• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّ‌يحَ فَيَظْلَلْنَ رَ‌وَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِ‌هِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ‌ شَكُورٍ‌ ﴿٣٣﴾
اگر وہ چاہے تو ہوا بند کر دے اور یہ کشتیاں سمندروں پر رکی رہ جائیں۔ یقیناً اس میں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے نشانیاں ہیں۔

أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا وَيَعْفُ عَن كَثِيرٍ‌ ﴿٣٤﴾
یا انہیں ان کے کرتوتوں کے باعث تباہ کر دے، (١) وہ تو بہت سی خطاؤں سے درگزر فرمایا کرتا ہے۔ (٢)
٣٤۔١ یعنی سمندر کو حکم دے اور اس کی موجوں میں طغیانی آجائے اور یہ ان میں ڈوب جائیں۔
٣٤۔٢ ورنہ سمندر میں سفر کرنے والا کوئی بھی سلامتی کے ساتھ واپس نہ آسکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَعْلَمَ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍ ﴿٣٥﴾
اور تاکہ جو لوگ ہماری نشانیوں میں جھگڑتے ہیں (١) وہ معلوم کر لیں کہ ان کے لیے کوئی چھٹکارہ نہیں۔ (٢)
٣٥۔١ یعنی ان کا انکار کرتے ہیں۔
٣٥۔٢ یعنی اللہ کے عذاب سے وہ کہیں بھاگ کر چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ‌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَ‌بِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿٣٦﴾
تو تمہیں جو کچھ دیا گیا وہ زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے، (١) اور اللہ کے پاس جو ہے وہ اس سے بدرجہ بہتر (٢) اور پائیدار ہے، وہ ان کے لیے ہے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
٣٦۔١ یعنی معمولی اور حقیر ہے، چاہے قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو، اس لیے اس سے دھوکے میں مبتلا نہ ہونا، اس لیے کہ یہ عارضی اور فانی ہے۔
٣٦۔٢ یعنی نیکیوں کا جو اجر و ثواب اللہ کے ہاں ملے گا وہ متاع دنیا سے کہیں زیادہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، کیونکہ اس کو زوال اور فنا نہیں، مطلب ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح مت دو، ایسا کرو گے تو پچھتاؤ گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ‌ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُ‌ونَ ﴿٣٧﴾
اور کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کر دیتے ہیں۔ (١)
٣٧۔١ یعنی لوگوں سے عفو و درگزر کرنا ان کے مزاج و طبیعت کا حصہ ہے نہ کہ انتقام اور بدلہ لینا۔ جس طرح نبی ﷺ کے بارے میں آتا ہے۔ [مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ قَطُّ إِلا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَات اللهِ] (البخاری، كتاب الأدب، باب يسروا ولا تعسروا - مسلم كتاب الفضائل، باب مباعدته ﷺ للآثام) نبی ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیا، ہاں اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا توڑا جانا آپ کے لیے ناقابل برداشت تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُ‌هُمْ شُورَ‌ىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣٨﴾
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں (١) اور نماز کی پابندی کرتے ہیں (٢) اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے، (٣) اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں۔
٣٨۔١ یعنی اس کے حکم کی اطاعت، اس کے رسول کا اتباع اور اس کے زواجر سے اجتناب کرتے ہیں۔
٣٨۔٢ نماز کی پابندی اور اقامت کا بطور خاص ذکر کیا کہ عبادات میں اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔
