• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ الَّذِي سَخَّرَ‌ لَكُمُ الْبَحْرَ‌ لِتَجْرِ‌يَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِ‌هِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿١٢﴾
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا (١) کو تابع بنا دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں (٢) چلیں اور تم اس کا فضل (٣) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجا لاؤ۔ (٤)
١٢۔١ یعنی اس کو ایسا بنادیا کہ تم کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے سے اس پر سفر کرسکو۔
١٢۔٢ یعنی سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا، یہ تمہارا کمال اور ہنر نہیں یہ اللہ کا حکم اور اس کی مشیت ہے۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو سمندروں کی موجوں کو اتنا سرکش بنا دیتا کہ کوئی کشتی اور جہاز ان کے سامنے ٹھہر ہی نہ سکتا۔ جیسا کہ کبھی کبھی وہ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے ایسا کرتا ہے۔ اگر مستقل طور پر موجوں کی طغیانیوں کا یہی عالم رہتا تو تم کبھی بھی سمندر میں سفر کرنے کے قابل نہ ہوتے۔
١٢۔٣ یعنی تجارت کے ذریعے سے، اور اس میں غوطہ زنی کرکے موتی اور دیگر اشیا نکال کر اور دریائی جانوروں (مچھلی وغیرہ) کا شکار کرکے۔
١٢۔٤ یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ تم ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو جو اس تسخیر بحر کی وجہ سے تمہیں حاصل ہوتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَسَخَّرَ‌ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُ‌ونَ ﴿١٣﴾
اور آسمان و زمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے۔ (١) جو غور کریں یقیناً وہ اس میں بہت سی نشانیاں پا لیں گے۔
١٣۔١ مطیع کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ان کو تمہاری خدمت پر مامور کر دیا ہے، تمہارے مصالح و منافع اور تمہاری معاش سب انہی سے وابستہ ہے، جیسے چاند، سورج، روشن ستارے، بارش، بادل اور ہوائیں وغیرہ ہیں۔ اور اپنی طرف سے کا مطلب، اپنی رحمت اور فضل خاص سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُ‌وا لِلَّذِينَ لَا يَرْ‌جُونَ أَيَّامَ اللَّـهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿١٤﴾
آپ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں (١) رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے۔ (٢)
١٤۔١ یعنی جو اس بات کا خوف نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کی مدد کرنے اور دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مراد کافر ہیں۔ اور ایام اللہ سے مراد وقائع ہیں۔ جیسے ﴿وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ﴾ (إبراهيم: ۵) میں ہے۔ مطلب ہے کہ ان کافروں سے عفو درگزر سے کام لو، جو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بے خوف ہیں۔ یہ ابتدائی حکم تھا جو مسلمانوں کو پہلے دیا جاتا رہا تھا بعد میں جب مسلمان مقابلے کے قابل ہو گئے تو پھر سختی کا اور ان سے ٹکرا جانے (جہاد) کا حکم دے دیا گیا۔
١٤۔٢ یعنی جب تم ان کی ایذاؤں پر صبر اور ان کی زیادتیوں سے درگزر کرو گے، تو یہ سارے گناہ ان کے ذمے ہی رہیں گے، جن کی سزا ہم قیامت والے دن ان کو دیں گے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَ‌بِّكُمْ تُرْ‌جَعُونَ ﴿١٥﴾
جو نیکی کرے گا وہ اپنے ذاتی بھلے کے لیے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے، (١) پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (٢)
١٥۔١ یعنی ہر گروہ اور فرد کا عمل، اچھا یا برا، اس کا فائدہ یا نقصان خود کرنے والے کو ہی پہنچے گا، کسی دوسرے کو نہیں۔ اس میں نیکی کی ترغیب بھی ہے، اور بدی سے ترہیب بھی۔
١٥۔٢ پس وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دے گا۔ نیکوں کو نیک اور بروں کو بری۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَ‌زَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿١٦﴾
یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت (١) اور نبوت دی تھی، اور ہم نے انہیں پاکیزہ (اور نفیس) روزیاں دی تھیں (٢) اور انہیں دنیا والوں پر فضیلت دی تھی۔ (٣)
١٦۔١ کتاب سے مراد تورات، حکم سے حکومت و بادشاہت یا فہم و قضا کی وہ صلاحیت ہے جو فصل خصومات اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ضروری ہے۔
