• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ‌ ﴿٥﴾
اور کامل عقل کی بات ہے (١) لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا۔ (٢)
٥۔١ یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا یہ قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور اس کو گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔
٥۔٢ یعنی جس کے لیے اللہ نے شقاوت لکھ دی ہے اور اس کے دل پر مہر لگا دی ہے، اس کو پیغمبروں کا ڈراوا کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ اس کے لیے تو ﴿سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ﴾ والی بات ہے تقریباً اسی مفہوم کی یہ آیت ہے۔ ﴿قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ (الأنعام: ۱۴۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُّكُرٍ‌ ﴿٦﴾
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے والا ناگوار چیز کی طرف پکارے گا۔ (١)
٦۔١ يَوْمَ سے پہلے اذْكُرْ محذوف ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو۔ نُكُرٌ، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے احوال اور آزمائشیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خُشَّعًا أَبْصَارُ‌هُمْ يَخْرُ‌جُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَ‌ادٌ مُّنتَشِرٌ‌ ﴿٧﴾
یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گویا وہ پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے۔ (١)
٧۔١ یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آناً فاناً فضائے بسیط میں پھیل جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُ‌ونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ‌ ﴿٨﴾
پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے (١) اور کافر کہیں گے کہ یہ دن تو بہت سخت ہے۔
٨۔١ مُهْطِعِينَ، مُسْرِعِينَ، دوڑیں گے، پیچھے نہیں رہیں گے۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ‌ ﴿٩﴾
ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا۔ (١)
٩۔١ وَازْدُجِرَ وَازْتُجِرَ ہے، یعنی قوم نوح نے نوح عليہ السلام کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ﴾ (الشعراء: ۱۱۶) ”اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کر دیا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَدَعَا رَ‌بَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ‌ ﴿١٠﴾
پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر۔

فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ‌ ﴿١١﴾
پس ہم نے آسمان کے دروازوں کو زور کے مینہ سے کھول دیا۔ (١)
١١۔١ مُنْهَمِرٌ بمعی کثیر یا زوردار هَمْرٌ، صَبٌّ (بہنے) کے معنی میں آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفَجَّرْ‌نَا الْأَرْ‌ضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ‌ قَدْ قُدِرَ‌ ﴿١٢﴾
اور زمین سے چشموں کو جاری کر دیا پس اس کام کے لیے جو مقدر کیا گیا تھا (دونوں) پانی جمع ہو گئے۔ (١)
١١۔١ یعنی آسمان اور زمین کے پانی نے مل کر وہ کام پورا کر دیا اور جو قضا و قدر میں لکھ دیا گیا تھا یعنی طوفان بن کر سب کو غرق کر دیا۔

وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ‌ ﴿١٣﴾
اور ہم نے اسے تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا۔ (١)
١٣۔١ دُسُرٌ دِسَارٌ کی جمع، وہ رسیاں، جن سے کشتی کے تختے باندھے گئے یا وہ کیلیں اور میخیں جن سے کشتی کو جوڑا گیا۔

تَجْرِ‌ي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ‌ ﴿١٤﴾
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا۔

وَلَقَد تَّرَ‌كْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿١٥﴾
اور بیشک ہم نے اس واقعہ کو نشانی بنا کر (١) باقی رکھا پس کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔ (٢)
١٥۔١ تَرَكْنَاهَا میں ضمیر کا مرجع سفینہ ہے۔ یا فعلہ یعنی (تَرَكْنَا هَذِهِ الْفِعْلَةَ الَّتِي فَعَلْنَاهَا بِهِمْ عِبْرَةً وَّمَوْعِظَةً) (فتح القدير)
١٥۔٢ مُدَّكِرٍ، اصل میں مُذْتَكِرٍ ہے۔ تاکو دال سے بدل دیا گیا اور ذال معجمہ کو دال بنا کر، دال کا دال میں ادغام کر دیا گیا۔ معنی ہیں عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے والا۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿١٦﴾
بتاؤ میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی رہیں؟

وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿١٧﴾
اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے (١) پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
١٧۔١ یعنی اس کے مطالب و معانی کو سمجھنا، اس سےعبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کر دیا ہے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ قرآن کریم اعجاز و بلاغت کے اعتبار سے نہایت اونچے درجے کی کتاب ہونے کے باوجود، کوئی شخص تھوڑی سی توجہ دے تو وہ عربی گرامر اورمعانی و بلاغت کی کتابیں پڑھے بغیر بھی اسے آسانی سے سمجھ لیتا ہے، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کر لی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سے چھوٹی کتاب کو بھی اس طرح یاد کر لینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے۔ اور انسان اگر اپنے قلب و ذہن کے دریچے وا رکھ کر اسے عبرت کی آنکھوں سے پڑھے، نصیحت کے کانوں سے سنے اور سمجھنے والے دل سے اس پر غور کرے تو دنیا و آخرت کی سعادت کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں اور یہ اس کے قلب و دماغ کی گہرائیوں میں اتر کر کفر و معصیت کی تمام آلودگیوں کو صاف کر دیتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿١٨﴾
قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں۔

إِنَّا أَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمْ رِ‌يحًا صَرْ‌صَرً‌ا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ‌ ﴿١٩﴾
ہم نے ان پر تیز و تند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی۔ (١)
١٩۔١ کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اورقلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہو جاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مُسْتَمِرٌّ کا مطلب یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ‌ ﴿٢٠﴾
جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وہ جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔ (١)
٢٠۔١ یہ درازی قد کے ساتھ ان کی بے بسی اور لاچارگی کا بھی اظہار ہے کہ عذاب الٰہی کے سامنے وہ کچھ نہ کر سکے دراں حالیکہ انہیں اپنی قوت و طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ أَعْجَازُ، عَجْزٌ کی جمع ہے، جو کسی چیز کے پچھلے حصے کو کہتے ہیں۔ مُنْقَعِرٌ اپنی جڑ سے اکھڑ جانے اور کٹ جانے والا۔ یعنی کھجور کے ان تنوں کی طرح، جو اپنی جڑ سے اکھڑ اور کٹ چکے ہوں، ان کے لاشے زمین پر پڑے ہوئے تھے۔

فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿٢١﴾
پس کیسی رہی میری سزا اور میرا ڈرانا؟

وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿٢٢﴾
یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟

كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ‌ ﴿٢٣﴾
قوم ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا۔

فَقَالُوا أَبَشَرً‌ا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌ ﴿٢٤﴾
اور کہنے لگے کیا ہمیں میں سے ایک شخص کی ہم فرمانبرداری کرنے لگیں؟ تب تم یقیناً غلطی اور دیوانگی میں پڑے ہوئے ہوں گے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی ایک بشرکو رسول مان لینا، ان کے نزدیک گمراہی اور دیوانگی تھی۔ سُعُرٌ، سَعِيرٌ کی جمع ہے آگ کی لپٹ۔ یہاں اس کو دیوانگی یا شدت و عذاب کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ‌ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ‌ ﴿٢٥﴾
کیا ہمارے سب کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وہ جھوٹا شیخی خور ہے۔ (١)
٢٥۔١ أَشِرٌ، بمعنی مُتَكَبِّرٌ یا کذب میں حد سے تجاوز کرنے والا، یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا ہے تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بھلا ہم میں سے صرف اسی ایک پر وحی آنی تھی؟ یا اس ذریعے سے ہم پر اپنی بڑائی جتانا اس کا مقصود ہے۔
 
Top