• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿٤٠﴾
ان کے لیے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے۔ (١)
٤٠۔١ یعنی دنیاوی جاہ و مرتبت عطا کرنے کے باوجود آخرت میں بھی حضرت سلیمان عليہ السلام کو قرب خاص اور مقام خاص حاصل ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاذْكُرْ‌ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَ‌بَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ﴿٤١﴾
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے۔ (١)
٤١۔١ حضرت ایوب عليہ السلام کی بیماری اور اس میں ان کا صبر مشہور ہے۔ جس کےمطابق اللہ تعالیٰ نے اہل و مال کی تباہی اور بیماری کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی، جس میں وہ کئی سال مبتلا رہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک بیوی ان کے ساتھ رہ گئی جو صبح و شام ان کی خدمت بھی کرتی اور ان کو کہیں کام كاج کرکے بقدر کفاف رزق کا انتظام بھی کرتی۔ یہاں پر متعدد تفسیری روایات کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر اس میں سے کتنا کچھ صحیح ہے اور کتنا نہیں، اسے معلوم کرنے کا کوئی مستند ذریعہ نہیں۔ نُصْبٍ سے جسمانی تکالیف اور عذاب سے مالی ابتلا مراد ہے۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لئے کی گئی ہے دراں حالیکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے، کہ ممکن ہے شیطان کے وسوسے ہی کسی ایسے عمل کا سبب بنے ہوں جس پر یہ آزمائش آئی یا پھر بطور ادب کے ہے کہ خیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور شر کو اپنی یا شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ارْ‌كُضْ بِرِ‌جْلِكَ ۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِ‌دٌ وَشَرَ‌ابٌ ﴿٤٢﴾
اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے۔ (١)
٤٢۔١ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب عليہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور ان سے کہا کہ زمین پر پیر مارو، جس سے ایک چشمہ جاری ہو گیا۔ اس کے پانی پینے سے اندرونی بیماریاں اور غسل کرنے سے ظاہری بیماریاں دور ہو گئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دو چشمے تھے، ایک سے غسل فرمایا اور دوسرے سے پانی پیا۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے پہلی بات کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی ایک ہی چشمہ تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَ‌حْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَ‌ىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿٤٣﴾
اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اس کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے، (١) اور عقلمندوں کی نصیحت کے لیے۔ (٢)
٤٣۔١ بعض کہتے ہیں کہ پہلا کنبہ جو بطور آزمائش ہلاک کر دیا گیا تھا، اسے زندہ کر دیا گیا اور اس کے مثل اور مزید کنبہ عطا کر دیا گیا۔ لیکن یہ بات کسی مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہے۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے پہلے سے زیادہ مال واولاد سے انہیں نواز دیا جو پہلے سے دوگنا تھا۔
٤٣۔٢ یعنی ایوب عليہ السلام کو یہ سب کچھ ہم نے دوبارہ عطا کیا، تو اپنی رحمت خاص کے اظہار کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اہل دانش اس سے نصیحت حاصل کریں اور وہ بھی ابتلا و شدائد پر اسی طرح صبر کریں جس طرح ایوب عليہ السلام نے کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِ‌ب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرً‌ا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿٤٤﴾
اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کا خلاف نہ کر، (١) سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بندہ پایا، وہ بڑا نیک بندہ تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے والا۔
٤٤۔١ بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کو کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب عليہ السلام نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھا لی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائے گی۔ اس امر میں علما کا اختلاف ہے کہ یہ رعایت صرف حضرت ایوب عليہ السلام کے ساتھ خاص ہے یا دوسرا کوئی شخص بھی اس طرح سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر حانث ہونے سے بچ سکتا ہے؟ بعض پہلی رائے کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر نیت ضرب شدید کی نہ کی ہو تو اس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔ (فتح القدیر) ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے بھی ایک معذور کمزور زانی کو سو کوڑوں کی جگہ سو تنکوں والی جھاڑو مار کر سزا دی۔ (مسند أحمد ۵/ ۲۲۲، ابن ماجہ كتاب الحدود باب الكبير والمريض يجب عليه الحد، صححه الألباني) جس سے مخصوص صورتوں میں اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاذْكُرْ‌ عِبَادَنَا إِبْرَ‌اهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ‌ ﴿٤٥﴾
ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے (١) تھے۔
٤٥۔١ یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی وعلمی بصیرت میں ممتاز تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ أَيْدِي بمعنی نِعَمٌ ہے۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام و احسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَ‌ى الدَّارِ‌ ﴿٤٦﴾
ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا۔
٤٦۔١ یعنی ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا، چنانچہ آخرت ہر وقت ان کے سامنے رہتی تھی (آخرت کا ہر وقت استحضار، یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت اور زہد و تقویٰ کی بنیاد ہے) یا وہ لوگوں کو آخرت اور اللہ کی طرف بلانے میں کوشاں رہتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ‌ ﴿٤٧﴾
یہ سب ہمارے نزدیک برگزیدہ اور بہترین لوگ تھے۔

وَاذْكُرْ‌ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ الْأَخْيَارِ‌ ﴿٤٨﴾
اسماعیل، یسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا بھی ذکر کر دیجئے۔ یہ سب بہترین لوگ (١) تھے۔
٤٨۔١ یسع عليہ السلام کہتے ہیں، حضرت الیاس عليہ السلام کے جانشین تھے، ال تعریف کے لیے ہے اور عجمی نام ہے، ذوالکفل کے لیے دیکھئے سورۃ الانبیاء آیت ۸۵ کا حاشیہ۔ أَخْيَارٌ خَيْرٌ یا خَيِّرٌ کی جمع ہے جیسے مَيِّتٌ کی جمع أَمْوَاتٌ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذَا ذِكْرٌ‌ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ ﴿٤٩﴾
یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے۔

جَنَّاتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ ﴿٥٠﴾
(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

مُتَّكِئِينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَ‌ةٍ وَشَرَ‌ابٍ ﴿٥١﴾
جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں۔

وَعِندَهُمْ قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ أَتْرَ‌ابٌ ﴿٥٢﴾
اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔ (١)
٥٢۔١ یعنی جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں سے متجاوز نہیں ہوں گی۔ أَتْرَابٌ، تِرْبٌ کی جمع ہے، ہم عمر یا لازوال حسن و جمال کی حامل۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ ﴿٥٣﴾
یہ ہے جس کا وعدہ تم سے حساب کے دن کے لیے کیا جاتا تھا۔

إِنَّ هَـٰذَا لَرِ‌زْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ ﴿٥٤﴾
بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں۔ (١)
٥٤۔١ رزق، بمعنی عطیہ ہے اور هَذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام و اعزاز مراد ہیں جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کے معنی انقطاع اور خاتمے کے ہیں۔ یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزاز و کرام بھی دائمی۔
 
Top