• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٣﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُ‌شٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَ‌قٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ ﴿٥٤﴾
جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، (١) اور دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہوں گے۔ (٢)
٥٤۔١ ابری یعنی اوپر کا کپڑا ہمیشہ استر سے بہتر اور خوب صورت ہوتا ہے، یہاں صرف استر کا بیان ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر (ابری) کا کپڑا اس سے کہیں زیادہ عمدہ ہو گا۔
٥٤۔٢ اتنے قریب ہوں گے کہ بیٹھے بیٹھے بلکہ لیٹے لیٹے بھی توڑ سکیں گے۔ ﴿قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ﴾ (الحاقہ: ۲۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٥﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِيهِنَّ قَاصِرَ‌اتُ الطَّرْ‌فِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٥٦﴾
وہاں (شرمیلی) نیچی نگاہ والی حوریں ہیں (١) جنہیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔ (٢)
٥٦۔١ جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی پر نہیں پڑیں گی اور ان کو اپنے خاوند ہی سب سے زیادہ حسین اور اچھے معلوم ہوں گے۔
٥٦۔٢ یعنی باکرہ اور نئی نویلی ہوں گی۔ اس سے قبل وہ کسی کے نکاح میں نہیں رہی ہوں گے۔ یہ آیت اور اس سے ماقبل کی بعض آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو جن مومن ہوں گے، وہ بھی مومن انسانوں کی طرح جنت میں جائیں گے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ ہو گا جو دیگر اہل ایمان کےلیے ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٧﴾
پس اپنے پالنے والے کی کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْ‌جَانُ ﴿٥٨﴾
وہ حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی۔ (١)
٥٨۔١ یعنی صفائی میں یا قوت اور سفیدی و سرخی میں موتی یا مونگے کی طرح ہوں گی۔ جس طرح صحیح احادیث میں بھی ان کے حسن و جمال کو ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے [يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَّرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ] (صحيح بخاری، كتاب بدء الخلق، باب ما جاء في صفة الجنة، وصحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها، باب أول زمرة تدخل الجنة) ”ان کے حسن و جمال کی وجہ سے ان کی پنڈلی کا گودا گوشت اور ہڈی کے باہر سے نظر آئے گا“۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا کہ ”جنتیوں کی بیویاں اتنی حسین و جمیل ہوں گی کہ اگر ان میں سے ایک عورت اہل ارض کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کا سارا حصہ چمک اٹھے اور خوشبو سے بھر جائے، اور اس کے سر کا دوپٹہ اتنا قیمتی ہو گا کہ وہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔ (صحيح بخاری، كتاب الجهاد باب الحور العين)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٩﴾
پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴿٦٠﴾
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے۔ (١)
٦٠۔١ پہلے احسان سے مراد نیکی اور اطاعت اور اطاعت الٰہی اور دوسرے احسان سے اس کا صلہ، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦١﴾
پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ﴿٦٢﴾
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں۔ (١)
٦٢۔١ دُونِهِمَا سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ یہ دو باغ شان اور فضیلت میں پچھلے دو باغوں سے، جن کا ذکر آیت 46 میں گزرا، کم تر ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٣﴾
پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

مُدْهَامَّتَانِ ﴿٦٤﴾
جو دونوں گہری سبز سیاہی مائل ہیں۔ (١)
٦٤۔١ کثرت سیرابی اور سبزے کی فراوانی کی وجہ سے وہ مائل بہ سیاہی ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٥﴾
بتاؤ اب اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿٦٦﴾
ان میں دو (جوش سے) ابلنے والے چشمے ہیں۔ (١)
٦٦۔١ یہ صفت تَجْرِيَانِ سے ہلکی ہے (الْجَرْيُ أَقْوَى مِنَ النَّضْخ) (ابن كثير)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٧﴾
پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُ‌مَّانٌ ﴿٦٨﴾
ان دونوں میں میوے اور کھجور اور انار ہوں گے۔ (١)
٦٨۔١ جب کہ پہلی دو جنتوں (باغوں) کی صفت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر پھل دو قسم کا ہو گا۔ ظاہر ہے اس میں شرف و فضل کی جو زیادتی ہے، وہ دوسری بات میں نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٩﴾
کیا اب بھی رب کی کسی نعمت کی تکذیب تم کرو گے؟

فِيهِنَّ خَيْرَ‌اتٌ حِسَانٌ ﴿٧٠﴾
ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں۔ (١)
٧٠۔١ خَيْرَاتٌ سے مراد اخلاق و کردار کی خوبیاں ہیں اور حِسَانٌ کا مطلب ہے کہ حسن و جمال میں یکتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧١﴾
پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

حُورٌ‌ مَّقْصُورَ‌اتٌ فِي الْخِيَامِ ﴿٧٢﴾
(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں۔ (١)
٧٢۔١ حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں موتیوں کے خیمے ہوں گے، ان کا عرض ساٹھ میل ہو گا، اس کے ہر کونے میں جنتی کے اہل ہوں گے، جس کو دوسرے کونے والے نہیں دیکھ سکیں گے۔ مومن اس میں گھومے گا۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة الرحمن وكتاب بدء ما جاء في صفة الجنة، صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب في صفة خيام الجنة)
 
Top