• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ‌ ﴿٢٦﴾
اب سب جان لیں گے کل کو کہ کون جھوٹا اور شیخی خور تھا؟ (١)
٢٦۔١ یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح عليہ السلام؟ جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غدا یعنی کل سے مراد قیامت کا دن ہے یا دنیا میں ان کے لیے عذاب کا مقررہ دن۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا مُرْ‌سِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْ‌تَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ‌ ﴿٢٧﴾
بیشک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجیں گے۔ (١) پس (اے صالح) تو ان کا منتظر رہ اور صبر کر۔ (٢)
٢٧۔١ کہ یہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟ یہ وہی اونٹنی ہے جو اللہ نے خود ان کے کہنے پر پتھر کی ایک چٹان سے ظاہر فرمائی تھی۔
٢٧۔٢ یعنی دیکھ کہ یہ اپنے وعدے کے مطابق ایمان کا راستہ اپناتے ہیں یا نہیں؟ اور ان کی ایذاؤں پر صبرکر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْ‌بٍ مُّحْتَضَرٌ‌ ﴿٢٨﴾
ہاں انہیں خبر کر دے کہ پانی ان میں تقسیم شدہ ہے، (١) ہر ایک اپنی باری پر حاضر ہو گا۔ (٢)
٢٨۔١ یعنی ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے اور ایک دن قوم کے پانی کے لیے۔
٢٨۔٢ مطلب ہے ہر ایک کا حصہ اس کے ساتھ ہی خاص ہے جو اپنی اپنی باری پر حاضر ہو کر وصول کرے دوسرا اس روز نہ آئے شُرْبٌ، حصہ آب۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ‌ ﴿٢٩﴾
انہوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی (١) جس نے (اونٹنی پر) وار کیا (٢) اور (اس کی) کوچیں کاٹ دیں۔
٢٩۔١ یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتاہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔
٢٩۔٢ یا تلوار یا اونٹنی کو پکڑا اوراس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اسے ذبح کر دیا۔ بعض نے فَتَعَاطَى کے معنی فَجَسَرَ کیے ہیں۔ پس اس نے جسارت کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿٣٠﴾
پس کیوں کر ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔

إِنَّا أَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ‌ ﴿٣١﴾
ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی پس ایسے ہو گئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس۔ (١)
٣١۔١ حَظِيرَةٌ، مَحْظُورَةٌ بمعنی محظورۃ، باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لیے بنائی جاتی ہے۔ مُحْتَظِرٌ، اسم فاعل ہے صَاحِبُ الحْظَيرَةِ هَشِيمٌ خشک گھاس یا کٹی ہوئی خشک کھیتی یعنی جس طرح ایک باڑ بنانے والی کی خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہو جاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی مانند ہمارے عذاب سے چورا ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿٣٢﴾
اور ہم نے نصیحت کے لیے قرآن کو آسان کر دیا ہے پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ‌ ﴿٣٣﴾
قوم لوط نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی۔

إِنَّا أَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ ۖ نَّجَّيْنَاهُم بِسَحَرٍ‌ ﴿٣٤﴾
بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی (١) سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دی۔ (٢)
٣٤۔١ یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان کو کنکریاں مارتی تھی۔ یعنی ان کی بستیوں کو ان پر الٹا دیا گیا، اس طرح کہ ان کا اوپر والا حصہ نیچے اور نیچے والا حصہ اوپر، اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش ہوئی جیسا کہ سورۂ ہود وغیرہ میں تفصیل گزری۔
٣٤۔٢ آل لوط سے مراد خود حضرت لوط عليہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں، جن میں حضرت لوط عليہ السلام کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ حضرت لوط عليہ السلام کی دو بیٹیاں ان کے ساتھ تھیں، جن کو نجات دی گئی۔ سحر سے مراد رات کا آخری حصہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ‌ ﴿٣٥﴾
اپنے احسان سے (١) ہر ہر شکر گزار کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
٣٥۔١ یعنی ان کو عذاب سے بچانا، یہ ہماری رحمت اور احسان تھا جو ان پر ہوا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَنذَرَ‌هُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَ‌وْا بِالنُّذُرِ‌ ﴿٣٦﴾
یقیناً (لوط علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا (١) تھا لیکن انہوں نے ڈرانے والے کے بارے میں (شک و شبہ اور) جھگڑا کیا۔ (٢)
٣٦۔١ یعنی عذاب آنے سے پہلے سخت گرفت سے ڈرایا تھا۔
٣٦۔٢ لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بلکہ شک کیا اور ڈرانے والوں سے جھگڑتے رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ‌ ﴿٣٧﴾
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا (۱) پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کر دیں، (۲) (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو۔
٣٧۔١ یا بہلایا یا مانگا لوط عليہ السلام سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط عليہ السلام کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبر و نوجوان لوط عليہ السلام کے ہاں آئے ہیں (جو دراصل فرشتے تھے اور ان کو عذاب دینے کے لیے ہی آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط عليہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کر دیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔
٣٧۔۲ کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائل اور اسرافیل عليہ السلام تھے۔ جب انہوں نے بدفعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانوں) کو لینے پر زیادہ اصرار کیا تو جبرائیل عليہ السلام نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے ہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں ، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کو پہنچا جو حضرت لوط عليہ السلام کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور پھر صبح اس عذاب عام میں تباہ ہو گئے جو پوری قوم کے لیے آیا (تفسیر ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَ‌ةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ‌ ﴿٣٨﴾
اور یقینی بات ہے کہ انہیں صبح سویرے ہی ایک جگہ پکڑنے والے مقررہ عذاب نے غارت کر دیا۔ (١)
٣٨۔١ یعنی صبح ان کے پاس عذاب مستقر آ گیا۔ مستقر کے معنی، ان پر نازل ہونے والا، جو انہیں ہلاک کیے بغیر نہ چھوڑے۔
 
Top