• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ ۖ وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ﴿٥٦﴾
وہاں وہ موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت (١) (جو وہ مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا۔
٥٦۔١ یعنی دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی، اس موت کے بعد انہیں موت کا مزہ نہیں چکھنا پڑے گا۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ ”موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر دوزخ اور جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان کر دیا جائے گا، اے جنتیو! تمہارے لیے جنت کی زندگی دائمی ہے، اب تمہارے لیے موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے جہنم کا عذاب دائمی ہے، موت نہیں“۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة مريم، مسلم، كتاب الجنة، باب النار يدخلها الجبارون، والجنة يدخلها الضعفاء) دوسری حدیث میں فرمایا ”اے جنتیو! تمہارا مقدر اب صحت و قوت ہے، تم کبھی بیمار نہیں ہو گے۔ تمہارے لیے اب زندگی ہی زندگی ہے، موت نہیں۔ تمہارے لیے نعمتیں ہی نعمتیں ہیں، ان میں کمی نہیں ہو گی اور سدا جوان رہو گے، کبھی بڑھاپا طاری نہیں ہو گا“۔(صحيح بخاری، كتاب الرقاق، باب القصد والمداومة على العمل، ومسلم كتاب مذكور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلًا مِّن رَّ‌بِّكَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٥٧﴾
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے، (١) یہی ہے بڑی کامیابی۔
٥٧۔١ جس طرح حدیث میں بھی ہے۔ فرمایا (یہ بات جان لو! تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! آپ کو بھی؟ فرمایا ”ہاں مجھے بھی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں ڈھانپ لے گا“ (صحيح بخاری، كتاب الرقاق، باب القصد والمداومة على العمل ، ومسلم كتاب مذكور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِنَّمَا يَسَّرْ‌نَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٥٨﴾
ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کر دیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

فَارْ‌تَقِبْ إِنَّهُم مُّرْ‌تَقِبُونَ ﴿٥٩﴾
اب تو منتظر رہ یہ بھی منتظر ہیں۔ (١)
٥٩۔١ تو عذاب الٰہی کا انتظار کر، اگر یہ ایمان نہ لائے۔ یہ منتظر ہیں اس بات کے کہ اسلام کے غلبہ و نفوذ سے قبل ہی شاید آپ موت سے ہمکنار ہو جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الجاثیة

(سورة الجاثیة مکی ہے اور اس میں سینتیس آیتیں اور چار رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

حم ﴿١﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿٢﴾
حم - یہ کتاب اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے۔

إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ﴿٣﴾
آسمانوں اور زمین میں ایمان داروں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَابَّةٍ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿٤﴾
اور خود تمہاری پیدائش میں اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ پھیلاتا ہے یقین رکھنے والی قوم کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ وَمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّ‌زْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْ‌ضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِ‌يفِ الرِّ‌يَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٥﴾
اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزی اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرما کر زمین کو اسکی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے، (١) (اس میں) اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں ہیں۔ (٢)
٥۔١ آسمان و زمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق و انفس میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت پر دال ہیں۔
٥۔٢ یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال و جنوب کو، کبھی پورب پچھم (مشرق و مغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گرد و غبار کا طوفان۔ ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتی ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے۔ دو یا دو سے زائد نہیں۔ تمام اختیارات کا مالک وہی ایک ہے، ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ سارا اور ہر قسم کا تصرف صرف وہی کرتا ہے، کسی اور کے پاس ادنیٰ سا تصرف کرنے کا بھی اختیار نہیں۔ اسی مفہوم کی آیت سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۱۶۴ بھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿٦﴾
یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔ (١)
٦۔١ یعنی اللہ کا نازل کردہ قرآن، جس میں اس کی توحید کے دلائل و براہین ہیں۔ اگر یہ اس پر بھی ایمان نہیں لاتے تو اللہ کی بات کے بعد کس کی بات ہے اور اس کی نشانیوں کے بعد کون سی نشانیاں ہیں، جن پر یہ ایمان لائیں گے؟ ﴿بَعْدَ اللهِ﴾ کا مطلب ہے (بَعْدَ حَدِيثِ اللهِ وَبَعْدَ آيَاتِهِ) یہاں قرآن پر حدیث کا اطلاق کیا گیا ہے۔ جیسے؛ ﴿اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ﴾ (الزمر: ۲۳) میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾
ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر۔ (١)
٧۔١ أَفَّاكٍ بمعنی كَذَّابٍ، أَثِيمٍ، بہت گناہ گار۔ وَيْلٌ، بمعنی ہلاکت یا جہنم کی ایک وادی کا نام.
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ‌ مُسْتَكْبِرً‌ا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْ‌هُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٨﴾
جو آیتیں اللہ کی اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں، (١) تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے۔
٨۔١ یعنی کفر پر اڑا رہتا ہے اور حق کے مقابلے میں اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اور اسی غرور میں سنی ان سنی کر دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آيَاتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿٩﴾
وہ جب ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پا لیتا ہے تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے، (١) یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوائی کی مار ہے۔
٩۔١ یعنی اول تو وہ قرآن کو غور سے سنتا ہی نہیں ہے اور اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑ جاتی ہے یا کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو اسے استہزا اور مذاق کا موضوع بنا لیتا ہے۔ اپنی کم عقلی اور نافہمی کی وجہ سے یا کفر و معصیت پر اصرار و استکبار کی وجہ سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مِّن وَرَ‌ائِهِمْ جَهَنَّمُ ۖ وَلَا يُغْنِي عَنْهُم مَّا كَسَبُوا شَيْئًا وَلَا مَا اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ أَوْلِيَاءَ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١٠﴾
ان کے پیچھے دوزخ ہے، (١) جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا وہ انہیں کچھ بھی نفع نہ دے گا (٢) اور نہ وہ (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز (٣) بنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے۔
١٠۔١ یعنی ایسے کردار کے لوگوں کے لیے قیامت میں جہنم ہے۔
١٠۔٢ یعنی دنیا میں جو مال انہوں نے کمایا ہو گا، جن اولاد اور جتھے پر وہ فخر کرتے رہے ہوں گے، وہ قیامت والے دن انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔
١٠۔٣ جن کو دنیا میں اپنا دوست، مددگار اور معبود بنا رکھا تھا، وہ اس روز ان کو نظر ہی نہیں آئیں گے، مدد تو انہوں نے کیا کرنی ہو گی؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذَا هُدًى ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِآيَاتِ رَ‌بِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّ‌جْزٍ أَلِيمٌ ﴿١١﴾
یہ (سرتاپا) ہدایت (١) ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے۔ (٢)
١١۔١ یعنی قرآن۔ کیونکہ اس کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لایا جائے۔ اس لیے اس کے سرتاپا ہدایت ہونے میں تو کوئی شرک نہیں۔ لیکن ہدایت ملے گی تو اسے ہی جو اس کے لیے اپنا سینہ وا کرے گا۔ بصورت دیگر، توع راہ دکھلائیں گے رہرو منزل ہی نہیں۔ والا معاملہ ہو گا۔
١١۔٢ أَلِيمٍ، عَذَابٌ کی صفت ہے، بعض اسے رِجْزٌ کی صفت بتاتے ہیں۔ رِجْزٌ بمعنی عَذَابٍ شَدِيدٍ۔
 
Top