• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْ‌فَعَ وَيُذْكَرَ‌ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ﴿٣٦﴾
ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے (١) وہاں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔ (٢)
٣٦۔١ جب اللہ تعالیٰ نے قلب مومن کو اور اس میں جو ایمان و ہدایت اور علم ہے، اس کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی جو شیشے کی قندیل میں ہو اور جو صاف اور شفاف تیل سے روشن ہو۔ تو اب اس کا محل بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ قندیل ایسے گھروں میں ہیں، جن کی بابت حکم دیا گیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے مراد مسجدیں ہیں، جو اللہ کو زمین کے حصوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ بلندی سے مراد سنگ و خشت کی بلندی نہیں ہے بلکہ اس میں مسجدوں کو گندگی، لغویات اور غیر مناسب اقوال و افعال سے پاک رکھنا بھی شامل ہے۔ ورنہ محض مسجدوں کی عمارتوں کو عالی شان اور فلک بوس بنا دینا، مطلوب نہیں ہے بلکہ احادیث میں مسجدوں کو زرنگار اور زیادہ آراستہ و پیراستہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور ایک حدیث میں تو اسے قرب قیامت کی علامات میں بتلایا گیا ہے۔ (أبو داود، كتاب الصلاة باب في بناء المساجد) علاوہ ازیں، جس طرح مسجدوں میں تجارت و کاروبار اور شور و شغب ممنوع ہیں کیونکہ یہ مسجد کے اصل مقصد، عبادت کے منافی ہیں۔ اسی طرح اللہ کا ذکر کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صرف ایک اللہ کا ذکر کیا جائے، اسی کی عبادت کی جائے اور صرف اسی کو مدد کے لئے پکارا جائے۔ ﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾ (سورة جن: ۱۸) ”مسجدیں، اللہ کے لئے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو“۔
٣٦۔٢ تسبیح سے مراد نماز ہے۔ آصَالٌ، أَصِيلٌ کی جمع ہے بمعنی شام۔ یعنی اہل ایمان، جن کے دل ایمان و ہدایت کے نور سے روشن ہوتے ہیں، صبح و شام مسجدوں میں اللہ کی رضا کے لئے نماز پڑھتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رِ‌جَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَ‌ةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ‌ اللَّـهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ‌ ﴿٣٧﴾
ایسے لوگ (١) جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔ (١)
٣٧۔١ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ اگرچہ عورتوں کا مسجدوں میں جا کر نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ نہایت سادہ لباس میں، بغیر خوشبو لگائے اور باپردہ جائیں، جس طرح کہ عہد رسالت مآب ﷺ میں عورتیں مسجد نبوی میں نماز کے لئے حاضر ہوتی تھیں۔ تاہم ان کے لئے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔ حدیث میں بھی اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔ (أبو داود، كتاب الصلاة، باب التشديد في ذلك، مسند أحمد، ۶ / ۲۹۷، ۳۰۱)
٣٧۔٢ یعنی شدت فزع اور ہولناکی کی وجہ سے۔ جس طرح دوسرے مقام پر ہے۔ ﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ﴾ (سورة المؤمن: ۱۸) ”ان کو قیامت والے دن سے ڈراؤ ، جس دن دل، گلوں کے پاس آ جائیں گے، غم سے بھرے ہوئے“۔ ابتداءً دلوں کی یہ کیفیت سب کی ہی ہو گی، مومن کی بھی اور کافر کی بھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيَجْزِيَهُمُ اللَّـهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ يَرْ‌زُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ ﴿٣٨﴾
اس ارادے سے کہ اللہ انہیں اور ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے شمار روزیاں دیتا ہے۔ (١)
٣٨۔١ قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کی نیکیوں کا بدلہ اَضعَافََا مُضَاعَفَۃََ (کئی کئی گنا) کی صورت میں دیا جائے گا اور بہت سوں کو بے حساب ہی جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور وہاں رزق کی فراوانی اور اس میں جو تنوع و تلذذ ہو گا، اس کا تو اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَ‌ابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّـهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ ۗ وَاللَّـهُ سَرِ‌يعُ الْحِسَابِ ﴿٣٩﴾
اور کافروں کے اعمال مثل اس چمکتی ہوئی ریت کے ہیں جو چٹیل میدان میں ہو جیسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا، ہاں اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے۔ (١) اللہ بہت جلد حساب کر دینے والا ہے۔
