• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ‌ ﴿٤﴾
وہ آباد گھر کی۔ (١)
٤۔١ یہ بیعت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتے ہیں۔ یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لیے آتے ہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض بیت معمور سے مراد خانہ کعبہ لیتے ہیں، جو عبادت کے لیے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے۔ معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالسَّقْفِ الْمَرْ‌فُوعِ ﴿٥﴾
اور اونچی چھت کی۔ (١)
٥۔١ اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لیے بمنزلۂ چھت کے ہے۔ قرآن نے دوسرے مقام پر اسے (محفوظ چھت) کہا ہے۔ ﴿وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ﴾ (سورة الأنبياء: ۳۲) بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْبَحْرِ‌ الْمَسْجُورِ‌ ﴿٦﴾
اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی۔ (١)
٦۔١ مسجور کے معنی ہیں، بھڑکے ہوئے۔ بعض کہتے ہیں، اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت والے دن بارش نازل ہو گی، اس سے مردہ جسم زندہ ہو جائیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں، ان میں سے قیامت والے دن آگ بھڑک اٹھے گی۔ جیسے فرمایا: ﴿وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ﴾ (التكوير: ۶) ”اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے“۔ امام شوکانی نے اسی مفہوم کو اولیٰ قرار دیا ہے اور بعض نے مَسْجُورٌ کے معنی مَمْلُوءٌ (بھرے ہوئے) کے لیے ہیں یعنی فی الحال سمندروں میں آگ تو نہیں ہے، البتہ وہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں، امام طبری نے اس قول کو اختیار کیا ہے۔ اس کے اور بھی کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ (دیکھئے تفسیر ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ عَذَابَ رَ‌بِّكَ لَوَاقِعٌ ﴿٧﴾
بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے والا ہے۔

مَّا لَهُ مِن دَافِعٍ ﴿٨﴾
اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ (۱)
۸۔۱ یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے یعنی یہ تمام چیزیں، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی مظہر ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ کا وہ عذاب بھی یقیناً واقع ہو کر رہے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے، اسے کوئی ٹالنے پر قادر نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تَمُورُ‌ السَّمَاءُ مَوْرً‌ا ﴿٩﴾
جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا۔ (١)
٩۔١ مور کے معنی ہیں حرکت و اضطراب۔ قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہو گا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کے لیے ظرف ہے۔ یعنی یہ عذاب اس روز واقع ہو گا جب آسمان تھرتھرائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَسِيرُ‌ الْجِبَالُ سَيْرً‌ا ﴿١٠﴾
اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے۔

فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١١﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی (پوری) خرابی ہے۔

الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ ﴿١٢﴾
جو اپنی بیہودہ گوئی میں اچھل کود رہے ہیں۔ (١)
١٢۔١ یعنی اپنے کفر و باطل میں مصروف اور حق کی تکذیب و استہزا میں لگے ہوئے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ‌ جَهَنَّمَ دَعًّا ﴿١٣﴾
جس دن وہ دھکے دے دے (١) کر آتش جہنم کی طرف لائے جائیں گے۔
١٣۔١ الدَّعُّ کے معنی ہیں نہایت سختی کے ساتھ دھکیلنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذِهِ النَّارُ‌ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ﴿١٤﴾
یہی وہ آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے۔ (١)
١٤۔١ یہ جہنم پر مقرر فرشتے (زبانیہ) انہیں کہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَسِحْرٌ‌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُ‌ونَ ﴿١٥﴾
(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ (۱) یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو۔ (۲)
١٥۔١ جس طرح تم دنیا میں پیغمبروں کو جادوگر کہا کرتے تھے، بتلاؤ! کیا یہ بھی کوئی جادو کا کرتب ہے؟
١٥۔۲ یا جس طرح تم دنیا میں حق دیکھنے سے اندھے تھے، یہ عذاب بھی تمہیں نظر نہیں آ رہاہے یہ تقریع و توبیخ کے لیے انہیں کہا جائے گا، ورنہ ہر چیز ان کے مشاہدے میں آچکی ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اصْلَوْهَا فَاصْبِرُ‌وا أَوْ لَا تَصْبِرُ‌وا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿١٦﴾
جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدل دیا جائے گا۔

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَعِيمٍ ﴿١٧﴾
یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں۔ (١)
١٧۔١ اہل کفر و اہل شقاوت کے بعد اہل ایمان و اہل سعادت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
 
Top