• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ‌ اللَّـهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرً‌ا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْ‌بَىٰ ۗ وَمَن يَقْتَرِ‌فْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ شَكُورٌ‌ ﴿٢٣﴾
یہی وہ ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی، (١) جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے۔ (٢) بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا (اور) بہت قدردان ہے۔ (٣)
٢٣۔١ قبائل قریش اور نبی ﷺ کے درمیان رشتے داری کا تعلق تھا، آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ میں وعظ و نصیحت اور تبلیغ و دعوت کی کوئی اجرت تم سے نہیں مانگتا، البتہ ایک چیز کا سوال ضرور ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتے داری ہے، اس کا لحاظ کرو، تم میری دعوت کو نہیں مانتے تو نہ مانو، تمہاری مرضی۔ لیکن مجھے نقصان پہنچانے سے تو باز رہو، تم میرے دست و بازو نہیں بن سکتے تو رشتہ داری و قرابت کے ناطے مجھے ایذا تو نہ پہنچاؤ اور میرے راستے کا روڑہ تو نہ بنو کہ میں فریضۂ رسالت ادا کر سکوں۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما نے اس کے معنی کیے ہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت (رشتہ داری) ہے اس کو قائم رکھو۔ (صحيح البخاری، تفسير سور الشورىٰ) نبی کریم ﷺ کی آل، یقیناً حسب و نسب کے اعتبار سے دنیا کی اشرف ترین آل ہے اس سے محبت، اس کی تعظیم و توقیر جزو ایمان ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ نے بھی احادیث میں ان کی تکریم اور حفاظت کی تاکید فرمائی ہے لیکن اس آیت کا کوئی تعلق اس موضوع سے نہیں ہے، جیسا کہ شیعہ حضرات کھینچا تانی کرکے اس آیت کو آل محمد ﷺ کی محبت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور پھر آل کو بھی انہوں نے محدود کر دیا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت فاطمہ رضی الله عنہا اور حسنین رضی اللہ عنہما تک۔ نیز محبت کا مفہوم بھی ان کے نزدیک یہ ہے کہ انہیں معصوم اور الٰہی اختیارات سے متصف مانا جائے۔ علاوہ ازیں کفار مکہ سے اپنے گھرانے کی محبت کا سوال بطور اجرت تبلیغ نہایت عجیب بات ہے جو نبی ﷺ کی شان ارفع سے بہت ہی فروتر ہے آپ ﷺ کی تبلیغ کو قبول نہ کرنے کے باوجود آپ ﷺ کی طلب تو صرف قرابت اور صلۂ رحمی کی بنیاد پر محبت برقرار رکھنے کی تھی پھر یہ آیت اور سورت مکی ہے جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے درمیان ابھی عقد زواج بھی قائم نہیں ہوا تھا۔ یعنی ابھی وہ گھرانہ معرض وجود میں ہی نہیں آیا تھا جس کی خود ساختہ محبت کا اثبات اس آیت سے کیا جاتا ہے۔
٢٣۔٢ یعنی اجر و ثواب میں اضافہ کریں گے۔ یا نیکی کے بعد اس کا بدلہ مزید نیکی کی توفیق کی صورت میں دیں گے جس طرح بدی کا بدلہ مزید بدیوں کا ارتکاب ہے۔
٢٣۔٣ اس لیے وہ پردہ پوشی فرماتا اور معاف کر دیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اجر دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ اللَّـهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ اللَّـهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ‌ ﴿٢٤﴾
کیا یہ کہتے ہیں کہ (پیغمبر نے) اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے (١) اور اللہ تعالیٰ اپنی باتوں سے جھوٹ کو مٹا دیتا ہے (٢) اور سچ کو ثابت رکھتا ہے۔ وہ سینے کی باتوں کو جاننے والا ہے۔
٢٤۔١ یعنی اس الزام میں اگر صداقت ہوتی تو ہم آپ کے دل پر مہر لگا دیتے، جس سے وہ قرآن ہی محو ہو جاتا جس کے گھڑنے کا انتساب آپ کی طرف کیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کو اس کی سخت ترین سزا دیتے۔
٢٤۔٢ یہ قرآن بھی اگر باطل ہوتا (جیسا کہ مکذبین کا دعویٰ ہے) تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو بھی مٹا ڈالتا، جیسا کہ اس کی عادت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ﴿٢٥﴾
وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے (١) اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو (سب) جانتا ہے۔
٢٥۔١ توبہ کا مطلب ہے، معصیت پر ندامت کا اظہار اور آئندہ اس کو نہ کرنے کا عزم۔ محض زبان سے توبہ توبہ کر لینا یا اس گناہ اور معصیت کے کام کو تو نہ چھوڑنا اور توبہ کا اظہار کیے جانا، توبہ نہیں ہے۔ یہ استہزا اور مذاق ہے۔ تاہم خالص اور سچی توبہ اللہ تعالیٰ یقیناً قبول فرماتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ وَالْكَافِرُ‌ونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ﴿٢٦﴾
ایمان والوں اور نیکوکار لوگوں کی سنتا ہے (١) اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتا ہے اور کفار کے لیے سخت عذاب ہے۔