٣٩۔١ أَعْمَالٌ سے مراد، وہ اعمال ہیں جنہیں کافر و مشرک نیکیاں سمجھ کر کرتے ہیں، جیسے صدقہ و خیرات، صلۂ رحمی، بیت اللہ کی تعمیر اور حاجیوں کی خدمت وغیرہ۔ سَرَابٌ، اس چمکتی ہوئی ریت کو کہتے ہیں، جو دور سے سورج کی شعاعوں کی وجہ سے پانی نظر آتی ہے۔ سَرَابٌ کے معنی ہی چلنے کے ہیں۔ وہ ریت، چلتے ہوئے پانی کی طرح نظر آتی ہے قِيعَةٌ، قَاعِِ کی جمع ہے، زمین کا نشیبی حصہ، جس میں پانی ٹھہر جاتا ہے یا چٹیل میدان۔ یہ کافروں کے عملوں کی مثال ہے کہ جس طرح سراب دور سے پانی نظر آتا ہے حالانکہ وہ ریت ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح کافر کے عمل عدم ایمان کی وجہ سے اللہ کے ہاں بالکل بے وزن ہوں گے، ان کا کوئی صلہ انہیں نہیں ملے گا۔ ہاں جب وہ اللہ کے پاس جائے گا، تو وہ اس کے عملوں کا پورا پورا حساب چکا لے گا۔

أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ‌ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَ‌جَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَ‌اهَا ۗ وَمَن لَّمْ يَجْعَلِ اللَّـهُ لَهُ نُورً‌ا فَمَا لَهُ مِن نُّورٍ‌ ﴿٤٠﴾
یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو، پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پے در پے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے، (١) اور (بات یہ ہے کہ) جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی۔
٤٠۔١ یعنی دنیا میں ایمان و اسلام کی روشنی نصیب نہیں ہوتی اور آخرت میں بھی اہل ایمان کو ملنے والے نور سے وہ محروم رہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّ اللَّـهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَالطَّيْرُ‌ صَافَّاتٍ ۖ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴿٤١﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے (١) اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے، (٢) لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے۔ (٣)
٤١۔١ صَافَّاتٌ کے معنی ہیں بَاسِطَاتِِ اور اس کا مفعول أَجْنِحَتَهَا محذوف ہے۔ اپنے پر پھیلائے ہوئے۔ ﴿مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ﴾ میں پرندے بھی شامل تھے۔ لیکن یہاں ان کا ذکر الگ سے کیا، اس لئے کہ پرندے، تمام حیوانات میں ایک نہایت ممتاز مخلوق ہیں، جو اللہ کی قدرت کاملہ سے آسمان و زمین کے درمیان فضا میں اڑتے ہوئے اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ یہ مخلوق اڑنے پر بھی قدرت رکھتی ہے جس سے دیگر تمام حیوانات محروم ہیں اور زمین پر چلنے پھرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے۔
٤١۔٢ یعنی اللہ نے ہر مخلوق کو یہ علم الہام و القا کیا ہے کہ وہ اللہ کی تسبیح کس طرح کرے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بخت و اتفاق کی بات نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا تسبیح کرنا اور نماز ادا کرنا یہ بھی اللہ ہی کی قدرت کا ایک مظہر ہے، جس طرح ان کی تخلیق اللہ کی ایک صنعت بدیع ہے، جس پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں۔
٤١۔٣ یعنی اہل زمین و اہل آسمان جس طرح اللہ کی اطاعت اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، سب اس کے علم میں ہے، یہ گویا انسانوں اور جنوں کو تنبیہ ہے کہ تمہیں اللہ نے شعور اور ارادے کی آزادی دی ہے تو تمہیں تو دوسری مخلوقات سے زیادہ اللہ کی تسبیح و تحمید اور اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دیگر مخلوقات تو تسبیح الٰہی میں مصروف ہیں۔ لیکن شعور اور ارادہ سے بہرہ ور مخلوق اس میں کوتاہی کا ارتکاب کرتی ہے۔ جس پر یقیناً وہ اللہ کی گرفت کی مستحق ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۖ وَإِلَى اللَّـهِ الْمَصِيرُ‌ ﴿٤٢﴾
زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ (١)
٤٢۔١ پس وہی اصل حاکم ہے، جس کے حکم کا کوئی تعاقب کرنے والا نہیں اور وہی معبود برحق ہے، جس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں وہ ہر ایک کے بارے میں عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّ اللَّـهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُ‌كَامًا فَتَرَ‌ى الْوَدْقَ يَخْرُ‌جُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَ‌دٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ وَيَصْرِ‌فُهُ عَن مَّن يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْ‌قِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ‌ ﴿٤٣﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے، (١) وہی آسمانوں کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے، پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے۔ (٢) بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی۔ (٣)
