• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَابِ ﴿١١﴾
یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے۔ (١)
١١۔١ جُنْدٌ، مبتدا محذوف هُمْ کی خبر ہے اور ما بطور تاکید تعظیم یا تحقیر کے لیے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے۔ یا حقیر، اس کی قطعاً پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست اس کا مقدر ہے۔ هُنَالِكَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْ‌عَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ ﴿١٢﴾
ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون (١) نے جھٹلایا تھا۔
١٢۔١ فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضب ناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں، پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا، یا اس سے مقصد بطور استعارہ اس کی قوت و شوکت اور مضبوط حکومت کا اظہار ہے یعنی میخوں سے جس طرح کسی چیز کو مضبوط کر دیا جاتا ہے، اس کا لشکر جرار اور اس کے پیروکار بھی اس کی سلطنت کی قوت و استحکام کا باعث تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ ۚ أُولَـٰئِكَ الْأَحْزَابُ ﴿١٣﴾
اور ثمود نے اور قوم لوط نے اور أیکہ کے رہنے والوں نے بھی، یہی (بڑے) تھے۔ (١)
١٣۔١ أَصْحَابُ الأيْكَةِ کے لیے دیکھئے سورۂ شعراء: ۱۷۶ کا حاشیہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّ‌سُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ﴿١٤﴾
ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ثابت ہو گئی۔

وَمَا يَنظُرُ‌ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ ﴿١٥﴾
انہیں صرف ایک چیخ کا انتظار (١) ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے۔ (٢)
١٥۔١ یعنی صور پھونکنے کا جس سے قیامت برپا ہو جائے گی۔
١٥۔٢ دودھ دوہنے والا ایک مرتبہ کچھ دودھ دوہ کر بچے کو اونٹنی یا گائے بھینس کے پاس چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے دودھ پینے سے تھنوں میں دودھ اتر آئے، چنانچہ تھوڑی دیر بعد بچے کو زبردستی پیچھے ہٹا کر خود دودھ دوہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا جو وقفہ ہے، یہ فواق کہلاتا ہے۔ یعنی صور پھونکنے کے بعد اتنا وقفہ بھی نہیں ملے گا، بلکہ صور پھونکنے کی دیر ہو گی کہ قیامت کا زلزلہ برپا ہو جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا رَ‌بَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ ﴿١٦﴾
اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سر نوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے۔ (١)
١٦۔١ قِطٌّ کے معنی ہیں، حصہ، مراد یہاں نامۂ عمل یا سرنوشت ہے۔ یعنی ہمارے نامۂ اعمال کے مطابق ہمارے حصے میں اچھی یا بری سزا جو بھی ہے، یوم حساب کے آنے سے پہلے ہی ہمیں دنیا میں دے دے۔ یہ ﴿يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ﴾ والی بات ہی ہے۔ یہ وقوع قیامت کو ناممکن سمجھتے ہوئے انہوں نے استہزا اور تمسخر کے طور پر کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اصْبِرْ‌ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ‌ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿١٧﴾
آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داود (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت والا تھا، (١) یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔
١٧۔١ یہ أَيْدٍ، يَدٌ (ہاتھ) کی جمع نہیں ہے۔ بلکہ یہ آدَ يَئِيدُ کا مصدر أَيْدٍ ہے، قوت و شدت۔ اسی سے تائید بمعنی تقویت ہے۔ اس قوت سے مراد دینی قوت و صلابت ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے ”اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، داود عليہ السلام کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، داود عليہ السلام کے روزے ہیں، وہ نصف رات سوتے، پھر اٹھ کر رات کا تہائی حصہ قیام کرتے اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے اور جنگ میں فرار نہ ہوتے“۔ (صحيح بخاری، كتاب الأنبياء، باب ﴿وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا﴾، ومسلم، كتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا سَخَّرْ‌نَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَ‌اقِ ﴿١٨﴾
ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں۔

وَالطَّيْرَ‌ مَحْشُورَ‌ةً ۖ كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ ﴿١٩﴾
اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے۔ (١)
١٩۔١ یعنی اشراق کے وقت اور آخر دن کو پہاڑ بھی داود عليہ السلام کے ساتھ مصروف تسبیح ہوتے اور اڑتے جانور بھی زبور کی قراءت سن کر ہوا ہی میں جمع ہو جاتے اور ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے۔ محشورۃ کے معنی مجموعہ ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ﴿٢٠﴾
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا (١) اور اسے حکومت دی تھی (٢) اور بات کا فیصلہ کرنا۔ (٣)
٢٠۔١ ہر طرح کی مادی اور روحانی اسباب کے ذریعے سے۔
٢٠۔٢ یعنی نبوت، اصابت رائے، قول سداد اور فعل صواب۔
٢٠۔٣ یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، بصیرت و تفقہ اور استدلال و بیان کی قوت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُ‌وا الْمِحْرَ‌ابَ ﴿٢١﴾
اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وہ دیوار پھاند کر محراب میں آ گئے۔ (١)
٢١۔١ مِحْرَابٌ سے مراد وہ کمرہ ہے جس میں سب سے علیحدہ ہو کر یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے۔ دروازے پر پہرے دار ہوتے، تاکہ کوئی اندر آ کر عبادت میں مخل نہ ہو۔ جھگڑا کرنے والے پیچھے سے دیوار پھاند کر اندر آ گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذْ دَخَلُوا عَلَىٰ دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ خَصْمَانِ بَغَىٰ بَعْضُنَا عَلَىٰ بَعْضٍ فَاحْكُم بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَىٰ سَوَاءِ الصِّرَ‌اطِ ﴿٢٢﴾
جب یہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے، (١) انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور نا انصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راہ بتا دیجئے۔ (٢)
٢٢۔١ ڈرنے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو وہ دروازے کے بجائے عقب سے دیوار چڑھ کر اندر آئے۔ دوسرے، انہوں نے اتنا بڑا اقدام کرتے ہوئے بادشاہ وقت سے کوئی خوف محسوس نہیں کیا۔ ظاہری اسباب کے مطابق خوف والی چیز سے خوف کھانا، انسان کا ایک طبعی تقاضا ہے۔ یہ منصب و کمال نبوت کے خلاف ہے نہ توحید کے منافی۔ توحید کے منافی غیر اللہ کا وہ خوف ہے جو ماورائے اسباب ہو۔
٢٢۔٢ آنے والوں نے تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے درمیان ایک جھگڑا ہے، ہم آپ سے فیصلہ کرانے آئے ہیں، آپ حق کے ساتھ فیصلہ بھی فرمائیں اور سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی بھی۔
 
Top