- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿١٦﴾
کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ انکے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں (۱) اور انکی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی (۲) پھر جب ان پر زمانہ دراز گزر گیا تو انکے دل سخت ہو گئے (۳) اور ان میں بہت سے فاسق ہیں۔ (٤)
۱٦۔۱ خطاب اہل ایمان کو ہے۔ اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مزید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے۔ خشوع کے معنی ہیں، دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا، حق سے مراد قرآن کریم ہے۔
١٦۔۲ جیسے یہود و نصاریٰ ہیں۔ یعنی تم ان کی طرح نہ ہو جانا۔
۱٦۔۳ چنانچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کر دی، اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا، اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کر لی اور ان کو اپنا رب بنا لیا، مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تم یہ کام مت کرو ورنہ تمہارے دل بھی سخت ہو جائیں گے اور پھر یہی کام جو ان پر لعنت الٰہی کا سبب بنے، تمہیں اچھے لگیں گے۔
۱٦۔٤ یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا: ﴿فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ (المائدة: ۱۳)
کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ انکے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں (۱) اور انکی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی (۲) پھر جب ان پر زمانہ دراز گزر گیا تو انکے دل سخت ہو گئے (۳) اور ان میں بہت سے فاسق ہیں۔ (٤)
۱٦۔۱ خطاب اہل ایمان کو ہے۔ اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مزید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے۔ خشوع کے معنی ہیں، دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا، حق سے مراد قرآن کریم ہے۔
١٦۔۲ جیسے یہود و نصاریٰ ہیں۔ یعنی تم ان کی طرح نہ ہو جانا۔
۱٦۔۳ چنانچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کر دی، اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا، اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کر لی اور ان کو اپنا رب بنا لیا، مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تم یہ کام مت کرو ورنہ تمہارے دل بھی سخت ہو جائیں گے اور پھر یہی کام جو ان پر لعنت الٰہی کا سبب بنے، تمہیں اچھے لگیں گے۔
۱٦۔٤ یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا: ﴿فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ﴾ (المائدة: ۱۳)