• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 27
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْ‌سَلُونَ ﴿٣١﴾
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟ (١)
٣١۔١ خَطْبٌ شان قصہ۔ یعنی اس بشارت کے علاوہ تمہارا اور کیا کام اور مقصد ہے جس کے لیے تمہیں بھیجا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُّجْرِ‌مِينَ ﴿٣٢﴾
انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (١)
٣٢۔١ اس سے مراد قوم لوط ہے جن کا سب سے بڑا جرم لواطت تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِنُرْ‌سِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَ‌ةً مِّن طِينٍ ﴿٣٣﴾
تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں۔ (۱)
٣۳۔۱ برسائیں کا مطلب ہے، ان کنکریوں سے انہیں رجم کر دیں۔ یہ کنکریاں خالص پتھر کی تھیں نہ آسمانی اولے تھے، بلکہ مٹی کی بنی ہوئی تھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مُّسَوَّمَةً عِندَ رَ‌بِّكَ لِلْمُسْرِ‌فِينَ ﴿٣٤﴾
جو تیرے رب کی طرف سے نشان زدہ ہیں، ان حد سے گزر جانے والوں کے لیے۔ (۱)
٣٤۔١ مُسَوَّمَةً (نامزد یا نشان زدہ) ان کی مخصوص علامت تھی جن سے انہیں پہچان لیا جاتا تھا، یا وہ عذاب کے لیے مخصوص تھیں، بعض کہتے ہیں کہ جس کنکری سے جس کی موت واقع ہونی تھی، اس پر اس کا نام لکھا ہوتا تھا مُسْرِفِينَ جو شرک و ضلالت میں بڑھے ہوئے اور فسق و فجور میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَخْرَ‌جْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٣٥﴾
پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے انہیں نکال لیا۔ (١)
٣٥۔١ یعنی عذاب آنے سے قبل ہم نے ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا تھا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ‌ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿٣٦﴾
اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا۔ (١)
٣٦۔١ اور یہ اللہ کے پیغمبر حضرت لوط عليہ السلام کا گھر تھا، جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ان پر ایمان لانے والے تھے۔ کہتے ہیں یہ کل تیرہ آدمی تھے ان میں حضرت لوط عليہ السلام کی بیوی شامل نہیں تھی۔ بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں سے تھی۔ (ایسر التفاسیر) اسلام کے معنی ہیں، اطاعت و انقیاد۔ اللہ کے حکموں پر سر اطاعت خم کر دینے والا مسلم ہے، اس اعتبار سے ہر مومن، مسلمان ہے۔ اسی لیے پہلے ان کے لیے مومن کا لفظ استعمال کیا، اور پھر ان ہی کے لیے مسلم کا لفظ بولا گیا ہے۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ مومن اور مسلم کے درمیان کرتے ہیں۔ قرآن نے جو کہیں مومن اور کہیں مسلم کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ ان معانی کے اعتبار سے ہے جو عربی لغت کی رو سے ان کے درمیان ہے۔ اس لیے لغوی استعمال کے مقابلے میں حقیقت شرعیہ کا اعتبار زیادہ ضروری ہے اور حقیقت شرعیہ کے اعتبارسےان کے درمیان صرف وہی فرق ہے جو حدیث جبرائیل عليہ السلام سے ثابت ہے۔ جب نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ اسلام کیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا، (لا الہٰ الا اللہ) کی شہادت، اقامت صلوۃ، ایتائے زکوٰۃ، حج اور صیام رمضان۔ اور جب ایمان کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا؟ ”اللہ پر ایمان لانا، اس کے ملائکہ، کتابوں، رسولوں اور تقدیر (خیر و شر کے من جانب اللہ ہونے) پر ایمان رکھنا“ یعنی دل سے ان چیزوں پر یقین رکھنا ایمان اور احکام و فرائض کی ادائیگی اسلام ہے۔ اس لحاظ سے ہر مومن، مسلمان اور ہر مسلمان مومن ہے (فتح القدیر) اور جو مومن اور مسلم کے درمیان فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ یہاں قرآن نے ایک ہی گروہ کے لیے مومن اور مسلم کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ان کے درمیان جو فرق ہے اس کی رو سےہر مومن، مسلم بھی ہے، تاہم ہر مسلم کا مومن ہونا ضروری نہیں (ابن کثیر) بہرحال یہ ایک علمی بحث ہے فریقین کے پاس اپنے اپنے موقف پر استدلال کے لیے دلائل موجود ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَرَ‌كْنَا فِيهَا آيَةً لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ﴿٣٧﴾
اور وہاں ہم نے ان کے لیے جو دردناک عذاب کا ڈر رکھتے ہیں ایک (کامل) علامت چھوڑی۔ (١)
٣٧۔١ یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لیے ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ وعظ و نصیحت کا اثر بھی وہی قبول کرتے اور آیات میں غور و فکر بھی وہی کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْ‌سَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿٣٨﴾
موسٰی (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا۔

فَتَوَلَّىٰ بِرُ‌كْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ‌ أَوْ مَجْنُونٌ ﴿٣٩﴾
پس اس نے اپنے بل بوتے پر منہ موڑا (١) اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔
٣٩۔١ جانب اقویٰ کو رکن کہتے ہیں۔ یہاں مراد اس کی اپنی قوت اور لشکر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ ﴿٤٠﴾
بالآخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو اپنے عذاب میں پکڑ کر دریا میں ڈال دیا وہ تھا ہی ملامت کے قابل۔ (١)
٤٠۔١ یعنی اس کے کام ہی ایسے تھے کہ جن پر وہ ملامت کا مستحق تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّ‌يحَ الْعَقِيمَ ﴿٤١﴾
اسی طرح عادیوں میں (١) بھی (ہماری طرف سے تنبیہ ہے) جب کہ ہم نے ان پر خیر و برکت سے (۲) خالی آندھی بھیجی۔
٤١۔١ أَيْ: تَرَكْنَا فِي قِصَّةِ عَادٍ، عاد کے قصے میں بھی ہم نے نشانی چھوڑی۔
٤١۔٢ الرِّيحَ الْعَقِيمَ (بانجھ ہوا) جس میں خیر و برکت نہیں تھی، وہ ہوا درختوں کو ثمر آور کرنے والی تھی نہ بارش کی پیامبر، بلکہ صرف ہلاکت اور عذاب کی ہوا تھی۔
 
Top