• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَ‌ضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ‌ فَذُو دُعَاءٍ عَرِ‌يضٍ ﴿٥١﴾
اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور کنارہ کش ہو جاتا ہے (١) اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے والا بن جاتا ہے۔
٥١۔١ یعنی حق سے منہ پھیر لیتا اور حق کی اطاعت سے اپنا پہلو بدل لیتا ہے اور تکبر کا اظہار کرتا ہے۔
٥١۔۲ یعنی بارگاہ الٰہی میں تضرع و زاری کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت دور فرما دے۔ یعنی شدت میں اللہ کو یاد کرتا ہے، خوش حالی میں بھول جاتا ہے، نزول نقمت کے وقت اللہ سے فریادیں کرتا ہے، حصول نعمت کے وقت اسے وہ یاد نہیں رہتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ثُمَّ كَفَرْ‌تُم بِهِ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ﴿٥٢﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہو گا (١) جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے۔
٥٢۔١ یعنی ایسی حالت میں تم سے زیادہ گمراہ اور تم سے زیادہ دشمن کون ہو گا۔
٥٢۔۲ شِقَاقٍ کے معنی ہیں، ضد، عناد اور مخالفت۔ بَعِيدٍ مل کر اس میں اور مبالغہ ہو جاتا ہے۔ یعنی جو بہت زیادہ مخالف اور عناد سے کام لیتا ہے، حتیٰ کہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کی بھی تکذیب کر دیتا ہے، اس سے بڑھ کر گمراہ اور بدبخت کون ہو سکتا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَنُرِ‌يهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَ‌بِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿٥٣﴾
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے، (١) کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاہ ہونا کافی نہیں۔ (٢)
٥٣۔١ جن سے قرآن کی صداقت اور اس کا من جانب اللہ ہونا واضح ہو جائے گا۔ یعنی أَنَّهُ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔ بعض نے اس کا مرجع اسلام یا رسول اللہ ﷺ کو بتلایا ہے۔ مآل سب کا ایک ہی ہے۔ آفَاقٌ، أُفُقٌ کی جمع ہے۔ کنارہ، مطلب ہے کہ ہم اپنی نشانیاں باہر کناروں میں بھی دکھائیں گے اور خود انسان کے اپنے نفسوں کے اندر بھی۔ چنانچہ آسمان و زمین کے کناروں میں بھی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے، رات اور دن، ہوا اور بارش، گرج چمک، بجلی، کڑک، نباتات و جمادات، اشجار، پہاڑ، اور انہار و بحار وغیرہ۔ اور آیات انفس سے انسان کا وجود، جن اخلاط و مواد اور ہیئتوں پر مرکب ہے وہ مراد ہیں۔ جن کی تفصیلات طب و حکمت کا دلچسپ موضوع ہے۔ بعض کہتے ہیں، آفاق سے مراد شرق و غرب کے وہ دور دراز کے علاقے ہیں۔ جن کی فتح کو اللہ نے مسلمانوں کے لیے آسان فرما دیا اور انفس سے مراد خود عرب کی سرزمین پر مسلمانوں کی پیش قدمی ہے، جیسے جنگ بدر اور فتح مکہ وغیرہ فتوحات میں مسلمانوں کو عزت و سرفرازی عطا کی گئی۔
٥٣۔٢ استفہام اقراری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اقوال و افعال کے دیکھنے کے لیے کافی ہے، اور وہی اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو اس کے سچے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَا إِنَّهُمْ فِي مِرْ‌يَةٍ مِّن لِّقَاءِ رَ‌بِّهِمْ ۗ أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطٌ ﴿٥٤﴾
یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں، (١) یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (۲)
٥٤۔١ اس لیے اس کی بابت غور و فکر نہیں کرتے، نہ اس کے لیے عمل کرتے ہیں اور نہ اس دن کا کوئی خوف ان کے دلوں میں ہے۔
٥٤۔۲ بنابریں اس کے لیے قیامت کا وقوع قطعاً مشکل امر نہیں کیونکہ تمام مخلوقات پر اس کا غلبہ و تصرف ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے، کرتا ہے، کر سکتا ہے اور کرے گا، کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الشورى

(سورة الشورى مکی ہے اور اس میں ترپن آیتیں اور پانچ رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

حم ﴿١﴾ عسق ﴿٢﴾
حم ۔ عسق

كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٣﴾
اللہ تعالی جو زبردست ہے اور حکمت والا ہے اسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا۔ (١)
٣۔١ یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیا پر صحیفے اور کتابیں نازل کی گئیں۔ وحی، اللہ کا وہ کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے۔ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہو جاتی ہے تو مجھے یاد ہو چکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ ﷺ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے پسینے کے قطرے گر رہے ہوتے۔ (صحیح بخاری، باب بدء الوحی)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ﴿٤﴾
آسمانوں کی (تمام) چیزیں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے وہ برتر اور عظیم الشان ہے۔

تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْ‌نَ مِن فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَ‌بِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُ‌ونَ لِمَن فِي الْأَرْ‌ضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْغَفُورُ‌ الرَّ‌حِيمُ ﴿٥﴾
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (١) اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ (٢) خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے والا رحمت والا ہے۔ (٣)
٥۔١ اللہ کی عظمت و جلال کی وجہ سے۔
٥۔٢ یہ مضمون سورۂ مؤمن کی آیت ۷ میں بھی بیان ہوا ہے۔
٥۔٣ اپنے دوستوں اور اہل طاعت کے لیے یا تمام ہی بندوں کے لیے، کیونکہ کفار اور نافرمانوں کی فوراً گرفت نہ کرنا بلکہ انہیں ایک وقت معین تک مہلت دینا، یہ بھی اسی کی رحمت و مغفرت ہی کی قسم سے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّـهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ ﴿٦﴾
اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران (١) ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ (٢)
٦۔١ یعنی ان کے عملوں کو محفوظ کر رہا ہے تاکہ اس پر ان کو جزا دے۔
٦۔٢ یعنی آپ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستے پر لگا دیں یا ان کے گناہوں پر ان کا مواخذہ فرمائیں، بلکہ یہ کام ہمارے ہیں، آپ کا کام صرف ابلاغ (پہنچا دینا) ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لِّتُنذِرَ‌ أُمَّ الْقُرَ‌ىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنذِرَ‌ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَ‌يْبَ فِيهِ ۚ فَرِ‌يقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِ‌يقٌ فِي السَّعِيرِ‌ ﴿٧﴾
اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے (١) تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو خبردار کر دیں (٢) اور جمع ہونے کے دن (٣) جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ڈرا دیں۔ ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ جہنم میں ہو گا۔ (٤)
٧۔١ یعنی جس طرح ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، کیونکہ آپ کی قوم یہی زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔
٧۔٢ أُمّ الْقُرَى، مکے کا نام ہے۔ اسے بستیوں کی ماں اس لیے کہا گیا کہ یہ عرب کی قدیم ترین بستی ہے۔ گویا یہ تمام بستیوں کی ماں ہے جنہوں نے اسی سے جنم لیا ہے۔ مراد اہل مکہ ہیں۔ وَمَنْ حَوْلَهَا میں اس کے شرق و غرب کے تمام علاقے شامل ہیں۔ ان سب کو ڈرائیں کہ اگر وہ کفر و شرک سے تائب نہ ہوئے تو عذاب الٰہی کے مستحق قرار پائیں گے۔
٧۔٣ قیامت والے دن کو جمع ہونے والا دن اس لیے کہا کہ اس میں اگلے پچھلے تمام انسان جمع ہوں گے علاوہ ازیں ظالم مظلوم اور مومن و کافر سب جمع ہوں گے اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا سے بہرہ ور ہوں گے۔
٧۔٤ جو اللہ کے حکموں کو بجا لایا ہو گا اور اس کی منہیات و محرمات سے دور رہا ہو گا وہ جنت میں اور اس کی نافرمانی اور محرمات کا ارتکاب کرنے والا جہنم میں ہو گا۔ یہی دو گروہ ہوں گے۔ تیسرا گروہ نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَهُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن يُدْخِلُ مَن يَشَاءُ فِي رَ‌حْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ‌ ﴿٨﴾
اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت کا بنا دیتا (١) لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے اور ظالموں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں۔
٨۔١ اس صورت میں قیامت والے دن صرف ایک ہی گروہ ہوتا یعنی اہل ایمان اور اہل جنت کا لیکن اللہ کی حکمت و مشیت نے اس جبر کو پسند نہیں کیا بلکہ انسانوں کو آزمانے کے لیے اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی، جس نے اس آزادی کا صحیح استعمال کیا، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہو گیا، اور جس نے اس کا غلط استعمال کیا، اس نے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اللہ کی دی ہوئی آزادی اور اختیار کو اللہ ہی کی نافرمانی میں استعمال کیا۔ چنانچہ ایسے ظالموں کا قیامت والے دن کوئی مددگار نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۖ فَاللَّـهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٩﴾
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز بنا لیے ہیں، (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز کا قادر ہے۔ (١)
٩۔١ جب یہ بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو ولی اور کارساز مانا جائے نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیاری ہی نہیں ہے، اور جو سننے اور جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں، نہ نفع و نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔
 
Top