• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ يَبْسُطُ الرِّ‌زْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ‌ لَهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿٦٢﴾
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ۔ (١) یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (٢)
٦٢۔١ یہ مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ مسلمانوں پر کرتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو پھر غریب اور کمزور کیوں ہو؟ اللہ نے فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور کمی اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت کے مطابق جس کو چاہتا ہے کم یا زیادہ دیتا ہے، اس کا تعلق اس کی رضا مندی یا غضب سے نہیں ہے۔
٦٢۔٢ اس کو بھی وہی جانتا ہے کہ زیادہ رزق کس کے لیے بہتر ہے اور کس کے لیے نہیں؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْ‌ضَ مِن بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۚ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٦٣﴾
اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہو گا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے، بلکہ ان میں اکثر بےعقل ہیں۔ (١)
٦٣۔١ کیونکہ عقل ہوتی تو اپنے رب کےساتھ پتھروں کو اور مردوں کو رب نہ بناتے۔ نہ ان کے اندر یہ تناقض ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی خالقیت و ربوبیت کے اعتراف کے باوجود، بتوں کو حاجت روا اور لائق عبادت سمجھ رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا هَـٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ‌ الْآخِرَ‌ةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿٦٤﴾
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے (۱) البتہ آخرت کے گھر کی زندگی حقیقی زندگی ہے، (۲) کاش! یہ جانتے ہوتے۔ (۳)
٦٤۔١ یعنی جس دنیا نے انہیں آخرت سے اندھا اور اس کے لیے توشہ جمع کرنے سے غافل رکھا ہے، وہ ایک کھیل کود سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، کافر دنیا کے کاروبار میں مشغول رہتا ہے، اس کے لیے شب روز محنت کرتا ہے لیکن جب مرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے۔ جس طرح بچے سارا دن مٹی کے گھروندوں سے کھیلتے ہیں، پھر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، سوائے تھکاوٹ کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
٦٤۔۲ اس لیے ایسےعمل صالح کرنے چاہئے جن سے آخرت کا یہ گھر سنور جائے۔
٦٤۔۳ کیونکہ اگر وہ یہ بات جان لیتے تو آخرت سے بے پرواہ ہو کر دنیا میں مگن نہ ہوتے۔ اس لیے انکا علاج علم ہے، علم شریعت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِذَا رَ‌كِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ‌ إِذَا هُمْ يُشْرِ‌كُونَ ﴿٦٥﴾
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لیے عبادت کو خالص کرکے پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں۔ (١)
٦٥۔١ مشرکین کے اس تناقض کو بھی قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس تناقض کو حضرت عکرمہ رضی الله عنہ سمجھ گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں قبول اسلام کی توفیق حاصل ہو گئی۔ ان کے متعلق آیا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ مکہ سے فرار ہو گئے تاکہ نبی ﷺ کی گرفت سے بچ جائیں۔ یہ حبشہ جانے کے لیے ایک کشتی میں بیٹھے، کشتی گرداب میں پھنس گئی، تو کشتی میں سوار لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ پورے خلوص سے رب سے دعائیں کرو، اس لیے کہ یہاں اس کےعلاوہ کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ حضرت عکرمہ رضی الله عنہ نے یہ سن کر کہا کہ اگر یہاں سمندر میں اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ اور اسی وقت اللہ سے عہد کر لیا کہ اگر میں یہاں سے بخیرت ساحل پر پہنچ گیا تو میں محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا یعنی مسلمان ہو جاؤں گا، چنانچہ یہاں سے نجات پا کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا (رضی الله عنہ)۔ (ابن کثیر بحوالہ سیرت محمد بن اسحاق)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيَكْفُرُ‌وا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿٦٦﴾
تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور برتتے رہیں۔ (١) ابھی ابھی پتہ چل جائے گا۔
٦٦۔١ یہ لام کَی ہے جو علت کے لیے ہے۔ یعنی نجات کے بعد ان کا شرک کرنا، اس لیے ہے کہ وہ کفران نعمت کریں اور دنیا کی لذتوں سے متمتع ہوتے رہیں۔ کیونکہ اگر وہ یہ ناشکری نہ کرتے تو اخلاص پر قائم رہتے اور صرف الہٰ واحد کو ہی ہمیشہ پکارتے۔ بعض کے نزدیک یہ لام عاقبت کے لیے ہے، یعنی گو ان کا مقصد کفر کرنا نہیں ہے لیکن دوبارہ شرک کے ارتکاب کا نتیجہ بہرحال کفر ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَ‌مًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُ‌ونَ ﴿٦٧﴾
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو باامن بنا دیا ہے حالانکہ ان کے ارد گرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، (١) کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں۔ (١)
٦٧۔١ اللہ تعالیٰ اس احسان کا تذکرہ فرما رہا ہے جو اہل مکہ پر اس نے کیا کہ ہم نے ان کے حرم کو امن والا بنایا جس میں اس کے باشندے قتل و غارت، اسیری، لوٹ مار وغیرہ سے محفوظ ہیں، جب کہ عرب کے دوسرےعلاقے اس امن و سکون سے محروم ہیں قتل و غارت گری ان کے ہاں معمول اور آئے دن کا مشغلہ ہے۔
٦٧۔۲ یعنی کیا اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، اور جھوٹے معبودوں اور بتوں کی پرستش کرتے رہیں۔ اس احسان کا اقتضا تو یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے اور اس کے پیغمبر ﷺ کی تصدیق کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِ‌ينَ ﴿٦٨﴾
اور اس سے بڑا ظالم کون ہو گا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے (١) یا جب حق اس کے پاس آجائے وہ اسے (٢) جھٹلائے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہو گا؟
٦٨۔١ یعنی دعویٰ کرے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے دراں حالیکہ ایسا نہ ہو یا کوئی یہ کہے کہ میں بھی وہ چیز اتار سکتا ہوں جو اللہ نے اتاری ہے۔ یہ افتراہے اور مدعی مفتری۔
٦٨۔٢ یہ تکذیب ہے اور اس کا مرتکب مکذب۔ افترا اور تکذیب دونوں کفر ہیں جس کی سزا جہنم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ﴿٦٩﴾
اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں (١) ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ (۲) یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے۔ (۳)
٦٩۔١ یعنی دین پر عمل کرنے میں جو دشواریاں، آزمائشیں اور مشکلات پیش آتی ہیں۔
٦٩۔۲ اس سے مراد دنیا و آخرت کے وہ راستے ہیں جن پر چل کر انسان کو اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
٦٩۔۳ احسان کا مطلب ہے اللہ کو حاضر ناظر جان کر ہر نیکی کے کام کو اخلاص کے ساتھ کرنا، سنت نبوی ﷺ کے مطابق کرنا، برائی کے بدلے میں برائی کے بجائے حسن سلوک کرنا، اپنا حق چھوڑ دینا اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینا۔ یہ سب احسان کے مفہوم میں شامل ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الروم

