• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ﴿٣٨﴾
ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ (١)
٣٨۔١ یہی مضمون اس سے قبل سورۂ ص: ۲۷، سورۃ المومنون: ۱۱۵-۱۱۶، سورۃ الحجر: ۸۵ وغیرھا میں بیان کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٩﴾
بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا (١) ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (٢)
٣٩۔١ وہ مقصد یا درست تدبیر یہی ہے کہ لوگوں کی آزمائش کی جائے اور نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدیوں کی سزا دی جائے۔
٣٩۔٢ یعنی وہ اس مقصد سے غافل اور بے خبر ہیں۔ اسی لیے آخرت کی تیاری سے لاپروا اور دنیا میں منہمک ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٤٠﴾
یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شدہ وقت ہے۔ (١)
٤٠۔١ یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے انسانوں کو پیدا کیا گیا اور آسمان و زمین کی تخلیق کی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُ‌ونَ ﴿٤١﴾
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام بھی نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی۔ (١)
٤١۔١ جیسے فرمایا: ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ﴾ (المؤمنون: ۱۰۱) ﴿وَلا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا﴾ (المعارج: ۱۰)

إِلَّا مَن رَّ‌حِمَ اللَّـهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّ‌حِيمُ ﴿٤٢﴾
مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہو جائے وہ زبردست اور رحم کرنے والا ہے۔

إِنَّ شَجَرَ‌تَ الزَّقُّومِ ﴿٤٣﴾
بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت۔

طَعَامُ الْأَثِيمِ ﴿٤٤﴾
گناہ گار کا کھانا ہے۔

كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ ﴿٤٥﴾
جو مثل تلچھٹ (١) کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے۔
٤٥۔١ مُهْلٌ پگھلا ہوا تانبہ، آگ میں پگھلی ہوئی چیز یا تلچھٹ تیل وغیرہ کے آخر میں جو گدلی سی مٹی کی تہ رہ جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَغَلْيِ الْحَمِيمِ ﴿٤٦﴾
مثل تیز گرم پانی کے۔ (١)
٤٦۔١ وہ زقوم کی خوراک، کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹ میں کھولے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ﴿٤٧﴾
اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ۔ (١)
٤٧۔١ یہ جہنم پر مقرر فرشتوں سے کہا جائے گا، سواء، بمعنی وسط۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَ‌أْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ﴿٤٨﴾
پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ۔

ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِ‌يمُ ﴿٤٩﴾
(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام والا تھا۔ (١)
٤٩۔١ یعنی دنیا میں اپنے طور پر تو بڑا ذی عزت اور صاحب اکرام بنا پھرتا تھا اور اہل ایمان کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُ‌ونَ ﴿٥٠﴾
یہی وہ چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ ﴿٥١﴾
بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے۔

فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿٥٢﴾
باغوں اور چشموں میں۔

يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَ‌قٍ مُّتَقَابِلِينَ ﴿٥٣﴾
باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (١)
٥٣۔١ اہل کفر و فسق کے مقابلے میں اہل ایمان و تقویٰ کا مقام بیان کیا جا رہا ہے۔ جنہوں نے اپنا دامن کفر و فسق اور معاصی سے بچائے رکھا تھا۔ امین کا مطلب ایسی جگہ، جہاں ہر قسم کے خوف اور اندیشوں سے وہ محفوظ ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَذَٰلِكَ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ‌ عِينٍ ﴿٥٤﴾
یہ اسی طرح ہے (١) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کر دیں گے۔ (٢)
٥٤۔١ یعنی متقین کے ساتھ یقیناً ایسا ہی معاملہ ہو گا۔
٥٤۔٢ حٌورٌ حَوْرَاءُ کی جمع ہے۔ یہ حُورٌ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ آنکھ کی سفیدی انتہائی اور سیاہی انتہائی سیاہ ہو۔ حَوْرَاءُ اس لیے کہا جاتا ہے کہ نظریں ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گی عِينٌ، عَيْنَاءُ کی جمع ہے، کشادہ چشم۔ جیسے ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ ہر جنتی کو کم ازکم دو حوریں ضرور ملیں گی۔ جو حسن و جمال کے اعتبار سے چندے آفتاب و ماہتاب ہوں گی۔ البتہ ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، جسے صحیح کہا گیا ہے، کہ شہید کو خصوصی طور پر ۷۲ حوریں ملیں گی (أبواب فضائل الجهاد، باب ما جاء أي الناس أفضل)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَدْعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ آمِنِينَ ﴿٥٥﴾
دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میووں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے۔ (١)
٥٥۔١ آمِنِينَ (بے خوفی کے ساتھ) کا مطلب ان کے ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا نہ ان کے کھانے سے بیماری وغیرہ کا خوف یاموت، تھکاوٹ اور شیطان کا کوئی خوف نہیں ہو گا۔
 
Top