اس زینت کا اظہار جائز ہے۔
٣١۔٦ ان میں سرفہرست خاوند ہے، اسی لئے خاوند کو سب پر مقدم بھی کیا گیا ہے۔ کیونکہ عورت کی ساری زینت خاوند ہی کے لئے ہوتی ہے، اور خاوند کے لئے تو عورت کا سارا بدن ہی حلال ہے۔ اس کے علاوہ جن محارم اور دیگر بعض افراد کا ہر وقت گھر میں آنا جانا رہتا ہے اور قربت اور رشتہ داری کی وجہ سے یا دیگر وجوہ سے طبعی طور پر ان کی طرف جنسی میلان بھی نہیں ہوتا، جس سے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ تو شریعت نے ایسے لوگوں کے سامنے، جن سے کوئی خطرہ نہ ہو اور تمام محارم کے سامنے زینت ظاہر کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ اس مقام پر ماموں اور چچا کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک یہ بھی ان محارم میں سے ہیں جن کے سامنے اظہار زینت کی اجازت دی گئی ہے اور بعض کے نزدیک یہ محارم میں سے نہیں ہیں۔ (فتح القدیر)
٣١۔٧ باپ میں دادا، پردادا، نانا، پرنانا اور اس سے اوپر سب شامل ہیں۔ اسی طرح خسر میں خسر کا باپ، دادا، پردادا، اوپر تک۔ بیٹوں میں پوتا، پرپوتا، نواسہ پرنواسہ نیچے تک۔ خاوندوں کے بیٹوں میں پوتے، پرپوتے، نیچے تک، بھائیوں میں تینوں قسم کے بھائی (عینی، اخیافی اور علاتی) اور ان کے بیٹے، پوتے، پرپوتے، نواسے، نیچے تک۔ بھتیجوں میں ان کے بیٹے، نیچے تک اور بھانجوں میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد شامل ہے۔
٣١۔٨ ان سے مراد مسلمان عورتیں ہیں جن کو اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ وہ کسی عورت کی زینت، اس کا حسن و جمال اور جسمانی خد و خال اپنے خاوند کے سامنے بیان کریں۔ ان کے علاوہ کسی بھی کافر عورت کے سامنے اظہار زینت منع ہے یہی رائے حضرت عمرو عبد اللہ بن عباس رضی الله عنہ و مجاھد اور امام احمد بن حنبل سے منقول ہے۔ بعض نے اس سے وہ مخصوص عورتیں مراد لی ہیں، جو خدمت وغیرہ کے لئے ہر وقت ساتھ رہتی ہیں، جن میں باندیاں (لونڈیاں) بھی شامل ہیں۔
٣١۔٩ بعض نے اس سے مراد صرف لونڈیاں اور بعض نے صرف غلام لئے ہیں اور بعض نے دونوں ہی۔ حدیث میں بھی صراحت ہے کہ غلام سے پردے کی ضرورت نہیں ہے۔ (أبو داود- كتاب اللباس باب في العبد ينظر إلى شعر مولاته) اس طرح بعض نے اسے عام رکھا ہے جس میں مومن اور کافر دونوں غلام شامل ہیں۔
٣١۔١٠ بعض نے ان سے صرف وہ افراد مراد لئے ہیں جن کا گھر میں رہنے سے، کھانے پینے کے سوا کوئی اور مقصد نہیں۔ بعض نے بے وقوف ، بعض نے نامرد ا ور خصی اور بعض نے بالکل بوڑھے مراد لئے ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ جن کے اندر بھی قرآن کی بیان کردہ صفت پائی جائے گی، وہ سب اس میں شامل اور دوسرے خارج ہوں گے۔
٣١۔١١ ان سے ایسے بچے خارج ہوں گے جو بالغ ہوں یا بلوغت کے قریب ہوں کیونکہ وہ عورتوں کے پردوں کی باتوں سے واقف ہوتے ہیں۔
٣١۔١٢ تاکہ پازیبوں کی جھنکار سے مرد اس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ اسی میں اونچی ایڑی کے وہ سینڈل بھی آجاتے ہیں جنہیں عورت پہن کر چلتی ہے ٹک ٹک کی آواز، زیور کی جھنکار سے کم نہیں ہوتی۔ اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ عورت کے لئے خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں، جو عورت ایسا کرتی ہے، وہ بدکار ہے (ترمذی، أبواب الاستئذان، أبو داود، كتاب الترجل)۔
٣١۔١٣ یہاں پردے کے احکام میں توبہ کا حکم دینے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان احکام کی جو خلاف ورزی بھی تم کرتے رہے ہو، وہ چونکہ اسلام سے قبل کی باتیں ہیں، اس لئے اگر تم نے سچے دل سے توبہ کر لی اور ان احکام مذکورہ کے مطابق پردے کا صحیح اہتمام کرلیا تو فلاح و کامیابی اور دنیا و آخرت کی سعادت تمہارا مقدر ہے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَ‌اءَ يُغْنِهِمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ﴿٣٢﴾
تم سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو (١) اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ (٢) اگر وہ مفلس بھی ہوں گیے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ (٣) اللہ تعالیٰ کشادگی والا علم والا ہے۔