١٦۔٢ وہ روزیاں جو ان کے لیے حلال تھیں اور ان ہی میں من و سلویٰ کا نزول بھی تھا۔
١٦۔٣ یعنی ان کے زمانے کے اعتبار سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآتَيْنَاهُم بَيِّنَاتٍ مِّنَ الْأَمْرِ‌ ۖ فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿١٧﴾
اور ہم نے انہیں دین کی صاف صاف دلیلیں دیں، (١) پھر انہوں نے اپنے پاس علم کے پہنچ جانے کے بعد آپس کی ضد بحث سے ہی اختلاف برپا کر ڈالا، (٢) یہ جن جن چیزوں میں اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ قیامت والے دن ان کے درمیان (خود) تیرا رب کرے گا (٣)
١٧۔١ کہ یہ حلال ہیں اور یہ حرام۔ یا معجزات مراد ہیں۔ یا نبی ﷺ کی بعثت کا علم، آپ کی نبوت کے شواہد اور آپ کی ہجرت گاہ کی تعیین مراد ہے۔
١٧۔٢ ﴿بَغْيًا بَيْنَهُمْ﴾ کا مطلب، آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض و عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا جاہ و منصب کی خاطر۔ انہوں نے اپنے دین میں، علم آجانے کے باوجود، اختلاف یا نبی ﷺ کی رسالت سے انکار کیا۔
١٧۔٣ یعنی اہل حق کو اچھی جزا اور اہل باطل کو بری جزا دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِ‌يعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ‌ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴿١٨﴾
پھر ہم نے آپ کو دین کی (ظاہر) راہ پر قائم کر دیا، (١) سو آپ اسی پر لگے رہیں اور نادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں۔ (٢)
١٨۔١ شریعت کے لغوی معنی ہیں، راستہ ملت اور منہاج۔ شاہراہ کو بھی شارع کہا جاتا ہے کہ وہ مقصد و منزل تک پہنچاتی ہے۔ پس شریعت سے یہاں مراد، وہ دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ اس پر چل کر اللہ کی رضا کا مقصد حاصل کر لیں۔ آیت کا مطلب ہے۔ ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح راستے یا طریقے پر قائم کر دیا ہے جو آپ کو حق تک پہنچا دے گا۔
١٨۔٢ جو اللہ کی توحید اور اس کی شریعت سے ناواقف ہیں۔ مراد کفار مکہ اور ان کے ساتھی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُمْ لَن يُغْنُوا عَنكَ مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۚ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۖ وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ ﴿١٩﴾
(یاد رکھیں) کہ یہ لوگ ہرگز اللہ کے سامنے آپ کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (سمجھ لیں کہ) ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیزگاروں کا کارساز اللہ تعالیٰ ہے۔

هَـٰذَا بَصَائِرُ‌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَ‌حْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿٢٠﴾
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بصیرت کی باتیں (١) اور ہدایت و رحمت ہے (٢) اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے۔
٢٠۔١ یعنی ان دلائل کا مجموعہ ہے جو احکام دین سے متعلق ہیں اور جن سے انسانی ضروریات و حاجات وابستہ ہیں۔
٢٠۔٢ یعنی دنیا میں ہدایت کا راستہ بتلانے والا ہے اور آخرت میں رحمت الٰہی کا موجب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَ‌حُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ﴿٢١﴾
کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کر دیں جو ایمان لائے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہو جائے، (١) برا ہے وہ فیصلہ وہ جو کر رہے ہیں۔
٢١۔١ یعنی دنیا اور آخرت میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہ کریں۔ اس طرح ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یا مطلب ہے کہ جس طرح دنیا میں وہ برابر تھے، آخرت میں بھی وہ برابر ہی رہیں گے کہ مر کر یہ بھی ناپید اور وہ بھی ناپید؟ نہ بدکار کو سزا، نہ ایمان و عمل صالح کرنے والے کو انعام۔ ایسا نہیں ہو گا۔ اسی لیے آگے فرمایا ان کا یہ فیصلہ براہے جو وہ کر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَخَلَقَ اللَّـهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿٢٢﴾
اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔
٢٢۔١ اور یہ عدل یہی ہے کہ قیامت والے دن بے لاگ فیصلہ ہو گا اور ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ نیک و بد دونوں کے ساتھ وہ یکساں سلوک کرے، جیسا کہ کافروں کا زعم باطل ہے، جس کی تردید گزشتہ آیت میں کی گئی ہے۔ کیونکہ دونوں کو برابری کی سطح پر رکھنا ظلم یعنی عدل کے خلاف بھی ہے اور مسلمات سے انحراف بھی۔ اس لیے جس طرح کانٹے بو کر انگور کی فصل حاصل نہیں کی جا سکتی، اسی طرح بدی کا ارتکاب کرکے وہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا جو اللہ نے اہل ایمان کے لیے رکھا ہے۔

أَفَرَ‌أَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّـهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِ‌هِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّـهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٢٣﴾
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا؟ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا (١) ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراہ کر دیا (٢) ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی (٣) ہے، اور اس کی آنکھ پر بھی پردہ ڈال دیا (٣) ہے، اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے۔ (٥)
٢٣۔١ پس وہ اسی کو اچھا سمجھتا ہے جس کو اس کا نفس اچھا اور اسی کو برا سمجھتا ہے جس کو اس کا نفس برا قرار دیتا ہے۔ یعنی اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلے میں اپنی نفسانی خواہش کو ترجیح دیتا یا اپنی عقل کو اہمیت دیتا ہے۔ حالانکہ عقل بھی ماحول سے متاثر یا مفادات کی اسیر ہو کر، خواہش نفس کی طرح، غلط فیصلہ کر سکتی ہے۔ ایک معنی اس کے یہ کیے گئے ہیں، جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت اور برہان کے بغیر اپنی مرضی کے دین کو اختیار کرتا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے ایسا شخص مراد ہے جو پتھر کو پوجتا تھا، جب اسے زیادہ خوب صورت پتھر مل جاتا، تو وہ پہلے پتھر کو پھینک کر دوسرے کو معبود بنا لیتا۔ (فتح القدیر)
٢٣۔٢ یعنی بلوغ علم اور قیام حجت کے باوجود، وہ گمراہی ہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جیسے بہت سے پندار علم میں مبتلا گمراہ اہل علم کا حال ہے۔ ہوتے وہ گمراہ ہیں، موقف ان کا بے بنیاد ہوتا ہے۔ لیکن (ہم چوما دیگرے نیست) کے گھمنڈ میں وہ اپنے (دلائل) کو ایسا سمجھتے ہیں گویا آسمان سے تارے توڑ لائے ہیں۔ اور یوں علم و فہم رکھنے کے باوجود وہ گمراہ ہی نہیں ہوتے، دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر فخر کرتے ہیں۔ (نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هَذَا الْعلمِ الضَّالِّ ، وَالْفَهْمِ السَّقيِمِ وَالْعَقْلِ الزَّائِغِ)
٢٣۔٣ جس سے اس کے کان وعظ و نصیحت سننے سے اور اس کا دل ہدایت کے سمجھنے سے محروم ہو گیا۔
٢٣۔٤ چنانچہ وہ حق کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔
٢٣۔٥ جیسے فرمایا ﴿مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ﴾ (الأعراف: ۱۸۶)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ‌ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿٢٤﴾
کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے۔ (١) انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے، (٢) (دراصل) انہیں اس کا علم ہی نہیں۔ یہ تو صرف (قیاس اور) اٹکل سے ہی کام لے رہے ہیں۔
٢٤۔١ یعنی غور و فکر نہیں کرتے تاکہ حقیقت حال تم پر واضح اور آشکارا ہو جائے۔
٢٤۔١ یہ دہریہ اور ان کے ہم نوا مشرکین مکہ کا قول ہے جو آخرت کے منکر تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی پہلی اور آخری زندگی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور اس میں موت و حیات کا سلسلہ، محض زمانے کی گردش کا نتیجہ ہے۔ جیسے فلاسفہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد ہر چیز دوبارہ اپنی حالت پر لوٹ آتی ہے۔ اور یہ سلسلہ، بغیر کسی صانع اور مدبر کے، از خود یوں ہی چل رہا ہے اور چلتا رہے گا، نہ اس کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ یہ گروہ دوریہ کہلاتا ہے (ابن کثیر) ظاہر بات ہے، یہ نظریہ، اسے عقل بھی قبول نہیں کرتی اور نقل کے بھی خلاف ہے۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے۔ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے (یعنی اس کی طرف افعال کی نسبت کرکے، اسے برا کہتا ہے) حالانکہ (زمانہ بجائے خود کوئی چیز نہیں) میں خود زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں، رات دن بھی میں ہی پھیرتا ہوں“۔ (البخاری، تفسير سورة الجاثية، مسلم كتاب الألفاظ من الأدب، باب النهي عن سب الدهر)۔
 
Top