• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَـٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ﴿١٣﴾
اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب (١) فرما دیتے، لیکن میری بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کر دوں گا۔ (٢)
١٣۔١ یعنی دنیا میں، لیکن یہ ہدایت جبری ہوتی، جس میں امتحان کی گنجائش نہ ہوتی۔
١٣۔٢ یعنی انسانوں کی دو قسموں میں سے جو جہنم میں جانے والے ہیں، ان سے جہنم کو بھرنے والی میری بات سچ ثابت ہو گئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذُوقُوا بِمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾
اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزہ چکھوِ، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا (١) اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزہ چکھو۔
١٤۔١ یعنی جس طرح تم ہمیں دینا میں بھلائے رہے، آج ہم بھی تم سے ایسا ہی معاملہ کریں گے ورنہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تو بھولنے والا نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُ‌وا بِهَا خَرُّ‌وا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَ‌بِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ ۩ ﴿١٥﴾
ہماری آیاتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں (١) جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں (٢) اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں (۳) اور تکبر نہیں کرتے۔ (٤)
١٥۔١ یعنی تصدیق کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
١٥۔٢ یعنی اللہ کی آیات کی تعظیم اور اس کی سطوت و عذاب سے ڈرتے ہوئے۔
١٥۔٣ یعنی رب کو ان چیزوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور اس کے ساتھ اس کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں جن میں سب سے بڑی اور کامل نعمت ایمان کی ہدایت ہے۔ یعنی وہ اپنے سجدوں میں (سَبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِه) یا (سُبْحَانَ رَبِّي الأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ) وغیر کلمات پڑھتے ہیں۔
١٥۔٤ یعنی اطاعت و انقیاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جاہلوں اور کافروں کی طرح تکبر نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرنا، جہنم میں جانے کا سبب ہے۔﴿إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾ (سورة المؤمن: ۶۰) اس لیے اہل ایمان کا معاملہ ان کے برعکس ہوتا ہے، وہ اللہ کے سامنے ہر وقت عاجزی، ذلت و مسکینی اور خشوع و خضوع کا اظہار کرتے ہیں۔
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَ‌بَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿١٦﴾
ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں (١) اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں (۲) اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔ (۳)
١٦۔١ یعنی راتوں کو اٹھ کر نوافل (تہجد) پڑھتے توبہ و استغفار، تسبیح و تحمید اور دعا الحاح و زاری کرتے ہیں۔
١٦۔٢ یعنی اس کی رحمت اور فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و غضب اور مؤاخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی امید نہیں رکھتے کہ عمل سے بے پرواہ ہو جائیں۔ (جیسے بے عمل اور بد عمل لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کر لیتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے ہی مایوس ہو جائیں کہ یہ مایوسی بھی کفر و ضلالت ہے۔
١٦۔۳ انفاق میں صدقات واجبہ (زکوۃ) اور عام صدقہ و خیرات دونوں شامل ہیں۔ اہل ایمان دونوں کا حسب استطاعت اہتمام کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّ‌ةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٧﴾
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیدہ کر رکھی ہے، (۱) جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔ (۲)
١٧۔١ نَفْسٌ، نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان نعمتوں کو جو اس نے مذکورہ اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔ اس کی تفسیر میں نبی ﷺ نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، نہ کسی انسان کے وہم وگمان میں ان کا گزر ہوا“۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ السجدۃ)۔
١٧۔۲ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمال صالحہ کا اہتمام ضروری ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُونَ ﴿١٨﴾
کیا وہ جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ (١) یہ برابر نہیں ہو سکتے۔
١٨۔١ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے ہاں مومن اور کافر برابر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان بڑا فرق و تفاوت ہو گا مومن اللہ کے مہمان ہوں گے اور اعزاز و اکرام کے مستحق اور فاسق و کافر تعزیر و عقوبت کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم کی آگ میں جھلسیں گے۔ اس مضمون کو دوسرے مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ جاثیہ: ۲۱، سورۂ ص: ۲۸، سورۂ حشر: ۲۰ وغیرھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَىٰ نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٩﴾
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لیے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے۔

وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ‌ ۖ كُلَّمَا أَرَ‌ادُوا أَن يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ‌ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿٢٠﴾
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ (١) اور کہہ دیا جائے گا کہ (٢) اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو۔
٢٠۔١ یعنی جہنم کے عذاب کی شدت اور ہولناکی سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو فرشتے انہیں پھر جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل دیں گے۔
٢٠۔٢ یہ فرشتے کہیں گے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی، بہرحال اس میں مکذبین کی ذلت ورسوائی کا جو سامان ہے، وہ مخفی نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ‌ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿٢١﴾
بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب (۱) اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وہ لوٹ آئیں۔ (۲)
٢١۔١ عذاب ادنیٰ (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کےنزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔
٢١۔۲ یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر و شرک اور معصیت سے باز آجائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ‌ بِآيَاتِ رَ‌بِّهِ ثُمَّ أَعْرَ‌ضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِ‌مِينَ مُنتَقِمُونَ ﴿٢٢﴾
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعظ کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا، (١) (یقین مانو) کہ ہم بھی گناہ گاروں سے انتقام لینے والے ہیں۔
٢٢۔١ یعنی اللہ کی آیتیں سن کر جو ایمان و اطاعت کی موجب ہیں، جو شخص ان سے اعراض کرتا ہے، اس سے بڑا ظالم کون ہے؟ یعنی یہی سب سے بڑا ظالم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُن فِي مِرْ‌يَةٍ مِّن لِّقَائِهِ ۖ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ ﴿٢٣﴾
بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک نہ کرنا (١) چاہیے اور ہم نے اسے (٢) بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا۔
٢٣۔١ کہا جاتا ہے کہ یہ اشارہ ہے اس ملاقات کی طرف جو معراج کی رات نبی ﷺ اور حضرت موسیٰ عليہ السلام کے درمیان ہوئی، جس میں حضرت موسیٰ عليہ السلام نے نمازوں میں تخفیف کرانے کا مشورہ دیا تھا۔
٢٣۔٢ (اسے) سے مراد کتاب (تورات) ہے یا خود حضرت موسیٰ عليہ السلام۔
 
Top