٤٣۔١ اس کا ایک مطلب تو یہی ہے جو ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے کہ آسمان میں اولوں کے پہاڑ ہیں جن سے وہ اولے برساتا ہے۔ (ابن کثیر) دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ سماء بلندی کے معنی میں ہے اور جبال کے معنی ہیں بڑے بڑے ٹکڑے، پہاڑوں جیسے، یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں سے بارش ہی نہیں برساتا بلکہ بلندیوں سے جب چاہتا ہے برف کے بڑے بڑے ٹکڑے بھی نازل فرماتا ہے، (فتح القدیر) یا پہاڑ جیسے بڑے بڑے بادلوں سے اولے برساتا ہے۔
٤٣۔٢ یعنی وہ اولے اور بارش بطور رحمت جنہیں چاہتا ہے، پہنچاتا ہے اور جنہیں چاہتا ہے ان سے محروم رکھتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ژالہ باری (اولے) کے عذاب سے جسے چاہتا ہے دوچار کر دیتا ہے۔ جس سے ان کی فصلیں تباہ اور کھیتیاں برباد ہو جاتی ہیں اور جن پر اپنی رحمت کرنا چاہتا ہے ان کو اس سے بچا لیتا ہے۔
٤٣۔٣ یعنی بادلوں میں چمکنے والی بجلی، جو عام طور پر بارش کی نوید جاں فزا ہوتی ہے اس میں اتنی شدت کی چمک ہوتی ہے کہ وہ آنکھوں کی بصارت لے جانے کے قریب ہو جاتی ہے۔ یہ بھی اس کی صناعی کا ایک نمونہ ہے۔

يُقَلِّبُ اللَّـهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَ‌ةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ‌ ﴿٤٤﴾
اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو رد و بدل کرتا رہتا ہے (١) آنکھوں والوں کے لئے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔
٤٤۔١ یعنی کبھی دن بڑے، راتیں چھوٹی اور کبھی اس کے برعکس۔ یا کبھی دن کی روشنی، کو بادلوں کی تاریکیوں سے اور رات کے اندھیروں کو چاند کی روشنی سے بدل دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاللَّـهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِّن مَّاءٍ ۖ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ رِ‌جْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَىٰ أَرْ‌بَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٤٥﴾
تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہے ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں (١) بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں۔ (٢) بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں، (٣)، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ (٤) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
٤٥۔١ جس طرح سانپ، مچھلی اور دیگر حشرات الارض کیڑے مکوڑے ہیں۔
٤٥۔٢ جیسے انسان اور پرند ہیں۔
٤٥۔٣ جیسے تمام چوپائے اور دیگر حیوانات ہیں۔
٤٥۔٤ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بعض حیوانات ایسے بھی ہیں جو چار سے بھی زیادہ پاؤں رکھتے ہیں، جیسے کیکڑا، مکڑی اور بہت سے زمینی کیڑے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ مُّبَيِّنَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٤٦﴾
بلا شک و شبہ ہم نے روشن اور واضح آیتیں اتار دی ہیں اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ (١)
٤٦۔١ آيَاتٌ مُبَيِّنَاتٌ سے مراد قرآن کریم ہے جس میں ہر اس چیز کا بیان ہے جس کا تعلق انسان کے دین و اخلاق سے ہے جس پر اس کی فلاح و سعادت کا انحصار ہے۔ ﴿مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ﴾ (الأنعام: ۱۳۸) "ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان میں کوتاہی نہیں کی"۔ جسے ہدایت نصیب ہونی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے نظر صحیح اور قلب صادق عطا فرما دیتا ہے جس سے اس کے لئے ہدایت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد یہی ہدایت کا راستہ ہے جس میں کوئی کجی نہیں، اسے اختیار کرکے انسان اپنی منزل مقصود جنت تک پہنچ جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالرَّ‌سُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِ‌يقٌ مِّنْهُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَـٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٧﴾
اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان لائے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں۔ (١)
٤٧۔١ یہ منافقین کا بیان ہے جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن دلوں میں کفر و عناد تھا یعنی اعتقاد صحیح سے محروم تھے۔ اس لئے زبان سے اظہار ایمان کے باوجود ان کے ایمان کی نفی کی گئی۔
 
Top