(سورة الروم مکی ہے اور اس میں ساٹھ آیتیں اور چھ رکوع ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

الم ﴿١﴾ غُلِبَتِ الرُّ‌ومُ ﴿٢﴾
الم - رومی مغلوب ہو گئے ہیں۔

فِي أَدْنَى الْأَرْ‌ضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ﴿٣﴾
نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔

فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّـهِ الْأَمْرُ‌ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَ‌حُ الْمُؤْمِنُونَ ﴿٤﴾
چند سال میں ہی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس روز مسلمان شادمان ہوں گے۔

بِنَصْرِ‌ اللَّـهِ ۚ يَنصُرُ‌ مَن يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّ‌حِيمُ ﴿٥﴾
اللہ کی مدد سے، (١) وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے۔
٥۔١ عہد رسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک فارس (ایران) کی، دوسری روم کی۔ اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی یعنی اہل کتاب تھی۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ دونوں غیر اللہ کے پجاری تھے۔ جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں، اس لیے کہ عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی و رسالت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔ نبی ﷺ کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آ گئی، جس پر مشرکوں کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا، اس موقعہ پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں یہ پیش گوئی کی گئی کہ بِضْعِ سِنِينَ کے اندر رومی پھر غالب آ جائیں گے اور غالب، مغلوب اور مغلوب غالب ہو جائیں گے۔ بظاہر اسباب یہ پیش گوئی ناممکن العمل نظر آتی تھی۔ تاہم مسلمانوں کو اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے یقین تھا کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ اسی لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ نے ابوجہل سے یہ شرط باندھ لی کہ رومی پانچ سال کےاندر دوبارہ غالب آ جائیں گے۔ نبی ﷺ کے علم میں یہ بات آئی تو فرمایا کہ بِضْعٌ کا لفظ تین سے دس تک کےعدد کے لیے استعمال ہوتا ہے تم نے ۵ سال کی مدت کم رکھی ہے، اس میں اضافہ کر لو۔ چنانچہ آپ ﷺ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے اس مدت میں اضافہ کروا لیا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ رومی ۹ سال کی مدت کے اندر اندر یعنی ساتویں سال دوبارہ فارس پر غالب آ گئے، جس سے یقیناً مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی، (ترمذی، تفسیر سورۃ الروم) بعض کہتے ہیں کہ رومیوں کو یہ فتح اس وقت ہوئی، جب بدر میں مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوا،اور مسلمان اپنی فتح پر خوش ہوئے۔ رومیوں کی یہ فتح قرآن کریم کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ نزدیک کی زمین سے مراد، عرب کی زمین کے قریب کے علاقے ہیں، یعنی شام و فلسطین وغیرہ، جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَعْدَ اللَّـهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّـهُ وَعْدَهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٦﴾
اللہ کا وعدہ ہے، (١) اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
٦۔١ یعنی اے محمد! ﷺ ہم آپ کو جو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب رومی، فارس پر دوبارہ غالب آ جائیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو مدت موعود کے اندر یقیناً پورا ہو کر رہے گا۔
 
Top