٣٨۔٣ شُورَىٰ، کا لفظ ذِكْرَىٰ اور بُشْرَىٰ کی طرح باب مفاعلہ سے اسم مصدر ہے۔ یعنی اہل ایمان ہر اہم کام باہمی مشاورت سے کرتے ہیں، اپنی ہی رائے کو حرف آخر نہیں سمجھتے خود نبی ﷺ کو بھی اللہ نے حکم دیا کہ مسلمانوں سے مشورہ کرو (آل عمران: ۱۵۹) چنانچہ آپ جنگی معاملات اور دیگر اہم کاموں میں مشاورت کا اہتمام فرماتے تھے۔ جس سے مسلمانوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی اور معاملے کے مختلف گوشے واضح ہو جاتے۔ حضرت عمر رضی الله عنہ جب نیزے کے وار سے زخمی ہو گئے اور زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی تو امر خلافت میں مشاورت کے لیے چھ آدمی نامزد فرما دیئے۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبد الرحمٰن بن عوف (رضی الله عنہم)۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا اور دیگر لوگوں سے بھی مشاورت کی اور اس کے بعد حضرت عثمان رضی الله عنہ کو خلافت کے لیے مقرر فرما دیا۔ بعض لوگ مشاورت کے اس حکم اور تاکید سے ملوکیت کی تردید اور جمہوریت کا اثبات کرتے ہیں۔ حالانکہ مشاورت کا اہتمام ملوکیت میں بھی ہوتا ہے۔ بادشاہ کی بھی مجلس مشاورت ہوتی ہے، جس میں ہر اہم معاملے پر سوچ بچار ہوتا ہے اس لیے اس آیت سے ملوکیت کی نفی قطعاً نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں جمہوریت کو مشاورت کے ہم معنی سمجھنا یکسر غلط ہے۔ مشاورت ہر کہ و مہ سے نہیں ہو سکتی، نہ اس کی ضرورت ہی ہے۔ مشاورت کا مطلب ان لوگوں سے مشورہ کرنا ہے جو اس معاملے کی نزاکتوں اور ضرورتوں کو سمجھتے ہیں جس میں مشورہ درکار ہوتا ہے۔ جیسے بلڈنگ، پل وغیرہ بنانا ہو تو، کسی تانگہ بان، درزی یا رکشہ ڈرائیور سے نہیں، کسی انجینئر سے مشورہ کیا جائے گا، کسی مرض کے بارے میں مشورے کی ضرورت ہو گی تو طب و حکمت کے ماہرین کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ جب کہ جمہوریت میں اس کے برعکس ہر بالغ شخص کو مشورے کا اہل سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ کورا ان پڑھ، بے شعور اور امور سلطنت کی نزاکتوں سے یکسر بے خبر ہو۔ بنابریں مشاورت کے لفظ سے جمہوریت کا اثبات، تحکم اور دھاندلی کے سوا کچھ نہیں، اور جس طرح سوشلزم کے ساتھ اسلامی کا لفظ لگانے سے سوشلزم مشرف بہ اسلام نہیں ہو سکتا، اسی طرح جمہوریت میں اسلام کی پیوند کاری سے مغربی جمہوریت پر خلافت کی قبا راست نہیں آ سکتی۔ مغرب کا یہ پودا اسلام کی سرزمین پر نہیں پنپ سکتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُ‌ونَ ﴿٣٩﴾
اور جب ان پر ظلم (و زیادتی) ہو تو وہ صرف بدلہ لے لیتے ہیں۔ (١)
٣٩۔١ یعنی بدلہ لینے سے وہ عاجز نہیں ہیں، اگر بدلہ لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں، تاہم قدرت کے باوجود وہ معافی کو ترجیح دیتے ہیں جیسے نبی ﷺ نے فتح مکہ والے دن اپنے خون کے پیاسوں کے لیے عفوعام کا اعلان فرما دیا، حدیبیہ میں آپ نے ان ۸۰ آدمیوں کو معاف کر دیا، جنہوں نے آپ کے خلاف سازش تیار کی تھی، لبید بن عاصم یہودی سے بدلہ نہیں لیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس یہودیہ عورت کو آپ نے کچھ نہیں کہا جس نے آپ کے کھانے میں زہر ملا دیا تھا، جس کی تکلیف آپ دم واپسیں تک محسوس فرماتے رہے، (ﷺ) (ابن کثیر)

وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُ‌هُ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ﴿٤٠﴾
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے، (١) اور جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔
٤٠۔١ یہ قصاص (بدلہ لینے) کی اجازت ہے۔ برائی کا بدلہ اگرچہ برائی نہیں ہے لیکن مشاکلت کی وجہ سے اسے بھی برائی ہی کہا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَمَنِ انتَصَرَ‌ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَـٰئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ ﴿٤١﴾
اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر (الزام کا) کا کوئی راستہ نہیں۔

إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ ۚ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٤٢﴾
یہ راستہ صرف ان لوگوں پر ہے جو خود دوسروں پر ظلم کریں اور زمین میں ناحق فساد کرتے پھریں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَلَمَن صَبَرَ‌ وَغَفَرَ‌ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ‌ ﴿٤٣﴾
اور جو شخص صبر کرلے اور معاف کر دے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے (ایک کام) ہے۔

وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن وَلِيٍّ مِّن بَعْدِهِ ۗ وَتَرَ‌ى الظَّالِمِينَ لَمَّا رَ‌أَوُا الْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَىٰ مَرَ‌دٍّ مِّن سَبِيلٍ ﴿٤٤﴾
اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کا اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں، اور تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس جانے کی کوئی راہ ہے۔

وَتَرَ‌اهُمْ يُعْرَ‌ضُونَ عَلَيْهَا خَاشِعِينَ مِنَ الذُّلِّ يَنظُرُ‌ونَ مِن طَرْ‌فٍ خَفِيٍّ ۗ وَقَالَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ الْخَاسِرِ‌ينَ الَّذِينَ خَسِرُ‌وا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا إِنَّ الظَّالِمِينَ فِي عَذَابٍ مُّقِيمٍ ﴿٤٥﴾
اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ (جہنم کے) سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے مارے ذلت کے جھکے جا رہے ہوں گے اور کن انکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے، ایمان والے صاف کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈال دیا۔ یاد رکھو کہ یقیناً ظالم لوگ دائمی عذاب میں ہیں۔ (١)
٤٥۔١ یعنی دنیا میں یہ کافر ہمیں بیوقوف اور دنیاوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جب کہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دوچار ہے۔ وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کیے رکھا اور آج وہ جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں، جس سے اب چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا كَانَ لَهُم مِّنْ أَوْلِيَاءَ يَنصُرُ‌ونَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ ۗ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن سَبِيلٍ ﴿٤٦﴾
ان کے کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ سے الگ ان کی امداد کر سکیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں۔

