- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ﴿٥﴾
آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مشرقوں کا رب وہی ہے۔
٥۔١ مطلب ہے مشارق و مغارب کا رب۔ جمع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ، بعض کہتے ہیں کہ سال کے دنوں کی تعداد کے برابر مشرق و مغرب ہیں۔ سورج ہر روز ایک مشرق سے نکلتا اور ایک مغرب میں غروب ہوتا ہے اور سورۂ رحمٰن میں مَشْرِقَيْنِ اور مَغْرِبَيْنِ، تثنیہ کے ساتھ ہیں یعنی دو مشرق اور دو مغرب۔ اس سے مراد وہ مشرقین اور مغربین ہیں جن سے سورج گرمی اور سردی میں طلوع و غروب ہوتا ہے یعنی ایک انتہائی آخری مشرق و مغرب اور دوسرا مختصر یا قریب ترین مشرق و مغرب اور جہاں مشرق و مغرب کو مفرد ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ جہت ہے جس سے سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)
إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ ﴿٦﴾
ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔
وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ ﴿٧﴾
اور حفاظت کی سرکش شیطان سے۔ (١)
٧۔١ یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چنانچہ شیطان آسمان پرکوئی بات سننے کے لیے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ کر گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔
آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں اور مشرقوں کا رب وہی ہے۔
٥۔١ مطلب ہے مشارق و مغارب کا رب۔ جمع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ، بعض کہتے ہیں کہ سال کے دنوں کی تعداد کے برابر مشرق و مغرب ہیں۔ سورج ہر روز ایک مشرق سے نکلتا اور ایک مغرب میں غروب ہوتا ہے اور سورۂ رحمٰن میں مَشْرِقَيْنِ اور مَغْرِبَيْنِ، تثنیہ کے ساتھ ہیں یعنی دو مشرق اور دو مغرب۔ اس سے مراد وہ مشرقین اور مغربین ہیں جن سے سورج گرمی اور سردی میں طلوع و غروب ہوتا ہے یعنی ایک انتہائی آخری مشرق و مغرب اور دوسرا مختصر یا قریب ترین مشرق و مغرب اور جہاں مشرق و مغرب کو مفرد ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ جہت ہے جس سے سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)
إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ ﴿٦﴾
ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔
وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ ﴿٧﴾
اور حفاظت کی سرکش شیطان سے۔ (١)
٧۔١ یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چنانچہ شیطان آسمان پرکوئی بات سننے کے لیے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ کر گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