• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا ﴿٤٤﴾
کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وہ تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے۔ (۱)
٤٣۔١ یعنی یہ چوپائے جس مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، اسے وہ سمجھتے ہیں۔ لیکن انسان، جسے صرف ایک اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا تھا، وہ رسولوں کی یاد دہانی کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتا اور در در پر اپنا ماتھا ٹیکتا پھرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ یقیناً چوپائے سے بھی زیادہ بد تر اور گمراہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا ﴿٤٥﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ہے؟ (١) اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا۔ (٢) پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا۔ (٣)
٤٥۔١ یہاں سے پھر توحید کے دلائل کا آغاز ہو رہا ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کس طرح سایہ پھیلایا ہے، جو صبح صادق کے بعد سے سورج کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یعنی اس وقت دھوپ نہیں ہوتی، دھوپ کے ساتھ یہ سمٹنا اور سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔
٤٥۔٢ یعنی ہمیشہ سایہ ہی رہتا، سورج کی دھوپ سائے کو ختم ہی نہ کرتی۔
٤٥۔٣ یعنی دھوپ سے ہی سائے کا پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر سورج نہ ہوتا، تو سائے سے بھی لوگ متعارف نہ ہوتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ قَبَضْنَاهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرً‌ا ﴿٤٦﴾
پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ (۱)
٤٦۔۱ یعنی وہ سایہ آہستہ آہستہ ہم اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور اس کی جگہ رات کا گمبیھر اندھیرا چھا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ‌ نُشُورً‌ا ﴿٤٧﴾
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ بنایا (١) اور نیند کو راحت بنائی (٢) اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت۔ (٣)
٤٧۔١ یعنی لباس، جس طرح لباس انسانی ڈھانچے کو چھپا لیتا ہے، اسی طرح رات تمہیں اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔
٤٧۔٢ سبات کے معنی کاٹنے کے ہوتے ہیں۔ نیند انسان کے جسم کو عمل سے کاٹ دیتی ہے، جس سے اس کو راحت میسر آتی ہے۔ بعض کے نزدیک سبات کے معنی تمدد پھیلنے کے ہیں۔ نیند میں انسان دراز ہو جاتا ہے، اس لیے اسے سبات کہا (ایسر التفاسیر وفتح القدیر)
٤٧۔٣ یعنی نیند، جو موت کی بہن ہے، دن کو انسان اس نیند سے بیدار ہو کر کاروبار اور تجارت کے لیے پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ صبح بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ الْحَمْدِ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيهِ النُّشُورُ (رواه البخاری- مشكاة، كتاب الدعوات) ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اکٹھے ہونا ہے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ الَّذِي أَرْ‌سَلَ الرِّ‌يَاحَ بُشْرً‌ا بَيْنَ يَدَيْ رَ‌حْمَتِهِ ۚ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورً‌ا ﴿٤٨﴾
اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوش خبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ (١)
٤٨۔١ طہورٌ (بِفَتْحِ الطَّاءِ) فعول کے وزن پر آلے کے معنی میں ہے یعنی ایسی چیز جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ جیسے وضو کے پانی کو وضو اور ایندھن کو وقود کہا جاتا ہے، اس معنی میں پانی طاہر (خود بھی پاک) اور مطہر (دوسروں کو پاک کرنے والا) بھی ہے۔ حدیث میں بھی ہے [إِنَّ الْمَاءَ طہورٌ لا يُنَجِّسُه شَيْءٌ] (أبو داود والترمذی: ۶۶، النسائي و ابن ماجہ وصححه الألباني في السنن) ”پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ ہاں اگر اس کا رنگ یا بو یا ذائقہ بدل جائے تو ایسا پانی ناپاک ہے۔ كَمَا فِي الحَدِيثِ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّنُحْيِيَ بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرً‌ا ﴿٤٩﴾
تاکہ اس کے ذریعے سے مردہ شہر کو زندہ کر دیں اور اسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں۔

وَلَقَدْ صَرَّ‌فْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُ‌وا فَأَبَىٰ أَكْثَرُ‌ النَّاسِ إِلَّا كُفُورً‌ا ﴿٥٠﴾
اور بیشک ہم نے اسے ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ (١) وہ نصیحت حاصل کریں، مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانا نہیں۔ (۲)
۵۰۔۱ یعنی قرآن کریم کو۔ اور بعض نے صَرَّفْنَاهُ میں ھا کا مرجع بارش قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ بارش کو ہم پھیر پھیر کر برساتے ہیں یعنی کبھی ایک علاقے میں، کبھی دوسرے علاقے میں۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی ایک ہی شہر کے ایک حصے میں بارش ہوتی ہے، دوسروں میں نہیں ہوتی اور کبھی دوسرے حصوں میں ہوتی ہے، پہلے حصے میں نہیں ہوتی یہ اللہ کی حکمت و مشیت ہے، وہ جس طرح چاہتا ہے، کہیں بارش برساتا ہے اور کہیں نہیں اور کبھی کسی علاقے میں اور کبھی کسی اور علاقے میں۔