٢٦۔١ یعنی ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی خواہشیں اور آرزوئیں پوری فرماتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہو۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے، صحرا، بیابان میں گم ہو جائے اور وہ ناامید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اچانک اسے اپنی سواری مل جائے اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرح میں وہ غلطی کر جائے۔ (صحيح مسلم كتاب التوبة، باب في الحض على التوبة والفرح بها)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْ بَسَطَ اللَّـهُ الرِّ‌زْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَـٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ‌ مَّا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ‌ بَصِيرٌ‌ ﴿٢٧﴾
اگر اللہ تعالیٰ اپنے (سب) بندوں کی روزی فراخ کر دیتا تو وہ زمین میں فساد (١) برپا کر دیتے لیکن وہ اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا نازل فرماتا ہے، وہ اپنے بندوں سے پورا خبردار ہے اور خوب دیکھنے والا ہے۔
٢٧۔١ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہر شخص کو حاجت و ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شر و فساد اور بغی و عدوان میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا، جس سے زمین فساد سے بھر جاتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ‌ رَ‌حْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ ﴿٢٨﴾
اور وہی ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے (١) اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔ وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا۔ (٢)
٢٨۔١ جو انواع رزق کی پیداوار میں سب سے زیادہ مفید اور اہم ہے۔ یہ بارش جب ناامیدی کے بعد ہوتی ہے تو اس نعمت کا صحیح احساس بھی اسی وقت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس طرح کرنے میں حکمت بھی یہی ہے کہ بندے اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں اور اس کا شکر بجا لائیں۔
٢٨۔٢ کارساز ہے، اپنے نیک بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے، انہیں منافع سے نوازتا اور شرور و مہلکات سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ اپنے ان انعامات بے پایاں اور احسانات فراواں پر قابل حمد و ثنا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ‌ ﴿٢٩﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے۔ وہ اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کر دے۔ (١)
٢٩۔١ دَابَّةٍ (زمین پر چلنے پھرنے والا) کا لفظ عام ہے، جس میں جن و انس کے علاوہ تمام حیوانات شامل ہیں، جن کی شکلیں، رنگ، زبانیں، طبائع، اور انواع و اجناس ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ اور وہ روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک ہی میدان میں جمع فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ‌ ﴿٣٠﴾
تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ (١)
٣٠۔١ اس کا خطاب اگر اہل ایمان سے ہو تو مطلب ہو گا کہ تمہارے بعض گناہوں کا کفارہ تو وہ مصائب بن جاتے ہیں جو تمہیں گناہوں کی پاداش میں پہنچتے ہیں اور کچھ گناہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ یوں ہی معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کی ذات بڑی کریم ہے، معاف کرنے کے بعد آخرت میں اس پر مواخذہ نہیں فرمائے گی۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ مومن کو جو بھی تکلیف اور ہم و حزن پہنچتا ہے حتیٰ کہ اس کے پیر میں کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ (صحيح بخاری، كتاب المرضى ، باب ما جاء في كفارة المرض- مسلم، كتاب البر، باب ثواب المؤمن فيما يصيبه من مرض) اگر خطاب عام ہو تو مطلب ہو گا کہ تمہیں جو مصائب دنیا پہنچتے ہیں، یہ تمہارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ بہت سے گناہوں سے تو درگزر ہی فرما دیتا ہے یعنی یا تو ہمیشہ کے لیے معاف کر دیتا ہے۔ یا ان پر فوری سزا نہیں دیتا۔ (اور عقوبت و تعزیر میں تاخیر، یہ بھی ایک گونہ معافی ہی ہے) جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ﴾ (فاطر: ۴۵) ”اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کرتوتوں پر فوراً مواخذہ فرما دے تو زمین پر کوئی چلنے والا ہی باقی نہ رہے“۔ اسی مفہوم کی آیت النحل ۶۱ بھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ‌ ﴿٣١﴾
اور تم ہمیں زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو، (١) تمہارے لیے سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی کارساز نہ مدد گار۔
٣١۔١ یعنی تم بھاگ کر کسی ایسی جگہ نہیں جا سکتے کہ جہاں تم ہماری گرفت میں نہ آسکو یا جو مصیبت ہم تم پر نازل کرنا چاہیں، اس سے تم بچ جاؤ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنْ آيَاتِهِ الْجَوَارِ‌ فِي الْبَحْرِ‌ كَالْأَعْلَامِ ﴿٣٢﴾
اور دریا میں چلنے والی پہاڑوں جیسی کشتیاں اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (١)
٣٢۔١ الْجَوَارِ یا الْجَوَارِي جَارِيَةٌ (چلنے والی) کی جمع ہے، بمعنی کشتیاں، جہاز، یہ اللہ کی قدرت تامہ کی دلیل ہے کہ سمندروں میں پہاڑوں جیسی کشتیاں اور جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، ورنہ اگر وہ حکم دے تو یہ سمندروں میں ہی کھڑے رہیں۔
 
Top