اسْتَجِيبُوا لِرَ‌بِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَ‌دَّ لَهُ مِنَ اللَّـهِ ۚ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَإٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍ‌ ﴿٤٧﴾
اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وہ دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے (١)، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی۔ (٢)
٤٧۔١ یعنی جس کو رد کرنے اور ٹالنے کی کوئی طاقت نہیں رکھے گا۔
٤٧۔٢ یعنی تمہارے لیے کوئی ایسی جگہ نہیں ہو گی، کہ جس میں تم چھپ کر انجان بن جاؤ اور پہچانے نہ جا سکو یا نظر میں نہ آسکو جیسے فرمایا: ﴿يَقُولُ الإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ، كَلا لا وَزَرَ، إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ﴾ (القيامہ: ۱۰-۱۲) ”اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں ہو گی، اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانا ہو گا“۔ یا نکیر بمعنی انکار ہے کہ تم اپنے گناہوں کا انکار نہ کر سکو گے کیوں کہ ایک تو وہ سب لکھے ہوئے ہوں گے۔ دوسرے خود انسان کے اعضا بھی گواہی دیں گے۔ یا جو عذاب تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے دیا جائے گا تم اس عذاب کا انکار نہیں کر سکو گے، کیوں کہ اعتراف گناہ کے بغیر تمہیں چارہ نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِنْ أَعْرَ‌ضُوا فَمَا أَرْ‌سَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ وَإِنَّا إِذَا أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَ‌حْمَةً فَرِ‌حَ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ الْإِنسَانَ كَفُورٌ‌ ﴿٤٨﴾
اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، (١) ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھاتے (٢) ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے (٣) اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت (٤) پہنچتی ہے تو بے شک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ (٥)
٤٨۔١ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ (البقرة: ۲۷۲) اور ﴿فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ﴾ (الرعد: ۴۰) ﴿فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ، لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ﴾ (الغاشيہ :۲۱-۲۲) ان سب کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف اور صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں، مانیں نہ مانیں، آپ سے اس کی باز پرس نہیں ہو گی، کیونکہ ہدایت دینا آپ کے اختیار میں ہی نہیں ہے، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔
٤٨۔٢ یعنی وسائل رزق کی فراوانی، صحت و عافیت، اولاد کی کثرت، جاہ و منصب وغیرہ۔
٤٨۔٣ یعنی تکبر اور غرور کا اظہار کرتا ہے، ورنہ اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا یا اس کا اظہار ہونا، ناپسندیدہ امر نہیں، لیکن وہ تحدیث نعمت اور شکر کے طور پر ہو نہ کہ فخر و ریا اور تکبر کے طور پر۔
٤٨۔٤ مال کی کمی، بیماری، اولاد سے محرومی وغیرہ۔
٤٨۔٥ یعنی فوراً نعمتوں کو بھی بھول جاتا ہے اور مُنْعِمٌ (نعمتیں دینے والے) کو بھی۔ یہ انسانوں کی غالب اکثریت کے اعتبار سے ہے جس میں ضعیف الایمان لوگ بھی شامل ہیں۔ لیکن اللہ کے نیک بندے اور کامل الایمان لوگوں کا حال ایسا نہیں ہوتا۔ وہ تکلیفوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں پر شکر۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا [إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَيْس ذَلِك لأَحَدٍ إٍلا لِلْمُؤْمِنِ] (صحيح مسلم، كتاب الزهد، باب أمر المؤمن أمره خير له)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ‌ ﴿٤٩﴾
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (١) جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہے بیٹے دیتا ہے۔
٤٩۔١ یعنی کائنات میں صرف اللہ ہی کی مشیت اور اسی کی تدبیر چلتی ہے، وہ جو چاہتا ہے، ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا، نہیں ہوتا۔ کوئی دوسرا اس میں دخل اندازی کرنے کی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔

أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَ‌انًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ‌ ﴿٥٠﴾
یا انہیں جمع کر دیتا ہے (١) بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔
٥٠۔١ یعنی جس کو چاہتا ہے، مذکر اور مونث دونوں دیتا ہے۔ اس مقام پر اللہ نے لوگوں کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہ جن کو صرف بیٹے دیئے۔ دوسرے، وہ جن کو صرف بیٹیاں، تیسرے وہ جن کو بیٹے، بیٹیاں دونوں اور چوتھے، وہ جن کو بیٹا نہ بیٹی۔ لوگوں کے درمیان یہ فرق و تفاوت اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے، اس تفاوت الٰہی کو دنیا کی کوئی طاقت بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ یہ تقسیم اولاد کے اعتبار سے ہے۔ باپوں کے اعتبار سے بھی انسانوں کی چار قسمیں ہیں۔ ۱۔ آدم عليہ السلام کو صرف مٹی سے پیدا کیا، ان کا باپ ہے نہ ماں۔ ۲۔ حضرت حوا کو آدم عليہ السلام سے یعنی مرد سے پیدا کیا، ان کی ماں نہیں ہے۔ ۳۔ حضرت عیسیٰ عليہ السلام کو صرف عورت کے بطن سے پیدا کیا، ان کا باپ نہیں ہے۔ ۴۔ اور باقی تمام انسانوں کو مرد اور عورت کے ملاپ سے۔ ان کے باپ بھی ہیں اور مائیں بھی۔ فَسُبْحَانَ اللهِ الْعَلِيمِ الْقَدِيرِ(ابن کثیر)

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَ‌اءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْ‌سِلَ رَ‌سُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ ﴿٥١﴾
ناممکن ہے کہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی (١) کرے، بیشک وہ برتر حکمت والا ہے۔
٥١۔١ اس آیت میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلا دینا اور یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ دوسری، پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہ طور پر کیا گیا، تیسری، فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا، جیسے جبرائیل علیہ السلام اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے رہے۔
 
Top