٣٢۔١ أَيَامَىٰ، أَيِّمٌ کی جمع ہے۔ أَيِّمٌ ایسی عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند نہ ہو، جس میں کنواری، بیوہ اور مطلقہ تینوں آجاتی ہیں۔ اور ایسے مرد کو بھی أَيِّمٌ کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو۔ آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کر دو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کر لو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مرد و عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی۔ جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح امر کے صیغے سے بعض نے استدلال کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ بعض نے اسے مباح اور بعض نے مستحب قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت موکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے اعراض سخت وعید کا باعث ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي (البخاری: ۵۰۶۳، ومسلم: ۱۰۲۰) "جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں۔
٣٢۔٢ یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں یا نہیں؟ بعض اکراہ کے قائل ہیں، بعض نہیں۔ تاہم اندیشہ ضرر کی صورت میں شرعاً مجبور کرنا جائز ہے۔ بصورت دیگر غیر مشروع (الیسر التفاسیر)
٣٢۔٣ یعنی محض غربت اور تنگ دستی نکاح میں مانع نہیں ہونی چاہیے۔ ممکن ہے نکاح کے بعد اللہ ان کی تنگ دستی کو اپنے فضل سے وسعت و فراخی میں بدل دے۔ حدیث میں آتا ہے تین شخص ہیں جن کی اللہ ضرور مدد فرماتا ہے ١۔ نکاح کرنے والا، جو پاک دامنی کی نیت سے نکاح کرتا ہے ٢۔ مکاتب غلام، جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہے ٣۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرً‌ا ۖ وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّـهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِ‌هُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَ‌دْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَ‌ضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَن يُكْرِ‌ههُّنَّ فَإِنَّ اللَّـهَ مِن بَعْدِ إِكْرَ‌اهِهِنَّ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٣٣﴾
اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے (١) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں سے جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کر دیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو (٢) اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی (٣) دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو (٤) اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔ (٥)
٣٣۔١ حدیث میں پاک دامنی کے لئے، جب تک شادی کی استطاعت حاصل نہ ہو جائے، نفلی روزے رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ فرمایا "اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، اسے (اپنے وقت پر) شادی کر لینی چاہیے، اس لئے کہ اس سے آنکھوں اور شرم گاہ کی حفاظت ہو جاتی ہے اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا، اسے چاہیے کہ وہ (کثرت سے نفلی) روزے رکھے، روزے اس کی جنسی خواہش کو قابو میں رکھیں گے (البخاری، كتاب الصوم، باب الصوم لمن خاف على نفسه العزوبة مسلم- أول كتاب النكاح)۔
٣٣۔٢ مُكَاتَبٌ، اس غلام کو کہا جاتا ہے جو اپنے مالک سے معاہدہ کر لیتا ہے کہ میں اتنی رقم جمع کر کے ادا کر دوں گا تو آزادی کا مستحق ہو جاؤں گا۔ (بھلائی نظر آنے) کا مطلب ہے، اس کے صدق و امانت پر تمہیں یقین ہو یا کسی حرفت و صنعت سے وہ آگاہی رکھتا ہو۔ تاکہ وہ محنت کر کے کمائے اور رقم ادا کر دے۔ اسلام نے چونکہ زیادہ سے زیادہ غلامی کی حوصلہ شکنی کی پالیسی اپنائی تھی، اس لئے یہاں بھی مالکوں کو تاکید کی گئی کہ مکاتبت کے خواہش مند غلاموں سے معاہدہ کرنے میں تامل نہ کرو بشرطیکہ تمہیں ان کے اندر ایسی بات معلوم ہو کہ جس سے تمہاری رقم کی ادائیگی بھی ممکن ہو۔ بعض علما کے نزدیک یہ امر وجوب کے لئے اور بعض کے نزدیک استحباب کے لئے ہے۔
٣٣۔٣ اس کا مطلب ہے کہ غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اس نے جو معاہدہ کیا ہے اور اب وہ رقم کا ضرورت مند ہے تاکہ معاہدے کے مطابق وہ رقم ادا کر دے تو تم بھی اس کے ساتھ مالی تعاون کرو، اگر اللہ نے تمہیں صاحب حیثیت بنایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے جو مصارف ثمانیہ (التوبہ: ۶۰) میں بیان فرمائے ہیں، ان میں ایک وفي الرِّقَابِ بھی ہے جس کے معنی ہیں، گردنیں آزاد کرانے میں۔ یعنی غلاموں کی آزادی پر بھی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔
٣٣۔٤ زمانۂ جاہلیت میں لوگ محض دنیوی مال کے لئے اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے۔ چنانچہ خواہی نخواہی انہیں یہ داغ ذلت برداشت کرنا پڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا ﴿إِنْ أَرَدْنَ ﴾ غالب احوال کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ مقصد یہ نہیں ہے کہ اگر وہ بدکاری کو پسند کریں تو پھر تم ان سے یہ کام کروا لیا کرو۔ بلکہ حکم دینا یہ مقصود ہے کہ لونڈیوں سے، دنیا کے تھوڑے سے مال کے لئے، یہ کام مت کرواؤ، اس لئے کہ اس طرح کی کمائی ہی حرام ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔
٣٣۔٥ یعنی جن لونڈیوں سے جبراً یہ بے حیائی کا کام کروایا جائے گا، تو گناہ گار مالک ہو گا یعنی جبر کرنے والا، نہ کہ لونڈی جو مجبور ہے۔ حدیث میں آتا ہے ”میری امت سے، خطا، نسیان اور ایسے کام جو جبر سے کرائے گئے ہوں، معاف ہیں“۔ (ابن ماجہ، كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسي)۔


وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ آيَاتٍ مُّبَيِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِّنَ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٣٤﴾
ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتار دی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔

اللَّـهُ نُورُ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ مَثَلُ نُورِ‌هِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّ‌يٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَ‌ةٍ مُّبَارَ‌كَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْ‌قِيَّةٍ وَلَا غَرْ‌بِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ‌ ۚ نُّورٌ‌ عَلَىٰ نُورٍ‌ ۗ يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِ‌هِ مَن يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِ‌بُ اللَّـهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿٣٥﴾
اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا، (١) اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی طرح قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وہ چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وہ تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے، (٢) اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے (٢) لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے، (٣) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے۔
٣٥۔١ یعنی اگر اللہ نہ ہوتا تو نہ آسمان میں نور ہوتا نہ زمین میں، نہ آسمان و زمین میں کسی کو ہدایت ہی نصیب ہوتی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان و زمین کو روشن کرنے والا ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کا رسول (بحیثیت صفات کے) نور ہے۔ یعنی ان دونوں کے ذریعے سے زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی اور روشنی حاصل کی جاتی ہے، جس طرح چراغ اور بلب سے انسان روشنی حاصل کرتا ہے۔ حدیث سے بھی اللہ کا نور ہونا ثابت ہے، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ (البخاری، باب التهجد بالليل، ومسلم كتاب صلاة المسافرين باب الدعاء في صلاة الليل) پس اللہ، اس کی ذات نور ہے، اس کا حجاب نور ہے اور ہر ظاہری اور معنوی نور کا خالق، اس کا عطا کرنے والا اور اس کی طرف ہدایت کرنے والا صرف ایک اللہ ہے (ایسرالتفاسیر)۔
٣٥۔٢ یعنی جس طرح ایک طاق میں ایسا چراغ ہو، جو شیشے کی قندیل میں ہو، اس میں ایک بابرکت درخت کا ایسا خاص تیل ڈالا گیا ہو کہ وہ آگ (دیا سلائی) دکھائے بغیر ہی بذات خود روشن ہو جانے کے قریب ہو۔ یوں یہ ساری روشنیاں ایک طاق میں مجتمع ہو گئیں اور وہ بقعہ نور بن گیا۔ اسی طرح اللہ کے نازل کردہ دلائل و براہین کی حیثیت ہے کہ وہ واضح بھی ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر بھی یعنی نور علیٰ نور جو مشرقی ہے، نہ مغربی کا مطلب ہے، وہ درخت ایسے کھلے میدان اور صحرا میں ہے کہ اس پر دھوپ صرف سورج کے چڑھنے کے وقت یا غروب کے وقت ہی نہیں پڑتی، بلکہ سارا دن وہ دھوپ میں رہتا ہے اور ایسے درخت کا پھل بہت عمدہ ہوتا ہے اور مراد اس سے زیتون کا درخت ہے جس کا پھل اور تیل سالن کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور چراغ میں تیل کے طور پر بھی۔
٣٥۔٣ نور سے مراد ایمان و اسلام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جن کے اندر ایمان کی رغبت اور اس کی طلب دیکھتا ہے، ان کی اس نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے، جس سے دین و دنیا کی سعادتوں کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے ہیں۔
٣٥۔ ٣ جس طرح اللہ نے یہ مثال بیان فرمائی، جس میں اس نے ایمان کو اور اپنے مومن بندے کے دل میں اس کے راسخ ہونے اور بندوں کے احوال قلوب کا علم رکھنے کو واضح فرمایا کہ کون ہدایت کا اہل ہے اور کون نہیں۔
 
Top