٥٠۔۲ اور ایک کفر اور ناشکری یہ بھی ہے کہ بارش کو مشیت الٰہی کی بجائے ستاروں کی گردش کا نتیجہ قرار دیا جائے، جیسا کہ اہل جاہلیت کہا کرتے تھے۔ کما فی الحدیث۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْ‌يَةٍ نَّذِيرً‌ا ﴿٥١﴾
اگر ہم چاہتے تو ہر ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج (١) دیتے۔
۵۱۔۱ لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اور صرف آپ کو ہی تمام بستیوں بلکہ تمام انسانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِ‌ينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرً‌ا ﴿٥٢﴾
پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں۔ (١)
٥٢۔١ جَاهِدْهُمْ بِهِ میں ”ھا“ کا مرجع قرآن ہے یعنی اس قرآن کے ذریعے سے جہاد کریں، یہ آیت مکی ہے، ابھی جہاد کا حکم نہیں ملا تھا۔ اس لیے مطلب یہ ہوا کہ قرآن کے اوامر و نواہی کھول کھول کر بیان کریں اور اہل کفر کے لیے جو زجر و توبیخ اور وعیدیں ہیں، وہ واضح کریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ الَّذِي مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ هَـٰذَا عَذْبٌ فُرَ‌اتٌ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْ‌زَخًا وَحِجْرً‌ا مَّحْجُورً‌ا ﴿٥٣﴾
اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا، (١) ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کر دی۔ (۲)
٥٣۔١ آب شیریں کو فُرَاتٌ کہتے ہیں، فرات کے معنی ہیں کاٹ دینا، توڑ دینا، میٹھا پانی پیاس کو کاٹ دیتا ہے یعنی ختم کردیتا ہے۔ أُجَاجٌ سخت کھاری یا کڑوا۔
۵۳۔۲ جو ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتی۔ بعض نے حِجْرًا مَحْجُورًا کے معنی کیے ہیں حَرَامًا مُحَرَّمًا، ان پر حرام کر دیا گیا ہے کہ میٹھا پانی کھاری یا کھاری پانی میٹھا ہو جائے۔ اور بعض مفسرین نے مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ کا ترجمہ کیا ہے، خَلَقَ الْمَاءَيْنِ، دو پانی پیدا کیے، ایک میٹھا اور دوسرا کھاری۔ میٹھا پانی تو وہ ہے جو نہروں، چشموں اور کنوؤں کی شکل میں آبادیوں کے درمیان پایا جاتا ہے جس کو انسان اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے اور کھاری پانی وہ ہے جو مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے سمندروں میں ہے، جو کہتے ہیں کہ زمین کا تین چوتھائی حصہ ہیں اورایک چوتھائی حصہ خشکی کا ہے جس میں انسانوں اور حیوانوں کا بسیرا ہے۔ یہ سمندر ساکن ہیں۔ البتہ ان میں مد و جزر ہوتا رہتا اور موجوں کا تلاطم جاری رہتا ہے۔ سمندری پانی کے کھاری رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے۔ میٹھا پانی زیادہ دیر تک کہیں ٹھہرا رہے تو وہ خراب ہو جاتا ہے، اس کے ذائقے، رنگ یا بو میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ کھاری پانی خراب نہیں ہوتا، نہ اس کا ذائقہ بدلتا ہے نہ رنگ اور بو۔ اگر ان ساکن سمندروں کا پانی بھی میٹھا ہوتا، تو اس میں بدبو پیدا ہو جاتی، جس سے انسانوں اور حیوانوں کا ﺯمین میں رہنا مشکل ہو جاتا۔ اس میں مرنے والے جانوروں کی سڑاند اس پر مستزاد۔ اللہ کی حکمت تو یہ ہے کہ ہزاروں برس سے یہ سمندر موجود ہیں اور ان میں ہزاروں جانور مرتے ہیں اور انہی میں گل سڑ جاتے ہیں۔ لیکن اللہ نے ان میں ملاحت (نمکیات) کی اتنی مقدار رکھ دی ہے کہ وہ اس کے پانی میں ذرا بھی بدبو پیدا نہیں ہونے دیتی۔ ان سے اٹھنے والی ہوائیں بھی صحیح ہیں اور ان کا پانی بھی پاک ہے حتیٰ کہ ان کا مردار بھی حلال ہے۔ کما فی الحدیث۔ (موطأ إمام مالك، ابن ماجہ، أبو داود، الترمذی، كتاب الطہارة، النسائي، كتاب المياه) تفسير ابن كثير۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرً‌ا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرً‌ا ۗ وَكَانَ رَ‌بُّكَ قَدِيرً‌ا ﴿٥٤﴾
وہ جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب والا اور سسرالی رشتوں والا کر دیا۔ (١) بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے۔
٥٤۔١ نسب سے مراد وہ رشتے داریاں ہیں جو باپ یا ماں کی طرف سے ہوں اور صھر سے مراد وہ قرابت مندی ہے جو شادی کے بعد بیوی کی طرف سے ہو، جس کو ہماری زبان میں سسرالی رشتے کہا جاتا ہے۔ ان دونوں رشتے داریوں کی تفصیل آیت ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ﴾ (النساء: ۲۳) اور ﴿وَلا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ﴾ (النساء: ۲۳) میں بیان کر دی گئی ہے۔ اور رضاعی رشتے داریاں حدیث کی رو سے نسبی رشتوں میں شامل ہے۔ جیسا کہ فرمایا [يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاِع مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ] (البخاری: ۲۶۴۵، ومسلم: ۱۰۷۰)
 
Top