• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَعْلَمُونَ ظَاهِرً‌ا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَ‌ةِ هُمْ غَافِلُونَ ﴿٧﴾
وہ تو (صرف) دنیاوی زندگی کے ظاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل ہی بے خبر ہیں۔ (١)
٧۔١ یعنی اکثر لوگوں کو دنیاوی معاملات کا خوب علم ہے۔ چنانچہ وہ ان میں تو اپنی چابک دستی اور مہارت فن کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کا فائدہ عارضی اور چند روزہ ہے لیکن آخرت کے معاملات سے یہ غافل ہیں جن کا نفع مستقل اور پائیدار ہے۔ یعنی دنیا کے امور کو خوب پہچانتے ہیں اور دین سے بالکل بے خبر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُ‌وا فِي أَنفُسِهِم ۗ مَّا خَلَقَ اللَّـهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثِيرً‌ا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَ‌بِّهِمْ لَكَافِرُ‌ونَ ﴿٨﴾
کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے (۱) سے مقرر وقت تک کے لیے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ (۲)
٨۔١ یا ایک مقصد اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، بے مقصد اور بیکار نہیں۔ اور وہ مقصد ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دی جائے۔ یعنی کیا وہ اپنے وجود پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح انہیں نیست سے ہست کیا اور پانی کے ایک حقیر قطرے سے ان کی تخلیق کی۔ پھر آسمان و زمین کا ایک خاص مقصد کے لیے وسیع و عریض سلسلہ قائم کیا، نیز ان سب کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا یعنی قیامت کا دن۔ جس دن یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں پر غور کرتے تو یقیناً اللہ کے وجود، اس کی ربوبیت و الوہیت اور اس کی قدرت مطلقہ کا انہیں ادراک و احساس ہو جاتا اور اس پر ایمان لے آتے۔
٨۔۲ اور اس کی وجہ وہی کائنات میں غور و فکر کا فقدان ہے ورنہ قیامت کےانکار کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَيَنظُرُ‌وا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُ‌وا الْأَرْ‌ضَ وَعَمَرُ‌وهَا أَكْثَرَ‌ مِمَّا عَمَرُ‌وهَا وَجَاءَتْهُمْ رُ‌سُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿٩﴾
کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا (١) کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا؟ (٢) وہ ان سے بہت زیادہ توانا اور طاقتور تھے (٣) اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور (٤) ان سے زیادہ آباد کی تھی (٥) اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ (٦) یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان (٧) پر ظلم کرتا لیکن (دراصل) وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ (٨)
٩۔١ یہ آثار و کھنڈرات اور نشانات عبرت پر غور و فکر نہ کرنے پر توبیخ کی جا رہی ہے۔ مطلب ہے کہ چل پھر کر وہ مشاہدہ کر چکے ہیں۔
٩۔٢ یعنی ان کافروں کا، جن کو اللہ نے ان کے کفر باللہ، حق کے انکار اور رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا۔
٩۔٣ یعنی قریش اور اہل مکہ سے زیادہ۔
٩۔٤ یعنی اہل مکہ تو کھیتی باڑی سے ناآشنا ہیں لیکن پچھلی قومیں اس وصف میں بھی ان سے بڑھ کر تھیں۔
٩۔٥ اس لیے کہ ان کی عمریں بھی زیادہ تھیں، جسمانی قوت میں بھی زیادہ تھے اسباب معاش بھی ان کو زیادہ حاصل تھے، پس انہوں نے عمارتیں بھی زیادہ بنائیں، زراعت و کاشتکاری بھی کی اور وسائل رزق بھی زیادہ مہیا کئے۔
٩۔٦ لیکن وہ ان پر ایمان نہیں لائے۔ نتیجتاً تمام تر قوتوں، ترقیوں اور فراغت و خوش حالی کے باوجود ہلاکت ان کا مقدر بن کر رہی۔
٩۔٧ کہ انہیں بغیر گناہ کے عذاب میں مبتلا کر دیتا
٩۔٨ یعنی اللہ کا انکار اور رسولوں کی تکذیب کر کے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاءُوا السُّوأَىٰ أَن كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِئُونَ ﴿١٠﴾
پھر آخرش برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، (١) اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔
١٠۔١ سُوآى، بروزن فُعْلَى، سُوءٌ سے أَسْوَأُ کی تانیث ہے جیسے حُسْنَى، أَحْسَنُ کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ ﴿١١﴾
اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے (١) گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (۲)
١١۔١ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادرہے، وہ مرنے کے بعد دوبارہ انہیں زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس لیے کہ دوبارہ پیدا کرنا، پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔
١١۔۲ یعنی میدان محشر اور موقف حساب میں، جہاں وہ عدل و انصاف کا اہتمام فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِ‌مُونَ ﴿١٢﴾
اور جس دن قیامت قائم ہو گی تو گناہگار حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ (١)
١٢۔١ إِبْلاسٌ کے معنی ہیں، اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کر سکنا اور حیران و ساکت کھڑے رہنا۔ اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کر لیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مُبْلِسٌ وہ ہو گا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے دلیل نہ سوجھ رہی ہو، قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہو گا یعنی معاینہ عذاب کے بعد وہ ہر خبرسے مایوس اور دلیل و حجت پیش کرنے سے قاصر ہوں گے۔ مجرموں سے مراد کافر و مشرک ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے واضح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَمْ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَ‌كَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَ‌كَائِهِمْ كَافِرِ‌ينَ ﴿١٣﴾
اور ان تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا شفارشی نہ ہو گا (١) اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے۔ (۲)
١٣۔١ شریکوں سے مراد وہ معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرکین، یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے، اور انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ لیکن اللہ نے یہاں وضاحت فرما دی کہ اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اللہ کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہو گا۔
١٣۔۲ یعنی وہاں ان کی الوہیت کے منکر ہو جائیں گے کیونکہ وہ دیکھ لیں گے کہ یہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ (فتح القدیر) دوسرے معنی ہیں کہ یہ معبود اس بات سے انکار کر دیں گے کہ یہ لوگ انہیں اللہ کا شریک گردان کر ان کی عبادت کرتے تھے، کیونکہ وہ تو ان کی عبادت سے ہی بے خبر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّ‌قُونَ ﴿١٤﴾
اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی۔ (١)
١٤۔١ اس سے مراد ہر فرد کا دوسرے فرد سے الگ ہونا نہیں ہے۔ بلکہ مطلب مومنوں کا اور کافروں کا الگ الگ ہونا ہے۔ اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے اور ان کے درمیان دائمی جدائی ہو جائے گی، یہ دونوں پھر کبھی اکھٹے نہیں ہوں گے یہ حساب کے بعد ہو گا۔ چنانچہ اسی علیحدگی کی وضاحت اگلی آیات میں کی جا رہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَ‌وْضَةٍ يُحْبَرُ‌ونَ ﴿١٥﴾
جو ایمان لا کر نیک اعمال کرتے رہے وہ تو جنت میں خوش و خرم کر دیئے جائیں گے۔ (١)
١٥۔١ یعنی انہیں جنت میں اکرام و انعام سے نوازا جائے گا، جن سے وہ مزید خوش ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَ‌ةِ فَأُولَـٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُ‌ونَ ﴿١٦﴾
اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وہ سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے۔ (١)
١٦۔١ یعنی ہمیشہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں رہیں گے۔
 
Top